2024-07-17

 

از قلم ساجد محمود انصاری

احادیث صحیحہ میں اختلاف کے متعدد اسباب ہیں، جن میں سے چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے

۱۔ بعض اخبارِ احاد ابتدائے احکام کے زمانے کی روایت ہیں اور بعض  آخری زمانے کی۔ احکامِ شرع میں ایک فطری تدریج پائی جاتی ہے۔اسی فطری تدریج کے مطابق احکام نازل ہوتے رہے۔ لہٰذا جو متعارض احادیث پہلے زمانے سے متعلق ہیں وہ عموماًمنسوخ ہوچکی ہیں۔ جیسے ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع فرمادیا۔یہ مدینہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے کا حکم ہے کیونکہ یہودِ مدینہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی حد سے زیادہ تعظیم کرتے تھے اور احتمال تھا کہ کہیں نو مسلم بھی ان کی دیکھا دیکھی اس مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ تاہم بعد میں جب صحابہ کرام ؓ کی تربیت پختہ ہوگئی تو انہیں  عبرت حاصل کرنے کے لیے زیارتِ قبو ر کی اجازت  دے دی گئی۔لہٰذا اب زیارتِ قبور کی ممانعت کا حکم منسوخ ہوگیا۔بعد والی حدیث اس کی ناسخ قرار پائی۔

اسی طرح ابتدائے اسلام میں حکم یہ تھا کہ ہمبستری کے وقت جب انزال نہ ہو تو غسل فرض نہیں، مگر بعد میں یہ رخصت ختم کردی گئی اور حکم دیا گیا کہ انزال ہو یا نہ ہو بلا حائل  شرمگاہیں ملنے کی صورت میں غسل فرض ہے۔اب پہلا حکم منسوخ اور دوسرا حکم ناسخ قرار پایا۔

۲۔ بعض اوقات روایات میں تعارض و اختلاف کا سبب یہ بنتا ہے کہ ایک ثقہ راوی  بڑھاپے یا مرض کی وجہ سے  واقعے کا کوئی جزو بھول جاتا ہے اور  کبھی  حافظے میں غلطی سےدو مختلف واقعات کو جمع کردیتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا ثقہ راوی اس واقعے کو درست طور پر بیان کردیتا ہے۔جیسا کہ  سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں سورۃ الفاتحہ سے پہلے (بلند آواز سے) بسم اللہ  نہیں پڑھا کرتے تھے۔مگر بعض  دوسرے صحابہ کرام ؓ مثلاً سیدنا علی علیہ السلام بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جہری نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔  ایک روایت میں خود انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ  بڑھاپے میں اس بارے میں بھول چکے ہیں۔

۳۔اخبارِ احاد میں اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی راوی نبی ﷺ کے کسی لمبے جملے کا خلاصہ اپنے لفظوں میں بیان کردیتا ہے اور کوئی دوسرا  راوی آپ ﷺ کا اصل جملہ بعینہ بیان کردیتا ہے۔پہلے راوی کا ذاتی فہم جملے پر اثر انداز ہوتا ہے ، یوں روایات میں تعارض پیدا ہوجاتا ہے۔

۴۔اخبارِ احاد میں اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک راوی جملے کا ایک جزو بیان کرتا ہے اور دوسرا راوی مکمل واقعہ تفصیل سے بیان کردیتا ہے۔ بسا اوقات ایک نامکمل جز وسے جو مفہوم اخذ ہورہا ہوتا ہے وہ مکمل واقعے سےیکسر  مختلف ہوتا ہے۔

مثلاً ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوکر خطبۂ جمعہ ارشاد فرماتے تھے۔ اس  حدیث سے لگتا ہے کہ خطبے کے دوران بیٹھنا خلافِ سنت ہے، مگر دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تفصیل سے بتایا ہے کہ آپ  ﷺخطبہ تو کھڑے ہوکر ہی ارشاد فرماتے تھے مگر آپ درمیان  میں چند لمحوں کے لیے بیٹھے تھے، کچھ دوسر ےصحابہؓ نے اسے یوں بیان کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کے روز دو خطبے  کھڑے ہوکر ارشاد فرماتے تھے۔ اب بادی النظر میں تینوں روایات مختلف ہیں، مگر حقیقت میں ان میں کوئی تعارض نہیں، پہلی روایت مجمل ہے اور دوسری روایات مفصل ہیں۔

۵۔ اخبارِ احاد میں اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ  ایک راوی صرف واقعہ بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہے اور دوسرا  راوی اس واقعے کا پسِ منظر بھی بیان کردیتا ہے۔  یوں محض واقعے سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے وہ پسِ منظر جاننے کے بعد یکسر بدل جاتا ہے۔

مثلاً ایک راوی بیان کرتا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک بار کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ اب دوسرا راوی اس کا سبب بھی بتلاتا ہے کہ آپ ﷺ کے گھٹنے یا کمر میں درد تھا جس کی وجہ سے آپ بیٹھنے سے قاصر تھے۔ اس طرح مجمل واقعہ ان روایات کے  بظاہر معارض ہوجاتا ہےجن میں نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو ناپسند فرمایا ہے۔

۶۔ اخبارِ احاد میں اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کبھی ثقہ راوی بھول کر یا غلطی سے قولِ صحابی کو قولِ رسول ﷺ کے طور پر روایت کردیتا ہے۔جیسے صحیح مسلم کی وہ روایت جس میں سات دنوں میں تخلیقِ کائنات کےواقعات کی ترتیب بیان کی گئی ہے۔ امام دارقطنیؒ اور امام بخاری ؒ نے صراحت کی ہے کہ یہ قولِ رسول ﷺنہیں ہے بلکہ کعب احبار کا قول ہے۔

۷۔ اخبارِ احاد میں اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کبھی بعد کا راوی صحابی کے قول اور رسول اکرم ﷺ کے قول کو اکٹھا بیان کردیتا ہے  اور عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ یہ ساری بات قولِ رسول ﷺ ہے۔ ثقہ راوی عام طور پر جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے بلکہ  غیر شعوری طور پر ان کااندازِ بیان ایسا ہوتا ہے کہ صحابی کا قول بھی قولِ رسول ﷺ ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔مثلا صحیح البخاری (رقم 2548) میں  سیدنا ابو ہریرہ  رضٰ اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ غلام کے لیے دہرا اجر ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، اگر جہاد فی سبیل اللہ اور حج اور اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے احکام نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میری موت ایک غلام کی حیثیت سے آئے۔

اس حدیث میں ’’ کہ غلام کے لیے دہرا اجر ہے‘‘ نبی ﷺ کا فرمان ہے  اور ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، اگر جہاد فی سبیل اللہ اور حج اور اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے احکام نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میری موت ایک غلام کی حیثیت سے آئے‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس وقت نبی ﷺ نے مذکورہ بات ارشاد فرمائی تھی اس وقت آپکی والدہ وفات پاچکی تھیں، لہٰذا اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا ذکر ثابت کرتا ہے کہ یہ خواہش والا جملہ  سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے  ناں کہ نبی ﷺ کا۔ امام مسلم نے  اس حدیث کو یوں  روایت کیا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے۔ امام ابن حجر العسقلانی ؒ نے اس پر مفصل بحث کی ہے۔(فتح الباری:5/220)

محققین کی شان یہ ہے کہ وہ  روایات میں اختلافات کی تحقیق کرتے ہیں اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں، جب کہ جہلا آسان راستہ اختیار کرتے ہیں اور بیک جنبشِ زبان ساری اخبارِ احاد کو ہی سرے سے تسلیم کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور اپنا سارا وقت  کبھی کسی خبرِ واحد کو قرآن کے خلاف ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کبھی کسی حدیث کو۔ ان لوگوں کا علم و تحقیق سے کوئی واسطہ نہیں  مگر سادہ لوح لوگوں کو یا تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے  یہ ساری امتِ مسلمہ کے تمام قدیم و معاصر علما سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔یہی وہ تکبر ہے جس کی وجہ سے یہ راہِ حق سے محروم رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینِ حق پر ثابت قدم رکھے اور فتنہ پردازوں کے فتنوں  اور شر سے محفوظ رکھے آمین۔

 


Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading