2024-07-17

 

خُطبہ غدیرِ خُم

از قلم ساجد محمود انصاری

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی وفات سے صرف 80دن پہلےحجۃ الوداع ادا کرکے مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی مدینہ کی طرف رواں دواں تھے۔ راستے میں پانی کا ایک چشمہ تھا جو غدیر خُم کے نام سے معروف تھا۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرنے والے اکثر لوگ اس مقام پر خیمہ زن ہوتے تھے ۔ رسول اکرم ﷺ کے اس  قافلے نے بھی حسبِ دستور  غدیرِ خُم کے مقام  پر پڑاؤ ڈالا۔اس قافلے میں زیادہ تر مدینہ منورہ اور اس کے مضافات میں رہنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

رسول اکرم ﷺ نے غدیرِ خُم میں پڑاؤ کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔مختلف صحابہ نے اس خطبے کے مختلف اجزا روایت کیے ہیں۔تاہم اس خطبے کی روایات اتنی کثرت کے ساتھ وارد ہوئی ہیں کہ انہیں بلا مبالغہ مجموعی طور پرمتواتر روایات تسلیم   کیے بغیر چارہ نہیں، امام شمس الدین ذہبی ؒ  (متوفیٰ 748 ھ) نے ایک رسالہ میں حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے ایک سو بیس طرق جمع کیے ہیں، جن میں سے اکثر صحیح یا کم از کم صالح للاحتجاج ہیں۔ 

سیدنا ابي سعيدٍ الخُدريِّ رضي الله عنه  اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ مروی ہیں:
إنِّی تارک فيكم الثَّقلَينِ, أحدهما أكبرُ مِن الآخَر – كتاب الله، حبْلٌ ممدود من السَّماء إلى الأرض، وعِترتي أهل بيتي.


مسند امام احمد 11120, جامع الترمذی 3788 


میں تمھارے بیچ دو عظمت والی چیزیں چھوڑرے جارہا ہوں، ایک کی عظمت دوسری سے بڑھ

 کر ہے،  یعنی کتاب اللہ جو آسمان سے لٹکی ہوئی اللہ کی رسی ہے اور میرے اہل بیت۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت میں الفاظ یوں ہیں
أيُّها الناس، إنِّي تاركٌ فيكم أمرينِ لن تضلُّوا إن اتَّبعتموهما، وهما: كتابُ الله، وأهلُ بيتي عِترتي
مستدرک الحاکم 4577
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں , تم جب تک ان کی پیروی کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت۔
سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابو طالب علیہ السلام نے لوگوں کو درختوں کے جھنڈ میں جمع فرمایا۔ اور ان سے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم 

دلاتا ہوں کہ بتاؤ رسول اللہ 

ﷺ نے غدیرِ خُم کے پاس خطبہ میں کیا فرمایا؟ تب لوگوں نے

 کھڑے ہوکر کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیا میں مومنوں پر ان کی جانوں  سےبھی زیادہ حق نہیں رکھتا؟ پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کا مولیٰ ہے،  اے اللہ جو علی کو عزیز تر رکھے اسے تُو بھی عزیز رکھ اور جو علی سےعداوت رکھے اس سے تُو بھی عداوت رکھ۔
سنن الکبریٰ للنسائی، رقم 8623

اس حدیث کا شاہدمسند امام احمد میں موجود ہے۔

سیدنا بریدۃالاسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیّدُنا علی علیہ السلام کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شرکت کی جس میں مجھے آپ سے کچھ شکوہ ہوا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سیدنا علی علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تنقیص کی۔ اسی لمحے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک (کا رنگ) متغیر ہوتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنوں  پران کی جانوں سےبھی زیادہ حق نہیں رکھتا؟

میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.

جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔

مسند احمد: رقم 22995

پس ثابت ہوا کہ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق جس طرح نبی اکرم ﷺ  مؤمنوں کے لیے ساری دنیا سے اولیٰ و اعلیٰ ہیں، اسی طرح امام علی علیہ السلام بھی مؤمنوں کے لیے ساری امت سے اولیٰ و اعلیٰ ہیں۔ان احادیث متواترہ میں جہاں قرآن  حکیم کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی لازم  قرار دی گئی ہے ، وہیں امام علی علیہ السلام کی ولایت ِفقہی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔اب یہ ہم پر لازم ہے کہ ہم قرآن و سنت کے بعد اہل بیت بالخصوص امام علی علیہ السلام کے 

مسلک و منہج کو اپنائیں۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

یاد رہے کہ خطبہ غدیرِ خُم سے نبی ﷺ کا مقصود اہلِ بیت ِ رسول علیہم السلام کی بے اطاعت محبت نہیں ہے۔ یہاں محبت کے ساتھ ساتھ اطاعت بھی مقصود ہے۔چنانچہ اہلِ بیت عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چلنا باعثِ سعادت ہے اور اس سے منہ موڑنا منافقت و 

شقاوت کی دلیل ہے۔ 

  اہلِ بیت علیہم السلام کو مُقتدیٰ و مرشدماننا خطبہ غدیرِ خُم کا ایسا تقاضہ ہے کہ جو خیرالقرون میں اہلِ

 حق کے ہاں معروف تھا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے اپنے بھائی سیدنا عبیداللہ

 بن عباس علیہم السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا:


إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِكُمْ

(مسند احمد: رقم 3239)

ارے آپ (اہل بیت) لوگوں کے امام ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے۔، 

 جبکہ ایک روایت میں انکم أَهْلُ بَيْتٍ يُقْتَدَى بِكُمْ  کے الفاظ ہیں۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading