2024-07-17
فاتحہ

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعٰلَمِیْن


  حمد کے لائق صرف اللہ ہے جو تمام مخلوقات  کا اکیلا ربّ ہے۔

حمد کا لغوی مطلب ایسی ہستی کی ثنا وتعریف بیان کرنا ہے جو خود لائق تعریف ہو 

 لہٰذا حمد سے خوشامد ہرگز مراد نہیں۔یہاں الحمد بطور معرفہ لانے سے یہ بھی  ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ہر وہ خوبی مراد نہیں جسے انسان خوبی سمجھتا ہو بلکہ یہاں الحمد سے صرف وہی اوصافِ کمال مراد ہیں  جو رب العالمین کے لائق ہیں جو اس نے اپنی کتاب میں بیان فرمادیے ہیں۔ پس اللہ  سبحانہ و تعالیٰ کو ایسی حمد پسند نہیں جو اس کی بتائی ہوئی خوبیوں کو شامل نہ ہو، بلکہ اس میں مخلوق جیسی خوبیاں گنوائی گئی ہوں۔اسی لیے قرآن میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے۔

فَلِلّٰہِ الْاَسْمَأ الْحُسْنیٰ فَادْعُوْہٗ بِھَا [1]

اللہ کے پیارے پیارے نام ہیں ان کے ذریعے اُسے پکارا کرو۔

اسی سے علمأ نے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی ایسی صفت سے موصوف نہیں کیا جا سکتا جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا تو درست ہے کہ اللہ تعالیٰ القوی یعنی صاحبِ قوت ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ شجاع یعنی بہادر ہے اس لیے کہ اللہ یا اس کے رسول ﷺ نے رب ذوالجلال کے لئے یہ صفت بیان نہیں کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ ان صفاتِ کمال کا مالک ہے جو اس نے اپنے لیے خاص کی ہیں اور اپنے انبیا کے ذریعے انسانوں کو ان سے آگاہ کیا ہے۔

الحمد کا اطلاق صرف اسی حمد پر ہوسکتا ہے کہ جو احسان مندی اورشکروسپاس کے جذبے کے ساتھ بیان کی جائے۔ شکروسپاس سے عاری تعریف و توصیف الحمد کہلائے جانے کے لائق نہیں۔ الحمد درحقیقت باری تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں کے اعتراف کے طور پر کی جاتی ہے لہٰذا جب بھی کوئی نئی نعمت ملے یا پہلی نعمت کی تجدید ہو تو بندۂ مؤمن پر رب ذوالجلال کی حمد بیان کرنا فرض کے درجہ میں ہے۔ جیسا کہ خود رب ذوالجلال نے قرآن حکیم میں دس سے زائد مقامات پر اپنی حمد بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر انبیا علیہم السلام کا اسوہ بیان کرتے ہوئے صراحت کی ہے کہ یہ سب اپنے رب کی حمدو ثنا اور شکروسپاس بیان کرتے آئے ہیں لہٰذا تم بھی ان کے اس اسوہ پر عمل کرو۔

جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ بیان کرتے ہوئے ان کا قول نقل فرمایا

اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ وَهَبَ لِىْ عَلَى الْكِبَـرِ اِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَسَـمِيْعُ الـدُّعَآءِ [2]

حمد کے لائق صرف اللہ ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے ہیں، بے شک میرا رب دعا ئیں قبول کرتاہے۔

انبیا علیہم السلام کے اس مبارک اسوہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہ اللہ والے نعمتوں کے ملنے پر اپنے کریم رب اللہ تعالیٰ ہی کا شکر ادا کرتے تھے، اس حمدو ثنا  میں وہ کسی مخلوق کو شریک نہیں کرتے تھے۔ پس مال، اولاد، رزق، علم اور دیگر نعمتوں کے ملنے پر صرف اللہ کا شکر ادا کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرائیں۔یہی اہلِ ایمان کا شیوہ ہے۔

(۴) لغت میں لفظ  ربّ مصدر اور وصف دونوں طرح مستعمل ہے، اس کے لغوی معانی خالق، مالک، رازق، معبود اور سید (آقا) کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ اپنے ان تمام معانی کو شامل ہے تاہم چونکہ یہاں یہ بطور مصدر آیا ہے،اس لیے اس میں مالک ہونے کا معنی زیادہ غالب ہے۔  پس رب العالمین کا مطلب ہوا تما کائنات کا مالک ، ظاہر ہے جب تمام کائنات کا مالک صرف اللہ ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کوئی دوسری ہستی اس ابدی ملکیت میں اس کی شریک نہیں ہے۔علما کا اتفاق ہے کہ لفظ رب مخلوق کے لیے مطلقاً استعمال کرنا جائز نہیں، البتہ کسی شے کی اضافت کے ساتھ مخلوق کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیسے رب المال، رب الدار وغیرہ

ربّ کے مالک ہونے کا یہی مفہوم سورہ سبا میں یوں ادا کیا گیا ہے

اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ لَـه  مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَلَـهُ الْحَـمْدُ فِى الْاٰخِرَةِ

حمد کے لائق صرف اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ آخرت میں بھی صرف وہی لائقِ حمد ہوگا۔

ربّ  کا دوسرا معنی جو یہاں مراد ہوسکتا ہے وہ ہے  خالِق یعنی پیدا کرنے والا۔اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا اکیلا خالق ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اللَّهُ خَالِقُ  كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ [3]

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق و صانع ہونے کی جو سب سے وزنی دلیل قرآن میں بیان کی ہے وہ درج ذیل ہے

أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ [4]  

 کیا وہ کسی کے پیدا کیے بغیر وجود میں آگئے ہیں یا وہ اپنے خالق خود ہیں؟

انسان کہاں سے آیا ہے؟ اس سوال کے تین ممکنہ جوابات ہوسکتے ہیں

۱۔ انسان محض اتفاق سے خود بخود پیدا ہوگیا ہے

۲۔ انسان نے اپنا وجود خود پیدا کیا ہے

۳۔ انسان کو کسی خالق نے پیدا کیا ہے۔

پہلی اور دوسری صورت بداہتاً غلط ہے۔ پہلی صورت اس لیے غلط ہے کہ یہ کائنات  مادے کے کسی بے ہنگم و بے ترتیب ڈھیر کا نام نہیں بلکہ یہ نہایت منظم و مرتب نظام ہے جس میں ہر شئے ایک نپی تلی مقدار کے ساتھ موجود ہے۔  اگر یہ مقداریں متعین اور نپی تلی  نہ ہوتیں تو آج کائنات کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ دور کیوں جایئے اپنی زمین کو ہی دیکھ لیں۔

زمین جو ہمارا مسکن ہے ، ایسے نپے تلے حجم اور کمیّت کی حامل ہے کہ اگر ان میں کوئی واضح کمی بیشی ہوتی تو زمین کی کثافت اور بناوٹ اس سے بہت مختلف ہوتی جیسی وہ اب ہے۔ اسی متناسب کثافت کی وجہ سے زمین کی سطح پر کشش ثقل           میرے لیے اتنی موزوں ہے کہ میں اس پر سہولت کے ساتھ اور اپنی مرضی کے مطابق ہر کام کر سکتا ہوں، کھڑا ہو سکتا ہوں، اعتماد سے چل پھرسکتا ہوں۔ اگر زمین کی کثافت بہت کم یا بہت زیادہ ہوتی تو میں ان کاموں میں سے کوئی کام بھی نہ کرسکتا۔ پھر زمین سے سورج کا فاصلہ بھی حیرت انگیز حد تک متناسب و موزوں ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم و بیش ہوتا تو زمین پر میرا وجودہی ممکن نہ تھا۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ کم ہوتا جیسے عطارد اور زہرہ سیاروں کا ہے تو زمین سورج کے قریب ہونے کے باعث ہمیشہ اس قدر شدید گرم رہتی کہ یہاں سیسہ بھی پگھلا ہوا مائع بن جاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتا جیسے مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون اور پلوٹو سیارہ کا ہے، تو زمین ہمیشہ یخ بستہ و سرد رہتی، اتنی سرد کہ پانی ہمیشہ برف کی شکل میں منجمد رہتا، کبھی اس قابل نہ ہوپاتا کہ اس سے زندگی جنم لے سکے۔

دوسری صورت اس لیے غلط ہے کہ یہ کسی ذی شعور انسان کے لیے فرض کرنا ممکن ہی نہیں کہ انسان خود اپنا خالق ہے۔جس انسان  کا کبھی وجود ہی نہ تھا وہ خود اپنا وجود کیسے پیدا کرسکتا ہے؟ پس ایسا ہونا عقلاً محال ہے۔

 اس لیے اب تیسری صورت ہی متعین ہوگی یعنی انسان کو اسی رب نے پیدا کیا ہے جس نے ساری کائنات بنائی ہے۔ اسی لیے قرآن نے جابجا کائناتی مظاہر کو رب ذوالجلال کی نشانیوں کے طور پر بیان کیا ہے اور انسان کو ان میں غوروفکر کی دعوت دی ہے۔

 یوں تو اللہ تعالیٰ ہر شے کو آنِ واحد میں پیدا کرسکتا ہے مگر ربّ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ وہ اشیا کو ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی دیتا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی ؒ فرماتے ہیں

الرّب فی الاصل التربیۃ و ھو انشاء شیء حالا فحال الی حد التمام [5]

رب

رب کا مصدر تربیت ہے جس کا مطلب ہے کسی شیء کو ایک حال سے دوسرے حال 

میں بدلتے چلے جانا تا آن کہ وہ شیء اپنے کمال کو پہنچ جائے۔

اس کی نمایاں مثال رحمِ مادر میں انسان کی تخلیق ہے۔ نطفۂ امشاج (زائیگوٹ) سے انسانی تخلیق کی ابتدا ہوتی ہے اور نو ماہ میں مختلف مراحل سے گزر کر وہ نطفۂ امشاج مکمل انسان کا روپ دھار لیتا ہے۔ قرآن میں ان مراحل کا اجمالی تذکرہ یوں کیا گیا ہے

بے شک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے (چنیدہ اجزا) سے پیدا کیا۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ

 

پھر اسے نطفہ بناکر رحم مادر میں ٹھہرا دیا۔

ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ

پھر نطفے کو جمے ہوئے خون کا لوتھڑا بنادیا، پھر جمے ہوئے خون کے  لوتھڑے سے گوشت کا لوتھڑا بنا دیا۔ پھر گوشت کے لوتھڑے میں ہڈیاں بنادیں۔ پھر ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنا دیا۔ پھر اسے ایک دوسری مخلوق بنا کھڑا کیا۔ پس برکت والا اللہ تعالیٰ سب سے بہتر صورت گر ہے۔  

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات اسی طرح تدریجاً بطرزِ ارتقا پیدا فرمائی ہے جس کی تفصیل سورۃ النازعات میں بیان کی گئی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں معبودانِ باطلہ کی بے بسی اور حقارت ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمایا ہے کہ یہ معبودانِ باطلہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ  ہے

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ [6]

اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو، بے شک جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ سب مل کے زور کیوں نہ لگالیں۔ اگر مکھی ان کے چڑھاوے میں سے کوئی شئے اٹھا لے جائے تو وہ اسے بھی واپس نہیں لاسکتے۔ مانگنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مانگا جاتا ہے وہ بھی کمزور ہیں۔

معلوم ہوا کہ جن کو لوگ گود بھرنے کے لیے پکارتے ہیں وہ تو مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے چہ جائے کہ وہ انہیں بیٹا یا بیٹی عطا کرسکیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ [7]

وہ اللہ جو چاہے پیدا کرسکتا ہے۔وہ جسے چاہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہے بیٹے عطا فرماتا ہے یا جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ رکھتا ہے۔ وہ جاننے ولا اور قدرت والا ہے۔

رب کا تیسرا مطلب رازق یعنی پالنے والا ہے۔قرآن حکیم نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی رازق نہیں ہے۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

یٰاَیُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ط ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ طلَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ [8]

 اے لوگو ! اللہ نے تمہیں جو نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ذرا انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے سکے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں ،پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

العالَمین

العالمین جمع ہے عالَم کی۔ عالم کا اصل مادہ ع ل م ہے جس کا لفظی مطلب ہے جاننا۔ اسے سے لفظ  عالِم بنا ہے جس کا مطلب جاننے والا ہے۔ عالَم کا اشتقاقی مطلب بنتا ہے جس کے ذریعے کسی شئے کو جانا جائے۔ ساری دنیا کو عالَم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے اس کے خالق و صانع کا علم ہوتا ہے۔ تاہم عرب محاورہ میں مخلوقات کی ہر جنس پر عالَم کا لفظ بولا جاتا ہے۔ لہٰذا عالَمین کا مطلب ہوا تمام مخلوقات۔ اردو زبان میں عربی زبان سے ہی مأخوذ ایک لفظ کائنات بولا جاتا ہے جس سے مراد تمام مخلوقات ہوتی ہیں۔ تاہم قرآن میں العالَمین کا لفظ ان تما م معدوم یا موجود، مادی یا نوری  مخلوقات کی طرف اشارہ کناں ہے جو کبھی ماضی میں تخلیق کی گئیں یا مستقبل میں تخلیق کی جائیں گی۔



[1] الاعراف: ۱۸۰

[2] ابراہیم: ۳۹

[3] الزمر: ۶۲

[4] الطور: ۳۵

[5] مفردات الفاظ القرآن، صفحہ ۲۰۱

[6] الحج: ۷۳

[7] الشوریٰ: ۴۹۔۵۰

[8] الفاطر:3

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading