2024-07-17

 ٹرانس جینڈر کون ہیں؟

از قلم ساجد محمود انصاری

مغربی دانشوروں کے مطابق ٹرانس جینڈر شخص وہ ہے جسے اپنے اندر ایسے احساسات محسوس ہوں جو پیدائش کے وقت اس کی لکھی ہوئی جنس کے احساسات سے مختلف ہوں۔

دنیائے طب کی معروف ویبسائٹ’ ویب ایم ڈی‘  ٹرانس جینڈر کی وضاحت یوں کرتی ہے:

Transgender is a general term that describes people whose gender identity, or their internal sense of being male, female, or something else, does not match the sex they were assigned at birth.[1]

اس تعریف کی رو سے وہ افرادجن میں جنسی اعضا ایسے واضح نہیں ہوتے کہ جن سے ان کی جنس کا تعین کیا جاسکے وہ ٹرانس جینڈر کی تعریف میں داخل نہیں ہیں بلکہ مغربی دانشور انہیں انٹرسیکس کہتے ہیں۔ جیسا کہ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس   پاکستان میں زیرِ بحث ٹرانس جینڈر ایکٹ کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ٹرانس جینڈر اور انٹرسیکس کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

Subsuming individuals with intersex characteristics within transgender people is erroneous and a mischaracterization. Intersex people are individuals born with a wide range of natural variations in their sex characteristics (or differences of sex development) that do not fit the typical definition of male or female, including, for example, with respect to their sexual anatomy, reproductive organs or chromosome patterns.[2]

انٹر نیشنل کمیشن آف جیورسٹس مزید لکھتا ہے:

In many jurisdictions, both transgender and intersex people are considered to suffer from some kind of “disorder”: for transgender people, the disorder is thought to be “psychological”, whereas for intersex people, it is believed to be “physical”. Furthermore, both transgender and intersex people face discrimination and human rights violations due to such pathologization in a society where the binary of male and female prevails.[3]

ٹرانس جینڈر کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ فرض کریں کہ ایک بچہ جب پیدا ہوا تو ڈاکٹروں نے اس کے ظاہری اعضا کی بنیاد پر اسےلڑکا قرار دیا مگر بلوغت کے قریب پہنچنے یا بعد میں عمر کے کسی بھی حصے میں اسے لڑکیوں کی بجائے لڑکوں میں رغبت ہوجاتی ہے اور لڑکیوں سے اسے کوئی رغبت نہیں ہوتی تو ایسا شخص ٹرانس جینڈر  عورت ہے۔ بین الاقوامی ٹرانس جنیڈر قانون کی رو سے اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جنس قانونی دستاویزات میں بھی تبدیل کرکے عورت لکھوا دے۔ اسی طرح پیدائش کے وقت اگر کسی بچے کو ڈاکٹر لڑکی قرار دیتے ہیں، مگر بلوغت کے بعد اسے لڑکوں میں کوئی رغبت محسوس نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس وہ خوبصورت لڑکیوں کی طرف کھنچی چلی جاتی ہے تو وہ ٹرانس جینڈر مرد ہے، اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانونی دستاویزات میں خود کو بطور مرد رجسٹر کروالے۔

اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ ٹرانس جینڈر کی غلط وضاحت ہے تو وہ گوگل پر ٹرانس جینڈر  پر تحقیق کرلیں کہ ٹرانس جینڈر افراد کا طرزِ زندگی کیا ہے؟ کیا ہم جنس پرستی ان کا بنیادی فلسفہ نہیں ہے؟ کیا تمام ٹرانس جینڈر ہم جنس پرستی کو اپنا بنیادی حق قرار نہیں دیتے؟

اسی ہم جنس پرستی کے غیر فطری رویے کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ٹرانس جینڈر ایکٹ نافذ کیا گیا ہے۔ (واللہ المستعان)

 



[2]https://www.icj.org/wp-content/uploads/2020/03/Pakistan-Transgender-Advocacy-Analysis-brief-2020-ENG.pdf

[3]https://www.icj.org/wp-content/uploads/2020/03/Pakistan-Transgender-Advocacy-Analysis-brief-2020-ENG.pdf

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading