2024-07-17
قرآن کی انقلابی دعوت

قرآن کی انقلابی دعوت

از قلم ساجد محمود انصاری

قرآن حکیم ایک ایسی معجزہ کتاب ہے  کہ جس نے محض 23 سال کے مختصر عرصہ میں جزیرۃ العرب پر وہ مبارک انقلاب برپا کیا کہ جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔قرآن حکیم جہاں اپنی صوتی تاثیر کے اعتبار سے روح کی غذاہے وہیں اپنے براہین قاطعہ کی وجہ سے عقلِ سلیم کو بھی صحت افزا غذا فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ جب سرزمین عرب کے باشندوں نے قرآن کی پکار پر لبیک کہا تو ان کے لیل و نہار میں انقلاب رونما ہوگیا۔ قرآن کی انقلابی دعوت سے سرزمینِ عرب میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ تاریخِ انسانی اس کی کوئی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

قرآن نے بت پرست عربوں کے اعتقاد ات ہی نہیں سنوارے بلکہ ہمیشہ باہم برسرِ پیکار رہنے والی قوم کو اعلیٰ ترین اخلاق کا مالک بنا دیا۔ قانون بدلے، رواج بدلے، دشمنی کے معیار بدلے، بیع و شرأ، عدل و قضا اور نکاح و طلاق  کے اطوار بدلے۔وہ کونسی شئے تھی جس میں کوئی تغیر واقع نہ ہوا ہو؟حقیقت یہ ہے کہ قرآنی انقلاب ہمہ گیر انقلاب تھا جس نے پہلے پہل عرب قوم اور پھردیگر  اقوامِ عالم کے سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات کرکے ایک عالمگیر امت تشکیل دی،جسے قرآن نے خیرِ امت کا لقب عطا کیا ہے۔یوں دنیا کی سب سے جاندار اورتیزرو تہذیب وجود میں آئی جسے دنیا اسلامی تہذیب کے نام سے جانتی ہے۔

جس ہستی پر یہ قرآن نامی لازوال معجزہ الہامی کتاب کی صورت میں نازل ہوا وہ خود سراپا قرآن بن گئی میری مراد امام المرسلین محمد عربی الہاشمی ﷺ ہیں۔رسول اکرم ﷺ نہ صرف پہلے داعی قرآن تھے بلکہ قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھے۔آپ ﷺہی وہ ہستی ہیں جن کے وجود مسعود کے ذریعے قرآنی انقلاب برپا ہوا۔آپ ﷺ نے قرآنی پروگرام کو نہایت حکمت و بصیرت  اور جانفشانی کے ساتھ عملی شکل دی۔آپ ﷺ نے قرآن کا عطا  کردہ نظام دنیا میں عملاً قائم کرکے دکھایا جس کی برکات سے ایک عالم مستفیض ہوا اور قیامت تک اس نظام کی برکات جاری رہیں گی۔ رسول اکرم ﷺ کی 23 سالہ پیغمبرانہ دعوت  میں جو مراحل قرآنی تحریک نے طے کیے  ان کا ایک مختصر سا خلاصہ ذیل میں ہدیۂ قارئین ہے۔

1۔ دعوتِ توحید

2۔ تعلیم القرآن

3۔ تزکیۂ نفس

4۔ مواخات

5۔ عدلِ اجتماعی

دعوتِ توحید

قرآن حکیم کا مرکزی مضمون توحید باری تعالیٰ ہے، قرآنی انقلاب کی اصل بنیاد دعوتِ توحید ہے۔قرآن کے جملہ مضامین دعوتِ توحید کے گرد گھومتے ہیں۔قرآن حکیم میں یا تو براہِ راست توحید کے دلائل بیان کیے گئے ہیں یا  داعیانِ توحید  یعنی  انبیا علیہم السلام  کی دعوت کی سرگزشت بیان ہوئی ہے۔ کن لوگوں نے دعوتِ توحید پر لبیک کہی اور کون اس دعوت کی مخالفت کرکے نامراد ٹھہرے، نیزتوحید کے عملبرداروں کے نیک انجام اور شرک کے متوالوں کے انجامِ بد کی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔توحید کے ماننے والوں کے لیے زندگی گزارنے کا مکمل پروگرام بھی قرآن حکیم نے وضاحت سے بیان کردیا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے جس قوم میں علمِ توحید بلند کیا وہ صدیوں سے بت پرستی کی نجاست میں ملوث تھی۔مرکزتوحید بیت اللہ  میں تین سو ساٹھ بت آراستہ کرکے اسے بت کدہ بنا دیا گیا تھا۔بیت اللہ کے ارد گرد بتوں کے  استھان پرانہیں خوش کرنے کے لیے جانور ذبح کیے جاتے، نذرونیاز کی جاتی، سجدے اور رکوع کیے جاتے اور ان بتوں سے دلی مرادیں مانگی جاتی تھیں۔اس مشرکانہ ماحول میں رسول اکرم ﷺ نے صدائے توحید بلند کی، سب سے پہلے آپ کے اہل بیت  (علیہم السلام)نے آگے بڑھ کر پیغامِ توحید کو قبول کیا۔ پھر آپ ﷺ کے قریبی دوستوں کو یہ شرف حاصل ہوا۔رفتہ رفتہ دعوت آگے بڑھی اور خوش نصیب لوگ اس دعوت کے حامل بنتے گئے۔مگر بت پرستی کے رسیا  جن کے دلوں میں بتوں کی محبت پیوست ہوچکی تھی وہ اس دعوتِ توحید کی مخالفت میں کمربستہ ہوگئے۔چنانچہ ان بدبختوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے جانثاروں پر مظالم کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا، یہاں تک کہ اہلِ ایمان کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔مدینہ منورہ میں بھی نبی ﷺ نے دعوتِ توحید کا کام تندہی سے جاری رکھا۔ مشرکین مکہ سے برداشت نہ ہوا کہ حاملینِ توحید مدینہ میں پرامن زندگی بسر کررہے ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنے تئیں توحید کا نام مٹانے کے لیے مکہ پر لشکر کشی کی مگر بدر کے مقام پر انہیں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا جس  کے نتیجے میں مشریکن مکہ کے تمام بڑے سردار جہنم واصل ہوئے۔مشرکین مکہ نے بدر کے بعد بھی کئی بار مدینہ پر دھاوا بولا مگر ہر بار انہیں منہ کی کھانا پڑی تاآن کہ رسول اکرم ﷺ ہجرت کے آٹھ سال بعد فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

اس سارے عرصہ کے دوران قرآن حکیم رسول اکرم ﷺ کو مسلسل رہنمائی فراہم کرتا رہا۔ قرآن نے دعوت کے ہر مرحلہ پر اہلِ ایمان کے لیے راہنما ہدایات فراہم کیں۔نیز دعوت کے اصول اور داعی کے اوصاف بھی کھول کر بیان کیے۔غرض قران نے داعی الی اللہ کے لیے ایک مکمل نصاب فراہم کردیا۔

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ   

النحل:21

آپ اپنے رب کے راستے( توحید) کی طرف حکمت اور دل نرم کرنے والی عمدہ گفتگو کے ذریعے دعوت دیں اور ان سے احسن طریقے سے مجادلہ کریں۔

تعلیم القرآن

قرآنی انقلاب کے سارے مراحل کیونکہ قرآن حکیم کی روشنی میں طے کیے گئے تھے  اور اس انقلاب کے بنیادی مقصد یعنی قیامِ توحید کے لیے ساری غذا  قرآن نے فراہم کی تھی اس لیے رسول اکرم ﷺ نے ساری توجہ تعلیم القرآن پرمرکوز رکھی۔قرآن حکیم قرآنی انقلاب کا بنیادی نصاب ہے اس لیے اس کی تعلیم کے بغیر قرآنی انقلاب کا ظہور ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں چار مقامات پر رسول اکرم ﷺ کے طریقۂ دعوت کا خلاصہ جامع انداز میں بیان کیا ہے جس میں سے ایک مقام یہ ہے:

لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ     یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ

آل عمران:164

یقیناً اللہ تعالیٰ نے  مؤمنوں پر احسان کیا ہے کہ ان ہی کی جنس میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو انہیں اس کی آیات پڑھ کے سناتا ہے اور ان کا تزکیۂ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم بھی دیتا ہے، حال آن کہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

تعلیم القرآن والحکمۃ بظاہر دو الگ الگ چیزوں کی تعلیم لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ ایک ہی شئے کی تعلیم ہے، تعلیم الکتاب کا مطلب ہے قرآن کی درست تجوید کے ساتھ قرأت ، اس کے درست مخارج اور اس کی آیات و سورتوں کی ترتیب وغیرہ جبکہ تعلیم الحکمہ سے مراد قرآن کی تفسیر ہے جو کہ ہمارے پاس مقبول احادیث کی شکل میں محفوظ ہے، جسے دوسرے لفظوں میں سنتِ رسول ﷺ بھی کہتے ہیں۔غرض تعلیم الکتاب والحکمہ اصلاً تعلیم القرآن کے سوا کچھ نہیں۔ تعلیم القرآن کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ قرآنی انقلاب کے بنیادی اسباق ازبر کردیے جائیں جو ہمہ وقت داعی الی اللہ کی نظروں کے سامنے رہیں اور بیداری کی حالت میں ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہ ہوں۔قرآن حکیم چاہتا ہے کہ قرآنی انقلاب کا ہر داعی قرآن کی دعوت کو پہلے خود اچھی طرح  پورے یقین واذعان کے ساتھ سمجھے تاکہ دعوت ِقرآن کا کوئی اہم پہلو اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہو۔کیونکہ اس کے بغیر قرآنی انقلاب کا داعی قرآنی دعوت کو درست طور پر پیش کرنے کا اہل نہیں ہوسکتا۔

یہی سبب ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمہ وقت قرآن میں مشغول رہتے تھے، حتیٰ کہ جب وہ اپنی کسی معاشی سرگرمی میں مصروف ہوتے تو اس وقت بھی ان کی زبان پر قرآن کی تلاوت جاری رہتی تھی۔ عربی ان کی مادری زبان تھی اس لیے قرآن ان کے دل پر براہِ راست تاثیر کرتا تھا۔آج بھی اگر کوئی واقعی قرآنی انقلاب کا داعی بننے کا خواشمند ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ عربی زبان میں بنیادی مہارت پیدا کرے تاکہ جب وہ قرآن حکیم پڑھے تو قرآن کا پیغام سمجھنے کے لیے کسی ترجمے کا محتاج نہ ہو۔اسی صورت میں قلب پر قرآن کے معانی کا براہِ راست نزول ہوگا۔ بقول اقبال

ترے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے رازی ، نہ صاحب ِکشّاف

یاد رہے کہ تعلیم القرآن داعی کی محض علمی ضرورت نہیں ہے بلکہ نفسیاتی ضرورت بھی ہے۔قرآن حکیم نہ صرف اپنی دعوت کو مدلل انداز میں پیش کرتا ہے بلکہ داعی الی اللہ کو اس دعوت کے سب مراحل میں ایمانی و روحانی تقویت بھی پہنچاتا ہے۔قرآن  دعوت کے مراحل میں پیش آنے والی مشکلات میں داعی کی ڈھارس بندھاتا ہے،آخرت میں ملنے والے انعامات   بار بار یاد دلا کر اور رضائے الہٰی کی بشارت سنا کر  اسے حوصلہ دیتا ہے ، دعوت کے مخالفین کے انجام سے خبردار کرکے داعی کو تسلی دیتا ہے کہ اگرچہ داعی دنیا میں ان مخالفین کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا مگر آخرت  میں ان کے لیے سخت سزا ان کی منتظر ہے۔غرض قرآن حکیم  داعی کی کونسلنگ کا بہترین ذریعہ ہے۔

تزکیہ ٔ نفس

تزکیہ میں پاکیزگی اور نشو نما  کے معانی پائے جاتے ہیں۔ تزکیۂ نفس قرآنی انقلاب  کی اہم ضرورت بھی ہے اور لازمی نتیجہ بھی۔رسول اکرم ﷺ دعوتِ توحید پر لبیک کہنے والوں کا تزکیہ ٔ نفس تعلیم القرآن کے ذریعے فرماتے تھے۔قرآن حکیم سےبہتر تزکیۂ نفس کا کوئی ذریعہ نہیں۔تزکیہ سے مراد باطل عقائد و تصورات اور توہمات سے نجات ، درست عقائد کی تعلیم، عاداتِ بد سے چھٹکارا پانا  اور روح کو  اوصافِ حمیدہ  سے مزین کرنا ہے۔حسد، بغض، کینہ، کدورت، چغلی ،بخل ،بزدلی ، فحش گوئی سے اجتناب کرنا اور خوش خلقی، ایثار، احسان، محبت اورشجاعت کے جذبات کو پروان چڑھانا تزکیۂ نفس کے اہم مقاصد ہیں۔ حلال ذرائع سے کھانا اور حرام سے اجتناب کرنا ، معاشرتی معاملات میں دیانتداری  اور فرض شناسی سے کام لینا،  مخلوق کے کام آنا اور اپنی جان کو فضول آسائشوں کے لیے ہلکان کرنے سے پرہیز کرنا بھی تزکیۂ نفس کے اہم ثمرات ہیں۔یہ تمام مقاصد  حاصل کرنے کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت ، ذکر الہٰی  اور صدقات و خیرات کے ذریعے روح کی نشوونما ضروری ہے۔جب روح ِ انسانی اس طرح پروان چڑھتی ہے  تو قلبی اطمینان، فرحت و راحت اور سرور حاصل ہوتا ہے۔

 وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ

 عبس:38-39

اس روز بہت سے چہرے روشن ہوں گے، ہنستے مسکراتے ، خوشیاں مناتے ہوئے۔

اگرچہ یہ آیات آخرت کے بارے میں ہیں مگر حقیقت یہ ہے جن لوگوں کو یہ بشارت دی گئی ہے ، دنیا میں بھی ان کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جن کا تذکرہ سطور بالا میں کیا گیا ہے۔ جو لوگ تزکیۂ نفس کی منزلیں طے کرلیتے ہیں وہ ان آیات کے مصداق ہوجاتے ہیں۔

مُوَاخات

مواخات کا لفظ اخوت سے بنا ہے جس کا مطلب ہے ایک دوسرے کا بھائی بھائی بننا۔ جو خوش نصیب دعوتِ توحید قبول کرلیتے ہیں وہ امتِ مسلمہ میں شامل ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ رشتۂ اخوت میں بندھ جاتے ہیں۔اخوت کا یہ رشتہ قوم، نسل ، رنگ ،زبان اور وطن  سے بے نیاز ہوتا ہے۔جس طرح خونی بھائی اپنے بھائی کے دکھ اور غم میں شریک ہوتا ہے ، اسی طرح دینی رشتۂ اخوت میں جڑے ہوئے افراد بھی ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔جس طرح ایک ماں کے جائے مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے اسی طرح افرادِ امت بھی ہر حال میں ایک دوسرے  کےمسائل حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

الحجرات:10

بے شک مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

قرآن نے رشتۂ اخوت میں جڑنے والے ان مؤمنین کو ہر قسم کی عصبیت ترک کرکے ایک جمعیت بننے  اور تفرقہ پھیلانے سے باز رہنے کاحکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

 آل عمران:103

تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ سے باز رہو، اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو باہم جوڑ دیا اور تم اس کے انعام سے بھائی بھائی بن گئے۔حال آن کہ تم جہنم کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے تو اس نے تمہیں اس (میں گرنے) سے بچالیا۔اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاسکو۔

رسول اکرم ﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے والے اللہ کے کرم وفضل سے ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔مہاجرین و انصار کی محبت و اخوت مثالی تھی۔اگرچہ ہجرت سے پہلے بھی اہلِ ایمان اخوت کے رشتے میں منسلک تھے اور ایک دوسرے کے لیے اخلاص کے ساتھ خیرخواہی کا جذبہ رکھتے تھے، تاہم ہجرت کے فوراًبعد بعض مصالح کے پیشِ نظر نبی ﷺ نے مہاجرین و انصار میں اخوت کا  ایک  نیا جذبہ پیدا کیا اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے پیوند کردیا کہ وہ اس رشتے کو خونی رشتے پر بھی فوقیت دینے لگے، اسی یادگار واقعہ کو مواخات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔روایات میں مذکور ہے کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین مواخات کا رشتہ قائم کیا گیا وہ ایک دوسرے کے ترکوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔مواخات کا یہ درجہ ہم سے مطلوب نہیں مگر کیا ہم اس اخوت کا عشر عشیر بھی اپنے رویوں میں لانے سے قاصر ہیں؟ ہم سے مطلوب یہ ہے کہ ہم تمام معاملات میں اپنے مؤمن بھائی کے لیے بھی وہی معیار اختیار کریں جو اپنے لیے اختیار کرتے ہیں۔ ان کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، ان سے ویسا ہی رویہ اپنائیں جیسے رویے کی ہم ان سے اپنے لیے  توقع کرتے ہیں۔ان کی جان، مال اور آبرو کی ویسے ہی حفاظت کریں جیسے ہم ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری جان، مال اور آبرو کی حفاظت کریں گے۔ یہ ہے اخوت کا وہ کم از کم معیار جس کا  قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہےجسے نبی اکرم ﷺ نے اپنے ایک فرمان میں یوں بیان فرمایا ہے:

لا یؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ

تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔(مسند احمد: رقم 13664)

معلوم ہوا کہ انما المؤمنون اخوۃ  کا کم از کم معیار وہ ہے جو رسول اکرم ﷺ نے اپنے اس مبارک فرمان میں بیان کیا ہے کیونکہ یہ حدیث مبارکہ اسی آیت مبارکہ کی تفسیر ہے۔

اسے ہم کم از کم معیار اس لیے سمجھتے ہیں کیوں کہ اخوت کا اعلیٰ معیار تو وہ ہے جو انصارو مہاجرین نے مواخات کی شکل میں پیش کیا۔ نبی ﷺ کا ایک اور فرمان کانوں کے رونگھٹے کھڑے کردیتا ہے ،نبی ﷺ نے فرمایا جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے سے حسن سلوک کے بارے میں اتنی زیادہ نصیحت کی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ عنقریب ہمسائے کو وراثت میں حقدار بنادیا جائے گا۔(مسند احمد: رقم 24764)  ذرا تصور کیجیے کہ ہمارا اپنے ہمسایوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟ وراثت میں حقدار تو دور کی بات ہم انہیں وہ حقوق دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے کہ جو ایک انسان کی حیثیت سے انہیں حاصل ہیں۔ کیا اسی کانام اسلامی اخوت ہے؟ اب تو حال یہ ہے کہ لوگ اپنے سگے بھائیوں اور عزیز و اقارب  کی خیروعافیت معلوم کرنے سے بھی گئے چہ جائے کہ ان کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کریں بلکہ اپنے عزیزوں کے مال و دولت پر حسد کرنے کی بیماری عام ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ آمین

عدلِ اجتماعی

قرآن نے جو اسلامی معاشرہ تشکیل دیا اس کی بنیاد اخوت پر رکھی گئی تھی جیسا کہ سطورِ بالا میں بیان کیا گیا ہے۔انسان چونکہ خطا و نسیان کا پتلا ہونے کی وجہ سے کمزور واقع ہوا ہے اس لیے بعض اوقات اپنی حدود سے تجاوز کرکے دوسروں کے حقوق غصب کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ قرآن حکیم نے انسانوں کو حدِ اعتدال  میں رکھنے اور سب کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدلِ اجتماعی کا نظام بھی عطا فرمایا ہے۔رسول اکرم ﷺ نے ہجرت کے فوراً بعد میثاقِ مدینہ کی صورت میں دنیا  کاپہلا تحریری دستور تشکیل دیا اور عدلِ اجتماعی کا نظام قائم کیا جس کے رہنما اصول قرآن سے اخذ کیے۔عدلِ اجتماعی قرآنی انقلاب کا نقطۂ کمال ہے۔

قرآن حکیم نے نہ صرف فلسفۂ قانون عطا فرمایا بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں بنیادی قوانین بھی وضع کردئیے ہیں۔نکاح و طلاق، وراثت، تجارت، زراعت، طب، صنعت و حرفت، عدالت، شہادت(گواہی)، جنگ، بین الاقوامی روابط کے بارے میں تمام ضروری قوانین وضع کیے ہیں جن سےتمام  انسانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوجاتا ہے۔غرض کوئی شعبۂ حیات ایسا نہیں جس کے بارے میں قرآن نے اصول و قواعد وضع نہ کیے ہوں۔چناں چہ قرآنی انقلاب کا آخری مرحلہ عدلِ اجتماعی کا قیام ہے۔

عدلِ اجتماعی قرآن حکیم کا ایک مستقل مضمون ہے جس کے بارے میں قرآن کی متعدد آیات میں وضاحت کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ

الحدید:25

بے شک ہم نے رسولوں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر الہامی کتاب نازل کی تا کہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔

اپنی قوم کے ساتھ انصاف کرنے کی بات تو ہر قوم کرتی ہے مگر قرآن حکیم نے دشمن اقوام سے بھی انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

المائدہ:8

اے ایمان والو! اللہ کے دین کے گواہ بن کر انصاف پر قائم رہو۔کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدل سے اعراض کرنے پر آمادہ نہ کر پائے۔عدل کرو یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

عدل کا معاملہ بہت ہی عجیب ہوچکا ہے، عدالتیں عدل فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں، عدل میں تاخیر بھی عدل کی ضد ہے۔لوگوں کو عدل کے حصول کے لیے جو تے گھسانے پڑتے ہیں، اپنی جمع پونجی لٹانی پڑتی ہے، پیشہ ور وکیلوں کی منتیں کرنا پڑتی ہیں، بعض اوقات تو مقدمات کئی کئی پشتوں تک چلتے رہتے ہیں مگر عدل کی منزل سر نہیں ہوپاتی۔

سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔

 (مسند احمد: رقم 16014)

واضح رہے کہ عدلِ اجتماعی میں سیاست و حکومت کے معاملات بھی شامل ہیں۔ عادل حاکم کی احادیث میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے البتہ ظالم وجابرحاکم کی سزا بھی سخت ہوگی۔

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام اور حکمران ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے سے دشمن سے لڑاجاتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچاجاتا ہے، اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اورعدل سے کام لے تو اسے ان کاموں کا اجر ملے گا اور اگر اس کے سوا کسی دوسری بات کا حکم دے تو اسے اس کا گناہ ہوگا۔ (مسند احمد: رقم 10757)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے

روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔ (مسند احمد: رقم 9570)

سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے تھوڑے یا زیادہ افراد پر جس آدمی کو حکومت کرنے کا موقع ملے اور پھر وہ عدل سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا۔

(مسند احمد: رقم 20556)

آج ہم بھی قرآنی انقلاب کے مذکورہ بالا نبوی طریقِ کار کی پیروی کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں قرآنی نظام قائم کرسکتے ہیں، ضرورت صرف اخلاص اور پیہم جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی  وناصر ہو۔ آمین

ڈاؤن لوڈ پی ڈی ایف

 

  

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading