2024-07-17
الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا  نبی بعدہ  
بنی ہاشم سے مراد وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہیں ہم آج آلِ محمد اور اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام کے مبارک نام سے یاد کرتے ہیں 
سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا:اللہ عز و جل نے سیدنا ابرہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کو چن لیا، پھر سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو چن لیا، پھر بنو کنانہ میں سے قریش کو چن لیا، پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو چن لیا اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔
مسند امام احمد:  ١٧١١١،  ١٧١١٢، صحیح المسلم:٢٢٧٦
جنابِ ہاشم رسول اکرم ﷺ کے پردادا تھے۔ آپ قبیلہ قریش کے سردار تھے۔ ان کیاوالاد بنو ہاشم کے نام سے مشہور ہے۔ تاہم بنی ہاشم سے ہماری مراد بنی ہاشم کے وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہیں ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔ 
بنو ہاشم نے نہ صرف خود اسلام قبول کیا بلکہ انہوں نے ہر حال میں رسول اکرم ﷺ کی حمایت و نصرت کا فریضہ بخوبی ادا کیا۔ یہاں تک کہ جب بنو ہاشم رسول اکرم ﷺ کی حمایت ست دست کش نہ ہوئے  تو انہوں نے بنو ہاشم کا سوشل ۔بائیکاٹ کردیا۔ بالآخر بنو ہاشم کو شعبِ ابی طالبؓ میں محصور کردیا گیا۔
انہوں نے درختوں کے پتے اور چمڑہ کھانا تو گوارہ کرلیا مگر رسول اکرم ﷺ کی 
حمایت ترک نہ کی
اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کو ان کی قربانیوں کے بدلے ایسا بلند مقام عطا فرمایا  کہ کوئی  ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 

نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
’’ أَنَا تَارِکٌ فِیکُمْ ثَقَلَینِ: أَوَّلُھُمَا کِتَابُ اللّٰہِ فِیہِ الْھَدْيُ وَالنُّورُ فَخُذُوا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوا بِہِ فَحَثَّ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ۔ ثُمَّ قَالَ: وَأَھْلُ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي.

میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: ان میں سے پہلی بھاری چیز اللہ کی 

کتاب ہے۔ اس میں ہدایت اور نور ہے پس تم کتاب اللہ کو پکڑ لو اور اس کے 
ساتھ مضبوطی اختیار کرو۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل 

کے حوالے سے لوگوں کو ابھارا اور ترغیب دلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ 

وسلم نے فرمایا: ”اور (دوسری بھاری چیز) میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہل بیت 

کے بارے میں تمھیں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں 

تمھیں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ یاد دلاتا 

ہوں، یعنی اللہ سے ڈراتا ہوں۔
صحیح مسلم: 2408
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت میں الفاظ یوں ھیں
أيُّها الناس، إنِّي تاركٌ فيكم أمرينِ لن تضلُّوا إن اتَّبعتموهما، وهما: كتابُ الله، وأهلُ بيتي عِترتي
مستدرک الحاکم 4577
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں , تم جب تک ان کی پیروی کرتے رھو گے ھرگز کمراہ نہ ھوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اھل بیت۔
سیدناُ جابرِ بن عبد الله رضي الله عنہما سے یہ الفاظ مروی ھیں
يا أيُّها الناس، إني تركتُ فيكم ما إنْ أخذتُم به لن تضلُّوا: كتاب الله، وعِترتي أهْلَ بَيتي
جامع الترمذی 3786
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو ایسی چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں , اگر تم ان سے چمٹے رھو گے تو ھرگز کمراہ نہ ھوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اھل بیت۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ مروی ہیں
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابُ اللهِ ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي
مسند امام احمد 21911

میں تمھارے بیچ دو جانشین چھوڑے جارھا ھوں, یعنی کتاب اللہ جو آسمان سے لٹکی ھوئی اللہ کی رسی ھے اور میرے اھل بیت.
سیدناُأبي سعيدٍ الخُدريِّ رضي الله عنه سے یہ الفاظ مروی ھیں
إنِّی تارک فيكم الثَّقلَينِ, أحدهما أكبرُ مِن الآخَر – كتاب الله، حبْلٌ ممدود من السَّماء إلى الأرض، وعِترتي أهل بيتي.
مسند امام احمد 11120, جامع الرمذی 3788 
میں تمھارے بیچ دو بھاری چیزیں چھوڑرے جارھا ھوں, یعنی کتاب اللہ جو آسمان سے لٹکی ھوئی اللہ کی رسی ھے اور میرے اھل بیت۔.
ان سب روایات کا مدلول و مقصود ایک ہی ھے اگرچہ الفاظ بظاھر مختلف ھیں, تاھم روایت بالمعنی میں الفاظ کا تغیر مستبعد نہیں ھے
مذکورہ بالا مقبول احادیث میں اھل بیت رسول علیھم الصلوة والسلام سے محض حسن سلوک کی وصیت نہیں کی گئی بلکہ کتاب اللہ اور اھل بیت کی غیر مشروط اتباع کا حکم بھی دیا گیا ھے.
اس اصول کی سب سے نمایاں مثال سورة الانفال میں وارد آیت خمس سے مأخوذ ھونے والے احکام ھیں. ارشاد باری تعالی ھے

مال خُمُس


وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
الأنفال، 8: 41
اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں کے لیے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدان بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ تعالی نے خمس یعنی مال غنیمت کا پانجواں حصہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص فرمادیا ھے اور اس خمس کے بھی پانچ حصے کرنے کی تاکید فرمائی ھے. یہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس علیھما السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ھیں
عن ابن عباس – رضي الله عنهما – : كان رسول الله – صلى الله عليه وسلم – إذا بعث سرية فغنموا ، خمس الغنيمة ، فضرب ذلك الخمس في خمسة.
تفسیر ابن جریر الطبری
یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی فوجی مہم بھیجتے تھے تواس سے جو مال غنیمت حاصل ھوتا اس کے پانچ حصے کرتے تھے, پھر ان کے پانچویں حصے کو پھر پانچ حصوں میں بانٹ دیتے تھے.
گویا کل مال غنیمت کے پانچ حصے کیے جاتے تھے, جس میں سے چار حصے مجاھدین میں تقسیم کیے جاتے اور خمس یعنی پانچواں حصہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تحویل میں لے کر اسے مذکورہ حکم الہی کے مطابق مزید پانچ حصوں میں تقسیم فرماتے تھے. وہ پانچ حصے یہ ھیں:
1.رسول اکرم صلی اللی علیہ وسلم کا حصہ
2. اھل بیت رسول علیھم الصلوة والسلام کا حصہ
3. یتیموں کا حصہ
4. مساکین کا حصہ
5. مسافروں کا حصہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر ملال کے بعد اھل بیت رسول علیھم الصلوة والسلام کا مؤقف یہ تھا کہ خمس اب بھی پہلے کی طرح پانچ حصوں میں ہی تقسیم ھوگا اور اس میں سے ان کا حصہ اب بھی باقی ھے, تاھم خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مؤقف یہ تھا کہ وفات رسول سے ان کا اور انکے اھل بیت کا حصہ ساقط ھوگیا ھے. امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ سمجھتے تھے کہ اھل بیت کا قول قرآن و سنت سے زیادہ موافقت رکھتا ھے.
المغنی و الشرح الکبیر لابن قدامہ الحنبلی: ج 7, ص 301, مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
صحابہ کرام کا یہی اختلاف بعد میں آنے والے علماء میں بھی سرایت کر گیا. جیسا کہ امام ابن تیمیہ الحنبلی رحمہ اللہ لکھتے ھیں:
و قال الشافعی و احمد فی الروایة المشھورة : الخمس یقسم علی خمسة اقسام و قال ابو حنیفہ علی ثلاثة فاسقط سھم الرسول و ذوی القربی بموتہ صلی الہ علیہ وسلم.
منھاج السنة النبویة : ج 4, ص 97, مطبوعہ دارالحدیث قاھرة
امام شافعی اور امام احمد سے مشھور روایت یہی ھے کہ خمس کو بانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے, جبکہ امام ابو حنیفہ کا قول ھے کہ تین حصوں میں تقسیم کیا جائے کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور ان کے اھل بیت کا حصہ وفات رسول سے ساقط ھو گیا ھے.
واضح رھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے یہ فقھی اختلافات اجتھادی نوعیت کے ھیں, لھذا ان کی بنیاد پر ان میں سے کسی پر بھی ملامت نھیں کی جاسکتی بلکہ وہ سب مجتھد تھے اور اپنے اجتھاد کی بنا پر عنداللہ مأجور ھیں. ان شاء اللہ
شیخین رضی اللہ عنھما سمیت سب صحابہ اھل بیت رسول علیھم الصلوة والسلام سے سچی محبت کرتے تھے.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا تھا :اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنا میرے اپنے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک سے زیادہ محبوب ہے
صحیح البخاری :3712.
آیت خمس میں ذوی القربی سے مراد بنو ھاشم اور بنو مطلب ھیں جیسا کہ صحیح حدیث میں صراحت کی گئی ھے.
عن جبير بن مطعم قال: مشيت أنا وعثمان بن عفان إلى النبي فقلنا: يا رسول الله، أعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا، ونحن وهم بمنزلة واحدة، فقال رسول الله : إنما بنو المطلب وبنو هاشم شيء واحد.
صحیح البخاري
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ھیں میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو خیبر کے خمس میں سے حصہ دیا ھے جبکہ ھمیں(بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو) نھیں دیا. حالانکہ ھماری آپ سے قرابت ان کے برابر ہی ھے. تب رسول اللہ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا
بے شک بنو مطلب اور بنو ھاشم تو ایک ہی شے ھیں.
سورة الانفال کی آیت مبارکہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر سے واضح ھوجاتا ھے کہ ذوی القربی سے مراد بنو ھاشم اور بنو مطلب ھیں.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا جناب ھاشم بن عبد مناف کے تین بھائی تھے, مطلب, نوفل, عبد شمس. ریاست مکہ کے بعض عھدوں کی تقسیم سے متعلق بنو ھاشم اور بنو عبد شمس میں بعض اختلافات تھے. بنو نوفل نے بنو عبد شمس کا ساتھ دیا جبکہ بنو مطلب نے بنو ھاشم کا ساتھ دیا. حتی کہ ظھور اسلام کے بعد جب اہل مکہ نے بنو ھاشم سے قطع تعلقی کرلی تو بنو مطلب سے یہ گوارا نہ ھوا, چنانچہ وہ بھی بنو ھاشم کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصو ھوگئے. اسی لیے رسول اللہ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا کہ بنو ھاشم اور بنو مطلب ایک ہی شے ھیں. اسی حدیث کی بنیاد پر امام شافعی اورامام احمد رحمھما اللہ کی رائے یہ ھے کہ اھل بیت رسول علیھم الصلوة والسلام سے مراد بنو ھاشم اور بنو مطلب ھیں.

اھل بیت رسول کے لیے احادیث میں ایک دوسری اصطلاح آل محمد علیھم الصلوة والسلام بھی استعمال ھوئی ھے. ذیل میں چند مثالیں پیش خدمت ھیں:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أخذ الحسن بن علي رضي الله عنهما تمرة من تمر الصدقة، فجعلها في فيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم «كخ، كخ» ليطرحها، ثم قال: «أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة» وفي رواية «أما علمت أن آل محمد صلى الله عليه وسلم لا يأكلون الصدقة.
صحیح البخاری 1485، 14191
صحیح مسلم 1069
سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنی سے مروی ھے کہ ایک بار سیدنا حسن بن علی علیھمالسلام نے زکوة کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فورا کھجور تھوک دینے کو کہا. اور فرمایا کیا آپکو شعور نھیں کہ ھم صدقہ نھیں کھاتے, ایک دوسری روایت میں ھے کہ کیا آپکو معلوم نھیں کہ آل محمد صدقہ نھیں کھاتے.
وعن عبدالمطلب بن ربيعة بن الحارث قال: قال رسول الله ﷺ
إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد، إنما هي أوساخ الناس
. صحیح مسلم.
عبدالمطلب بن ربیعہ بن الحارث علیہم السلام سے روایت ھے کہ رسول اللہ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا: بے شک صدقے کا مال آل محمد کے لیے جائز نھیں کیونکہ یہ تو لوگوں کے ھاتھوں کی میل ھے۔.
معلوم ھوا کہ آل محمد صرف وہ خوش نصیب لوگ ھیں جن پر صدقے کا مال حرام ھے. امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اھل بیت اور آل محمد کی اصطلاحات کو ایک دوسرے کا مترادف سمجھتے تھے. یہی قول راجح ھے. واللہ اعلم
یوں تو سبھی اھل بیت مشرف و معظم اور مطھر و معطر ھیں تاھم خانوادہ علی المرتضی علیہم السلام کو جو امتیازی فضل و شرف حاصل ھے اس میں ان کا کوئی شریک نھیں. ملاحظہ فرمائیں درج ذیل آیات و احادیث

آیت مُباہلہ

ارشاد باری تعالی ھے
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
سورۂ آل عمران؛ 61
اے نبی! علم وحی آجانے کے بعد جو لوگ آپ سے جھگڑتے ھیں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے قرابت داروں کو بلائیں اور پھر اللہ کی بارگاہ میں خوب دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں ۔

سورہ آل عمران کی یہ آیت مبارکہ آیت مباھلہ کے نام سے مشھور ھے.. اس آیت کی تفسیر میں منقول ھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے نصرانی راھبوں کو دعوت مباھلہ پیش کی. اگلے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی, سیدہ فاطمہ, سیدنا حسن اور سیدنا حسین علیھم السلام کو لے کر میدان میں پہنچ گئے مگر نصرانی راھبوں نے راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی.
عبدالرحمان ابن علی الجوزی, زادالمسیر فی علم التفسیر, ج 1, ص 399
صحیح مسلم میں اسی آیت کی تفسیر میں مذکور ھے:
عن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه قَالَ: وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ}، دَعَا رَسُولُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِی.
صحیح مسلم، 2404
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی: ’’آپ فرما دیں کہ آ جاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو (ایک جگہ پر) بلا لیتے ہیں۔‘‘تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی، سیدنا فاطمہ، سیدنا حسن اورسیدنا حسین سلام اللہ علیہم کو بلایا، پھر فرمایا:یا اللہ! یہ سب میرے اہل بیت ہیں۔‘‘
خوبصورت بات یہ ھے کہ جن اھل بیت عظام کو آپ ساتھ لے گئے وہ اس آیت مبارکہ میں مذکور تمام اصناف پر محیط تھے. جناب حسنین کریمین ابناءنا, سیدہ فاطمہ نساءنا اور سیدنا علی انفسنا کی عملی تفسیر ھیں. صلوات اللہ علیھم اجمعین
یہاں ذھنوں میں یہ اشکال پیدا ھوتا ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باقی اھل بیت مثلا سیدہ امامہ بنت زینب اور ازواج مطھرات علیھن السلام وغیرہ کو ساتھ کیوں نھیں لے کر گئے, تو اس کا جواب یہ ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصرانیوں پر محض حجت تمام کرنا چاھتے تھے,مقصد اجتماع کرنا نھیں تھا. آپ کو بذریعہ وحی بتادیا گیا تھا کہ نصرانی مباھلے سے فرار ھو جائیں گے.اسی لیے آپ نے فرمایا کہ اگر وہ آجاتے تو ان پر آسمان سے آگ برستی.
زادالمسیر فی علم التفسیر
آیت مباھلہ اور اسکی عملی تفسیر سے واضح ھوجاتا ھے کہ خانوادہ علی المرتضی علیھم الصلوة والسلام کا مقام سب اھل بیت اطھار سے اعلی و افضل ھے بلکہ یوں کہنا چاھیے کہ یہ نفوس اربعہ باقی اھل بیت کے نمائندے اور سردار ھیں. حسنین کریمین جنت کے جوانوں کے سردار اور سیدہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار سلام اللہ علیہم

آیت تطھیر

سورہ احزاب کی وہ آیات جن میں ازواج مطھرات سے خطاب کیا گیا ھے, ان میں ایک ہی رکوع میں بائیس ضمیریں جمع مؤنث کی وارد ھوئی ھیں اور اسی رکوع کے آخر پر یکدم درج ذیل آیت جمع مذکر کی ضمیروں کے ساتھ نمودار ھوتی ھے
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
الاحزاب :33
اے اھل بیت ! اللہ چاہتا ھے کہ وہ آپ سے (گناھوں کی) نجاست دور کردے اور آپ کو (گناھوں سے) خوب پاک صاف کردے
ان جمع مذکر ضمیروں کا یکایک غیر معمولی ظھور ظاھر کرتا ھے کہ اگرچہ سیاق و سباق میں خطاب ازواج مطھرات سے ھو رھا ھے مگر اب کچھ اور خاص لوگ اس خطاب کے مخاطب بن گئے ھیں
اس آیت کے بارے میں عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ھیں کہ یہ آیت ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ علیھا السلام کے حجرے میں نازل ھوئی. تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ, سیدنا حسن اور سیدنا حسین علیھم السلام کو بلایا اور ایک چادر میں ڈھانپ لیا جبکہ علی علیہ السلام آپ کی پشت پر کھڑے ھوگئے اور آپ نے انکو بھی چادر میں ڈھانپ لیا. پھر آپ نے یوں دعا کی,: اے اللہ یہ سب میرے اھل بیت ھیں پس ان سے گناھوں کی نجاست دور کردے اور انھیں گناھوں سے خوب پاک صاف کردے.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا یہ دیکھ کر کہنے لگیں, کہ اللہ کے نبی! مجھے بھی ان میں شامل کر لیجیے تو آپ نے فرمایا:
آپ پہلے ہی اپنے اعلی مقام پر ھیں, جو میرے خیال میں زیادہ بہتر ھے.
جامع الترمذی 3787

معلوم ھوا کہ اھل کساء کو اھل بیت میں خاص امتیازی مقام حاصل ھے. پس آیت تطھیر کے اصلا مخاطب اھل کساء اور تبعا مخاطب ازوج مطھرات ھیں.
بعض لوگوں کا گمان ھے کہ اس حدیث میں ازواج مطھرات کو اھل بیت سے خارج قرار دے دیا گیا ھے. حاشاوکلا ایسا ھرگز نھیں ھے, یہ محض ان کا قصور فھم ھے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے اصل الفاظ یہ ھیں انت علی مکانک و انت الی خیر
اس جملے کے پہلے حصے انت علی مکانک سے مراد یہ ھے کہ آپ تو قرآن کی آیات کی رو سے اھل بیت میں پہلے سے شامل ھیں اور جملے کے دوسرے حصے و انت الی خیر سے مراد یہ ھے کہ آپکو تو دوھری فضیلت حاصل ھے یعنی آپ اھل بیت میں سے بھی ھیں اور ام المؤمنین ‘مؤمنین کی ماں’بھی ھیں.
 البتہ اس آیت میں ضمیر مذکر مخاطبین وارد ہے تو عرض ہے کہ یہ انداز تخاطب قرآن پاک میں دیگر مواقع پر بھی موجود ھے جہاں آیت کے پہلے حصے میں بیوی اور دوسرے حصہ میں شوھر بھی شامل خطاب ھو گیا ھے. سورہ ھود میں ہے :
أتعجبين من أمرالله رحمة الله وبركاته عليكم أهل البيت إنه حميد مجيد
 کیا آپ اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہیں اے اہل بیت ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکات ہیں وہ یقینا تعریف والا اور بزرگی والا ہے
اس خطاب میں اھل بیت سے سیدنا إبراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ مراد ہیں اس میں ” علیکم ” ضمیر مذکر ہے اس کی وجہ یہ ھے کہ پہلے خطاب کا تعلق زوجہ سے ہے اس لئے ضمیر مؤنث ہے اور دوسرے میں ابراہیم علیہ السلام بھی شریک ہیں ، تغلیب مذکر کی وجہ سے ضمیر مذکر ہے۔.
جامع الترمذی کی مذکورہ بالا حدیث کی تائید صحیح مسلم کی درج ذیل حدیث سے ھوتی ھے
عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم غَدَةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رضی الله عنه فَأَدْخَلَهَ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ رضی الله عنه فَدَخَلَ مَعَهُ ثُمَّ جَاءَ تْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَاءَ عَلِیٌّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ قَالَ:
إِنَّمَا يُرِيدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَکُمْ تَطْهِيرًا
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت ایک اونی منقش چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل کر لیا پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو انھیں بھی چادر میں داخل کرلیا. پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا تشریف کائیں تو ابھی چادر میں داخل کرلیا, پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے انھیں بھی اس میں داخل کرلیا اور اس کے بعد قرآن کی آیت تلاوت فرمائی
إِنَّمَا يُرِيدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَکُمْ تَطْهِيرًا
پس مذکورہ آیات و احادیث سے یہ بات پایہ ثبوت کو بہنچ چکی ھے کہ اھل بیت رسول یا آل محمد علیہھم الصلوة والسلام سے مراد وہ نفوس قدسیہ ھیں جن پر صدقہ حرام ھے اور جن کے لیے اللہ تعالی نے خمس کا خمس مخصوص فرمادیا ھے.
تاھم اھل بیت میں سے نفوس اربعہ یعنی سیدنا علی, سیدنا فاطمہ, سیدنا حسن اور سیدنا حسین علیھم الصلوة والسلام کو ان سب میں امتیازی مقام حاصل ھے. اللہ تعالی سے دعا کہ وہ ھمیں اھل بیت اطھار  عیہم الصلوات والسلام اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading