2024-07-17

آیتِ تطہیر کا مصداق کون ہے؟

 آیتِ تطہیر کا مصداق کون ہے؟

از قلم ساجد محمود انصاری

اہلِ بیتِ عظام علیہم الصلوات والسلام  کے فضائل مناقب قرآن و سنت میں کثرت سے وارد ہوئے ہیں، جن میں سے ایک اہم اور بنیادی فضیلت سورہ الاحزاب میں یوں بیان کی گئی ہے:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ

الااحزاب: 33

اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت تم سے (گناہوں کی)  ناپاکی دور کرکے تمہیں خوب پاک صاف کردے، جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہے۔

یہ آیت  مبارکہ قرنِ اول سے علما ئے اسلام کے مابین موضوعِ بحث رہی ہے، اور اس کے لطائف و معارف پر مستقل کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔  اس آیت مبارکہ کی بہترین تشریح خود رسول اکرم ﷺ نے فرمادی ہے۔

سیدہ ام سلمہ ‌علیہا السلام سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ ‌علیہا السلام ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خزیرہ تھا، جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین علیھم السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خزیرہ کھانے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دکان نما جگہ پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ ‌‌علیہا السلام کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری:

{إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا}… اللہ تعالیٰ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب  پاک کر دے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور میرے خاص (خونی  رشتہ دار) ہیں، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔: اے میرے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور میرے خاص (خونی  رشتہ دار) ہیں، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں پاک کردے ۔ اتنے میں ام سلمہ علیہا السلام نے جو کمرہ سے باہر تھی نے اس چادر کے اندر سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ شامل ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔[1]

سیدہ عائشہ علیہا السلام بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت ایک اونی

منقش چادر اوڑھے ہوئے 

تشریف لائے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا حسن

 بن علی علیہما السلام آئے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل کر لیا پھر سیدنا حسین علیہ السلام آئے تو انھیں بھی چادر میں داخل کرلیا. پھر سیدہ فاطمہ علیہا السلام تشریف لائیں تو انہیں بھی چادر میں داخل کرلیا, پھر سیدنا علی علیہ السلام تشریف لائے انھیں بھی اس میں داخل کرلیا اور اس کے بعد قرآن کی آیت تلاوت فرمائی

إِنَّمَا يُرِيدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَکُمْ تَطْهِيرًا [2]

 ابو عمار شداد کہتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، ان کے ہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے، انہوں نے سیدنا علی ‌علیہ السلام کا ذکر چھیڑا دیا۔جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو سیدنا واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک چشم دید واقعہ بیان نہ کر دوں؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بیان فرمائیں۔ انہوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ ‌علیہا السلام کے ہاں گیا اور ان سے سیدنا علی ‌ علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے ہوئے ہیں، میں ان کی انتظار میں بیٹھ گیا، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے۔آپ نے سیدنا حسن ‌ علیہ السلام اور سیدنا حسین ‌ علیہ السلام دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر چلے آئے اور آپ نے سیدنا علی ‌ علیہ السلام اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور سیدنا حسن ‌ علیہ السلام اور سیدنا حسین ‌ علیہ السلام  دونوں کو اپنی ران پر بٹھا لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چادر یا اپنا کپڑا ان سب کے اوپر ڈال دیا۔پھر یہ آیت تلاوت کی:{إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} اللہ تعالیٰ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب  پاک کر دے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہے۔ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! یہ میرے(خاص)  اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت اس سعادت کے زیادہ حق دار ہیں۔[3]

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چھ ماہ تک یہ معمول رہا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازفجر کے وقت سیدہ فاطمہ ‌سلام اللہ علیہا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: اے اہل بیت! نماز ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب  پاک کر دے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہے۔[4]

قارئین کرام! ملاحظہ فرمایا کہ آیتِ تطہیر(33:33) کی تشریح و تفسیر خود رسول اکرم ﷺ نے اپنے قول و فعل سے فرمادی ہے۔بے شک امہات المؤمنین ازواجِ رسول سلام اللہ علیہن بھی اہلِ بیت رسول میں شامل ہیں، تاہم رسول اکرم ﷺ نے وضاحت فرمادی ہے امام علی ، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن، سیدنا حسین  علیھم الصلوات والسلام آپ ﷺ کے خاص اہلِ بیت ہیں، جنہیں دوسرے تمام اہلِ بیت پر خصوصی امتیاز حاصل ہے۔ بہر کیف ہمارے نزدیک آیتِ تطہیر (30:30) میں اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات اور اہلِ کسا ہیں۔ واللہ اعلم

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے فرمایا کہ آیتِ تطہیر میں  رجس (ناپاکی) سے مراد ہر ہر وہ  کام ہے جس پر اللہ کی رضا شامل نہ ہو۔[5]

تمام انصاف پسند علما کا اتفاق ہے کہ سورۃ الاحزاب (33:33) میں وارد آیتِ تطہیر کی بشارت و فضیلت اہلِ بیتِ اطہار علیہم الصلوات والسلام کے ساتھ مخصوص ہے، اس میں دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک نہیں ہیں۔تاہم جن لوگوں سے اہلِ بیتِ عظام علیہم الصلوات والسلام کے فضائل ہضم نہیں ہوتے، انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آیتِ تطہیر کی فضیلت اہلِ بیتِ عظام علیہم الصلوات والسلام کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام صحابہ اس بشارت میں داخل ہیں اور اس کے لیے وہ سورۃ الانفال کی درج ذیل آیت سے استدلال کرتے ہیں۔

إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِّيُطَهِّرَكُم بِهِ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ

الانفال:11

ترجمہ: 

اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری

 کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی

 ڈالی ہوئی گھبراہٹ دُور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعہ سے تمہارے قدم

 جما دے۔

اللہ تعالیٰ نے میدانِ بدر میں بارش کو خاص رحمت بناکر نازل فرمایا، یوں تو بارش عام طور پر باعثِ رحمت ہی ہوتی ہے مگر میدانِ بدر میں بارش کے نزول نے جس طرح میدان کو اہلِ اسلام کے لیے ہموار کیا ، اسے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے  اپنے نبی ﷺ کومشرکین کے خلاف فتح مند کرنے کے لیے فرشتوں کی شکل میں باطنی مدد عطا فرمائی وہیں انسانی نفسیات کے تقاضوں کےپیشِ نظر ظاہری اسباب بھی  پیدا فرمائے تاکہ اپنے سے تین گنا زیادہ اور کیل کانٹوں سے لیس دشمن کو دیکھ کر جو ایک فطری مرعوبیت اہلِ اسلام کے دلوں میں پیدا ہوگئی تھی، اس کا ازالہ ہوجائے اور مسلمانوں کے قدم میدانِ جنگ میں جمے رہیں۔

چنانچہ امام ابومحمد حسین بن مسعود البغوی الشافعی ؒ (433-516 ھ) اپنی مشہورِ زمانہ تفسیر معالم التنزیل میں سورۃ الانفال کی آیت 11 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

(وينزل عليكم من السماء ماء ليطهركم به ) وذلك أن المسلمين نزلوا يوم بدر على كثيب أعفر ، تسوخ فيه الأقدام وحوافر الدواب ، وسبقهم المشركون إلى ماء بدر وأصبح المسلمون بعضهم محدثين وبعضهم مجنبين ، وأصابهم الظمأ ، ووسوس إليهم الشيطان ، وقال : تزعمون أنكم على الحق وفيكم نبي الله وأنكم أولياء الله وقد غلبكم المشركون على الماء وأنتم تصلون محدثين ومجنبين ، فكيف ترجون أن تظهروا عليهم؟ فأرسل الله – عز وجل – عليهم مطرا سال منه الوادي فشرب المؤمنون واغتسلوا ، وتوضأوا وسقوا الركاب ، وملئوا الأسقية ، وأطفأ الغبار ، ولبد الأرض حتى ثبتت عليها الأقدام ، وزالت عنهم وسوسة الشيطان ، وطابت أنفسهم ، فذلك قوله تعالى : ” وينزل عليكم من السماء ماء ليطهركم به ” من الأحداث والجنابة [6] .

اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا سبب یہ ہے کہ جنگِ بدر کے روز اہلِ اسلام نرم ریت کے ٹیلے پر فروکش ہوئے، جس کی وجہ سے ان کے قدم اور سواری کے جانوروں کے کھر یا سم ریت میں دھنسے جاتے تھے، ادھر مشرین نے بدر کے کنووں پر قبضہ کرلیا تھا،  جبکہ مسلمانوں نے حدثِ اصغر یا حدثِ اکبر کی حالت میں صبح کی اور پیاس ان پر غالب آگئی، اس حال میں شیطان نے ان کے جی میں وسوسہ ڈالا کہ تمہیں یہ زعم ہے کہ تم حق پر ہو، اور تمہارے بیچ اللہ کے نبی ﷺ موجود ہیں اور تم اللہ کے ولی ہو، مگر مشرکین کو پانی پر غلبہ مل گیا ہے  جبکہ تم حدث اصغر یا حدثِ اکبر کی حالت میں نماز پڑھنے سے بھی روک دئیے گئے ہو، ایسے میں تم مشرکین پر غالب آنے کی امید کیسے لگائے بیٹھے ہو؟ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش نازل فرمائی، جس سے وادیاں بہہ پڑیں، یوں اہلِ ایمان نے خود بھی پانی پیا، غسل کیا،بعض نے وضو کیا، جانوروں کو پانی پلایا، غبار بیٹھ گیا، زمین اتنی سخت ہوگئی کہ اس پر قدم جم سکیں اور اس طرح ان سے مذکورہ شیطانی وسوسہ بھی جاتا رہا اور ان کے  دلوں کو اطمینان نصیب ہوا۔پس یہی مفہوم ہے اس ارشادِ ربانی کا

وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِّيُطَهِّرَكُم بِه

یعنی احداث اور جنابت سے پاک کیا۔

امام بغوی ؒ نے تفسیر ابن جریر طبری ؒ میں وارد اس آیت کی تفسیر کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے، تفصیل کے خواہاں تفسیر ابن جریرؒ کی طرف مراجعت فرمائیں۔

 آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ سورۃ الانفال کی اس آیت مبارکہ سےتمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آیتِ تطہیر کا مصداق  ہونا ثابت نہیں ہوتا،  بلکہ یہاں ظاہری بدنی طہارت مراد ہے، جس کا ذریعہ  بارش کا پانی بنا۔نیز یہ آیت غزوہ بدر کے بارے میں ہے جس سے زیادہ سے زیادہ بدری صحابہ کرام کی فضٰلت ثابت ہوتی ہے ، تاہم تمام کباروصغار صحابہ اس آیت کی بشارت میں بھی شامل نہیں۔ لہٰذا آیتِ تطہیر (33:33)کی فضیلت کو اہلِ بیت عظام کا امتیاز و اعزاز تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔

ہاں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تقویٰ و تدین اور اخلاص  وللہیت پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے، بلکہ اس کا اثبات کرتے ہیں، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کے محبوب صحابہ رضی اللہ عنہم کے تقویٰ و تدین کی گواہی دی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ

الحجرات:7

خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں

 تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہو جاؤ مگر اللہ نے ایمان خالص کے لیے 

تمہارے دل میں محبت ڈال دی، اورتمہارے دلوں کو اس ے زینت بخشی، اور کفر و فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا

۔یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

اس آیتِ کریمہ میں پچھلی آیت سے ہی خطاب نبی ﷺ کا زمانہ پانے والے مؤمنین سے ہے،،

 ظاہر ہے کہ اس میں اہلِ بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب شامل ہیں۔تاہم یہ فضیلت

 نبی آخرالزمان ﷺ کی صحبت پانے والے تمام مؤمنین کے لیے عام ہے، یہ کسی خاص گروہ

 کے ساتھ مخصوص نہیں۔

 



 مسند احمد: رقم 27041،جامع الترمذی: رقم 3787،  المعجم الکبیر للطبرانی: رقم 2668[1]

  صحیح مسلم: رقم 2424[2]

 مسند احمد: رقم 17113، مسند ابو یعلیٰ: رقم 7486، صحیح ابن حبان: رقم 6976[3]

  مسند احمد: رقم 13764/14040، جامع الترمذی: رقم 3206[4]

 [5]

 https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/baghawy/sura8-aya11.html#baghawy [6]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading