2024-07-17

 صلح حدیبیہ:عظیم فتوحات کا نکتہ آغاز

از قلم ساجد محمود انصاری

رسول اکرم ﷺ کو مکہ چھوڑے چھ سال ہوچکے تھے۔ان چھ سالوں میں کفار نے تین بار مدینہ پر حملہ کیا تھا مگر تینوں بار انہیں منہ کی کھانا پڑی تھی۔ غزوہ بدر میں اہل ایمان کو واضح فتح حاصل ہوئی تھی، غزوہ احد میں پلڑہ تقریبا برابر رہا، ابتدا میں اہل ایمان جیت گئے تھے، مگر کفار نےواپس  مڑ کر حملہ کیا تو اہل ایمان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ غزوہ خندق میں باقاعدہ جنگ نہ ہوئی، اہل مدینہ نے خندق کھود کر مدینہ کا دفاع کیا، کفار نے کئی روز تک مدینہ کا محاصرہ کیے رکھا مگر پھر اللہ نے ایک خوفناک آندھی کے ذریعے ان کا شیرازہ بکھیر دیا۔غرض ہجرت کے بعد پانچ سال کفار مکہ اور رسول اکرم ﷺ کے مابین طویل جنگ رہی۔ اس دوران نبی ﷺ اور اہل ایمان زیارت کی خواہش کے باوجود  بیت اللہ کی زیارت سے محروم رہے تھے۔

 ہجرت کے چھٹے سال رسول اکرم ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کررہے ہیں۔ نبی کا خواب وحی کی ایک قسم ہے، تاہم یہ وحی چونکہ محض اشارہ کی شکل میں تھی اس لیے رسول اکرم ﷺ نے یہ سمجھا کہ انہیں فوری طور پر بیت اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوگا۔چنانچہ آپ نے  اہل ایمان کو حکم دیا کہ عمرہ کی تیاری کریں۔نبی ﷺ کے اہل بیت علیہم السلام اور  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیاری مکمل کرلی تو نبی ﷺ نے مکہ کے لیے کوچ کرنے کا حکم فرمایا۔ادھر کفار مکہ کو رسول اکرم ﷺ کے کوچ کی خبر ہوئی تو انہیں لگا کہ شاید نبی ﷺ عمرہ کے بہانے  مکہ پرحملہ کرنے آرہے ہیں۔ انہوں نے حقیقتِ حال جاننے کے لیے ابوسفیان کو اپنا سفیر بناکر بھیجا۔نبی ﷺ حدیبیہ نامی کنویں کے پاس ایک میدان میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے ابوسفیان کو تسلی دی کہ ہم صرف عمرہ کرنے کی غرض سے آئے ہیں جنگ کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ابوسفیان نے قریش کے سرداروں کو جاکر صورتحال سے آگاہ کیا۔کفار مکہ نے مشاورت سے فیصلہ کیا کہ ابھی ہم مسلمانوں کو مکہ آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ کو ایک معاہدہ کرنے پر آمادہ کرلیا جسے صلح حدیبیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ دس سال کے لیے  جنگ بندی کا معاہدہ تھا، جس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ نبی ﷺ  اور آپکے پیروکار اس سال بغیر عمرہ کیے حدیبیہ سے ہی واپس مدینہ چلے جائیں گے اور اگلے سال  اسلحے کے بغیر عمرہ کرنے آئیں گے۔ کفار مکہ خالی کرکے پہاڑوں پر چلے جائیں گے تاکہ مسلمان اطمینان سے عمرہ کرسکیں۔ اس معاہدے کی بعض شقیں ایسی بھی تھیں جن میں کفار کو فوقیت حاصل تھی۔اسی لیے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  اس معاہدے پرمطمئن نہیں تھے۔ تاہم نبی ﷺ کو چونکہ غیب سے خبریں ملتی تھیں اس لیے آپ ﷺ پوری طرح مطمئن تھے۔ اہل ایمان کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح نازل فرمائی جس کی پہلی ہی آیت میں اس معاہدے کو اہل ایمان کے لیے واضح فتح قرار دیا گیا۔صلح حدیبیہ کا معاہدہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر واضح فتح قرار دیا گیا تھا:

1۔ کفار مکہ اس معاہدہ سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور ریاستِ مدینہ کی سیاسی اہمیت کے انکاری تھے، اس معاہدے سے واضح ہے  کہ انہوں نے  ریاستِ مدینہ کو پہلی بار ایک سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کیا۔

2۔ رسول اکرم ﷺ کا بنیادی مشن دعوت الیٰ اللہ تھا، مگر کفار کے پے درپے حملوں کی وجہ سے آپ کو دعوت کے ساتھ ساتھ جنگی تیاریوں میں بھی مشغول ہونا پڑا۔ اس  جنگ بندی کے معاہدے کی وجہ سے آپ یکسو ہوکر دعوت الیٰ اللہ پر اپنی ساری توجہ مرکوز کرسکتے تھے۔

3۔مسلسل جنگ کی وجہ سے مسلمان امن و سلامتی کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت نہیں کرسکتے تھے، صلح کے اس معاہدے کی وجہ سے اب مسلمان اطمینان کے ساتھ عمرہ و حج ادا کرسکتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں نہ صرف صلح حدیبیہ کو  واضح فتح قرار دیا بلکہ آئندہ ہونے والی فتوحات کی بشارتیں بھی سنائیں۔

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَٰذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا

سورۃ الفتح 18 تا 21

اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا ہے ان مؤمنین سے جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، اللہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، سو اس نے ان پر سکینہ (خاص رحمت) نازل کی، اور انہیں(انعام کے طور پر)  قریب کی فتح عطا فرمائی جس میں وہ بہت سا مال غنیمت پائیں گے، بے شک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔اللہ تم سے مزید اموال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جو عنقریب تمہیں ملنے والے ہیں،  البتہ یہ فتح (صلح حدیبیہ) تمہیں فوری طور پر عطا فرمادی ہے، جس میں اس نے لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روکے رکھا ہے، تاکہ مومنوں کو اپنی نشانی دکھادے اور اسی نے تمہیں سیدھا راستہ دکھایا، اور وہ تمہیں کچھ اور فتوحات بھی عطا کرنے والا ہے ، جن پر تم فی الحال قدرت نہیں رکھتے لیکن وہ ان فتوحات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔  

مفسرین نے صراحت فرمائی ہے کہ فتح قریب سے مراد فتح خیبر،مزید مال غنیمت سے مراد فتح مکہ سے متصل ہوازن و بنی ثقیف سے حاصل ہونے والے مغانم ہیں۔ جن فتوحات پر اہل ایمان صلح حدیبیہ  کے وقت قدرت نہیں رکھتے تھے،  ان سے مرادسیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کے بقول فارس اور روم کی فتوحات ہیں۔

تفسیر ابن جریر

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading