2024-07-17

از قلم ساجد محمود انصاری

ہم اپنے مضمون صفات متشابہات  میں امام احمد بن حنبل ؒ کا یہ مؤقف بیان کرچکے ہیں کہ قرآن حکیم میں مجاز کا استعمال متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔نیز ہم نے قرآن حکیم کے حوالے سے  یہ بھی واضح کیا کہ صفات متشابہات  بھی مجازات میں سے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم یہ دیکھیں گے کہ امام احمد بن حنبل ؒ اور جمہور حنابلہ کا صفات متشابہات کے بارے میں اصل منہج کیا ہے؟

جب ہم گہرائی میں غور کرتے ہیں تو ہم پر یہ عُقدہ کھلتا ہے کہ تاویل (الفاظ کے ظاہری معنی سے انحراف) میں دو مرحلے پائے جاتے ہیں، پہلا مرحلہ جو تاویل کے لغوی معنیٰ کو مستلزم ہے وہ ہے الفاظ کے ظاہری معانی سے انحراف  اور دوسرا مرحلہ ہے ظاہری معنیٰ کی جگہ کوئی معروف معنیٰ مراد لینا۔ مثال کے طور پر اسداللہ( اللہ کا شیر) سے ہم چار ٹانگوں والا درندہ مراد نہ لے کر اس کے ظاہری معنیٰ سے انحراف کرتے ہیں اور اس سے بہادر مراد لے کراسے ایک معروف معنیٰ پہناتے ہیں جس کی لغت اجازت دیتی ہے۔

تفویض (اصل مراد اللہ کو سونپ دینا) میں بھی پہلا مرحلہ تاویل ہی ہے۔ جب ہم کسی آیت یا صفت متشابہہ میں تفویض سے کام لیتے ہوئے اس کا معنی اللہ تعالیٰ کو سونپتے ہیں تو در حقیقت ہم اس کا ظاہری معنیٰ مراد لینے سے کتراتے ہیں۔ جب ہم وجہ اللہ سے ظاہری چہرہ مراد لینے کی بجائے یہ کہتے ہیں کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے، ہم اس کا معنی نہیں جانتے تو درحقیقت ہم تاویل کا پہلا مرحلہ سر کررہے ہوتے ہیں، یعنی ہم اس کے ظاہری معنیٰ سے انحراف کرتے ہیں۔اسی کا نام تاویل ہے۔

اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ تاویل اور تفویض حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں، دونوں میں الفاظ کے ظاہری معانی سے انحراف پایا جاتا ہے،  لہٰذا تاویل اور تفویض کرنے والوں کے درمیان نزاع محض لفظی نوعیت کا ہے۔

اب ہم امام احمد بن حنبل ؒ اور حنابلہ کے اصل مؤقف کی وضاحت کرتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل ؒ فرطِ احتیاط کے سبب صفات متشابہات کاکوئی معنیٰ بیان کرنے سے گریز فرماتے تھے،  گویا وہ تفویض سے کام لیتے تھے۔واضح رہے کہ یہاں معنیٰ سے کیفیت مراد نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ تفویض میں ظاہری معنی سے انحراف موجود ہے جیسا کہ ہم سطورِ بالا میں مثال سے سمجھا آئے ہے۔ظاہری معنیٰ سے انحراف امام احمد بن حنبل ؒ کے درج قول سے ثابت ہوتا ہے:

حنبل بن اسحاق ؒ سے روایت ہے کہ  امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَنْزِلُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا 

وَاللَّهُ يُرَى

 وَأَنَّهُ يَضَعُ قَدَمَهُ 

وَمَا أَشْبَهُ بِذَلِكَ، نُؤْمِنُ بِهَا وَنُصَدِّقُ بِهَا وَلا كَيْفَ وَلا مَعْنَى وَلا نَرُدُّ

 شَيْئًا مِنْهَا، وَنَعْلَمُ أَنَّ مَا قَالَهُ الرَّسُولُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَقٌّ إِذَا كَانَتْ بِأَسَانِيدَ صِحَاحٍ [1]

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں، (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا، اور وہ (جہنم میں ) اپنا قدم  رکھے گا اور اس طرح کی دوسری احادیث پر ہم ایمان رکھتے ہیں، اور ان کو سچا جانتے ہیں، تاہم ان کی کیفیت اور معنیٰ بیان نہیں کرتے اور نہ ہی ہم ان میں سے کسی حدیث کا انکار کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ  جو کچھ رسول اکرم ﷺ سے صحیح اسناد سے ثابت ہے، وہ  عین حق ہے۔

جب حنابلہ کہتے ہیں کہ نصوصِ صفات  کے ظاہر پر ایمان لانا واجب ہے، تو اس سے ان کا مقصود ظاہری معنیٰ پر ایمان لانا نہیں ہوتا۔جیسا کہ امام احمد بن حنبل ؒ کے مذکورہ قول سے واضح ہے۔ اس کی مزید وضاحت امام قاضی ابو یعلیٰ بن الفرا الحنبلی ؒ کے درج ذیل قول سے ہوجاتی ہے:

 

أعلم أن الكلام فِي هَذَا الخبر فِي فصلين

أحدهما: فِي إثبات الذراعين والصدر،

والثاني 

فِي خلق الملائكة من نوره أما الفصل الأول: فإنه غير ممتنع حمل الخبر عَلَى ظاهره فِي إثبات الذراعين

والصدر إذ ليس فِي ذَلِكَ ما يحيل صفاته، ولا يخرجها عما تستحقه، لأنا لا نثبت ذراعين وصدرا هي جوارح وأبعاض، بل نثبت ذَلِكَ صفة كما أثبتنا اليدين والوجه والعين والسمع والبصر، وإن لم نعقل معناه [2].

ترجمہ:اس خبر (حدیث) کے بارے میں وضاحت کے دو حصے ہیں، پہلا حصہ (اللہ تعالیٰ) کے

 لیے ذراعین اور صدر کا اثبات ہے، اور دوسرا حصہ ملائکہ کی اس کے نور سے تخلیق ہے۔ جہاں تک پہلے حصے کا تعلق ہے تو اس خبر کو اس کے ظاہر پرمحمول  کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لیے ذراعین اور صدر کا اثبات کرنا ممنوع نہیں ہے، کیوں کہ اس سے اس کی صفات ثبوتیہ کی نفی نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ اس کی شان کے خلاف ہے، کیوں کہ ہم ذراعین اور صدر کو اعضاوجوارح یا اجزا نہیں سمجھتے،  بلکہ ہم محض ان کا اثبات صفات کے طور پر کرتے ہیں جیسا کہ ہم  یدین، وجہ،  سمع، بصر کا صرف اثبات کرتے ہیں، حال آن کہ ان کے معانی ہمیں معلوم نہیں۔

دیکھیں کہ امام قاضی ابو یعلیٰؒ کس طرح ان صفات متشابہات کے ظاہری معانی سے صاف انحراف

 کررہے ہیں۔ اگرچہ وہ تفویض سے کام لیتے ہوئے ان  کےکوئی بھی معانی بیان کرنے سے

  گریزاں ہیں،تاہم وہ ان کے ظاری معانی کا اثبات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔

قاضی ابویعلیٰ ؒ اسی حدیث کے دوسرے حصے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وأما الفصل الثاني

وهو خلق الملائكة من نوره فليس عَلَى ظاهره، ومعناه خلقها بنوره تشريفا لهم كما خلق آدم بيده تشريفا له عَلَى غيره من خلقه، وإنما لم يجز حمله عَلَى ظاهره، لأن ذَلِكَ يحيل صفاته ويخرجها عما تستحقه، لأن نور ذاته قديم والقديم لا يتبعض فيكون بعضه مخلوقا كسائر صفاته، وهذا ظاهر كلام أَحْمَد، وذلك أنه قَالَ فِي قوله تَعَالَى وَرُوحٌ مِنْهُ سورة النساء آية يَقُول: من أمره، وتفسيره

روح الله 

أنها روح الله خلقها كما يقال: سماء الله وأرض الله، فلم يحمل الكلام عَلَى ظاهره فِي الروح بل تأوله لأن فِي حمله عَلَى ظاهره ما يحيل صفاته كذلك هاهنا [3]

جہاں تک حدیث کے دوسرے حصے نورِ الہٰی سے ملائکہ کی تخلیق کا تعلق ہے تو اسے ظاہر پر

 محمول نہیں کیا جائے گا بلکہ اس سے یہ مراد لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نور کے ذریعے تشریفاً  تخلیق فرمایا۔ جیسا کہ اس نےدوسری مخلوقات کے مقابلے میں سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے ید سے تشریفاً تخلیق فرمایا۔حدیث کے اس حصے کو اس کے ظاہر پر محمول کرنا اس لیے بھی جائز نہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ثبوتیہ پر اعتقاد میں خلل پیدا ہوتا ہے اور یہ اس کی شان کے بھی لائق نہیں ہے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا نور قدیم ہے جبکہ قدیم شئے کے اجزا ہونا ممکن نہیں،  کہ اس میں سے کوئی جزو مخلوق قرار پائے۔نیز اس سے صفات کا مخلوق ہونا لازم آئے گا۔امام احمد ؒ کا ظاہر کلام یہی ہے،جیسا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سورۃ النسا میں وارد فرمان روح منہ سے اس کا امر مراد لیا ہے، نیز روح اللہ سے مراد  لیاہے کہ اس نے اسے تخلیق فرمایا ہے، جیسے اللہ کا آسمان، اللہ کی زمین کہا جاتا  ہے۔ پس امام احمدؒ نے روح کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو ظاہر پر محمول نہیں کیا،  بلکہ اس کی تاویل کی ہے کیوں کہ اسے ظاہر پر محمول کرنے سے صفاتِ ثبوتیہ  پر اعتقادمیں خلل واقع ہوتا ہے، یہی معاملہ حدیث کے اس دوسرے حصے کا ہے۔

معلوم ہوا کہ جب نصوص کو ان کے ظاہر پر محمول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ثبوتیہ پر اعتقاد

  میں خلل واقع ہوتا ہو تو ان نصوص کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی تاویل کی جائے گی۔ اب یہ فیصلہ کرنا کہ نصوص کے ظاہری معانی سےصفاتِ ثبوتیہ میں خلل واقع ہوتا ہے یا نہیں، ایک اجتہادی معاملہ ہے،  جس میں اختلاف کی گنجائش ہے۔

اس تمام گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ   صفات ِ متشابہات کی تاویل کی جائے گی یا تفویض؟یہ خالصتاً ایک

 اجتہادی معاملہ ہے، اس اختلاف کی بنیاد پر کسی کو بدعتی کہنا  یا اس کی تکفیر کرنا سراسر زیادتی ہے،

  تاوقت یہ کہ وہ نصوص قطعیہ کا انکار ہی کردے۔نیز یہ کہ آپ خواہ تاویل کریں یا تفویض امام

 احمد بن حنبل ؒ اور جمہور حنابلہ کا مسلک یہی ہے کہ صفات متشابہات کے ظاہری معانی مراد لینا

 اہلِ سنت کے مسلک کے خلاف ہے اور ان کی کیفیت بیان کرنا بدعت ہے۔

 اس گفتگو سے ان لوگوں کے غلط پروپیگنڈے کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے جوامام

 احمد بن حنبل ؒ اوران کے حقیقی پیروکاروں یعنی  حنابلہ

 کو مجسمہ کہتے ہیں اور ان پر تشبیہ و تجسیم کے ناروا الزامات لگاتے ہیں، واللہ امام احمد بن حنبل ؒ اس 

  اس بہتان سے بری ہیں۔

 

 

 

 

 

 

                                         



 قاضی ابو یعلیٰ بن الفرا ، ابطال التاویلات، ج 1، ص 45[1]

 ابطال التاویلات، ج1، ص 222[2]

 ایضاً[3]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading