2024-07-17

 حاکمیتِ قرآن

از قلم ساجد محمود انصاری

بلاشبہ دین کا اصل مأخذ خاتم النبیین امام المرسلین احمد مصطفےٰ ﷺ ہیں جو اللہ کا دین امت تک پہنچانے کا اولین وسیلہ ہیں۔رسول اکرم ﷺ نے ہمیں دو قسم کی تعلیمات عطا فرمائی ہیں یعنی قرآن اور سنت۔ بے شک قرآن اور سنتِ متواترہ یقینی طور پر وحی الہٰی کی کی دو قسمیں ہیں، تاہم قرآن اور سنت میں دونوں قسم کی وحی کو ایک ہی درجہ پر نہیں رکھا گیا بلکہ قرآن کو کئی اعتبار سےسنت پر فوقیت دی گئی ہے۔

قرآن نے  خود کو  وحی متلو (تلاوت کی جانے والی وحی)  کے طور پر متعارف کرایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے؛

 لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ

آل عمران:164

بے شک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا جو انہی میں سے ہے ۔ وہ ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اورانہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناکھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

اس آیتِ مبارکہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اللہ کی آیات (قرآن) کی تلاوت کرتے ہیں،  سب جانتے ہیں کہ نبی ﷺ قرآن کے سوا کسی شئے کی تلاوت نہیں فرماتے تھے، پس قرآن وحی متلو ہے جسے وحی جلی بھی کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ پر قرآن کے معانی اور الفاظ دونوں منجانب اللہ نازل ہوتے تھے یہی سبب ہے کہ نبی ﷺ قرآنی وحی کو باقاعدہ اہتمام کے ساتھ صحائف کی شکل میں لکھوا کر محفوظ فرماتے تھے۔ اس کے برعکس جو وحی غیر متلو نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوتی تھی ، اس کے صرف معانی نازل ہوتے تھے ، جنہیں نبی اکرم ﷺ اپنے الفاظ میں بیان فرمادیتے تھے۔ وحی غیر متلو کو وحی خفی بھی کہتے ہیں۔نبی ﷺ نے اس احتمال کے پیشِ نظر کہ کہیں قرآن میں ان کے اپنے الفاظ کو داخل نہ کردیا جائے ، ابتدا میں اپنے فرامین لکھنے سے ہی منع فرمادیا تھا۔

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ، مَنْ کتَبَ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ۔))

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے قرآن کے سواکچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔

مسند احمد: رقم  11101

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صر ف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلادیا، پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث زبانی بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاں تم یری طرف سے احادیث زبانی بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔

مسند احمد: رقم  11108

 باوجود اس کے کہ وحی متلو( قرآن ) اور وحی غیر متلو (سنت )  دونوں ہی کلام اللہ ہیں اور دونوں ہی  واجب الاتباع ہیں، مگر نبی ﷺ نے دونوں قسم کی وحی کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ نہیں کیا۔ قرآن کی حفاظت حفظ کے ساتھ ساتھ کتابت کے ذریعے بھی کرائی، مگر سنت کو صرف حافظے اور تعامل تک محدود کردیا۔

 سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا زید بن ثابت الانصاری اور سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان روایت کیا ہے:

نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ

مسند احمد: رقم 4157، 16859، 21923

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص کو پھلتا پھولتا رکھے جو ہماری حدیث سنے، اسے یاد رکھے اوراسے دوسروں تک پہنچا دے۔

یہی سبب ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سنت کو حافظے میں محفوظ کیا اوراسے  تابعین تک پہنچا دیا۔تابعین نے نرا حافظے پر انحصار کرنے کی بجائے احتیاطاً سنت کی کتابت کا بھی اہتمام فرمایا کیوں کہ قرآن کی جمع وتدوین کے بعد سنت کے قرآن میں داخل ہونے اور  دونوں قسم کی وحی کےخلط ملط ہونے کا امکان ختم ہوگیا تھا۔ جزاھم اللہ عنا خیرالجزا

رسول اکرم ﷺ کے مبارک  فرامین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قرآنی احکام اور سنت میں یک گونہ فرق کرتے تھے، حال آن کہ ان کے لیے قرآن اور سنت ِ مستفاضہ دونوں ہی قطعی تھیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَیَنْزِلُ فِیْہِ قُرْآنٌ۔)))

سیدنا عبد اللہ بن عباس  علیہما السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیاگیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔

مسند احمد: رقم 2125

عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیَّ۔))

سیدنا واثلہ بن اسقع  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔

مسند احمد: رقم  16103

رسول اکرم ﷺ نزول قرآن سے پہلے بھی مسواک کیا کرتے تھے، مگر پھر سیدنا جبریل علیہ السلام  کے ذریعے آپ ﷺ کو مسواک کی تاکید کردی گئی جس کے سبب آپ کثرت سے مسواک کرنے لگے۔

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ (مسواک کی کثرت سے) منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔

مسند احمد: رقم  22625

لیکن اس وحی خفی کے باوجود مسواک کو ایسا فرض نہیں سمجھا گیا کہ جسے سر انجام دینا ہر شخص پر لازم ہو۔ البتہ نبی ﷺ کو اس قدر تاکید سے گمان ہونے لگا کہ شاید اسے وحی جلی یعنی  قرآن کے ذریعے فرض ہی کردیا جائے گا۔ یہاں صاف معلوم ہورہا ہے کہ نبی ﷺ نے وحی جلی اور وحی خفی کے حکم میں فرق ملحوظ رکھا ہے۔ حکم  اور درجے کے اعتبار سے دونوں کو یکساں قرار نہیں دیا۔ وحی جلی اور وحی خفی کے درجۂ فضیلت میں فرق کے تو تقریباً سبھی علما قائل ہیں۔ البتہ ان میں بیان کئے گئے احکام کی شدت میں بھی اکثر علما فرق کرتے ہیں۔ اکثر علما کے نزدیک قرآنی حکم سنت  سے ثابت شدہ حکم سے زیادہ  وزنی ہے۔ اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:

قرآن حکیم اول تا آخر قطعی الثبوت ہے، اس کی کسی ایک آیت تو کیا ایک لفظ کے بارے میں بھی یہ شبہہ لاحق نہیں ہوتا کہ یہ واقعتاً کلام اللہ ہے یا نہیں۔ دوسری طرف سنت کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے براہِ راست نبی ﷺ سے کسبِ فیض کیا ہے مگر اس کے باوجود سنتِ رسول ﷺ کے بعض اجزا کی نبی ﷺ کی طرف نسبت میں ان کے ہاں بھی اختلاف پایا جاتا تھا۔ سنت سے ثابت شدہ اکثر احکام سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں معروف تھے، مگر بعض روایات ایسی بھی تھیں جو چند ایک صحابہ کرام ؓ تک محدود رہی تھیں اور سب صحابہ میں شائع نہیں ہوسکی تھیں۔

درج ذیل واقعہ سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:

سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت  رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کو اپنی رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ ان کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتویٰ دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی علیہ السلام  اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علی علیہ السلام نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ  کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔

مسند احمد: رقم 21413

ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح ایک حدیثِ رسول ﷺ صرف چند صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے علم میں آسکی جبکہ باقی صحابہ ؓ اس حدیث سے بے خبر رہے۔ اگرچہ اس حدیث کا تعلق ازدواجی زندگی اور خانگی معاملات سے ہونے کی وجہ سے زیادہ گفتگو میں نہ آسکی اور نبی ﷺکی زندگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مشہور نہ ہوسکی،  لیکن معاملہ صرف اس ایک حدیث کا نہیں ہے۔ کتبِ حدیث میں ایسی سینکڑوں احادیث ہیں جو فرداً فرداً صرف ایک یا دو صحابہؓ سے ہی مروی ہیں۔انہیں محدثین کی اصطلاح میں اخبار احاد کہا جاتا ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے دین کا ضروری حصہ قرآن اور سنتِ متواترہ میں موجود ہے۔ سنتِ متواترہ سے ہماری مراد وہ احادیث ہیں جو عام طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مشہور تھیں، جنہیں محدثین کی اصطلاح میں مشہورومستفاض احادیث کہا جاتا ہے۔ہمارے نزدیک سنتِ متواترہ کے لیے ہر طبقہ میں چار یا اس سے زائد عادل راوی ہونا   شرط نہیں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اخبارِ احاد کا درجہ سنتِ متواترہ کے برابر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اخبار احاد سے ثابت ہونے والے احکام سنتِ متواترہ سے ثابت شدہ احکام کی برابری نہیں کرسکتے۔یاد رہے کہ اخبارِ احاد حدیثِ صحیح کی قسم ہے، ان میں ضعیف اور موضوع روایات شامل نہیں ہیں۔اسی طرح اہلِ بیتِ رسول ﷺ نے جس اہتمام کے ساتھ دین سیکھا ہے اور سکھایا ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ ان کے واسطے سے ملنے والی احادیث کودوسرے صحابہ ؓ کی روایات پر ترجیح دی جائے۔

 اخبارِ احاد کو مشہورو مستفاض احادیث کے مساوی مقام نہ دینے کے کئی اسباب ہیں، جن میں بنیادی سبب یہ ہے کہ اخبارِ احاد کی اسناد میں وہ قوت نہیں ہے جو مشہورومستفاض احادیث کی اسناد میں پائی جاتی ہے، دوسرا سبب یہ ہے کہ مشہورومستفاض احادیث کے متون عام طور پر  خطا و شذوذ سےمحفوظ ہیں، جبکہ اخبار احاد میں خطا و شذوذ کا تناسب بہت زیادہ ہے۔تیسرا سبب یہ ہے کہ مشہورومستفاض احادیث  کے متون عام طور پر حدیث کے قدیم ترین مجموعوں سے نقل ہوتے آئے ہیں، جیسے مصنف عبدالرزاق اور مسند امام احمد جبکہ  بہت سی اخبار احاد  کا قدیم  کتبِ حدیث میں سراغ نہیں ملتا۔چوتھا سبب یہ ہے کہ اخبارِ احاد میں روایت بالمعنی کا غلبہ ہے، جبکہ مشہورومستفاض احادیث میں عام طور پر روایت باللفظ کا رجحان غالب ہے۔

مُطَرِّف بن عبد اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی ٔ کریم ﷺ کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ٔ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ میں سے بعض لوگ میری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اُس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔ بسا اوقات سیدنا عمران ؓ یوں کہتے تھے: اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا، اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: میں نے اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔

مسند احمد: رقم  20124

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا ہے کہ اکثر صحابہ کرام ؓ جن سے انہوں نے احادیث سنی ہیں وہ روایت باللفظ کا اہتمام نہیں کرپاتے۔اگرچہ یہ کوئی ایساعیب نہیں کہ جس کی بنیاد پر کوئی روایت رد کی جاسکے، تاہم ایسی روایات کو مشہورومستفاض احادیث کے مقابلے میں لاکھڑا کرنا غیر مناسب ہے۔نیز یہ اخبار احاد اس لائق نہیں کہ ان سے وجوب ثابت کیا جاسکے۔جب یہ روایات مشہورومستفاض روایات کا مقابلہ کرنے کی اہل نہیں تو انکی بنیاد پر قرآن پر کیسے حکم لگایا جاسکتا ہے؟ یقیناً قرآن حکیم سنت رسول ﷺ سمیت تمام دلائل شرعیہ پر حاکم ہے، جسے کسی طرح بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

امام ابو الخطاب الحنبلیؒ متقدمین حنابلہ کے چوٹی کے علما میں سے ہیں۔وہ اپنی کتاب التمھید  فی اصول الفقہ(جلد 3، صفحہ 78، مطبوع جامعہ ام القریٰ ) میں رقمطراز ہیں:

خبر الواحد لا يقتضي العلم، قال في رواية الأثرم: إذا جاء الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم بإسناد صحيح فيه حكم، أو فرض عملت به، ودنت الله تعالى به، ولا أشهد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ذلك، فقد نص على أنه لا يقطع به، وبه قال جمهور العلماء.

ترجمہ:خبرِ واحد سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا، امام احمد بن حنبل ؒ نے امام ابوبکر الاثرم ؒ کی روایت میں فرمایا کہ جب نبی ﷺ کی نسبت سے کوئی صحیح حدیث (خبرِ واحد)  میرے پاس پہنچتی ہے، جس میں کوئی حکم یا فرض کا ذکر ہوتا ہے تو میں اس پر عمل کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے ذریعے ثواب کا امیدوار رہتا ہوں، تاہم میں اس کے بارے میں یہ گواہی نہیں دیتا کہ واقعی  یہ نبی ﷺ کا ہی فرمان ہے۔  پس امام احمدؒ کی نص سے ثابت ہوگیا کہ خبر واحد سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا۔یہی جمہور علمائے اسلام کی رائے ہے۔

تاہم اخبارِ احاد سے ظنی علم ضرور حاصل ہوتا ہے جو قیاس یا خودرائی سے بہتر ہے۔اسی لیے امام احمدؒ  قطعیت کا دعویٰ کیے بغیر اخبار احاد پر عمل کرتے تھے اور ثواب کی امید رکھتے تھے۔ ہم بھی اخبارِ احاد کو بالعموم  استحباب یا اباحت یا کراہت  پر محمول کرتے ہیں، مگر ان سے وجوب اخذ نہیں   کرتے، رہیں ضعیف احادیث تو انہیں اعتبارو استشہاد کے لیے تو پیش کیا جاسکتا ہے مگر وہ بجائے  خود کسی شرعی حکم کا مأخذ نہیں بن سکتیں۔ یہ جو مشہور ہے کہ امام احمدؒ ضعیف حدیث کو فضائل میں قبول کرتے تھے تو یہاں ضعیف سے مراد متقدمین کی اصطلاح میں ضعیف ہے جسے متأخرین کی اصطلاح میں حسن کہا جاتا ہے۔ 

ڈاؤن لوڈ     پی ڈی ایف

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading