2024-07-17

 

سات آسمان اور سات زمینیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا

[1]

اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور زمین کے سات ہی قطعے پیدا کیے ہیں، اس کا امر (تکوینی) ان سب میں نازل ہوتا ہے،تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم ہر شے کو محیط ہے۔

اس آیت مبارکہ  میں  اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے لیے جمع کا صیغہ سماوات  استعمال فرمایا ہے جبکہ زمین کے لیے واحد کا صیغہ الارض    لام تعریف کے ساتھ استعمال فرمایا ہے۔آسمانوں کا سات ہونا قرآن حکیم اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔معراج کا واقعہ بیان کرنے والی روایات میں صراحت ہے کہ یہ آسمان اوپر تلے  تہہ بہ تہہ واقع ہیں۔جس کی طرف قرآن میں بھی اشارہ کیا گیا ہے

الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا 

[2]

اسی نے سات آسمان اوپر تلے  تہہ بہ بہہ بنائے ہیں۔

سورۃ الطلاق کی مذکورہ بالا آیت میں  الارض (زمین) کے بارے میں جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے ، اس سے واضح ہے کہ یہاں سات الگ الگ زمینوںکا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہی زمین کے سات جدا جداقطعات کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں جغرافیہ کی اصطلاح میں براعظم کہتے ہیں۔ان  براعظموں کی طرف سورۃ الرعد میں یوں اشارہ کیا گیا ہے

وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ 

[3]

 اور زمین میں ایک دوسرے کے پڑوس میں کچھ  قطعات ہیں۔

مذکورۃ الصدر آیت کی تفسیر میں  سیدنا عبداللہ بن عباس علیہماا لسلام کی طرف مختلف اقوال منسوب ہیں، تاہم امام قرطبی ؒ نے ان کا ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے  کہ یہ سات قطعاتِ زمین ایک ہی آسمان کے نیچے  ایک  دوسرے کے آس پاس پھیلے ہوئے موجود ہیں اور ان کے درمیان سمندر حائل ہے۔

عن ابن عباس أنها سبع أرضين منبسطة ; ليس بعضها فوق بعض ، تفرق بينها البحار وتظل جميعهم السماء

[4]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے مروی ہے کہ سات زمینیں پھیلی ہوئی ہیں، ایک دوسرے کے اوپر واقع نہیں ہیں، ان کے درمیان سمندر حائل ہیں اور ان سب پر ایک ہی آسمان سایہ فگن ہے۔

ہمارے نزدیک یہ قول قرآنی اسلوب کے مطابق ہے لہٰذا ہمارے نزدیک یہی قول  اقرب الی الحق ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ سات زمینیں اوپر تلے تہہ بہ تہہ ہیں۔اس قول کی تائید میں درج ذیل حدیث بھی پیش کی جاتی ہے

مَنْ ظَلَمَ مِنَ الأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

[5]

جس نے کسی کی  زمین کا ٹکڑا ظلماً ہتھیا لیا، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

 اس حدیث سے سات الگ الگ ایک جیسی زمینوں کے وجود پر استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ یہاں سات زمینوں کا طوق عذابِ شدید کے لیے مجاز کے طور پر مذکور ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر۔ کیا ایک انسان کی گردن اتنی بڑی ہوسکتی ہے کہ جس زمین پر اس جیسے اربوں انسان بستے ہیں اس جیسی سات زمینوں کا طوق اس کی گردن کے گرد حمائل ہوسکے؟ سات زمینیں تو دور  کی بات ہے انسان کی گردن پر ایک زمین کا طوق بھی نہیں سما سکتا۔لہٰذا یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ حدیث میں سات زمینیں مجازاً کہا گیا ہے نہ کہ حقیقتاً۔واللہ اعلم بالصواب

وہ تمام محکم آیات اور احادیث صحیحہ جن میں آسمان و زمین کی تخلیق اور قیامت کے روز ان کے ریزہ ریزہ ہونے کا ذکر ہے ان سب میں سات آسمانوں اور ایک زمین کا ہی ذکر ہے۔ لہٰذا لازم ہے کہ مذکوۃ الصدر آیت کا مفہوم انہی نصوص کی روشنی میں 

سمجھا جائے ناں کہ غرائب کی روشنی میں۔ پس یہی قول درست قرار پاتا ہے کہ 

من الارض مثلھن

سے مراد سات براعظم ہیں۔ 

واللہ اعلم بالصواب

رہا لوگوں کا قرآن و حدیث سے خلائی مخلوق کا وجود ثابت کرنے کا  شوق تو اس کے لیے ایک جیسی سات زمینوں کا وجود ثابت کرنا ضروری نہیں۔قرآن و حدیث میں جس خلائی مخلوق کا ذکر صراحتاً کیا گیا ہے وہی اس کے لیے کفایت کرتی ہے۔ بلکہ قرآن کی ایک سورت کا نام ہی خلائی مخلوق کے نام پر ہے۔ ہمارا اشارہ سورۃ الجن کی طرف ہے۔جنات خلائی مخلوق ہیں۔ آسمانوں پر ان کا آنا جانا ،خلا میں گھومنا پھرنا اور آسمان پر گھات لگا کر بیٹھناقرآن و حدیث سے ثابت ہے۔لہٰذا فرضی خلائی مخلوق کی بجائے حقیقی خلائی مخلوق پر اکتفا کریں تو بہتر ہے۔لوگوں کا معاملہ بھی عجیب ہے ،حقیقی خلائی مخلوق (جنات) کے وجود کو مانتے نہیں اور فرضی خلائی مخلوق کا وجود ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ فیا للعجب

 



[1] الطلاق: 12

[2] الملک:3

[3] الرعد: 4

[4] تفسیر القرطبی، تفسیر سورۃ الطلاق

https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/qortobi/sura65-aya12.html#qortobi

 

[5] صحیح البخاری: رقم 2452

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading