2024-07-17
imam mehdi

امام مہدی کی عالمگیر حکومت کیسے قائم ہوگی؟

از قلم ساجد محمود انصاری


احادیثِ مبارکہ میں آخری زمانے کے بارے میں بیسیوں پیشگوئیاں موجود ہیں، جن میں سے سب سے اہم پیشگوئی امام مہدی کے ظہوروغلبہ کے بارے میں ہے۔تاہم  یہ احادیث الگ الگ ٹکڑوں کی شکل میں ہیں، جن میں منطقی ربط تلاش کرنا  نہ صرف محنتِ شاقہ اور دقتِ نظر کا متقاضی ہے بلکہ ان سب احادیث کا استحضار ہونا بھی ضروری ہے۔

مگر ہمارے ہاں عام طور پر جزئیات کو بیان کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے اور  آخری زمانے کی ایک مکمل منظر کشی کرنے میں اکثر مصنفین ناکام رہے ہیں۔ بلا شبہ بعض علما نے  اس موضوع پر بہت محنت کی ہے اور آخری زمانے کی منظر کشی کرنے میں وہ کسی حد تک کامیاب رہے ہیں، مگر ان کی تصنیفات میں بھی بہت سے ابہامات پائے جاتے ہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں ہم آخری زمانے کی مکمل منظر کشی کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے، تاہم اس ساری صورتحال کا ایک خاکہ ضرور پیش کرنا چاہتے ہیں، جس میں رنگ بھرنا محققین کے لیے نسبتاً  آسان ہوجائے گا۔

  احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مہدی کی عادلانہ حکومت دجال کے ظہور سے پہلے قائم ہوجائے گی، تاہم  آخری جنگ عظیم سے پہلے ان کی حکومت عالمگیر نہیں ہوگی۔امام مہدی کی بیعت سے پہلے ہی مدینہ منورہ دارالخلافہ بن چکا ہوگا، لہٰذا امام مہدی کا دارالحکومت مدینہ منورہ ہی ہوگا۔ابتدا میں ان کی حکومت عالمِ عرب میں قائم ہوگی اور پھر قریبی مسلم ممالک بھی ان کی بیعت کر لیں گے۔ان عجمی ممالک میں پاکستان، ایران اور افغانستان سرِ فہرست ہیں۔ 

امام مہدی کی عالمگیر حکومت پھونکوں سے قائم نہیں ہوگی بلکہ وہ دشمنانِ اسلام کے خلاف باقاعدہ  جنگ کریں گے۔امام مہدی جنگ کی ابتدا اسرائیل سے کریں گے،جس کے نتیجے میں تمام دشمنانِ اسلام عالمِ عرب پر حملہ آور ہوجائیں گے۔مگر یہ آخری جنگ ہوگی اور اس جنگ کے نتیجے میں فتحِ یورپ کا راستہ کھلے گا۔ [1] عالمِ کفر سے تعلق رکھنے والے 80 ممالک کا اتحاد (کولیشن) عالمِ عرب پر حملہ کرے گا۔

 امام مہدی جب 80 ممالک کے اتحاد کے ساتھ نبرد آزما ہوں گے، جنگ شروع ہونے کے سات ماہ کے اندر دجال ظاہر ہوجائے گا۔[2]

نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق دجّال خراسان سے برآمد ہوگا[3] اور  فارس کے شہر اصفہان کو اپنا مرکز بنائے گا۔اس کے ساتھ 70000یہودی  علما کی مخصوص پوشاک پہنے دنیا کے سامنے رونما ہوں گے۔[4] 

 احادیث میں دجال اور یاجوج ماجوج کےحالات میں گدھے اور نیزے، تیر کمان کے ذکر[5] سے بعض علما نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آخری جنگ گھوڑوں [6] پر سوار  ہوکر تیر تلوار سے لڑی جائے گی۔ہماری رائے میں یہ نتیجہ درست نہیں۔مصنوعی ذہانت، فلکیاتی اہداف اور کلوننگ کے  بارے میں جاری   تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخری جنگ کے وقت سائنس و ٹیکنالوجی اپنے عروج  پر ہوگی، لہٰذا اس جنگ میں جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال ہوگا۔ ہاں  لیزر ٹیکنالوجی پر مشتمل یہ ہتھیار تیر یا تلوار کی شکل کے بھی ہوسکتے ہیں۔

دجّال کے بارے میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ کوئی شعبدہ باز ہوگا۔ جان لیجیے کہ احادیث کی تصریحات کے مطابق دجّال  جدید ترین ٹینالوجی سے لیس حکمران ہوگا۔ مثلاً اس کے بارے میں تصریح ہے کہ وہ شہروں کی سطح پر زلزلہ پیدا کرنے  کی بھی صلاحیت رکھتا ہوگا،حتیٰ کہ وہ مدینہ منورہ کو بھی تین جھٹکے دے گا۔[7] دجّال کے بارے احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دجّال اصل میں اہلِ تورات کے زعم میں مسیحِ معھود بن کرآئے گا۔تورات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مسیح (مسیحا) کے آنے کی خوشخبری دی تھی،  جو کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں پوری ہوگئی تھی، مگر اہلِ تورات نے انہیں مسیحِ معھود ماننے سے انکار کردیا بلکہ انہیں نبی تک ماننے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ انہیں سولی چڑھانے کے درپے ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح ابن مریم  یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیااوراہلِ تورات نے ان کے ایک ہم شکل کو سولی چڑھا دیا۔

اہلِ تورات آج بھی اس مسیحِ معھود کا انتظار کررہے ہیں جس کی خوشخبری تورات میں دی گئی تھی۔ جبکہ اہلِ انجیل نے یہ نظریہ قائم کرلیا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی گئی تھی اور پھر انہیں مردوں سے زندہ کیا گیا اور آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ گویا اہلِ انجیل یہ مانتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے، مگر وہ انہیں سولی پر چڑھائے جانے کا اعتقاد بھی رکھتے ہیں۔ تاہم وہ بھی مسلمانوں کی طرح قربِ قیامت میں نزولِ مسیح کے منتظر ہیں۔اب اہلِ تورات، اہلِ انجیل اور مسلمان تینوں مسیح کے منتظر ہیں، اگرچہ ان تینوں کے نزدیک سیدنا مسیح علیہ السلام کے خصائص مختلف ہیں۔

احادیث میں دجّال کو المسیح الدّجال کہا گیا ہے جس کا  لغوی مطلب ہے دھوکے باز مسیحا۔[8]دجّال اہلِ تورات، اہلِ انجیل اور اہلِ اسلام کے مذکورہ اعتقاد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا اور اپنے آپ کو مسیح ظاہر کرے گا۔اصل میں یہ امام مہدی کی فتوحات اور اہلِ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت  کے آگے بندھ باندھنے کی ایک  کوشش ہوگی، [9]جس میں ابتدائی طور پر وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوجائیں گے۔دجّال کے اہلِ تورات میں سے ظاہر ہونے کا مطلب تو یہی لگتا ہے کہ یہ انہی کی رچائی ہوئی سازش ہوگی، وہ اصل حقیقت جانتے ہوں گے کہ یہ مسیح نہیں ہے مگر ان کی دانست میں یہ اہلِ تورات کو حتمی تباہی سے بچانے کی ایک آخری تدبیر ہوگی۔

پس دجّال مسیح کے دعوے کے ساتھ ظاہر ہوگا، مگر اہلِ انجیل کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے خدائی کا دعویٰ بھی کرے گا،[10] کیوں کہ وہ اس وقت مسیح علیہ السلام کو خدا مانتے ہیں۔ دجّال اپنے خدائی دعوے کے ثبوت کے طور پر بظاہر ایسے کرشمے دکھائے گا جو خدا کے ساتھ منسوب ہیں۔جیسےوہ جس علاقے میں چاہےگا بارش برسائے گا، اور جس علاقے میں چاہے گا روک دے گا،[11]  وہ جس علاقے میں چاہے گا وہاں زرعی پیدوار غیر معمولی طور پر بڑھ جائے گی اور جہاں چاہے گا  زرعی پیداوار بالکل نہ ہوگی۔ [12]گویا وہ رازق و مالک بننے کا دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح وہ جسے چاہے گا قتل کردے گا اور جس مردے کو چاہے گا بظاہر زندہ کرکے دکھادے گا۔[13]  جو لوگ اسے خدا نہیں مانیں گے وہ انہیں رزق تک رسائی نہیں دے گا، یوں بھوک، پیاس سے ان کی آزمائش ہوگی۔[14]دنیا کے تمام وسائل پر اس کا قبضہ ہوگا۔[15]آزمائش میں ناکام ہونے والے اس پر ایمان لے آئیں گے ، جب کہ ثابت قدم لوگ کھائے پئے بغیر تسبیح و تہلیل پر زندہ رہیں گے۔ جس طرح روزے میں تسبیح و تہلیل اہلِ ایمان کو بھوک پیاس کی شدت محسوس نہیں ہونے دیتی، اسی طرح اس زمانے کے اہلِ ایمان بھی تسبیح و تہلیل پر زندہ رہیں گے۔[16] مسلمانوں کو دجّال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورۃالکہف کی تلاوت کرنے کی تلقین اسی لیے کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو تین سو نوسال  بغیر کھائے پیئےزندہ رکھا اسی طرح، اللہ تعالیٰ دجال کے زمانے کے اہلِ ایمان کو تسبیح و تہلیل کی برکت سے زندہ رکھے گا۔

احادیث میں صراحت ہے کہ دجّال بہت تیزی کے ساتھ ساری دنیا پر غلبہ پالے گا۔مستند روایات کے مطابق اسے کل چالیس دن کھل کھیلنے کا موقع ملے گا ،جس میں سے پہلا دن ایک سال کے برابر، دوسرا دن ایک مہینے کے برابر ،تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔[17] ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ  امام مہدی کی حکومت مکہ و مدینہ تک محدود ہوجائے گی۔[18] مگر دجّال مکہ و مدینہ میں داخل نہ ہوسکے گا۔[19]تب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد کے لیے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے جو جعلی مسیح یعنی دجّال کی قلعی کھول دیں گے اور اسے سب کے سامنے قتل کردیں گے۔ عین ممکن ہے  کہ ساری دنیا یہ سب لائیو دیکھ رہی ہو۔ اکثر اہلِ کتاب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیں گے اور امام مہدی کے مطیع ہوجائیں گے، جو ایمان نہیں لائیں گے ان کے ساتھ جنگ ہوگی اور امام مہدی ساری دنیا پر دینِ اسلام کا پرچم لہرائیں گے۔یوں امام مہدی کی حقیقی عالمگیر حکومت قائم ہو گی ۔اسلام کے سوا دنیا کے تمام ادیان مٹ جائیں گے۔[20]

 

 



 مسند احمد: رقم 20440[1]

 مسند احمد: رقم 22395 [2]

 مسند احمد: رقم 12 [3]

 مسند احمد: رقم 13377  [4]

 مسند احمد: رقم 17674[5]

 مسند احمد: رقم 4146 [6]

19184 مسند احمد: رقم [7]

 مسند احمد: رقم 2168، 21997[8]

 مسند احمد: رقم 22373[9]

 مسند احمد: رقم 20440[10]

 24084 مسند احمد: رقم [11]

 مسند احمد: رقم 17779 [12]

 مسند احمد: رقم 28120، 17779[13]

 مسند احمد: رقم 15017، 23822[14]

 مسند احمد: رقم 20440[15]

 مسند احمد: رقم  28120[16]

 مسند احمد: رقم 17779، 15017 [17]

 مسند احمد: رقم 20440[18]

 مسند احمد: رقم 27892 [19]

 مسند احمد: رقم 9249[20]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading