2024-07-17

 فرضیتِ صلوٰۃ

از قلم اجد محمود انصاری

اللہ تعالیٰ نے ہر بالغ مرد وعورت پر دن رات میں پانچ بار صلوٰۃ (نماز) ادا کرنا فرض کیا ہے۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا[1]

بے شک مؤمنوں پر مقررہ اوقات میں صلوٰۃ ادا کرنا فرض کیا گیا ہے۔

علمائے امت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔جیسا کہ سنتِ متواترہ سے ثابت ہے

سیدنا  انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معراج کی رات پہلے پہل رسول  اکرم ﷺ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں پھر کم کرکے پانچ کردی گئیں۔[2]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔[3]

سیدنا  طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا کہ  یا رسول اللہ مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں فرض ہیں ہاں نفل  نمازجتنی چاہے پڑھو۔[4]

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں  کہ میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور میں نے اپنے آپ سے یہ عہد کیا ہے کہ جو کوئی ان نمازوں کو وقت پر ادا کرتا رہے گا  میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو ان کی حفاظت نہیں کرے گا میرا ان سے کوئی وعدہ نہیں ہے۔[5]

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔جو شخص اس حال میں اللہ کے پاس حاضر ہوگا کہ اس نے انہیں ان کے حقوق کے ساتھ اد کیا ہوگا تو اللہ کا اس سے وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرےگا۔اور جو ان کو ادا کیے بغیر آئے گا اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے اورچاہے تو اسے بخش دے۔ [6]

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی کے دروازے کے باہر سے نہر بہتی ہو اور وہ اس میں پانچ بار غسل

کرتا ہو۔[7]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے کے باہر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل بچے گی؟ سب نے کہا کہ اس کے بدن پر کوئی میل کچیل نہیں بچے گی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی یہی مثال ہے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہ مٹا دیتا ہے۔[8]

مسند احمد میں سیدنا عثمان  بن عفان رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔[9]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ  دوسرے جمعہ تک ہونے والے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں۔[10]



[1] النسا: ۱۰۳

[2] جامع الترمذی: رقم 213

[3] سنن النسائی: رقم 459

[4] صحیح البخاری: رقم 46، سنن ابوداؤد: رقم 391

[5] سنن ابوداؤد: رقم 430

[6] سنن ابو داؤد: رقم 1420

[7] صحیح مسلم: رقم 668

[8] جماع الترمذی: رقم 3107، صحیح البخاری: رقم 528

[9] مسند احمد: رقم 518

[10] جامع الترمذی: رقم 214، صحیح مسلم: رقم 233

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading