2024-07-17

 

رسول اکرم ﷺ کے کفیل کون تھے؟ 

امت  مسلمہ کے تمام علما  متفق ہیں  کہ رسول اکرم ﷺ کے جد امجد عبدالمطلب کی وفات کے بعد نبی ﷺ کی کفالت کی ذمہ داری ان کے محبوب چچا  جناب ابو طالب  نے اپنے کندھوں پر لے لی تھی اور نہ صرف آپکی بلوغت تک آپ کی کفالت کی بلکہ بلوغت کے بعد بھی آپکی سرپرستی کا  فریضہ و ہی سرانجام دیتے رہے تا آن کہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔کفارِ مکہ کے مقابلے میں جس طرح ابو طالب نے آپ ﷺ کی مددونصرت کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے علما چودہ سو سال سے تسلیم کرتے  اور بیان  کرتےآئے ہیں۔کم و بیش تمام قدیم سیرت نگار، مؤرخین، مفسرین اور محدثین  جنہوں نے نبی ﷺ کے بچپن کے حالات سے تعرض کیا ہے بیک زبان ہوکر مذکورہ حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے آئے ہیں۔ تاہم عصر حاضر کے بعض ناعاقبت اندیش  لکھاری اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں، جس کا سبب صرف یہ ہے کہ ابو طالب امام علی المرتضی علیہ السلام کے والدِ گرامی ہیں اور ان ناصبیت زدہ لکھاریوں کو امام علی علیہ السلام سے خواہ مخواہ کا بیر ہے۔ملاحظہ کیجیے درج ذیل لنکس

https://www.facebook.com/abubakr.quddusi.3/posts/3448156351910331?comment_id=3453590174700282&notif_id=1600687585276223&notif_t=feed_comment_reply&ref=notif

https://theshahab.com/blog/2017/11/04/muhammad-ki-kifalat-baad-abdel-muttalib-kis-ne-ki-abu-talib-ya-zubair-ibn-abdel-muttalib/

ذیل میں ہم اہل سنت کے چوٹی کے علما کی کتب سے وہ اقتباسات نقل کررہے ہیں جن سے ہمارے دعوے کی تصدیق ہوجاتی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى

سورۃ الضحیٰ آیت 6

ہم نے آپکو یتیمی کی حالت میں پایا تو آپکو ٹھکانہ عطا فرمایا

امام  محمد بن احمد القرطبی   المالکی       ؒ  (م 671  ھ)اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں

جعل لک مأویً  تاوی الیہ عندعمک ابی طالب کفلک

یعنی اس نے آپ کو اپنے چچا ابو طالب کے ہاں  ٹھکانہ عطا فرمایا جنہوں نے آپ کی کفالت کی۔

تفسیر القرطبی: 22/342، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان

امام  ابوالفدأاسماعیل ابن کثیر الشافعی ؒ (م 774 ھ) اسی آیت  کی تفسیر میں فرماتے ہیں

ثم توفیت امہ آمنۃ بنت وھب ولہ من العمر ست سنین، ثم کان فی کفالۃ جدہ عبدالمطلب، الی ان توفی ولہ من العمر ثمان سنین، فکفلہ عمہ ابو طالب  

نبی کی عمر جب چھ سال کی تھی تو آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب علیہا السلام انتقال فرماگئیں،پھر آپ کی کفالت آپ کے دادا عبدالمطلب نے کی یہاں تک کہ ان کی بھی وفات ہوگئی جبکہ اس وقت نبی ﷺ کی عمر آٹھ سال تھی۔پھر آپ کی کفالت آپ کے چچا ابو طالب نے کی اور

تفسیر ابن کثیر، 8/426، دار طیبہ، ریاض، سعودی عرب، طبع ثانی 1999

امام ابن کثیر تاریخِ عالم  پر اپنی کتاب البدایۃ والنھایۃ (المعروف تاریخ ابن کثیر) میں امام محمد بن اسحاق ؒ سے نقل کرتے ہیں

و کان رسول اللہ بعد جدہ عبدالمطلب  مع عمہ ابی طالب لوصیۃ عبدالمطلب لہ بہ

رسول اکرم ﷺ نےاپنے دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعداپنے چچا ابو طالب کے ہاں قیام فرمایا کیوں کہ عبدالمطلب نے انہیں اس کی وصیت کی تھی۔

البدایۃ والنھایۃ: 3/432، دارھجر

امام ابن ہشام  السیرۃ النبویۃ    میں لکھتے ہیں

و کان رسول اللہ بعد عبدالمطلب مع عمہ ابی طالب و کان عبدالمطلب فیما یزعمون یؤصی بہ عمہ ابا طالب

اور رسول اللہ ﷺ عبدالمطلب کے بعد اپنے چچا ابو طالب کے زیرکفالت تھے، اور مؤرخین کی رائے میں عبدالمطلب نے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کو ہی اس کے لیے اپنا وصی مقرر کیا تھا۔

سیرت ابن ہشام مع الروض الانف، 1/345، دارالحدیث القاہرہ

امام ابن حجر العسقلانی  الشافعیؒ  (م 852 ھ) فتح الباری شرح صحیح البخاری   میں ابو طالب کے بارے میں فرماتے ہیں

 و کان شقیق عبداللہ والد رسول اللہ ولذلک اوصی بہ عبدالمطلب عند موتہ فکفلہ الی ان کبرواستمر علی نصرہ بعد ان بعث الی ان مات ابو طالب

فتح الباری: 7/246، قدیمی کتب خانہ، آرام باغ ،کراچی

محمد بن مصلح الدین مصطفیٰ القوجوی الحنفی ؒ  (م 951 ھ)  لکھتے ہیں

 ولما اشرف عبدالمطلب علی الموت اوصی علیہ علیہ السلام ابا طالب لان عبداللہ و ابا طالب کان من ام واحدۃ، فکان ابو طالب ھوالذی یکفل رسول اللہ بعد جدہ

جب عبدالمطلب کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ابو طالب کو آپ ﷺ کی کفالت کرنے کی وصیت کی۔کیوں کہ وبداللہ اور ابو طالب کی ماں ایک ہی تھی، ابو طالب ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دادا کی وفات کے بعد ان کی کفالت کی۔

تفسیر البیضاوی حاشیہ محی الدین شیخ زادہ، صفحہ 62، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان

امام شرف الدین یحیٰٰ  النووی ؒ شرح صحیح مسلم ، حدیث 1351 کی شرح میں فرماتے ہیں

قال القاضی عیاض : لعلہ اضاف الدار الیہ لسکناہ ایاہ مع ان اصلھا کان لابی طالب، لانہ الذی کفلہ

اس مکان کی نسبت رسول اکرم ﷺ کی طرف اس لیے کی گئی ہےکہ آپ ﷺ اس میں سکونت پذیر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مکان ابو طالب کی ملکیت تھا اور انہوں نے ہی آپ ﷺ کی کفالت کی تھی۔

یہاں اس مکان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جوکہ مولدِ رسول ﷺ کے نام سے مشہور ہے کیوں کہ اسی مکان میں نبی ﷺ کی ولادت ہوئی۔ یہ مکان  صفا کے قریب شعبِ ابی طالب میں واقع ہے، اپنے بھائی  جناب عبداللہ علیہ السلام کی وفات پر ابو طالب نے سیدہ آمنہ علیہا السلام کو ایک مکان رہائش کے لیے دیا تھا ، اسی مکان میں آپ ﷺ کی ولادت مبارک ہوئی۔ جناب عبداللہ کی وفات شادی کی چند ماہ بعد ہی ہوگئی تھی جس کی وجہ سے انہیں اپنا الگ مکان بنانے کی مہلت شاید نہیں مل پائی تھی۔اسی لیے سیدہ آمنہ علیہا السلام  کو ابو طالب کے دئیے ہوئے مکان میں رہائش اختیار کرنا پڑی۔واللہ اعلم بالصواب

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading