2024-07-17

 

 عربی زبان میں خدائے باری تعالیٰ کا اسمِ ذات (عَلَم)  اللہ ہے۔ قرآن حکیم میں لفظ اللہ اس خدائے واحد کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو ساری کائنات کا یکتا و یگانہ خالق و مالک ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:

اَللّٰہ ُخَالِقُ کُلِّ شَئ  وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَئ وَّکِیْل [1]

اللہ تعالیٰ ہرشے کا خالق ہے اور وہی ہر شے کا نگہبان ہے۔

توحید کا تصور ازل سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ عربی زبان میں اسم اللہ کا جمع  (کثرت)         سرے سے مستعمل ہی نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ کی تأنیث بھی ممکن نہیں ہے۔اللہ  کی  کوئی ضد  (متضاد)بھی غیر ممکن ہے۔ اس لیےان  اہل لغت کا قول دل کو لگتا ہے جو کہتے ہیں  کہ اسم اللہ کسی دوسرے مادہ سے مشتق نہیں ہے بلکہ یہ   مُرتجل   (غیر مشتق)   ہونے کی وجہ سےاپنی مثال آپ ہے۔ امام  شمس الدین احمد بن یوسف المعروف بالسمین الحلبی ؒ   ( متوفیٰ ۷۵۶ ھ) نے  الدرّ المصون فی علوم الکتاب المکنون  میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔[2] 

 بعض مستشرقین نے  یہ بلا دلیل دعویٰ کیا ہے کہ سورۃ النجم کی آیت ۱۹ میں جو اللّات کا اسم وارد ہوا ہے ،یہ اللہ کی تأنیث ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللات الہ کی ممکنہ تأنیث ہوسکتی ہے مگر یہ اللہ کی تأنیث ہرگز نہیں ہے۔بنی اسماعیل سے تعلق رکھنے والے مشرکین عرب نے تین مشہور دیویوں لات، مناۃاور عُزّیٰ  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے رکھا تھا۔ الہ کی تأنیث اللات، منان کی تأنیث مناۃ اور عزیز کی تأنیث عزیٰ بنا رکھی تھی۔  ان تینوں دیویوں کی سارے عرب میں خوب دھوم تھی۔ انہیں اللہ کی  محبوب بیٹیاں قرار دے کر ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے۔سورۃ النجم میں ان کے اس باطل قول کی یوں تردید کی گئی ہے:

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ  

وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰٰ

    أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ 

تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ   


إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَان[3]ٍ

کیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ پر غور نہیں کیا؟ اور تیسری دیوی منات پر بھی؟

تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں؟ یہ بہت بری تقسیم ہے۔

یہ تو بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤاجداد نے گھڑ رکھے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے (سفارشی ہونے کے ) بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔

اللہ تعالیٰ نے لات، منات اور عزیٰ کے نام رکھنے اور انہیں اللہ کے ہاں سفارشی سمجھنے کو مشرکینِ مکہ کا اپنا خود ساختہ عقیدہ قرار دیا ہے جس کے اثبات کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔

 زمانۂ جاہلیت کے عرب بت پرست، یثرب کے یہودی اور نجران کے نصرانی بھی خالق ِ کائنات کو اللہ ہی کہہ کر پکارتے تھے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ تورات و انجیل کے عربی تراجم میں آج بھی خداوند کے لیے اللہ کا اسمِ ذات ہی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انجیل کی درج ذیل آیت کا عربی ترجمہ ملاحظہ کیجیے

[4]«إِنْ كَانَ أَحَدٌ لَا يُولَدُ مِنْ مَاءٍ وَرُوحٍ، لَا يَقْدِرُ أَنْ يَدْخُلَ مَلَكُوتَ ٱللهِ».

جزیرۃ العرب اور مصر کے آثار قدیمہ کے عمیق مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ  قدیم  سے اسم اللہ اس سارے خطے میں مستعمل رہا ہے،حتی کہ اصل تورات اور انجیل میں خدائے واحد کے لیے  اسم اللہ ہی مستعمل تھا۔ قدیم عبرانی، سریانی، عموریائی  تہذیبوں کے کتبات میں اسم اللہ مکتوب ہے۔مقبوضہ فلسطین میں بولی جانے والی جدید عبرانی  زبان میں جو لفظ  الوھم  خدا کے لیے بولا جاتا ہے، دراصل یہ اسم اللہ  کےلیے مستعمل کلمۂ ندا یعنی اللھم  ہی کا بدلا ہوا لہجہ ہے۔ یہ کوئی رومانوی افسانہ نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کو اب انصاف پسند اہل مغرب بھی تسلیم کر چکے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے وکی پیڈیا پر لفظ اللہ۔[5]

زمانہ جاہلیت کے بت پرست عرب بھی اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات  تسلیم کرتے تھے،  ان کے اشعار میں جابجا اللہ تعالیٰ لی حمدو ثنا دیکھی جاسکتی ہے۔ بت پرست ہونے کے باوجود ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ کے مثل کوئی نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہےکہ انہوں نے کبھی اللہ کے نام کا بت نہیں بنایا۔تاہم وہ اپنے بتوں کو خدا کے محبوب و ممدوح قرار دے کر ان کے بارے میں اس مغالطے کا شکار تھے کہ یہ اللہ کےمقرب ہونے کی وجہ سے اس کی بارگاہ میں ان کی سفارش کرتے ہیں، لہٰذا وہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت بھی بجا لاتے تھے۔

بعض اہل مغرب نے عامۃ الناس کو گمراہ کرنے کے لیے یہ پراپیگنڈا کیا ہے کہ اسم  اللہ دراصل چندرما دیوی یعنی مون گاڈ  کی نمائندگی کرتا ہے، چنانچہ عرب بت پرستوں کے نزدیک سب سے بڑا دیوتا  اللہ تھا جو چاند کی شکل میں پوجا جاتا تھا۔ بعد میں رسول اکرم ﷺ نے بھی اسی دیوتا کی پوجا کی دعوت دی(نعوذ باللہ)۔ اس جھوٹے پراپیگنڈے سے ان کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اہل اسلام جو توحید پرست ہونےکا دعوی کرتے ہیں یہ محض باطل ہے اور یہ بھی دوسرے بت پرستوں کی طرح چندرما دیوی کی پوجا کرتے ہیں۔  قرآن حکیم  کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ حقیقت نہیں چھپ سکتی کہ قرآن نہ صرف  توحید کا سب سے بڑا داعی ہے،  بلکہ اس کی پیش کردہ توحید یہودو نصاری کے دعویٔ توحید سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر حکم دیا ہے کہ سورج اور چاند کو نہ پوجا جائے بلکہ اس اللہ کی عبادت کی جائے جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔

وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ 

الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ [6] 

دن رات، سورج اور چاند اس کی (توحیدکی) نشانیاں ہیں۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ ہی چاند کو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے۔اگر تم واقعتا اسی کی عبادت کرتے ہو۔

نہ صرف اسلام بلکہ زمانہ جاہلیت کے عرب بھی اقرار کرتے تھے کہ سورج، چاند، زمین آسمان کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہے:

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ 

يُؤْفَكُونَ [7]

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے تو یہ ضرور کہہ دیں گے کہ اللہ نے۔ پھر یہ  اس پر کیوں جھوٹ باندھنے ہیں؟



[1] الزمر: ۶۲

[2] الدر المصون، ج ۱، ص ۲۴

[3] النجم: ۱۹۔۲۳

[4]انجیل یوحنا، ۳ : ۵

 

[6] حم السجدہ: ۳۷

[7] العنکبوت: ۶۳

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading