2024-07-17

 

 کیا نمازِ جمعہ ہر مقام پر ادا کی جاسکتی ہے؟

نمازِ جمعہ کا ایک اہم مقصد اہلِ ایمان کا  ہفتہ واراجتماع ہے۔ لہٰذا یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہر گاؤں اور شہر میں مقامی طور پر جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے یا  اس کے لیے کسی بڑے گاؤں  یا شہر کو مرکز بنانا ضروری ہے؟

سیدنا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جامع مصر ( بڑےشہر )کے سوا کسی مقام پر جمعہ اور تشریق (عید کی نماز ) نہیں  ہوتی۔[1]

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ  میں اشارہ ہے کہ مسجد نبوی میں لوگ دوردراز سے نمازِ جمعہ ادا کرنے آتے تھے۔جیسا کہ  احادیثِ صحیحہ میں مذکور ہے کہ  مسجد نبوی کی تعمیر کے بعدمدینہ منورہ کے ارد گرد کے دیہاتوں  میں جمعہ ادا نہیں کیا جاتا تھا بلکہ وہاں کے اعراب (دیہاتی) مسجد نبوی میں جمعہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔[2]

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ منبر پر دمشق سے چار پانچ فرسخ (ایک برید) کے فاصلے پر واقع  دیہات والوں سے مخاطب ہوکر فرماتے تھے کہ تم پر جمعہ میں حاضر ہونا لازم ہے اور یہ کہ تمہارا جمعہ ہمارے ساتھ ہی درست ہوسکتا ہے۔[3]

 امام زہر ی ؒ فرماتے ہیں کہ ذی الحلیفہ کے لوگ نبی ﷺ کے ساتھ  (مسجد نبوی) میں نمازِ جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔[4] جبکہ ذی الحلیفہ مدینہ سے تقریباً چھ ہاشمی میل (تقریباً 10 کلو میٹر) دور تھا۔

امام عطا بن ابی رباحؒ فرماتے ہیں کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ جمعہ کی نما زصرف جامع مصر (بڑے شہر) میں ہی ادا کی جاسکتی ہے۔[5]

امام عطا بن ابی رباحؒ سے ان شہروں کی پہچان کے بارے میں پوچھا گیا جہاں جمعہ ادا کرنا چاہیے تو انہوں نے فرمایا کہ جہاں مسلمانوں کی بڑٰی جمعیت آباد ہو اور وہاں حاکم کی طرف سے امیر(قاضی) مقرر کیا گیا ہوجو قصاص کے فیصلے کرتا ہو۔[6]

امام عطا بن ابی رباحؒ سے سوال کیا گیا کہ کتنے فاصلے سے نمازِجمعہ کے لیے حاضر ہونا لازم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دس میل (ہاشمی)  بلکہ ایک بَرید(بارہ ہاشمی میل)  تک کے فاصلے سے۔[7]

امام قتادہؒ اور امام حسن بصریؒ فرماتے تھے کہ جو شخص جمعہ ادا کرکے واپس اپنے اہل و عیال میں جاکر رات بتا سکتا ہو اس پر جمعہ کے لیے (جامع مسجد) میں حاضر ہونا لازم ہے۔[8] 

پس معلوم ہوا کہ کسی مرکزی شہر کو نمازِ جمعہ کے لیے مرکز بنانا قرآن و سنت کا لازمی تقاضہ ہے۔ہر  گاؤں میں جمعہ کا اہتمام شریعت کے منافی ہے کیونکہ جمعہ کا مقصد اہلِ ایمان کا بڑااجتماع اورقوت ِ اسلام کا مظاہرہ کرنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

امام مالکؒ، امام شافعی ؒاور امام احمد بن حنبل ؒ  کا مؤقف یہ ہے کہ اگر مسجد میں چالیس  بالغ، آزاد اور تندرست مرد حاضر نہ ہوں تو وہ جمعہ کی بجائے نمازِ ظہر ادا کریں گے۔چالیس سے کم ہونے کی صورت میں وہ جمعہ ادا کریں گے تو ان کا جمعہ صحیح نہ ہوگا انہیں نمازِ  ظہر  ہی ادا کرنا پڑے گی۔[9]

آئمہ ثلاثہ نے  نماز جمعہ میں چالیس مردوں کی حاضری کے لیےدرج ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے۔

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بھی وہ نماز جمعہ کی اذان سنتے تو سیدنا اسعد بن زرارہ انصاری رضی اللہ عنہ  کے لیے رحم کی دعا فرماتے۔ ان کے بیٹے نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا  اسعد بن زرارہ  رضی اللہ عنہ ہی وہ شخص ہیں  جنہوں نے  پہلی مرتبہ حرہ بنی بیاضہ کے علاقے نقیع الخضمات میں جمعہ کا انتظام فرمایا تھا۔ان کے بیٹے نے پوچھا کہ اس دن (پہلے جمعہ کے موقعہ پر) کتنے لوگ حاضر تھے؟ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم چالیس مرد تھے۔[10]

اس حدیث میں وجہِ استدلال یہ ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ کے  چالیس مرد وں کے اسلام قبول کرنے سے پہلے  نمازِ جمعہ کی اجازت نہیں دی۔اس لیے نمازِ جمعہ کے لیے چالیس مردوں کی حاضری شرط ہے۔ گویا نمازِ جمعہ کے لیے کم از کم چالیس آزاد بالغ ، صحت مند مردوں کا اجتماع ضروری ہے۔

پس جامع مصر (بڑے شہر) کی مسجد میں بھی جمعہ اسی وقت درست ہوگا جب کم از کم چالیس ایسےافراد جماعت میں حاضر ہوں جن پر جمعہ فرض ہے ۔



[1] مصنف عبدالرزاق: رقم 5175، ابن المنذر، الاوسط:4/27، دار طیبہ

[2] ابن قدامہ، المغنی والشرح الکبیر:2/172، صحیح البخاری: رقم 902، صحیح مسلم :رقم 847

[3] مصنف عبدالرزاق: رقم 5218

[4] مصنف عبدالرزاق: رقم 5207

[5] مصنف عبدالرزاق: رقم 5237

[6] مصنف عبدالرزاق: رقم 5235

[7] مصنف عبدالرزاق: رقم 5209

[8] مصنف عبدالرزاق: رقم 5208

[9] ابن قدامہ، المغنی والشرح الکبیر:2/172

[10] سنن ابوداؤد: رقم 1069، سنن ابن ماجہ: رقم 1082

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading