2024-07-17

 

بدعت کسے کہتے ہیں؟

ساجد محمود انصاری

عربی زبان میں بدعت ہر اس نئے کام یا چیز کو کہتے ہیں جس کی کوئی مثال پہلے موجود نہ ہو۔بدعت کا مادہ  ’ب۔د۔ع‘ ہے جس کا مطلب کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے۔ اسی مادہ سے بدیع بطور فاعل قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے

ارشادِباری تعالیٰ ہے  

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

البقرہ:117

وہی  (اللہ)  آسمانوں اور زمین کو ایجاد کرنے والا ہے۔

شرعی ا صطلاح میں ایسا کام بدعت  کہلاتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو۔واضح رہے کہ شرعی دلائل میں قرآن، سنت، فتاویٰ اہلِ بیت رسول علیہم الصلوات والسلام اور قرآن و سنت سے استنباط شامل ہیں۔اگر کسی قول و فعل پر ان چار مصادرِ دین سے دلیل لانا ممکن نہ ہو تو  ایسا قول و فعل بدعت کہلاتا ہے۔اگر بعض علما کسی قول و فعل پر مصادرِ دین میں سے دلیل لائیں اور دوسرے علما ان سے اتفاق نہ کریں تو یہ بدعت کے زمرے میں نہیں آئے گا بلکہ اسے اجتہادی اختلاف پر محمول کیا جائے گا۔

کسی قول و فعل کے بدعت ہونے کی چار شرطیں ہیں

۱۔ ایسا قول و فعل جس کی کوئی مثال دین میں موجود نہ ہو

۲۔اس قول و فعل کو دین سمجھا جائے

۳۔اس قول و فعل پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو

۴۔علمائے اہل سنت  نے متفقہ طور پر اسے رد کردیا ہو

بدعتِ مذمومہ  کی مثالیں

۱۔ایسی عبادت ایجاد کرنا جس کا دین میں پہلے کوئی وجود نہ ہو جیسے سیدنا امام حسین علیہ السلام کے غم میں ماتم کرنےکو شرعی  عبادت قرار دینا، اہلِ قبور کو سجدہ کرنے کو شرعی  عبادت قرار دینا بدعت ہے

۲۔ایسا عمل جو شریعت میں عبادت ہی ہو مگر شریعت کے مقررہ اوقات کے سوا کسی دوسرے وقت میں اسے فرض یا واجب قرار دینا۔مثلاً رمضان کے سوا کسی دوسرے مہینے کے روزے فرض سمجھنا، پانچ نمازوں کے سوا کسی چھٹی نماز کو اپنے لیے فرض سمجھنا بدعت ہے۔

۳۔کسی متفقہ فرض عبادت میں اپنی جانب سےکوئی اضافہ یا کمی کردینا۔ مثلاً نمازِ مغرب کی تین کی بجائے چار رکعات کو فرض قرار دینا۔یا ظہرو عصر کی چار کی بجائے  صرف دو رکعات فرض سمجھنا  بدعت ہے۔

۴۔ایسا عقیدہ ایجاد کرلینا جس پر قرآن و سنتِ متواترہ سے کوئی دلیل موجود نہ ہو، مثلاً گناہگار مسلمان کو دائمی جہنمی سمجھنا، اللہ تعالیٰ کو مخلوق جیسا سمجھنا  یا کسی نبی  کو فاسق سمجھنا  وغیرہ بدعت ہے۔

۵۔ کسی متفقہ عقیدہ کا انکار کرنا مثلاً تقدیر یا عذاب قبر یا ملائکہ کے وجود سے انکار کرنا

۶۔ کسی متفقہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا مثلاً قرض پر سود کو جائز سمجھنا،بکری ،  گائے یا اونٹ کے گوشت کو حرام سمجھنا بدعت ہے۔

یہ ہے بدعت کی اصل حقیقت۔ مگر افسوس کے ہمارے ہاں لوگ مخالف مسلک کے جس کام کو پسند نہیں کرتے اسے بدعت قرار دے کر اپنے ہمنواؤں کو خوش کرلیتے ہیں تاکہ ان کا  اپنا جتھا مضبوط رہے۔اگر بعض  لوگ ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، درودو سلام کے لیے اجتماعی محفل، اجتماعی ذکر وغیرہ  مستحب سمجھ کے کرتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس میں بدعت کہاں سے ٹپک پڑی؟ ان سب امور پر شرعی دلائل قائم ہیں۔ اس لیے ان اعمال کو بدعت قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔واللہ اعلم بالصواب

باقی بارہ ربیع الاول کو گنبدِ خضریٰ کی طرز پر  کیک بنانا اور کاٹنا ، ہندوؤں کی رنگولی کی طرز پر پہاڑیاں بنانا، ڈھول بجانا ، میوزک پر رقص کرناوغیرہ سب خرافات ہیں ،ان کاموں کو دین سمجھنا گمراہی ہے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading