2024-07-17

 

دجّال اصفہان کو اپنا مرکز کیوں بنائے گا؟

صیہونی ریاست کا انجام

از قلم ساجد محمود انصاری
بیسویں صدی میں  ایک عالمگیر سازش کے تحت صیہونیوں  کو فلسطین میں آباد کیا گیا اور بالآخر ۱۹۲۴ میں فلسطین میں ایک صیہونی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا گیا جسے اسرائیل کہا جاتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ کے فرامین میں واضح پیشگوئیاں موجود ہیں جن سے اشارہ ملتا ہے کہ اس صیہونی ریاست کا انجام بالکل قریب ہے۔ ان شا اللہ 

اسٹینڈرڈ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے کہ یہودی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایرانی شہر  اصفہان کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی۔[1]یہودیوں کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم ان کا یہ دعوی ٰ ظاہر کرتا ہے  کہ یہودیوں کے نزدیک اصفہان کی کس قدر اہمیت ہے۔

انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا نے  مشہور جغرافیہ دان یاقوت حموی،  مقدسی، ابن الفقیہ اور ابن حوقل کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب بخت نصر نے بابل  اورفلسطین پر قبضہ کیا تو بہت سے یہود وہاں سے فرار ہوکر فارس میں پناہ گزین ہوگئے تھے، انہی  یہودی پناہ گزینوں نے اصفہان شہر آباد کیا اور اس زمانے میں اسے یہودیہ کہا جاتا تھا۔ [2]

ایرانی بادشاہ سائرس (کوروش) نے  چھٹی صدی قبل مسیح میں یہودیوں کو بابل کی قید سے آزاد کرایا  اور فلسطین (یروشلم) میں دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جو بخت نصر نے تباہ کردیا تھا۔بائبل میں اس واقعہ کا مفصل بیان ہے اور اسی سبب یہودی سائرس کو اپنا محسن اعظم اور نجات دہندہ تصورکرتے ہیں۔

بائبل کے دو حصے ہیں، عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید۔ عہد نامہ قدیم جسے عبرانی بائبل بھی کہا جاتا ہے، دراصل یہودیوں کی 24 مقدس کتابوں کا مجموعہ ہے، جنہیں  عبرانی میں مجلات اور عربی میں اسفارکہا جاتاہے ۔یہودی اس عبرانی بائبل کو  تناخ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔تناخ کا  آخری مجلہ استیر یا بک آف اشتھر کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کہ سارے کا سارا ایک ایرانی یہودن استیر کی سرگزشت ہے جو یہودی روایات کے مطابق ایران کی ملکہ بنی تھی۔[3]

اسی مجلہ استیر کی بنیاد پر یہودی اپنے عبرانی کیلنڈر کے مہینے آدر کی پندرہ تاریخ کو ایک مذہبی تہوار مناتے ہیں جسے پیورم یا فیسٹیول آف لاٹس کہا جاتا ہے۔ اس تہوار میں یہودی کمیونٹی اپنی ملازمت یا کاروبار سےچھٹی کرتی ہے اور اپنی عبادت گاہ(کنیسہ)  سائناگاگ میں مجلہ استیر میں سے  مہاترانہ یعنی سونگ آف سونگز  پڑھتے ہیں۔اس دن کو یہودی بالکل عید کی طرح مناتے ہیں۔[4]

قرآن کی صراحت کے مطابق یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ذلت و مسکنت مسلط فرمادی ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہودی ایک مصیبت سے نکلتے ہیں تو دوسری میں پھنس جاتے ہیں۔رومی بادشاہ ٹائٹس نے 70 عیسوی میں یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور سائرس کے تعمیر کردہ  ہیکل سلیمانی کو ایک بار پھر جلا کر راکھ کردیا تھا۔یہودی ایک بار پھر منتشر ہوگئے تاہم اکثر یہودیوں نے ایک بار پھر اپنے دوسرے مرکزاصفہان کا رخ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصفہان کم از کم 3000 سال سےیہودیوں کا ایک مستقل مرکز بنا ہوا ہے۔سیدنا سلیمان علیہ السلام کے بعد یہودیوں کو یروشلم میں تقریباً دو صدیوں تک عروج حاصل رہا ، اس کے بعد وہ زوال کا شکار ہونے لگے۔تاآن کہ720 قبل مسیح کے لگ بھگ بخت نصر نے یروشلم کو تباہ کردیا اوریہودیوں کو بابل (عراق) میں قید کردیا۔ اسی زمانے میں یہودی یروشلم سے فرار ہوکر اصفہان میں آباد ہوئے۔ اس دور کے بعد یہودیوں کو کبھی دائمی عروج حاصل نہیں ہوا۔اپنی شاطرانہ چالوں سے کبھی کبھار وہ یروشلم میں اقتدار پالیتے تھے، مگر 70 عیسوی میں ٹائٹس رومی کے ہاتھوں تباہی کے بعد وہ تقریباً 1800 سال تک دربدر رہے۔ اس طویل عرصے کے دوران  ساری روئے زمین پریہودیوں کا واحد مرکز اصفہان رہا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے مبارک زمانہ میں اگرچہ مدینہ بھی یہودیوں کا ایک مرکز تھا مگر اس وقت بھی ان کا سب سے بڑا مرکز اصفہان ہی تھا ۔آج بھی  ایران میں 70سے زیادہ یہودی کنیسے یعنی سائناگاگ ہیں۔[5]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دجال اصفہان کےیہودیوں کی بستی سے برآمد ہوگا اوراس کے ساتھ70000 یہودی ہوں گے جن کے کندھوں پر مخصوص  سبزایرانی شالیں لٹک رہی ہوں گی۔[6]

اس حدیث مبارکہ میں اگرچہ دجال جیسے عظیم فتنے کی خبر دی گئی ہے تاہم اس میں ایک بشارت بھی پوشیدہ ہے۔اس بشارت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فلسطین پر یہودیوں کا قبضہ کب ہوا؟دوسری جنگ عظیم کے بعد یہودی ساری دنیا سے ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہونے لگے اور 14 مئی 1948 کو صیہونی  یہودیوں نےفلسطین میں خودمختاری کا اعلان کرکے یروشلم پر باقاعدہ قبضہ کرلیا ۔اس وقت ایران میں اصفہان سمیت یہودیوں کی آبادی تقریباً ایک لاکھ تھی لیکن یہودی تیزی سے فلسطین کی طرف ہجرت کرنےلگےجسے وہ ارض موعود یا اسرائیل کہتے ہیں۔2021 میں ایران میں یہودیوں کی  کل آبادی آٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے جس میں رفتہ رفتہ مزید کمی واقع ہورہی ہے۔[7]

اب دوبارہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ بالا حدیث کی طرف آتے ہیں جس میں ایک اہم بشارت مخفی ہے۔ اس وقت فلسطین (نام نہاد اسرائیل) یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے اور بظاہر اپنی حدود کو مزید وسیع کررہا ہے اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔تاہم مذکورہ بالا حدیث سمیت متعدد احادیث صحیحہ  میں اشارہ کیا گیا  ہے کہ یہودیوں کا گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا ان شا ٔاللہ۔نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ اصفہان کے 70000 یہودی دجال کی پیروی کریں گےسے واضح ہوتا ہے کہ یہودیوں کودجال کی آمد سے قبل  ایک بار پھر فلسطین سے اصفہان کی طرف ہجرت کرنا پڑے گی۔کیونکہ یہودیوں کی مذہبی روایت کے مطابق غیر یہود یہودی مذہب اختیار نہیں کرسکتا۔جبکہ یہودیوں کی آبادی میں افزئشِ نسل کے ذریعے اس قدر تیزی سے اضافہ ممکن نہیں کہ ایک دو صدیوں میں وہ 8000 سے 70000 کے عدد تک پہنچ جائے۔اب یہودی  دوبارہ فسلطین سے ہجرت کرنے پر مجبور کیوں ہوگے؟ بظاہر یہ اسی صورت ممکن ہےکہ فلسطین سے یہودیوں کا اقتدار ختم ہوجائے۔پس مذکورہ بالا حدیث میں بشارت موجود ہے کہ فلسطین سے یہودیوں کا اقتدار جلد ختم ہونے والا ہے۔ رہا یہ سوال کہ موجودہ عالمی سیاسی صورت حال میں ایسا  ہوناکیسے ممکن ہے؟ ہمارا ماننا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے بڑے عجیب ہوتے ہیں، جو کام بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے وہ اللہ کے حکم سے ممکن ہوجاتا ہے اور انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیا ایسا بھی ممکن تھا؟

اب ہم ان احادیث صحیحہ کا تذکرہ کریں گے جن میں مذکورہ بالا بشارت کی طرف مزید اشارات کیے گئے ہیں۔

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی فتنوں کے دور کے بارے میں ایک طویل حدیث کے آخر میں نبی ﷺ نے بشارت دی ہے کہ دجال حرمین شریفین اور بیت المقدس (یروشلم)  میں داخل نہیں ہوسکے گا اور (فلسطینی) مسلمان بیت المقدس میں محصور ہوجائیں گے۔[8]

دجال کا یہودیوں کا سردار ہونے کے باوجود اصفہان کو اپنا مرکز بنانا اور بیت المقدس میں داخل ہونے سے باز رکھا جانا دلالت کرتا ہے کہ فلسطین پر یہودیوں کا غلبہ عارضی ہے جو جلد ختم وہنے والا ہے۔ان شأ اللہ

اللہ تعالیٰ اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمادیتا ہے کہ جو انسانوں کے گمان میں بھی نہیں ہوتے۔متعدد احادیث صحیحہ میں ذکر ہے کہ دجال کے ظہور سے پہلے مسلمانوں اور یورپی اقوام کے درمیان ایک بہت خیریز جنگ ہوگی جسے احادیث میں الملحمۃ العظمیٰ کہا گیا ہے۔ اس جنگ میں یورپی اقوام 80جھنڈوں تلے متحد ہوں گی۔ ہمارا گمان یہ ہے کہ ان 80جھنڈوں سے مراد 80 ریاستیں ہیں، جن میں  50امریکی ریاستیں بھی شامل ہیں۔گویا قوی امکان ہے کہ سویت یونین کی طرح امریکی ریاستیں بھی خود مختاری کا اعلان کرنے والی ہیں۔ عالمی معاشی اشاریے اسی طرف اشارہ کررہے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب

سیدنا ذی مخمر رضی اللہ عنہ ملحمۃ العظمیٰ کی تفصیل بتاتے ہوئے نبی ﷺ  کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ رومی (یورپی اقوام) 80جھنڈوں کے نیچے متحد ہوکر تم پر حملہ کریں گی۔[9]

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بھی نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ رومی اقوام 80 جھنڈوں کے نیچےپیش قدمی کریں گی اور ان کے ہر جھنڈے کے نیچےبارہ ہزار افراد کا لشکر ہوگا۔[10]

سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تینوں امور سات ماہ کے اندر اندر ظاہر ہوں گےیعنی بہت بڑی  جنگ، فتحِ قسطنطنیہ (یورپ کی فتح) اور خروجِ دجال۔ [11]

سیدنا جابر بن سمرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تک روم (یورپ)فتح نہیں ہوجائے گا دجال ظاہر نہیں ہوگا۔[12]

یہ تمام احادیث متفقہ طور پر اشارہ کرتی ہیں کہ فلسطین سے یہود کا قبضہ ختم ہونے والا ہے اور اس کا ایک ظاہری سبب یہ ہے کہ ان کی سرپرستی کرنے والے خود داخلی مسائل کا شکار ہوکر ان کی سرپرستی سے دستکش ہوجائیں گے اور یوں مسلمانوں کے لیے فلسطین کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنا آسان ہوجائے گا۔ان شأ اللہ

 



[6] صحیح مسلم: رقم 2944، مسند احمد: رقم 13377

[8] مسند احمد: رقم 20440

[9] مسند احمد: رقم 16951، سنن ابوداؤد: رقم 4293

[10] مسند احمد: رقم 22342

[11] مسند احمد: رقم 22395، سنن ابو داؤد: رقم 4295، سنن ابن ماجہ: رقم 4092

[12] مسند احمد

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading