2024-07-17

 

قومِ عاد:ایک تاریخی جائزہ

ساجد محمود انصاری

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اکثر مقامات پر قومِ نوح کے تذکرے کے بعد قومِ عاد کا ذکر کیا ہے۔ ہرگاہ کہ یہ قصے  ازراہِ تفنن بیان نہیں کیے گئے بلکہ ان کا مقصد عبرت حاصل کرنا ہے۔قومِ عاد کے بارے میں سورۃ الشعرا میں یوں بیان کیا گیا ہے

كَذَّبَتْ عَادُ ن الْمُرْسَلِيْنَ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ اِنِّىْ لَـكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ وَمَاۤ اَسْــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍۚ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَۙ وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ وَاتَّقُوْا الَّذِىْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِيْنَ وَجَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍۚ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍۗ قَالُوْا سَوَاۤءٌ عَلَيْنَاۤ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِيْنَۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَۙ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَۚ فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَـكْنٰهُمْ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۗ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ[1]

قومِ عاد نے رسولوں کو جھٹلایا، یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا تھا “کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ ہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تم کھیل تماشے کے لئے ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو، اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبار و سرکش بن کر حملہ کرتے ہو؟ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو، اس نے مویشیوں اور اولاد سے تمہاری مدد فرمائی، باغ دیے اور چشمے دیے،مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے، یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں، اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں، آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔

ہمارا مقصد ان صفحات پر  ان آیات کی تفسیر پیش کرنا نہیں ہے بلکہ ہم اس واقعہ کے صرف تاریخی نوعیت کے پہلوؤں کو اجار کریں گے۔یہ قرآنی آیات قومِ عاد کی تاریخ متعین کرنے میں بنیاد کا کام کرتی ہیں۔ہماری کوشش ہوگی کہ  ہم انہی بنیادی اور اصولی معلومات کی روشنی میں تاریخی روایات کی توضیح و تشریح کریں۔

قومِ عاد کا حسب نسب کیا تھا؟ ان کا تعلق کس زمانے سے تھا اور ان کا مسکن کونسا خطہ ٔ ارضی تھا؟یہ وہ سوالات ہیں جو قرآن کے ہر ذی فہم قاری کے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ان سوالات کا جواب تلاش کرنا نہ تو قرآن پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اور نہ ہی اسے تعمّق پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ہر گاہ کہ قرآن کا فہم ان سوالات کے جواب پر موقوف نہیں تاہم یہ سوالات تاریخی اعتبار سے نہایت اہم ہیں  اور ان سوالات کامقصود محض اطمینانِ قلب ہے۔ چناں چہ صرف  مسلم مؤر خین  ہی نہیں اکثر مفسرین نے بھی ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی مقدور بھر سعی کی ہے۔

قومِ عاد کا تعارف

قومِ عاد   سیدنا  نوح علیہ السلام  کے بیٹے سام ؒ کی اولاد میں سے تھے۔ اس قوم کا شمار ان قدیم عرب اقوام میں کیا جاتا ہے جو تاریخ کی گرد میں گم ہوگئی تھیں اور جنہیں اہلِ تاریخ عرب عاربہ یا عرب بائدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔حفظ الرحمٰن صدیقی  ؒ  قومِ عاد کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں

عرب عاد کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحبِ قوت واقتدار افرادِ جماعت کا نام ہے، تاریخ ِ قدیم کے بعض یورپی مصنفین عاد کو ایک فرضی کہانی (میتھالوجی) یقین کرتے ہیں، مگر ان کا یہ یقین بالکل غلط اور سراسر وہم ہے۔، اس لیے کہ جدید تحقیقات کا یہ مسلّم فیصلہ ہے کہ عرب کے قدیم باشندے کثرتِ  افرادوقبائل کے اعتبار سے ایک باعظمت و سطوت جماعت کی حیثیت میں تھے جو عرب سے نکل کر شام، مصر اور بابل کی طرف بڑھے اور وہاں زبردست حکومتوں کی بنیادیں قائم کیں، اب فرق صرف  اس قدر ہے کہ عرب ان باشندوں کو اممِ بائدہ(ہلاک ہونے والی قومیں) یا عرب عاربہ (خالص عرب) اور ان کی مختلف جماعتوں کے افراد کو عاد، ثمود، طسم اور جدیس کہتے ہیں اور مستشرقین ِ یورپ (اممِ سامیہ ) نام رکھتے ہیں، پس اصطلاحات و تعبیرات کے فرق سے حقیقت و واقعہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوجاتی۔ اس لیے قرآن عرزیز نے ان کو عادِ اولیٰ کہا  ہے کہ یہ واضح ہوجائے کہ عرب کی قدیم قومِ بنو سام اور عادِ اولیٰ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔[2]

عرب مؤرخین نے عربوں کی دو بنیادی قسمیں بتائی ہیں

۱۔ عرب عاربہ

سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پہلے کے عربوں کو عرب عاربہ کہا جاتا ہے ، ان میں جو مشہور عرب قبائل شامل ہیں ان کے نام یہ ہیں: عاد،ثمود، جُرہُم، طسم، جدیس، اُمیم،مدین، عملاق، عَبِیل، جاسم، قحطان اور بنو یقطن وغیرہ

۲۔ عرب مستعربہ

عربوں کی ایک عظیم اکثریت کی رائے یہ ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے عربی زبان کو ایک خاص لب و لہجہ اور فصاحت و بلاغت عطا فرمائی۔اس لیے ان کی نسل سے جو عرب قبیلے پیدا ہوئے  ہیں انہیں عرب مستعربہ کہا جاتا ہے۔جن میں سے آلِ عدنان کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔

عرب مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ عاد بنو سام میں سے ایک شخص تھا ، اس کا قبیلہ خوب پھلا پھولا اور اسے بڑی شان و شوکت حاصل ہوئی ۔ اس لیے اس سارے قبیلے کو قومِ عاد کہا جانے لگا۔ جیسا کہ قرآن کی مذکورہ بالا آیات سے واضح ہے کہ قومِ عاد کی طرف سیدنا ہود علیہ السلام نبی بنا کر مبعوث کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی قوم کی اصلاح کے لیے نبی بھیجا ، اسے اسی قوم میں سے منتخب فرمایا۔ اسی  طرح سیدنا ہود علیہ السلام بھی قومِ عاد میں سے ہی تھے۔جیسا کہ امام ابن جریر طبری ؒ  نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے

ہود بن عبداللہ بن رباح بن جارود بن عاد بن عوص بن اِرَم بن سام بن نوح [3]

اس شجرہ ٔ نسب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قومِ عاد درحقیقت سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ غرض یورپی مستشرقین جن  قوموں کو امم ِ سامیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ان میں قومِ عاد کو اولیت حاصل ہے۔

قومِ عاد  نہایت طویل القامت اور عظیم الجثہ لوگ تھے۔قرآن حکیم   نےان کے اونچے قدو کاٹھ کی وجہ سے  انہیں کھجورکے اونچے درختوں سے تشبیہہ دی ہے۔سورۃ الحاقہ میں قوم عاد کی ہلاکت کا منظر  یوں  ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے

وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۙ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍۙ حُسُوْمًا ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰىۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ [4]

اور عاد ایک انتہائی تیزوتندچنگھاڑتی ہوئی آندھی سے تباہ کر دیے گئے،اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اِس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔

احادیث صحیحہ میں صراحت کی گئی ہے کہ تخلیق کے وقت سیدنا آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ذراع تھا، جبکہ ایک ذراع درمیانی انگلی کے کنارے سے کہنی تک کے فاصلہ کو کہتے ہیں، اس اعتبار سے ایک ذراع  تقریباً 40 تا 50 سینٹی میٹر کے برابر بنتا ہے ۔  رسول اکرم ﷺ کے زمانہ کے لوگوں کا ایک ذراع عموماً 50 سینٹی میٹر کے برابر ہوتا تھا۔ لہٰذا سیدنا آدم علیہ السلام کا قد تقریباً 30 میٹر کے لگ بھگ رہا ہوگا۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ‏.‏ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ‏.‏ فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏.‏ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏.‏ فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ‏”‏‏.‏[5]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا  کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو اس وقت ان کا قد ساٹھ ذراع تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ جاؤاور ان فرشتوں کو جاکے سلام کہو اور دیکھو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں۔یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقۂ سلام ہوگا۔ پس آپ نے انہیں السلام علیکم کہا تو انہوں نے جواب دیا و علیک السلام و رحمۃ اللہ۔پس انہوں نے سلام میں رحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔پس جو لوگ بھی جنت میں داخل ہوں گے ان کا قد  (داخلے کے وقت) سیدنا آدم علیہ السلام جتنا ہوگا۔ سیدنا آدم علیہ السلام کے وقت سے اب تک انسانی قد میں کمی آتی رہی ہے۔

اس صحیح حدیث کو قرآن حکیم کی مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ قدیم ترین قوموں کے قد کاٹھ بہت زیادہ ہوتے تھے۔آثار 

قدیمہ کی تحقیقات سے یہ حقیقت مبرہن ہوجاتی ہے۔


قدیم فلسطین کے علاقے کوہ کرمل  کے غاروں سے دریافت ہونے والے  انسانی ڈھانچوں نے ایک تہلکہ مچادیا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق سخول اور قفزہ  نامی  غاروں سے ملنے والے ڈھانچے اسّی ہزار سال سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانے  ہیں، اور ان کی اہم بات یہ ہے کہ ان کی کھوپڑیوں کی جسامت عام انسانوں کی جسامت سے کہیں زیادہ ہے۔ علم حیاتیات  کااصول یہ ہے  کہ کسی جاندار کا جسم جتنا بڑا ہوگا اس کے دماغ کی جسامت اسی قدر زیادہ ہوگی۔ یعنی بڑے دماغ بڑی کھوپڑی میں سماتے ہیں۔ لہٰذا یہ نتیجہ نکالنا چنداں مشکل نہیں کہ قدیم انسانوں کی کھوپڑیوں کی جسامت زیادہ ہونے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کی 

مجموعی جسامت عام انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔


اسی طرح فرانس اور جاوا  سے ملنے والےقدیم  انسانی کھوپڑیوں کی جسامت بھی عام انسانوں کی جسامت سے بہت زیادہ تھی۔ ذیل میں مختلف مقامات سے ملنے والی قدیم انسانی کھوپڑیوں کی جسامت کا تقابل کیا گیا ہے۔ واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق موجودہ زمانے کے انسانوں کی کھوپڑیوں کی  اوسط جسامت 1400 کیوبک سینٹی میٹر ہے۔[6]



#

SPECIMEN

COUNTRY

CRANIAL CAPACITY

1

Amud 1

Israel

1740 cc

2

Cro-Magnon l

France

1730 cc

3

Arene Candide 5

France

1661 cc

47

Mladec 5

Czech Republic

1650 cc

5

Wadjak 2

Java

1650 cc

6

La Ferrassie

France

1640 cc

7

La Chapelle aux Saints

France

1625 cc

8

Kostenki 2

Russia

1605 cc

9

Shanidar 1

Iraq

1600 cc

10

Cro-Magnon 3

France

1590 cc

11

Skhul  9

Israel

1590 cc

12

Predmosti 3

Czech Republic

1580 cc

13

Combe Capelle

France

1570 cc

14

San Teodoro 2

Italy

1569 cc

15

Qafzeh 6

Israel

1568 cc

16

Spy II

Belgium

1553 cc

17

Shanidar 5

Iraq

1550 cc

18

Feldhofer

Germany

1525 cc

19

Border Cave

South Africa

1510 cc

20

Obercassel 1

Germany

1500 cc

کھوپڑیوں کی جسامت کے متعلق یہ اعداوشمار  انڈیانا یونیورسٹی بلومنگٹن کے ماہرین انسانیات  ٹام شون مین  کی کتاب کے آٹھویں باب “ہومی نیڈ  برین ایوولوشن ” سے ماخوذ ہیں۔[7]

ان اعداوشمار سے واضح ہے کہ  دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے قدیم انسانوں کے دماغ کی جسامت موجودہ زمانے کے انسانوں سے کافی زیادہ تھی۔  جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم انسانوں کی مجموعی جسامت بھی موجودہ انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ رہی ہے۔بالفاظ دیگر ان کا قد ہمارے قد سے بہت بڑا تھا اور وہ ہمارے مقابلے میں عظیم الجثہ لوگ تھے۔ لہٰذا مغربی مستشرقین کا یہ کہنا کہ قرآن و حدیث میں مذکور قوم عاد کے قصے محض افسانہ ہیں، ایک  وہم اورمغالطے سے زیادہ کچھ نہیں۔

قومِ عاد کا مسکن

قرآن حکیم کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے زمانہ کے عرب قومِ عاد کے مساکن سے آگاہ تھے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَسَاكِنِهِمْ وَزَيَّنَ لَهُمَ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [8]

اور عاد و ثمود کو (ہم نے ہلاک کیا)  تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے۔

[9] تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرَى إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ

جو اپنے رب کے حکم سے ہرچیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا  تھا گناہ گاروں کے گروہ کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

امام ابو حاتم الرازی ؒنے اپنی تفسیر میں سیدنا ابو الدردا  رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے جس میں انہوں نے ایک تقریر کے دوران  قومِ عاد کے مسکن کی نشاندہی فرمائی ہے۔

ألا إن عادا ملكت ما بين عدن وعمان خيلا وركابا[10]

ارے قومِ عاد کی بادشاہت  عدن اور عمان کے درمیان پھیلی ہوئی تھی جہاں ان کے گھوڑے دوڑتےتھے۔

امام ابن کثیر ؒ قومِ عاد  کے بارے میں لکھتے ہیں

و کانوا عربا یسکنون بالاحقاف ، و ھی جبال الرمل، و کانت بالیمن من عمان و حضر موت، بارض مطل  علی البحر یقال لھا  الشِحر و اسم وادیھم مُغِیث[11]

عاد کے لوگ عرب تھے اور احقاف میں رہائش پذیر تھے یہ وہ خطہ ہے جہاں ریت کے پہاڑ پائے جاتے ہیں، یہ لوگ یمن ، عمان اور حضر موت میں آباد تھے۔ان کا وطن سمندر کے کنارے ایک بارش والی سرزمین تھی جسے شِحر کہا جاتا ہے جبکہ ان کی وادی کا نام (بارش کی کثرت کی وجہ سے )  مُغیث پڑ گیا تھا۔

ابن منظور الافریقی المصری ؒ نے لسان العرب میں لکھا ہے کہ عمان سے عدن تک کے ساحل کو الشِحر کہا جاتا ہے۔[12]

قرآن حکیم کی آیات سےقومِ  عاد کےوطن کے بارے میں درج ذیل باتیں نکھر کر سامنے آجاتی ہیں

۱۔ الاحقاف میں اشارہ ہے کہ ان کا وطن کسی ایسے علاقے میں تھا جہاں  ریت کے  بنے ہوئے پہاڑ   پائے جاتے ہیں۔

۲۔ عاد کا مسکن بے آب وگیاہ نہیں تھا بلکہ وہاں باغات اور ان کو سیراب کرنے والے پانی کے چشمے بھی پائے جاتے تھے۔

۳۔ ان کے مسکن میں وادیاں بھی موجود تھیں، جبکہ وادیوں کے بارے میں یہ  معلو م ہے کہ بلند ٹیلوں یاپہاڑوں کےدرمیان نشیبی جگہ جہاں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے یا جہاں دریا بہتا ہے، اسے وادی کہتے ہیں۔

علم طبقات الارض  یعنی جیولوجی کی اصطلاح میں  تہہ دار چٹانوں کی ایک قسم سینڈسٹون  ہے۔ جزیرۃ العرب پر  سینڈ سٹون سے بنی ہوئی چٹانیں خلیج عربی (خلیج فارس) سے حضر موت تک اور شمال میں ربع الخالی تک  پھیلی ہوئی ہیں۔ سڈنی یونیورسٹی (آسٹریلیا ) کے جیوٹیکنیکل انجینئرنگ کےپروفیسر ہیری پولس جزیرۃ العرب کے جنوب مشرقی حصے کی ارضی خصوصیات بیان کرتے ہوئے  اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں

The Arabian Shelf, which lies east of the Arabian Shield. Sedimentary rocks, which range in age from Cambrian to Quaternary, dip gently towards the Arabian Gulf in the east, and towards the depression of Rub Al-Khali in the south. These sedimentary rocks are mostly limestone, sandstone, siltstone and shales. The terrain is often covered by loose Aeolian deposits and sometimes with thick strata of wadi alluvium or residual soils. [13]

عمان میں وادیوں کی بھرمار ہے۔عمان کی پینسٹھ  وادیوں کی ایک فہرست وکیپیڈیا میں مہیا کی گئی ہے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عمان میں کتنی وادیاں ہیں۔[14]

عمان جیسے چھوٹے سے ملک  میں پچیس کے قریب چھوٹے چھوٹے دریا ہیں جو اس کی سرزمین کو سیراب کرتے ہیں۔شاید یہی وہ چشمے ہیں جن کی سورۃ الشعرا کی مذکورہ بالا آیات میں نشاندہی کی گئی ہے۔یہاں پر کھجوروں کے باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔یہاں کے باغات میں کھجور کی اوسط سالانہ  پیداوار تین لاکھ ٹن ہے۔[15]


موجودہ عمان سال کے زیادہ حصے میں خشک رہتا ہے  مگر خریف (خزاں) کے موسم میں یہاں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہوتا ہے۔یہ بھی قدرت کے عجیب رنگ ہیں ۔ وہ وقت کہ جب سارے عرب میں خزاں رسیدہ شدید گرم موسم ہوتا ہے اس وقت عمان کے صوبے ظفار میں جیسے بہار اپنے جوبن  پہ آجاتی ہے۔خاص طور پر سلالہ کے رنگ دیدنی ہوتے ہیں۔جولائی سے ستمبر تک تین ماہ پر محیط یہ مختصر سا عرصہ شاید ہمیں اس حسین  وقت کی یاد دلاتا ہے جب اس علاقے میں سارا سال ایسا ہی موسم اور سبزہ ہوتا تھا۔[16] 

وہ وقت جس کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے

وَاتَّقُوْا الَّذِىْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِيْنَ وَجَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍۚ

اور ڈرو اس رب سے جس نے تمہیں وہ سب دیا ہے جو تم جانتے ہو، تمہیں چوپایوں، بیٹوں  ، باغات اور چشموں سے نوازا ہے۔

Oman spring


ہم جانتے ہیں کہ عمان بحیرہ عرب  کے شمال مغربی ساحل پر خلیج عمان کے دھانے کے پاس واقع ہے۔1948 میں عمان کی ایک پرائیویٹ  پٹرولیم کمپنی نے صوبہ ظفار میں ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع ایک گاؤں شِسر میں ایک ٹیلے کے اوپر  ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات دریافت کیے۔یہ قلعہ چند سوسال پرانا تھا۔بعد میں کیلیفورنیا (امریکہ) سے تعلق رکھنے والے ایک شوقیہ ماہر آثار قدیمہ اور فلم ساز نکولس کلیپ نے  اس  قلعے کےنیچے کھدائی کروائی تو وہاں ایک عظیم شہر دریافت ہوا۔ غالب گمان یہ ہے کہ  یہ آثارِ قدیمہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں بھی معلوم و مشہور تھے، جیسا کہ سیدنا ابوالدردا  رضی اللہ عنہ  کے قول سے ظاہر ہوتا ہے۔واللہ اعلم

مقامی لوگ شحر  (شسر) کو  

وبار اور مغربی مصنفین  اُوبار 

کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔[17] 

عمان اور  حضر موت کا سارا علاقہ قومِ عاد کے زیرِ تسلط تھا۔اس علاقے میں متعدد مقامات پر آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں، جن میں قدیم تہذیبوں کے آثار پائے گئے ہیں۔

قومِ عاد کا زمانہ

سورۃالاعراف میں اللہ تعالیٰ نے صراحت سے بیان کیا ہے کہ قومِ عاد قومِ نوح کی جانشین تھی۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَاذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَـكُمْ ۚ خُلَفَاۤءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَكُمْ فِى الْخَـلْقِ بَصْۜطَةً فَاذْكُرُوْۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ [18]

اور یاد کرو جب کہ تمہیں قوم نوح کے بعد جانشین بنا یا اورڈیل ڈول میں تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا سو الله کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔

سورۃ المؤمنون میں سیدنا نوح علیہ السلام کے تذکرہ کے فوراً بعد قومِ عاد کو ان کوجانشین بنانے کی طرف قوی اشارہ کیا گیا ہے۔تاہم ساتھ ہی صراحت کردی گئی ہے کہ ان دونوں قوموں کے مابین کئی نسلوں کا فاصلہ تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

ثُمَّ اَنْشَأْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ [19]

پھر ان کے بعد ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں۔

سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ہود علیہ السلام کے مابین کم از کم سات نسلوں کا فاصلہ ہے۔عربوں کے ہاں عام رواج تھا کہ وہ شجرۂ نسب بیان کرتے وقت غیر اہم لوگوں کا نام حذف کردیتے تھے، لہٰذا ممکن ہے کہ یہ فاصلہ سات نسلوں سے بھی زیادہ ہو۔یاد رہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام اور ان کی اولاد طویل العمر لوگ تھے، جیساکہ سیدنا نوح علیہ السلام کی عمر تقریباً ایک ہزار سال کے لگ بھگ تھی۔پس یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیدنا نوح اور سیدنا ہود علیہ السلام کے مابین کم از کم 5000 سال کافاصلہ رہا ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب

عمان میں جزیرۃ العرب کی قدیم ترین انسانی موجودگی کے شواہد یہاں سے ملنے والے پتھر کے بنے ہوئے اوزاروں  کی صورت میں ملے ہیں۔یہ حجری اوزار عمان کے صوبہ ظفار سے ملے ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ نے تخمینہ لگایا ہے کہ  انسانوں کے بنائے ہوئے یہ اوزار کم از کم ایک لاکھ سال قدیم ہیں۔[20]

 



[1] الشعرا:123-140

[2] حفظ الرحمٰن صدیقی، قص القرآن:1/103، ادارہ نشریات اسلام لاہور،

[3] ابوالفدا ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ:1/282، دار ہجر

[4] الحاقہ:6-7

[5] صحیح البخاری: رقم 3326

[8] العنکبوت:38

[9] الاحقاف:25

[11] ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ:1/282

[12] لسان العرب:4/398

[18] الاعراف:69

[19] المؤمنون:31

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading