2024-07-17
کربلا

واقعہ کربلا میں یزید ملعون کا مکروہ کردار

از قلم ساجد محمود انصاری

یزید ملعون کے کالے کرتوت اتنے گھناؤنے ہیں کہ انہیں لکھتے ہوئے قلم بھی کانپ رہا ہے اور آنکھیں ہیں کہ بھیگی جاتی ہیں۔ یوں تو اس کے کرتوتوں کی فہرست بہت طویل ہے مگر ہم سر دست  صرف تین کرتوت نمایاں کریں گے۔

۱۔ کربلا میں اہل بیت اطہار  علیہم الصلوات والسلام کا قتل عام

۲۔ مدینہ منورہ میں قتل و غارت

۳۔ مکہ مکرمہ پر فوج کشی

کربلا میں اہل بیت  علیہم الصلوات والسلام کا قتل عام

دشت کربلا میں اہلِ بیت علیہم السلام  کا قتل عام یزید کا وہ بدترین جرم ہے جو آج بھی زبان زدِعام ہے۔ ہمارا مقصود واقعہ کربلا بیان کرنا نہیں بلکہ اس ہولناک سانحے میں یزید کا کردار واضح کرنا ہے۔ جب امام حسین علیہ السلام نے  سیدنا مسلم بن عقیل علیہ السلام کو کوفہ میں حالات کی چھان بین کے لیے بھیجا تو کوفی شیعان علی (علیہ السلام)  مسلم بن عقیل  علیہ السلام کے ہاتھ پر امام حسین علیہ السلام کی جوق در جوق بیعت کرنے لگے۔ یزید کے جاسوسوں نے یہ خبر یزید تک پہنچادی، خبر سنتے ہی یزید کے کان کھڑے ہوگئے۔ اسے خدشہ لاحق ہوا کہ اس طرح تولوگ امام حسین علیہ السلام کو خلیفہ بنالیں گے اور اس کا اقتدار کا خواب دھرے کا دھرا رہ جائے گا، چناں چہ اس نےاپنے والد امیر معاویہ بن ابو سفیان  رضی اللہ عنہ کے الحاقی بھائی کے بیٹے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا والی بناکر بھیج دیا جو کہ ایک سنگدل ناصبی تھا اور اس وقت والیٔ بصرہ کے طور پر خدمت سر انجام دے رہا تھا۔ ابن زیاد آل محمد صلوات اللہ علیھم کا جانی دشمن تھا، یہی اس کے انتخاب کا اصل سبب تھا۔ یزید نے ابن زیاد کو اسی لیے چنا تھا تاکہ وہ آل محمد علیہم السلام کے سرخیل امام حسین علیہ السلام کی حمایت کی تحریک کو سختی سے کچل دے یہاں تک کہ یزید نے ابن زیاد کو لکھا کہ امام حسین  علیہ السلام کو غلام بنا کر میری خدمت میں پیش کرو۔[1]چنانچہ سب سے پہلے اس نے سفیرِ ِحسین مسلم بن عقیل علیہ السلام  کو بے دردی سے شہید کیا پھر اہل کوفہ کو ڈرایا دھمکایا۔ چونکہ ابن زیاد سخت خونخوار، سنگدل اور ظالم شخص تھا اس لیے لوگ اس سے خوفزدہ ہوگئے۔ جب امام حسین علیہ السلام کوفہ کے قریب پہنچے تو ابن زیاد کی فوج نے آپکو اور آپکے ساتھیوں کو دشتِ کربلا میں فرات کے کنارے روک لیا اور وحشیانہ طریقے سے شہید کردیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

ابن زیاد کی فوج نے شہداء کے سر کاٹ کر نیزوں پر چڑھا دیے اور ابن زیاد کی خدمت میں پیش کردیے۔ ابن زیاد نے امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کی بھی بے حرمتی کی، اسے کوفہ کی مسجد میں نصب کیا گیا تاکہ لوگ ابن زیاد کے ہتھکنڈوں سے خوف کھائیں۔ بعدمیں یہ سر بطور تحفہ شام میں یزید ملعون کو بھیج دیا۔ ساتھ ہی اہل بیت خواتین اور امام زین العابدین علی بن حسین علیہ السلام (بیمار کربلا) کو قیدی بنا کر یزید کے پاس بھیج دیا۔  یزید ملعون اول تو اہل بیت بالخصوص امام حسین علیہ السلام کی شھادت کی خبر سن کر بہت خوش ہوا اور اس فرط انبساط میں اس نے بھی امام کے سر مبارک کی بے حرمتی کی، حقارت و تکبر سے آپکے مسکراتے چہرے پر چھڑی ماری[2]۔ جب اسے احساس ہوا کہ آل محمد صلوات اللہ علیھم کی شہادت سے ملک میں کہرام مچ جائے گا اور اس کے خلاف سخت نفرت کی آندھی چل پڑے گی تو اس نے غمزدہ ہونے کا ناٹک شروع کردیا۔ اگر اسے اہل بیت کی شہادت پر واقعی دکھ ہوتا توولد الزنا ابن زیاد ملعون کو اتنے بڑے جرم کی پاداش میں قرار واقعی سزا دیتا۔ مگر سزا تو کیا دینا تھی یوں اس ‘کارنامے’ کا انعام دیا کہ اسے بصرہ و کوفہ دونوں صوبوں کا والی بنادیا۔ الکامل فی التاریخ (امام ابن الاثیر ؒ )  میں ابن زیاد کے اھل بیت کے ساتھ مکالمے منقول ہیں۔ اس کے بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ متشدد ناصبی تھا۔ سب کا اتفاق ہے کہ وہ اہل بیت کا سخت دشمن تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر یزید نے ایک غالی ناصبی کو  کوفہ کا والی کیوں بنایا؟ صرف اس لیے کہ وہ آل محمد صلوات اللہ علیھم کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے، جو اس بد نصیب نے کردکھایا۔ یہی یزید کی خواہش تھی کہ اس کے راستے کا کانٹا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جائے۔ لعنۃ اللہ علیہ و محبانہ

ناصبی گروہ جو یزید سے محبت رکھتے ہیں یہ واویلا کرتے نہیں تھکتے کہ یزید نے اہل بیت کے قتلِ عام کا حکم نہیں دیا تھا، لہذا وہ بے قصور ہے۔ ناصبی یہ بھول جاتے ہیں کہ ناصبی ابن زیاد کا انتخاب ہی یہ ثابت کرنے کی کافی دلیل ہے کہ یزید کیا چاہتا تھا۔ اس نے 

ابن زیاد کو کوفہ کے سیاہ و سفید کا مالک کیوں بنایا تھا؟ تاکہ وہ کھل کر اہل بیت کا شکار کرسکے۔

یزید کے پجاری بتائیں کہ اگر قاتل یزید نہیں تو ابن زیاد

 قتلِ سادات کا انعام لینے امام حسین علیہ السلام کا

 سر مبارک

دمشق کیوں لے گیا تھا؟

یزید نے کئی ماہ تک اسیرانِ کربلا کو پابندِ سلاسل رکھا۔

اس دوران عقیلہ بنی ہاشم سیدہ زینب بنتِ علی علیہا السلام  نے آلِ محمد علیہم

 الصلوات والسلام پر ہونے والے مظالم کی داستان اہلِ شام کو ازبر کرادی۔ رہائی کے بعد اہلِ بیت کا قافلہ مدینہ پہنچا۔  یہاں امام علی علیہ السلام کے خانوادہ کی شہادت کی خبر تو پہلے ہی پہنچ چکی تھی  مظلومانِ کربلا  کی زبانی ان پر ہونے والے مظالم کی داستان سن کر مدینہ میں کہرام مچ گیا۔  سانحہ کربلا کے یہی عینی شاہدین تھے جن کی زبانی اس سانحے کی تفصیلات لوگوں کو معلوم ہوئیں ۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا کہ جو لوگوں کی یاد داشت سے آسانی سے محو ہوجاتا۔عراق ،شام اور حجاز کے تابعین نے اپنے کانوں سے یہ سب احوال  آلِ محمد علیہم الصلوات کی پاک زبانوں سےسنے تھے۔انہی  تابعین نے یہ سب احوال آگے نقل کیے ہیں۔  اس لیے یہ دعویٰ کرنا کہ واقعہ کربلا ایک خانہ ساز داستان ہے پرلے درجے کی جہالت ہے جو ناصبیوں کے سوا کسی سے متوقع نہیں۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید ملعون کے محل کو مجازً مقتلِ حسین کہہ کر یزید ملعون کو شہدتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا ذمہ  دار قرار دیا ہے، صحیح البخاری میں امام زین العابدین کے یہ الفاظ منقول ہیں:

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِى أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ كَثِيرٍ حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِىِّ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِىٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ

صحیح البخاری: رقم 3110


ابنِ شہاب زہری ؒ بیان کرتے ہیں کہ ان سے امام علی بن حسین زین العابدین علیہما السلام نے فرمایا کہ جب وہ اور ان کے ساتھی یزید بن معاویہ  کے ہاں یعنی مقتلِ حسین بن علی علیہما لسلام سے مدینہ واپس تشریف لے آئے۔

آل زبیر بن العوّام  رضی اللہ عنہ کے گل سرسبد  مؤرّخ و نُسّاب   ابو عبداللہ مصعب بن عبداللہ الزبیری  رحمۃ اللہ علیہ ( ۱۵۶۔۲۳۶

 ھ)  دوسری صدی ہجری کے عظیم مؤرخ تھے۔ یہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ کے شاگرد  اورامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب نسبِ قریش میں علمِ حدیث کے معتبرو ثقہ  امام محمد بن مسلم ابن شہاب الزہری  رحمہ اللہ کی روایات جمع کی ہیں۔ امام زہری ؒ  اما م حسین بن علی علیہما السلام کی کربلا میں شہادت کا  تذکرہ کرتے ہوئے آپ کے قاتل کا نام تک بتاتے ہیں۔ اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ آپ کا سرِ مبارک تن سے جدا کرکے عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو اس خبیث نے آپکے قتل پر فخر و انبساط کا اظہار کیا۔ [3]

امام زہری ؒ امام  عباس بن علی علیہما السلام کی کربلا میں  شہادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام کو پیاس لگی تو آپکے  بھائی سیدنا عباس بن علی علیہما لسلام نے آپ کو پانی پیش کیا۔ اسی طرح امام زہری ؒ نے بنو ہاشم میں سے جو سادات  علیہم الصلوات والسلام کربلا میں شہید ہوئے ان کی شہادت کا بھی اجمالا ًتذکرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ  جب امام علی اکبر علیہ السلام شہید ہوئے تو امام حسین علیہ السلام نے شدتِ صدمہ سے فرمایا کہ بیٹا تیرے بعد دنیا بے کار ہے۔[4]

امام زہری ؒ نے امام علی اصغر بن حسین علیہما السلام کے بارے میں صراحت کی ہے کہ سانحہ کربلا کے وقت آپ کی عمرتقریبا ً تئیس  (۲۳) سال تھی ،  آپ اپنے والد محترم کے ساتھ کربلا میں  ہی تھے مگر شدتِ مرض کے باعث جنگ میں حصہ نہ لے سکے۔آپ کو جب عبیداللہ بن زیاد  ملعون کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے آپ سے ہتک آمیز سلوک کیا اور آپ کے قتل کا حکم دیا۔ تب سیدہ زینب بنتِ علی علیہما السلام آڑے آئیں اور فرمایا کہ ا ن (علی اصغر) کو قتل کرنے سے پہلے مجھے قتل کرو۔ تب ابن زیاد انہیں قتل کرنے سے باز آیا۔[5]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عبداللہ بن زیاد کے پاس امام حسین علیہ السلام کا سر لایا گیا کہ تو وہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے ان کے ناک  پرمارنے لگا تب میں نے اس سے کہا یہ چہرہ  رسول اکرم ﷺ کے مبارک چہرے  سے سب سے زیادہ ملتا ہے۔[6]

ہمارا مقصود یہاں واقعہ کربلا کی تفصیلات بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ ان چند روایات سے یہ واضح کرنا  مقصودہے کہ واقعہ کربلا کے صدیوں بعد بھی لوگوں کو اس سانحے کی تفصیلات ایسے ازبر تھیں جیسے یہ واقعہ ان کے سامنے پیش آیا ہو۔ایساکیسے ممکن تھا کہ ان کے محبوب نبی ﷺ کا خاندان لُٹ گیا اور وہ اسے یونہی آسانی سے فراموش کردیتے۔

مگر ناصبی کہتے ہیں کہ ابو مخنف لوط بن یحیٰ  کذاب کے سوا کوئی کربلا کے احوال بیان کرنے والا نہیں تھا۔ ارے ظالمو! اہلِ بیت رسول  علیہم الصلوات والسلام جو اپنی بپتا بیان کرتے رہے کیا وہ لوگوں نے سب فراموش کردیا ہوگا؟ناصبی جتنا چاہے زور لگا لیں واقعہ کربلا کو اہلِ ایمان کے ذہنوں سے قیامت تک محو نہیں کرسکتے۔

مدینہ منورہ میں قتل و غارت

اھل بیت کے قتل عام کی وجہ سے مسلمانوں میں یزید کے خلاف نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ کوئی مؤمن کیسے گواراہ کرسکتا تھا کہ آلِ علی  علیہ السلام کا قاتل برسر اقتدار رہے۔ چناں چہ اکثر بلاد اسلامیہ کے باشندوں نے یزید کی زبردستی لی ہوئی بیعت توڑ دی اورشہر شہر اس کے خلاف علم بغاوت بلند ہونے لگے۔ سب سے پہلے مکہ و مدینہ کے مسلمانوں نے اس کی اطاعت کا طوق اپنی گردن سے اتار پھینکا ۔  مدینہ میں بنو امیہ کے مرکز کا محاصرہ کرلیا گیا۔ والی مدینہ نے یزید کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو یزید آگ بگولا ہوگیا اور اس نے ایک خونخوار جنگجو مسلم بن عقبہ ملعون کو ایک لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملے کے لیے روانہ کیا۔ رخصت سے پہلے یزید نے ابن عقبہ سے کہا کہ جب تم اہل مدینہ پر غلبہ پالو تو تین تک مدینہ تمہارے لیے حلال ھے۔ [7]

چنانچہ جب ابن عقبہ کی فوج نے اہل مدینہ پر غلبہ پالیا تو تین دن تک وہاں قتل و غارت اور لوٹ مار جاری رکھی۔ بلا مبالغہ سینکڑوں صحابہ و اھل بیت کو شھید کردیا۔ یہاں تک کہ بہت سی دوشیزاؤں کی عزت لوٹی گئی۔ کہتے ہیں کہ اس وقت اس قدر شدید فتنہ و فساد پھیلا کہ  تین دن تک مسجد نبوی میں اذان نہ ھوسکی۔

امام زہری فرماتے ہیں

و یزید الذی اوقع باہل المدینۃ، بعث الیہم مسلم بن عقبہ المُرّی، احد بنی مُرہ بن عوف بن سعد بن ذبیان، فاصابہم الحرۃ، بموضع یقال لہ واقم ،علی میل من مسجد رسول اللہ ، فقتل اہل المدینۃ بمقتل عظیمۃ، فسمی ذلک الیوم یوم الحَرّۃ، و انہب المدینۃ ثلاثۃ ایام ثم خرج یرید مکۃ [8]

یزید وہ (ملعون ) ہے جس نے اہلِ مدینہ پر ظلم کیا۔اسی ان کی طرف مسلم بن عقبہ المری کو بھیجا جو بنو مرہ بن عوف بن سعد بن ذبیان کا ایک فرد تھا۔پس اس (مسلم بن عقبہ) نے الحرۃ  کے ایک موضع واقم میں پڑاؤ ڈالا، جو کہ مسجد نبوی ﷺ سے صرف ایک میل کے فاصلے پر تھا۔پھر اس نے اہلِ مدینہ کا بہیمانہ قتل عام کیا۔ اس واقعہ کو واقعہ حرہ کہا جاتا ہے۔ پس اس نے تین دن تک مدینہ میں لوٹ مار کی، پھر مکہ کی طرف چل دیا۔

امام ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں فرماتے ہیں:

ثم اباح مسلم بن عقبۃ ، یقول فیہ السلف: مُسرِف بن عقبۃ، قبحہ اللہ، المدینۃ ثلاثۃ ایام کما امرہ یزید ، لا جزاہ اللہ خیرا، و قتل خلقا من اشرافھا و قراءھا، وانتھب اموالا کثیرۃ منھا، و وقع شرٌ عظیم و فساد عریض۔ [9]

“پھر مسلم بن عقبہ (اللہ اس کا انجام برا کرے) ، جسے سلف مسرف بن عقبہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، نے مدینہ منورہ کے حرم کو اپنے لیے تین دن تک حلال کرلیا جیسا کہ یزید (اللہ اسے اس کا برا بدلہ دے)  نے اسے حکم دیا تھا، اس نے مدینہ کے اشراف اور قرآن کے قراء کو شھید کردیا، بہت سا مال و اسباب لوٹا، جس کی وجہ سے وہاں بہت شر اور فساد پھیلا۔”

اب ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ مدینہ منورہ کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ أَخْدُمُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَاجِعًا، وَبَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ ‏”‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏”‏‏.‏ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا كَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَكَّةَ ‏[10]

سیدنا انس رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ کے خدمتگار کے طور پر ان کے ساتھ خیبر گیا، جب نبی ﷺ واپس لوٹے تو احد کی پہاڑ کی جانب سے  مدینہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:اے اللہ  ! میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی زمین کو حرم قرار دیتا ہوں جیسا کہ ابراھیم علیہ السلام نےمکہ کو حرم قرار دیا تھا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ 

“‏ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا [11]

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں، لہٰذا نہ تو اس زمین کے ( جو ، ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے) خاردار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس میں شکار مارا جائے 

مدینہ کی بے حرمتی کرنے والے پر رسول اکرم ﷺ نے خود لعنت بھیجی ہے۔

سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من اخاف اھل امدینۃ ظلماً اخافہ اللہ، و علیہ لعنۃ اللہ والملاءکۃ والناس اجمعین[12]

جس نے اپنے ظلم سے اھل مدینہ کو دہشت زدہ کیا اللہ اسے دہشت زدہ کرے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور سب انسانوں کی جانب سے لعنت ہے۔

علامہ شعیب الارنووط نے کہا: اسنادہ صحیح

مکہ مکرمہ پر فوج کشی

شامی فوج نے مدینہ منورہ کو تاراج کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ وہاں لوگ یزید کی بیعت توڑ کر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہھما کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرچکے تھے۔ یہ لوگ حرم مکہ میں پناہ گزین تھے۔ شامی  یزیدی فوج نے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرتے ہوءے بیت اللہ پر منجنیق سے سنگباری کی جس سے بیت اللہ کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔ اس بے حرمتی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ابھی شامی فوج نے مکہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا کہ یزید ملعون پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ واصل جھنم ہوا۔ تب یزیدی فوج نے محاصرہ اٹھایا اور شام کی راہ لی۔ جب حج کا موسم قریب آیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے بحیثیت خلیفہ بیت اللہ کی مرمت  کرنے کا ارادہ کیا مگر بیت اللہ بری طرح منھدم ہوچکا تھا ، اس میں جزوی مرمت کافی نہ تھی، لھذا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما  نے بیت اللہ کی از سر نو تعمیر کی۔

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ – أَوْ يُحَرِّبَهُمْ – عَلَى أَهْلِ الشَّامِ فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا [13]

عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب یزید بن معاویہ کے زمانہ میں شامی فوج نے(مکہ پر) فوج کشی کی تھی، اس دوران بیت اللہ کو آگ لگ گءی تھی۔ (کچھ عرصہ) بیت اللہ اسی حال پر رہا۔ پھر جب  حج کے موسم میں لوگ جمع ہوءے تو آپ نے ان کو اھل شام کے خلاف جنگ کرنے  پر آمادہ کرنے کا ارادہ کیا۔ تب آپ لوگوں سے مخاطب ہءے کہ مجھے مشورہ دیجیے کہ آیا  کعبۃ اللہ کو گرا کر از سر نو تعمیر کیا جاءے یا صرف وہی حصہ مرمت کعدیا جاءے جو منھدم ہوا ہے؟

یہ طویل حدیث کا ابتداءی حصہ ہے جس سے موضوع زیر بحث کا تعلق ہے۔ اس صحیح حدیث سے صاف واضح ہے کہ شامی فوج کے حملے کے دوران نہ صرف بیت اللہ کو آگ لگی بلکہ اس کا ایک حصہ بھی منھدم ہوگیا۔ صرگ آگ لگنے سے بیت اللہ کا منھدم ہونا بعید از قیاس ہے۔ لا محالہ یہ انھدام شامی فوج کی سنگ باری سے ہوا، جیسا کہ امام ذھبی ؒ نے ابن جریر سے نقل کیا ہے:
ثم حاصروہ بمکۃ شھر صفر ، و رموہ بالمنجنیق [14]

پھر ان (شامیوں) نے ماہ صفر کے دوران بھی مکہ کا محاصرہ جاری رکھا اور منجنیق سے سنگباری کی۔

کیا کوئی مؤمن تصور کرسکتا ہے کہ بیت اللہ پر سنگباری کی جائے، یقینا یہ شامی فوجی اسلام سے ہی برگشتہ تھے۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ جب ان کا سردار یزید ملعون دین سے مرتد ہوچکا تھا، تاہم اس نے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھا ہو اتھا۔



۔ البدایۃ والنھایۃ، ج ۱۱، ص۵۰۸  ، ابو عبداللہ مصعب بن عبداللہ الزبیری، نسبِ قریش، جز رابع، صفحہ ۱۲۸[1]

۔ ، الذھبی، تاریخ الاسلام: ج 5، ص  18-20   [2]

[3]نسبِ قریش، جز ثانی، صفحہ ۴۰

[4] ایضاً، صفحہ ۵۷

[5] ایضاً، صفحہ ۵۸

[6] جامع الترمذی: رقم ۳۷۷۸

۔البدایۃ والنھایۃ ج ۱۱، ص ۶۱۷[7]

[8] نسبِ قریش، جز رابع، صفحہ ۱۲۷

۔ ایضا، ج ۱۱، ص ۶۱۹ تا ۶۲۰[9]

۔ صحیح البخاری: رقم ۲۸۸۹[10]

۔ صحیح مسلم : رقم ۱۳۶۳[11]

۔ مسند اح٘مد: رقم ۱۶۶۷۳،[12]

۔ صحیح مسلم: رقم ۱۳۳۳[13]

۔ تاریخ الاسلام، الذھبی: ج ۵، ص ۳۴[14]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading