2024-07-17

 سورۃ البقرۃ:آیات 21 تا 30

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (21)

اے لوگو عباد ت کرو اپنے رب کی جس نے ےتمہیں پیدا کیا ہے اور ان کو بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (22)

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا (تاکہ تم اس پر رہ سکو)  اور آسمان کو چھت بنایا  (جو تمہیں اجرام سماوی سے محفوظ رکھتی ہے)، اور آسمان کی جانب سے پانی برسایا  جس کے ذریعے اس نے پھلوں کو تمہارا رزق بنایا۔ پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ، جبکہ تم جانتے ہو( کہ وہ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا رب ہے)

وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (23)

اور (اے یہودیو) اگر تمہیں اس (وحی) کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے (محبوب ترین)  بندے (محمد ﷺ)  پر نازل کی ہے، تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی تراش لاؤ، اور اس مقصد کے لیے اپنے سب حمایتیوں کو بھی بلالو۔

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (24)

پس اگر تم ایسا نہ کر سکو، اور یقیناً تم ایسا کر بھی نہ پاؤ گے تو پھر اس جہنم کی آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔جو کہ اصل میں کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (25)

اور(اے نبی ﷺ)  بشارت دیجیے ان لوگوں کو جو سچے دل سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال سر انجام دئیے کہ ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے گئے ہیں جن کے بیچوں بیچ نہریں بہتی ہیں۔جب بھی انہیں کوئی پھل بطور رزق  دیا جائے گا تو وہ اپنے جی میں کہیں گے  کہ ایسا پھل تو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا۔ حال آن کہ وہ  پھل صرف ظاہری طور پر ہی پہلے جیسا ہوگا ( جبکہ ذائقے  اور تأثیر میں مختلف ہوگا )۔ اسی جنت میں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں  موجود ہوں گی اور وہ سب وہاں ہمیشہ کے لیے جیتے رہیں گے۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ (26)

بے شک اللہ تعالیٰ اس سے نہیں شرماتا کہ وہ کسی مچھر یا اس  سےبھی کمتر مخلوق کی مثال دے، اہلِ ایمان  کو یقین ہے کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق بات نازل کی گئی ہے۔ جبکہ کافر (یہودی) اعتراض کریں گے کہ ایسی حقیر مثال بیان کرنےسے اللہ  تعالیٰ کا کیا مقصد ہے؟ اسی (مثال) سے وہ کچھ لوگوں کو گمراہ ہونے دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اسی مثال کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے۔اور(اللہ تعالیٰ) فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں  ہونے دیتا۔

الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27)

کہ جنہوں نے اللہ کے ساتھ(تورات میں ) باندھے گئے عہدکو  توڑا  اور (بنی اسماعیل کے ساتھ) خونی رشتے کو قطع کیا  حال آن کہ اللہ تعالیٰ نے  انہیں اسے جوڑنے کا حکم دیا تھا، اور(آل اسماعیل کے نبی محمدﷺ کے خلاف سازشوں کے ذریعے)  زمین میں فساد پھیلانے لگے۔یہی لوگ انجام کار خسارہ پانے والے ہیں۔

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (28)

تم لوگ اللہ کی ناشکری کیسے کرتے ہوحال آن کہ جب تم معدوم (کچھ بھی نہ ) تھے تو اس نے تمہیں زندگی عطا فرمائی، پھر وہ تمہیں موت دے گا ، پھر تمہیں (قیامت کے روز) دوبارہ زندہ کرے گا، پھر تم (حساب کے لیے) اسی کے حضور حاضر ہوگے۔

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (29)

اسی نے(یکجا آسمان  بنانے کے بعد)  تمہارے لیے زمین میں موجود ساری نعمتیں پیدا کیں (تاکہ تم ان سے استفادہ کرو)، پھرآسمان کا قصد کیا اور انہیں سات ٓسمانوں کی صورت  دےدی۔ اور وہ ہر (چھوٹی بڑی) شئے کا علم رکھتا ہے۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (30)

او روہ واقعہ بھی یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھا  کہ میں زمین میں اپنی جانب سے ایک حکمران مقرر کرنے والا ہوں، وہ (حیرت سے ) عرض کرنے لگے کہ کیا آپ ایسی ہستی کوزمین کا  حکمران بنانے لگے ہیں جو (پہلے سے وہاں موجود جنات کی طرح )  اس میں  فساد پھیلا سکتی ہے اور خونریزی کرسکتی ہے؟ (جبکہ ان کے برعکس)  ہم ہر وقت آپ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے آ پ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور اور آپ کی تقدیس کے گیت گاتے  رہتےہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading