2024-07-17

آیتِ خُمُس اور بنو ہاشم علیہم السلام کا اعزاز

 آیتِ خُمُس اور بنو ہاشم علیہم السلام کا اعزاز

از قلم ساجد محمود انصاری

بنو ہاشم علیہم الصلوات والسلام رسول اکرم ﷺ کے سب سے قریبی رشتہ دار تھے۔ نبی ﷺ کے پردادا ہاشم بن عبدِ مناف کی اولاد بنو ہاشم کہلاتی ہے، تاہم مؤمنینِ بنو ہاشم رسول اکرم ﷺ کے اہلِ بیت میں شامل ہیں، جو کہ راجح قول کے مطابق   آلِ محمد ﷺ کے اصل مصداق ہیں، جن پر ہم ہر نماز میں درود پڑھتے ہیں۔ بنو ہاشم کا سب سے بڑا اعزاز تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کے سردار کو بنو ہاشم میں پیدا فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن  حکیم میں بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا:

 یا بَنی إِسْرائیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتی أَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ أَنّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَى الْعالَمینَ[1]

اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تمہیں عطا فرمائی اور تمہیں سارے جہانوں پر فضیلت بخشی۔

بنی اسرائیل کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں پے در پے انبیا مبعوث فرمائے اور انہیں دنیا میں تمکن عطافرمایا۔ انبیا کی اس کثرت نے بنی اسرائیل کی عظمت کو چار چاند لگادئیے، حتیٰ کہ دنیا کی ساری اقوام بنی اسرائیل کی قسمت پر رشک کرتی تھیں۔ بنی اسماعیل  کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فضیلت کے لیے منتخب فرمالیا تھا جو بنی اسرائیل کو بھی  حاصل نہ تھی۔ امام المرسلین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کی شاخ قریش کے بطن بنو ہاشم میں مبعوث فرما کر بنی اسرائیل پر بھی یک گونہ  فضیلت  عطا فرمادی۔حقیقت یہ ہے کہ بنو ہاشم  کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقام عطا فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل بھی قیامت کے دن ان پر رشک کریں گے۔

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كِنَانَة مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ [2]

سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔

اگر قرآن کی رو سے بنی اسرائیل کی ایک زمانہ کے لیے  نسلی برتری تسلیم ہے تو رسول اکرم ﷺ کی نسبت سے بنو ہاشم کی نسلی برتری تسلیم کرنے میں کونسی شے مانع ہے؟ آخر بنو ہاشم کی فضیلت و برتری پر نسلی تفاخر، قبائلی عصبیت اور جاہلیت کی پھبتی کسنے کی جسارت کیوں کی جاتی ہے؟ بے شک کردار کی عظمت کا معیار تقویٰ ہے،  مگر آپ نے یہ کیوں فرض کرلیا ہے کہ بنو ہاشم تقویٰ کے معیار پر پورے نہیں اترتے؟ وہ بنو ہاشم جن کے بارے میں فرمان نبوی ﷺ ہے کہ انہوں نے نہ جاہلیت میں میرا ساتھ چھوڑا نہ اسلام قبول کرنے کے بعد، ان کی فضیلت و برتری بھی آپ کے حلق سے نیچے نہیں اترتی، حال آن کہ کو ئی دشمنِ رسول ﷺ نبی ﷺ کا ساتھ دینے والے بنو ہاشم کے تقویٰ و تدین پر حرف گیری نہیں کرسکتا۔

بنو ہاشم کے لیے  نبی ﷺ کی نسبت ہی فخر کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم  اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کو قیامت تک کے لیے ایسی بے مثال فضیلت عطا فرمادی ہے، جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا۔ہماری مراد آیتِ خُمُس ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے مال ِ غنیمت میں بنو ہاشم کا حصہ مقرر فرما کر ان کی امتیازی حیثیت کو واضح فرمادیا ہے۔ اب چاہے اس سے کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھے یا گردے میں درد ہو، جگر پارہ پارہ ہو یا دل کا دورہ پڑے ،بنو ہاشم کا یہ امتیاز قیامت تک ناصبیوں کے سینے پر مونگ دلتا رہے گا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [3]

اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں کے لیے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدان بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے اپنے قول و عمل سےوضاحت فرمادی ہے کہ آیتِ خُمُس میں ذی القُربیٰ (قریبی رشتہ داروں) سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں۔رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی شئے ہیں۔

عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہْمَ الْقُرْبٰی مِنْ خَیْبَرَ بَیْنَ بَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ، جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَؤُلَائِ بَنُو ہَاشِمٍ لَا یُنْکَرُ فَضْلُہُمْ لِمَکَانِکَ الَّذِی وَصَفَکَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ مِنْہُمْ، أَرَأَیْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِی الْمُطَّلِبِ أَعْطَیْتَہُمْ وَتَرَکْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَہُمْ مِنْکَ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ، قَالَ: ((إِنَّہُمْ لَمْ یُفَارِقُونِی فِی جَاہِلِیَّۃٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا ہُمْ بَنُو ہَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَیْئٌ وَاحِدٌ۔)) قَالَ ثُمَّ شَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ۔[4]

سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں (جبیر) اور سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس مقام کی وجہ سے، جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا، لیکن آپ غور کریں کہ یہ جو ہمارے بھائی بنو مطلب ہیں، آپ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، جبکہ ہم اور بنو مطلب آپ سے ایک مقام پر ہیں، (یعنی آپ سے ہمارا اور ان کا رشتہ داری کا درجہ ایک ہے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نہ مجھ سے جاہلیت میں جدا ہوئے ہیں اور نہ اسلام میں، بس بنو ہاشم اور بنومطلب ایک ہی چیز ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر جال سا بنایا۔

رسول اکرم ﷺ سورۃ الانفال کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے عین مطابق مالِ غنیمت  کو کل پانچ حصوں میں تقسیم فرماتے تھے، جن میں سے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے تھے جبکہ پانچویں حصے یعنی خُمُس کے پھر مزید پانچ حصے  کیے جاتے تھے جن  کی تفصیل یہ ہے:

1۔ رسول اکرم ﷺ کا حصہ

2۔ اہلِ قرابت(بنو ہاشم) کا حصہ

3۔یتیموں کا حصہ

4۔ مساکین کا حصہ

5۔ مسافروں کا حصہ

 امام قتادہ بن دعامہ السدوسی ؒ نے خمس کی یہی تفصیل بیان کی ہے۔[5] جس کی تائید امام علی علیہ السلام کی تقسیمِ خُمُس  سے بھی ہوتی ہے اور امام علی علیہ السلام کی توثیق رسول اکرم ﷺ نے فرمادی ہے۔

فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی بُرَیْدَۃُ قَالَ أَبْغَضْتُ عَلِیًّا بُغْضًا لَمْ یُبْغِضْہُ أَحَدٌ قَطُّ قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ لَمْ أُحِبَّہُ إِلَّا عَلٰی بُغْضِہِ عَلِیًّا قَالَ فَبُعِثَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ عَلٰی خَیْلٍ فَصَحِبْتُہُ مَا أَصْحَبُہُ إِلَّا عَلٰی بُغْضِہِ عَلِیًّا قَالَ فَأَصَبْنَا سَبْیًا، قَالَ فَکَتَبَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْعَثْ إِلَیْنَا مَنْ یُخَمِّسُہُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَیْنَا عَلِیًّا وَفِی السَّبْیِ وَصِیفَۃٌ ہِیَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبْیِ فَخَمَّسَ وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُہُ مُغَطًّی فَقُلْنَا: یَا أَبَا الْحَسَنِ! مَا ہٰذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْوَصِیفَۃِ الَّتِی کَانَتْ فِی السَّبْیِ؟ فَإِنِّی قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِی الْخُمُسِ ثُمَّ صَارَتْ فِی أَہْلِ بَیْتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ صَارَتْ فِی آلِ عَلِیٍّ وَوَقَعْتُ بِہَا، قَالَ فَکَتَبَ الرَّجُلُ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ ابْعَثْنِی فَبَعَثَنِی مُصَدِّقًا قَالَ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْکِتَابَ وَأَقُولُ صَدَقَ قَالَ فَأَمْسَکَ یَدِی وَالْکِتَابَ وَقَالَ أَتُبْغِضُ عَلِیًّا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُبْغِضْہُ وَإِنْ کُنْتَ تُحِبُّہُ فَازْدَدْ لَہُ حُبًّا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَنَصِیبُ آلِ عَلِیٍّ فِی الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِیفَۃٍ قَالَ فَمَا کَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ عَلِیٍّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَالَّذِی لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ہٰذَا الْحَدِیثِ غَیْرُأَبِی بُرَیْدَۃَ۔[6]

سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے باپ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا علی ‌علیہ السلام  سے سخت بغض تھا، اتنا کسی بھی دوسرے سے نہیں تھا حتیٰ کہ مجھے قریش کے ایک آدمی سے بہت زیادہ محبت صرف اس لیے تھی کہ وہ سیدنا علی علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا، اس آدمی کو امیر کا لشکر بنا کر بھیجا گیا،میں صرف اس لیے اس کا ہمرکاب ہوا کہ اسے سیدنا علی علیہ السلام سے بغض تھا، ہم نے لونڈیاں حاصل کیں، امیر لشکر نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ آدمی بھیج دیں، جو مال غنیمت کے پانچ حصے کرے اور اسے تقسیم کرے، آپ ﷺ نے ہمارے پاس سیدنا علی علیہ السلام کو بھیج دیا، انہوں نے مال تقسیم کیا، قیدی عورتوں میں ایک ایسی لونڈی تھی، جو کہ سب قیدیوں میں سے بہتر تھی، سیدنا علی ‌ علیہ السلام نے مال غنیمت کے پانچ حصے کئے اور پھر اسے تقسیم کر دیا۔ سیدنا علی ‌ علیہ السلام جب باہر آئے تھے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور سر ڈھانپا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: اے ابو الحسن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیدیوں میں یہ لونڈی میرے حصہ میں آئی ہے، میں نے مال غنیمت پانچ حصے کرکے تقسیم کر دیا ہے، یہ اس پانچویں حصہ میں آئی ہے جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کے لیے ہے اور پھر اہل بیت میں سے ایک حصہ آل علی علیہم السلام کا ہے اور یہ لونڈی اس میں سے میرے حصہ میں آئی ہے اور میں نے اس سے جماع کیا ہے، اس آدمی نے جو سیدنا علی علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب خط لکھا، سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: یہ خط مجھے دے کر بھیجو، اس نے مجھے ہی بھیج دیا تاکہ اس خط کی تصدیق و تائید کروں، سیدنا بریدہ کہتے ہیں: میں نے وہ خط نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا اور میں نے کہا: اس میں جو بھی درج ہے وہ صحیح ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاتھ سے خط پکڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم علیؑ سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علیؑ سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے ہو تو اس میں اور اضافہ کرو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے؟ خمس میں آل علی ‌ علیہم السلام کا حصہ تو اس افضل لونڈی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا بریدہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے ان سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہیں تھا۔عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اس حدیث کے بیان کرنے میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان صرف میرے باپ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واسطہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے خمس میں سے اہلِ بیت رسول علیہم الصلوات والسلام کا حصہ مقرر فرما کے ناصبیوں کے منہ پر مہر لگا دی ہے۔اب کو ن بے ایمان شخص یہ جرأت کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پوچھے کہ اس نے اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام یعنی بنو ہاشم کو ساری امت پر یہ فضیلت کیوں دے دی ہے؟ بنو ہاشم کو یہ اعزاز اصل میں تو نسبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ملا ہے مگر اس کے ساتھ ہی نبی ﷺ نے خود بنو ہاشم کی دینی خدمات اور نصرتِ اسلام کو سراہا ہے،  لہٰذا اسے نرا نسلی تفاخر قرار دینا اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام کی توہین ہے۔

بہر کیف اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کو اپنے دین کی سربلندی کے لیے چن لیا ہے اور کوئی بدذات کافر ہی اللہ تعالیٰ کے اس انتخاب پر سوال اٹھا سکتا ہے،رہے  اہلِ ایمان تو ان کا دل رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ساتھ ان کے اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام کی تعظیم و تکریم سے بچھے جاتے ہیں، اور وہ ہمیشہ ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے امام علی علیہ السلام کی درخواست پر انہیں اموالِ خُمُس کی تقسیم پر بھی مأمور فرمادیا تھا، چناں چہ وہ نبی ﷺ کی وفات  کے بعد بھی اس خدمت پر مأمور رہے۔

 

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی، قَالَ: سَمِعْتُ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَالْعَبَّاسُ وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَبِرَ سِنِّی وَرَقَّ عَظْمِی وَکَثُرَتْ مُؤْنَتِی، فَإِنْ رَأَیْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَنْ تَأْمُرَ لِی بِکَذَا وَکَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ۔)) فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِی کَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّکَ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کُنْتَ أَعْطَیْتَنِی أَرْضًا کَانَتْ مَعِیشَتِی مِنْہَا ثُمَّ قَبَضْتَہَا، فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَرُدَّہَا عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ رَأَیْتَ أَنْ تُوَلِّیَنِی ہٰذَا الْحَقَّ الَّذِی جَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا فِی کِتَابِہِ مِنْ ہٰذَا الْخُمُسِ، فَأَقْسِمُہُ فِی حَیَاتِکَ کَیْ لَا یُنَازِعَنِیہِ أَحَدٌ بَعْدَکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذَاکَ۔)) فَوَلَّانِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمْتُہُ فِی حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیہِ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَسَمْتُہُ فِی حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَسَمْتُ فِی حَیَاتِہِ، حَتّٰی کَانَتْ آخِرُ سَنَۃٍ مِنْ سِنِی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَإِنَّہُ أَتَاہُ مَالٌ کَثِیرٌ۔[7]

 عبد الرحمن بن ابو لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی علیہ السلام  سے سنا، انھوں نے کہا: میں، سیدہ فاطمہ علیہا السلام  ، سیدنا عباس علیہ السلام  اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس علیہ السلام  نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، جبکہ مجھ پر کلفت اور بوجھ زیادہ ہے، اس لیے اگر آپ میرے لیے اتنے اتنے وسق اناج کا حکم دینا مناسب سمجھتے ہیں تو دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پھر سیدہ فاطمہ ‌علیہا السلام  نے کہا: اے اللہ کے رسول! جیسے آپ نے اپنے چچا جان کے لیے حکم دیا ہے، اسی طرح اگر میرے لیے مناسب سمجھتے ہیں تو حکم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسا بھی کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، میری معیشت کا انحصار اسی پر تھا، لیکن پھر آپ نے مجھ سے وہ زمین کسی مصلحت کے تحت واپس لے لی تھی،  اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو وہ زمین مجھے واپس کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہم کریں گے۔ پھر میں (علی) نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خمس کی صورت میں ہمیں عطا کیا ہے، میں ہی آپ کی زندگی میں اس کی تقسیم کروں، تاکہ کوئی شخص آپ کے بعد یہ حق ہم سے چھین نہ سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ حق میرے ہی سپرد کیے رکھا اور میں ان کی خلافت میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی مجھے اس کا والی بنایا اور میں ان کی خلافت میں تقسیم کرتا رہا، یہاں تک کہ ان کے دورِ خلافت کا آخری سال شروع ہو گیا، اس وقت ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔

رسول اکرم ﷺ نہ صرف خُمُس میں سے پانچواں حصہ بنو ہاشم کو عطا فرماتے تھے بلکہ کئی معاملات میں ان کو دوسروں پر ترجیح دیا کرتے تھے۔جیسا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے:

عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَقَالَ: إِنِّی سَائِلُکُمْ وَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِی، نَشَدْتُکُمُ اللّٰہَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُؤْثِرُ قُرَیْشًا عَلٰی سَائِرِ النَّاسِ، وَیُؤْثِرُ بَنِی ہَاشِمٍ عَلٰی سَائِرِ قُرَیْشٍ، فَسَکَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: لَوْ أَنَّ بِیَدِی مَفَاتِیحَ الْجَنَّۃِ لَأَعْطَیْتُہَا بَنِی أُمَیَّۃَ حَتّٰی یَدْخُلُوْا مِنْ عِنْدِ آخِرِہِمْ [8]

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا جن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ  میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں امید ہے کہ تم میری تصدیق کروگے۔ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا رسول اکرم ﷺ دوسرے تمام انسانوں پر قریش کو اور قریش میں سے بنو ہاشم کو دوسرے تمام لوگوں پر ترجیح نہیں دیا کرتے تھے؟  یہ سن کر سب خاموش ہوگئے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں ہوتیں تو میں وہ بھی بنو امیہ کو دے دیتا یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص بھی جنت میں چلا جاتا۔

 سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  بنو امیہ کو اپنے عمال بنانے کی دلیل کے طور پر فرما رہے ہیں کہ کیا نبی ﷺ بنو ہاشم کو دوسروں پر ترجیح نہیں دیتے تھے؟ اگر نبی ﷺ   اپنے کنبے بنو ہاشم  کے افراد کو اہم عہدوں پر فائزکرسکتے ہیں تو میں اپنے کنبے بنو امیہ کو عہدوں پر فائز کیوں نہیں کرسکتا؟ اس سے قطع نظر کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ قیاس کس حد تک درست ہے ، ان کا یہ قول بہر کیف اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ نبی ﷺ بہت سے معاملات میں بنو ہاشم کو دوسروں پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ نبی ﷺ سے زیادہ مردم شناس  اور زیرک انسان کسی ماں نے نہیں جنا، اس لیے ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ﷺ بنو ہاشم کو محض اپنی قرابت داری کی وجہ سے دوسروں پر ترجیح دیتے ہوں، بلکہ یقیناً بنو ہاشم نبی ﷺ کی خاص تعلیم و تربیت کی وجہ سے اس کے سب سے زیادہ اہل بھی تھے۔ چناں چہ اس مسئلہ میں ہمارے لیے اسوہ یہ ہے کہ بنو ہاشم  علیہم السلام کو امت مسلمہ پر فوقیت دیں اور ان کے حقوق ادا کریں۔

اللہم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد

 



 البقرۃ:47[1]

مسند احمد: رقم 16986، صحیح مسلم: رقم 2276 [2]

 الانفال:41[3]

مسند أحمد:رقم 16862، صحیح البخاری: رقم 3140  [4]

 https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura8-aya41.html [5]

 مسند احمد: رقم 23355[6]

 مسند احمد: رقم 646، سنن ابوداؤد: رقم 2984 [7]

 مسند احمد: رقم 439[8]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading