2024-07-17

 

سوشل میڈیا: دجّال کا سب سے بڑا ہتھیار

از قلم ساجد محمود انصاری

آج دنیا کی کل آبادی  آٹھ بلین (ارب) کے قریب ہے۔محتاط تحقیق کے مطابق اس وقت تقریباً تین بلین انسان فیسبک استعمال کررہے ہیں۔تقریباً اتنے ہی انسان ہر ماہ یوٹیوب استعمال کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کسی نہ کسی انداز میں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ باقی پانچ بلین انسانوں کی سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں انٹر نیٹ تک رسائی حاصل نہیں ۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جسے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو اور وہ کسی نہ کسی سوشل میڈیا سے استفادہ نہ کرتا ہو۔وہ کمسن بچے جنہیں بولنا تک نہیں آتا اپنے والدین یا بھائی بہن کے ذریعے سوشل میڈیا استعمال کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا جہاں بہت سے مفیدتصورات و نظریات کے فروغ کا ذریعہ ہے وہیں اسے بدترین شیطانی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال شیطانی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کا نشہ تو خطرناک ہے ہی اس سے بھی خوفناک بات  یہ کہ یہ دھیرے دھیرے انسانی  ذہنوں کو اپنی مرضی کے مطابق  ڈھال رہا ہے۔ہم بظاہر اپنی مرضی اور اختیار سے سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہوتے ہیں، مگر درحقیقت سوشل میڈیا ہمیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ یہ بات بظاہر بڑی عجیب اور ہوا میں تیر چلانے کے مترادف محسوس ہوتی ہے، مگر سوشل میڈیا کے ڈیٹا پر تحقیق کرنے والے اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے بلکہ سوشل میڈیاہمیں استعمال کرتا ہے۔

فرض کیجیے کہ آپ ایک کمپنی یا دکان یا ادارے کے مالک ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی کمپنی یا دکان یا ادارے کی پراڈکٹ خریدنے پر مائل ہوں۔ اس مقصد کے لیے آپ سوشل میڈیا پر اشتہار دیتے ہیں یا صرف اپنی کمپنی یا دکان یا ادارے کا تعارف کرادیتے ہیں۔آپ اس مقصد کے لیے جو بھی سوشل میڈیا استعمال کریں، آپ اشتہار کے لیے قیمت ادا کریں یا فری سوشل میڈیا استعمال کریں،  آپ اس سوشل میڈیا کے مقاصد پورے کرنے میں ان کے معاون بنتے ہیں، کیونکہ کسی سوشل میڈیا کے  جتنے زیادہ صارفین ہوتے ہیں، اس کی کمائی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ حقیقت میں ہر سوشل میڈیا ایک کمپنی یا دکان ہے جس کامال(ایپلی کیشن)  آپ خوشی  خوشی خریدتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ ایپلیکیشنز جو بالکل مفت مہیا کی جاتی ہیں آپ کا انہیں استعمال کرنے پر آمادگی ہی اس کمپنی کا منافع ہے۔ یہ ایک الگ  تفصیل ہے کہ سوشل میڈیا ایپس کس کس طریقے سے منافع کماتے ہیں۔زیر نظر ِ مضمون اس تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اب دوسرے لوگ جو سوشل میڈیا استعمال کررہے ہیں، جن کو آپ اپنا گاہک بنانا چاہتے ہیں، وہ آپ کا اشتہار دیکھتے ہیں تو ان میں آپ کی پراڈکٹ خریدنے کی امنگ پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ چاہے وہ پراڈکٹ ان کی قوتِ خرید سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔اب کچھ لوگ آپ کی پراڈکٹ خریدنے پر باقاعدہ آمادہ بھی ہوجاتے ہیں اور آپ کے گاہک بن جاتے ہیں۔بظاہر  آپ نے اپنی پراڈکٹ بیچنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا مگر درحقیقت سوشل میڈیا نے اپنے صارفین کو استعمال کیا جن میں آپ بھی شامل ہیں۔رہے وہ لوگ جن میں آپ کی پراڈکٹ خریدنے کی استعداد نہیں ہے، مگر ان میں آپ کی پراڈکٹ خریدنے کی امنگ پیدا ہوئی ہے اب زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی کوشش میں لگ جائیں گے تاکہ وہ زیادہ سے سے زیادہ پراڈکٹس خرید سکیں۔اب بظاہر انہوں نے آپ کا اشتہار صرف دیکھا ہے، مگر سوشل میڈیا نے ان میں بھی اپنی چاہت کے مطابق امنگیں جگا دی ہیں۔

یہ صرف اس ایک پراڈکٹ کی مثال ہے جسے استعمال کرنا شرعی اعتبار سے سوفیصد جائز ہو۔ان پراڈکٹس کا کیا جو شرعاً سو فیصد حرام ہیں؟ مذکورہ بالا مثال کے عین مطابق حرام پراڈکٹس (منکرات) کو بھی سوشل میڈیا پر بالکل اسی طرح بیچا جاتا ہے اور اسی طرح لوگوں میں ان کی امنگ پیدا کی جاتی ہے۔

کون نہیں جانتا کہ سوشل میڈیا کی ایجاد کے بعد فحش فلموں تک رسائی  کس قدر آسان بنا دی گئی ہے۔اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ فحاشی کا تصور ہی تبدیل ہوچکا ہے۔ مغربی ممالک میں مرد کے لیے رانیں ننگی کرنا اور عورت کے لیے بازو، سر، رانیں اورسینہ ننگا کرنا فحاشی نہیں سمجھا جاتا جبکہ اسلام میں یہ سب فحاشی کی زمرے میں داخل ہے۔ چونکہ مغرب میں اتنی بے لباسی معاشرے نے قبول کرلی ہے اس لیے اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوتا۔ خوفناک بات یہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ اسی مرحلے کی طرف تیزی سےقدم بڑا رہا ہے۔ہم نے کسی نہ رنگ میں فلموں ڈراموں کی حد تک مذکورہ بے لباسی کو قبول کرلیا ہے، اگرچہ ابھی ہمارا معاشرہ پبلک میں اس بے لباسی کی اجازت نہیں دیتا مگر افسوس کہ اس ہم اسی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔ جوبرائی عام ہوجائے وہ برائی نہیں رہتی۔ یعنی لوگوں کا ذہن اسے برائی نہیں سمجھتا۔ کیاہماری یونورسٹیوں میں خواتین کا شارٹ شرٹس اور ٹائٹس پہننے کا بڑھتا ہوا رجحان رانیں اور سینہ ننگا کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں؟پنڈلیاں اور سر  تو بہت پہلے ننگے ہوچکے ہیں کیا اب  سینے اوررانوں کی باری نہیں ہے؟

اسلام کا وہ کونسا پہلو بچا ہے جسے سوشل میڈیا پرمسخ نہیں کیا گیا؟ فروعات ہی نہیں مسلمات تک پر شکوک و شبہات پیدا کردئیے گئے ہیں۔ فتنہ انکارِ سنت ،دین کے رنگ میں سب سے بڑا فتنہ  بن کر ابھرا ہے۔دہریت خوفناک عفریت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔مقاماتِ مقدسہ کی حرمت کو پائمال کیا جارہا ہے اور ایک طبقہ اس بے حرمتی کا دفاع کرتا نظر آرہا ہے۔ کیا یہ دجّالیت سے کم ہے؟سوچیں ذرا کہ دجّال خود کو مسیحا کیسے ثابت کرے گا؟پھر لوگ دجّال کو خدا ماننے پر کیسے آمادہ ہوجائیں گے؟ کیسے وہ دجّال کی جہنم کو جنت اور جنت کو جہنم  تسلیم کرلیں گے؟  کیا لوگوں کی عقل گھاس چرنے چلی جائے گی؟ نہیں سوشل میڈیا کی طلسمی طاقت کو دجّال کا راستہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔نہایت منظم طریقے سے ذہن سازی کی جارہی ہے، جس طرح آج فحاشی کے معنی بدل گئے ہیں عجب نہیں کہ کل کو جنت اور جہنم کے معنی بھی بدل دئیے جائیں۔ رہا  دجّال کاخدائی دعویٰ تو اس کے لیے سوشل میڈیا تیزی سے سرگرمِ عمل ہے۔ ذرا اپنی خوراک، لباس اور رہائش پر نظر ڈال کر دیکھیے کہ ان میں سے کتنی چیزیں ہم نے براہ راست نیچر سے حاصل کی ہیں ؟ وہ پانی جو دنیا میں سب سے زیادہ مقدار میں پائی جانے والی نعمت شمار ہوتا تھا، آج ہم اسے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے خود نہ صرف یہ کہ خوشی سے خریدتے ہیں بلکہ منرل واٹر نہ ملے تو پیاسا رہنا تو منظور کرلیتے ہیں  مگر نہر کا گدلا مگر تازہ پانی پینے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔جب  لوگوں کی یہ عادت مزید پختہ ہوگی اور منرل واٹر کے سوا پانی میسر ہی نہیں ہوگا تو لوگوں کو جان بچانے کے لیے پانی کے چند گھونٹوں کے عوض کسی انسان کو خدا ماننا بھی پڑا تو ان کے راستے میں کیا رکاوٹ حائل ہوگی؟ (اعاذنا اللہ عن ذالک)  جب ایک صاحبِ ایمان آدمی ان سب حقائق پر غور کرتا ہے تو اسی نتیجے پرپہنچتا ہے کہ واقعتاً سوشل میڈیا دجّال کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوگا، جسے دجّالی مشن پر گامزن لوگ پہلے ہی ان مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل قیامت کے دن  ہمارا شمار دجّال کے ہراول دستے میں نہ ہو تو سوشل میڈیا کو کم سے کم وقت دیجیے اور اگر آپ کے پاس وقت فارغ ہے تو اسے صرف اور صرف اسلام کی تبلیغ اور دجّالی مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے ہی استعمال کیجیے۔ رہی نری وقت گزاری،  ہنسی ٹھٹھا ، کھیل تماشا تو اس کے لیے سوشل میڈیا ہرگز استعمال مت کیجیے۔ یہ مجھ ناچیز کی  اپنے نفس کے لیے اور سب احباب کے لیے عاجزانہ نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے ، فرائض کی پابندی کرنے اور اپنے وقت اور صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading