2024-07-17

 

سچے خدا کا تصور کیسے مسخ ہوا؟

از قلم ساجد محمود انصاری

سیدنا اآدم علیہ السلام خدائے واحد کے پہلے نبی تھے۔سیدنا آدم علیہ السلام کی اولین اولاد سچےخدا پر یقین رکھتی تھی۔وہ خدا کو ویسا ہی  بے مثال  و لاشریک مانتی تھی جیسا کہ حقیقت میں وہ ہے۔

 جیسا کہ ارشاد باری تعالیِ ہے
كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً [1] 

تمام انسان (شروع میں) ایک ہی امت تھے۔

سیدناآدم علیہ السلام کی اولاد میں پانچ نہایت نیک بزرگ گزرے ہیں ، جن کے نام وَدّ،سُوَاع،یَغُوْث،یَعُوْق اور نَسرہیں ۔یہ اپنی قوم کے اولیاء اللہ تھے،جب یہ وفات پاگئے تو لوگ ان کی قبروں پر کثرت سے آنے جانے لگے،یاد رہے کہ اس وقت تک یہ سیدنا آدم علیہ السلام کی مؤمن امت تھی ۔رفتہ رفتہ لوگوں نے ان قبروں کی مجاو رت شروع کر دی ۔مزید وقت گزرا تو لوگوں نے ان کے یاد گار ی مجسمے بنا لیے ،اس خیال کے تحت کہ ان اللہ والوں کو دیکھ کر اللہ کی عبادت کاشوق ہوگا ۔جب یہ نسل فنا کے گھاٹ اتر گئی تو ان کی اولاد نے ان اولیاء  اللہ کی محبت وتعظیم میں اتنا غُلوکیا کہ خود انہی سے دعائیں مانگنے لگے،یوں بت پرستی کا آغاز ہو گیا۔ سچے خدا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں مذکورہ اولیا  کو بھی خدا کا درجہ دے دیا۔ اللہ تعالے ٰ نے اس مشرک قوم کی اصلاح کیلئے سیدنا نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا

وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَکُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا [2]

 

  وہ (بت پرست) کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا اور نہ وَدّ، سُواع، یَغُوث،یَعُوق اور نَسرکو چھوڑنا اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ۔

سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سچے خدا کی بندگی کی رات دن دعوت دی، مگر ایک سو سے بھی کم لوگوں نے آ پ کی دعوت پر لبیک کہا۔اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے سوا سب کو طوفان میں غرق کردیا۔ موجودہ عراق کے شمال میں انسانوں کی نئی بستی آباد ہوئی جہاں آلِ نوح اوردوسرے مؤمنین آباد ہوئے۔یہ بستی سچے خدا کے ماننے والے لوگوں پر مشتمل تھی۔ رفتہ رفتہ انسانی ٓآبادی  بڑھتی گئی۔ جس کی وجہ سے لوگ رزق کی تلاش میں دوسرے مقامات کی طرف ہجرت کرنے لگے۔سیدنا نوح علیہ السلام کے تین بیٹے  سام، حام اور یافث شرفِ ایمان سے بہرہ مند ہوئے تھے۔رسول اکرم  صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کے اجداد سیدنا نوح علیہ السلام کے تینوں بیٹے ہیں۔    

عیلام بن سام کی اولاد ہجرت کرکے قدیم فارس میں جابسی اور وہاں سے کوہ قراقرم کی وادیوں میں سے ہوتے ہوئے قدیم ہندوستان میں آباد ہوگئی۔ دوسری جانب یونان بن یافث کی اولاد نے اناطولیہ کے پہاڑ عبور کرکے یونان میں جا بسیرا کیا۔ ارم بن سام کی اولاد جزیرۃ العرب میں ہی سکونت پذیر رہی، جس کی نسل سے قوم عاد پیدا ہوئی۔

ایسا لگتا ہے کہ آل نوح کی بعد کی پشتوں میں سچے خدا کا تصور زیادہ عرصہ اپنی اصل حالت میں برقرار نہ رہ سکا۔کیونکہ عرب، فارس ، ہندوستان اور یونان چاروں مقامات پر بسنے والوں نے سچے خدا کے تصور سے روگردانی کرکے خود ساختہ خدا تراش لیے تھے۔

ماہرین ِآثار قدیمہ کے محتاط اندازے کے مطابق ہندو تہذیب تقریباً دس ہزار سال پرانی ہوسکتی ہے۔تاہم ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کی مذہبی کتابیں دنیا کی قدیم ترین الہامی  کتابیں ہیں۔ہندو دھرم کی مذہبی کتابیں رگ وید اور اُپنیشد وغیرہ میں خدا کے بارے میں نہایت عجیب و غریب تصور تراشا گیا۔ ہندودھرم میں خدا ئے برتر کے لیے پرماتما کی اصطلاح مستعمل ہے۔ مگر ان کے ہاں پرماتما کے بارے میں نہایت عجیب تصور پایا جاتا ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق تمام جہان بشمول ان کے  

بڑے دیوی دیوتا کرشن، رادھا، رام، سیتا، شیو اور پاروَتی یہ سب پرماتما کے وجود سے نکلے ہیں۔ لہِذا ہندوؤں کا یہ اعتقاد ہے کہ سارا جہان پرماتما کے وجود کا حصہ ہے۔ بالفاظ دیگر ان کے نزدیک کُل جہان پرماتما ہے۔ اسی وجہ سے ہندوکسی بھی شے کی پوجا کرنے میں عار نہیں سمجھتے۔ ان کے خیال میں جس چیز کو بھی پوجا جائے وہ درحقیقت پرماتما کی پوجا ہے۔ چنانچہ پرماتما کو وہ کبھی بھگوان، کبھی ایشور، کبھی رام، کبھی کرشن  اور کبھی شیو کے روپ میں تلاش کرتے ہیں۔یہی پرماتما  کبھی رادھا، سیتا یا پاروتی کے روپ میں دکھائی جاتی ہے۔غرض دیوی دیوتاوؤں کی ایک نہ ختم ہونے والی طویل فہرست ہے۔

اس سےبھی عجیب تر یہ ہے کہ یہی دیوی دیوتا جو ایک ہی پرماتما کے مختلف روپ ہیں، باہم دست و گریبان دکھائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب یونان میں بھی سچے خدا کا تصور بری طرح مسخ ہوا۔ یونانی باشندے  ستاروں میں بہت دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے فی الواقع علم فلکیات کی بنیاد رکھی۔ تاہم یونانی لوگ ستاروں کی محبت میں اتنا بڑھ گئے کہ انہوں نے ستارہ پرستی شرع کردی ۔قدیم یونانی دیومالا میں بھی ہندو دیومالا کی طرح خدا کو انسانی کرداروں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔یونانی دیومالا میں زمین کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ یونانی اعتقاد کے مطابق زمینی دیوی گایا کے وجود سے آسمانی دیوتااُورانُوس پیدا ہوا۔اوُرانُوس اور گایا  کے ملاپ کے نتیجے میں گایا (زمین) کی کوکھ سے کئی دوسرے دیوتاؤں نے جنم لیا۔اُورانُوس کے بیٹے کرونس  نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کردی اور اپنے ماں باپ میں جدائی ڈال دی۔کرونس اپنے بہن بھائیوں کا حکمران بن گیا مگر اس کے بیٹے زیس نے اس کے خلاف بغاوت کردی۔ زیس یونانی دیومالا کا قادر مطلق دیوتا مانا جاتا تھا، اسےبھی آسمانی دیوتا مانا جاتا تھا جو دوسرے دیوتاؤں کا بادشاہ قرار پایا۔اُورانُوس کے ایک بیٹے ہائپریان کی نسل سے سورج دیوتا ہیلیس ، چاند دیوی سیلینا اور صبح کی دیوی ایوس پیدا ہوئے۔ممکن ہے کہ ابتدا میں یہ سب  علامتی طور پرتخلیق کائنات کے بارے میں ایک نظریے کی حیثیت رکھتا ہو مگر بالآخر ان سب کو دیوی دیوتاؤں کی حیثیت مل گئی تھی اور ان کے باقاعدہ انسانی صورت میں بت بنائے جاتے جن کی پرستش کی جاتی تھی۔آج بھی یہ بت قدیم یونانی تہذیب کا قیمتی ورثہ سمجھے جاتے ہیں، جنہیں قدیم یونانی آثار میں جابجا دیکھا جاسکتا ہے۔ عُریانیت یونانی تہذیب کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ دیوی دیوتاؤں کے تراشے گئے بتوں میں انسانی اعضائے تناسل اور نسوانی حسن کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔یونانی تہذیب کی کوکھ سے جنم لینے والی یورپی تہذیب میں عریانت کو اسی لیے عیب نہیں سمجھا جاتا کیوں کہ ان کے ہاں ایک زمانہ دراز تک عریانیت مذہب کے طور پر رائج رہی ہے۔



[1] البقرۃ:213

[2] نوح:23

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading