2024-07-17

 

بنو سعد کے خیمے میں

ساجد محمود انصاری

          جب کوئی خاتون کسی بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے تو اس عمل کو عربی زبان میں رِضاع  یا رِضاعت کہتے ہیں جبکہ دودھ پلانے والی مُرضعہ کہلاتی ہے۔جس کی جمع مراضع اور مرضعات ہے۔قرآن حکیم (سورة البقرة:٢٣٣) میں بھی یہ الفاظ اسی مفہوم کے ساتھ وارد ہوئے ہیں۔اسی آیت میں والدین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنی اولاد کو کسی دوسری خاتون سے بھی دودھ پلوا سکتے ہیں۔آیت کے الفاظ سے متبادر ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عربوں کے ہاں دوسری خواتین سے دودھ پلائی کی خدمت لینے کا رواج عام تھا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَ اِن ْ اَرَدْتُمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْا اَوْلَادَکُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَآ ءَ اتَیْتُمْ بِالمَعْرُوْفِ وَ اتَّقُواللّٰہَ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْر

 البقرة: ٢٣٣)

اور اگر تم اپنی اولاد کو کسی دوسری خاتون سے دودھ پلوانا چاہو،تو تم پر کچھ گناہ نہیں، بشرط یہ کہ تم اسے متعارف اجرت دینے کے لیے خوشدلی سے راضی ہوجاؤ ۔اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھتا ہے۔

اِذَا سَلَّمْتُمْ مَآ ئَ اتَیْتُمْ بِالمَعْرُوْف(بشرط یہ کہ تم اسے متعارف اجرت دینے کے لیے خوشدلی سے راضی ہوجاؤ) کے الفاظ سے قوی اشارہ ملتا ہے کہ عربوں میں بھی دودھ پلوائی کی خدمت لینے کا رواج موجود تھا۔

رسول اکرم ﷺ دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تو آپ نے سب سے پہلے اپنی والدہ کا دودھ نوش فرمایا۔تقریباً ایک ہفتہ تک آپ کی والدہ ہی آپ کواپنا دودھ پلاتی رہیں۔ 

اسکے بعدآپ کے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ باندی ثویبہنے بھی آپ کو دودھ پلانے کا شرف حاصل کیا۔اس وقت نبی ﷺ نے ثویبہ کے بیٹے مسروح کے ساتھ ان کا دودھ پیا۔(صحیح البخاری: ح ٥١٠١)

اسی دوران رسول اکرم ﷺ کے دادا جان عبدالمطلب اپنے پوتے کے لیے کسی ایسی باکردار اور قابلَ اعتماد خاتون کی تلاش میں تھے جو اسے دودھ پلانے کی مستقل خدمت قبول کرے اور وہ اسے اپنا پوتا سپرد کرنے میں پورا اطمینان بھی محسوس کریں۔ آخر عبدالمطلب کی نظرِ انتخاب بنو سعد کے  سپوت ابو کبشہ حارث بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ سیدہ اُمِّ کبشہ حلیمہ بنت ابو ذُوئب رضی اللہ عنہاپر جا ٹکی۔

          سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق بنو ہوازِن کی شاخ بنو سعد سے تھا۔بنو ہوازِن مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق میںواقع صحت افزا مقام طائف کے گردو نواح میں آباد تھے۔ غزوۂ طائف کی تفاصیل میں ان کے اس مسکن کی نشاندہی واضح طور پر کی گئی ہے۔اگرچہ بنو سعد بھی اپنے باقی ہوازنی خانوادوںکی طرح طائف کے نواح ہی میں آباد تھے تاہم ان کامسکن طائف کے مشرقی مضافات میں وسطی عرب کے مشہور مرتفع نجد میں واقع تھا۔ان کا پیشہ باقی نجدی قبیلوں کی طرح گلہ بانی تھا، کیوں کہ نجد میں بہت سے سبزہ زار پائے جاتے ہیں، جہاں آج بھی گلہ بانی سب سے بڑا پیشہ ہے۔

عبدالمطلب نے بنو سعد ہی کی خاتون کو اپنے پوتے کی رضاعت و تربیت کے لیے کیوں چنا؟ مؤرخین نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں۔

بنو ہوازِن قریش کا حلیف(اتحادی) قبیلہ تھا، اور ان کا مسکن و ماحول صحت افزا و خوشگوار تھا، جہاں ننھے محمد کی پرورش زیادہ بہتر انداز میں ہوسکتی تھی۔ مکہ مکرمہ کی آب و ہوا طائف کی نسبت کافی گرم ہے، حتیٰ کہ جنوری فروری میں بھی دن کے وقت مکہ کا درجہ حرارت 30درجے سینٹی گریڈسے زیادہ نہیں گرتا۔ اس کے برعکس طائف ایک صحت افزا گرمائی مقام ہے، جس کا درجہ حرارت سردیوں میں کافی گر جاتا ہے، جبکہ گرمیوں میں معتدل ہوتا ہے۔تاہم اس کے گردو نواح کا درجہ حرارت عموماً سارا سال معتدل رہتا ہے۔بنو سعد نجدکے جس مقام پر آباد تھے وہ طائف سے بالکل قریب تھا اور معتدل آب وہوا کا حامل تھا۔آج بھی گوگل میپس پر طائف کا نقشہ دیکھیں تو اس کے جنوب مشرق میں بنی سعد کے نام سے ایک وسیع خطہ دیکھا جاسکتا ہے، جہاں بنو سعد قبیلہ آج بھی آباد ہے۔

          بنو ہوازِن میں سے خاص بنو سعد کے چننے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ عرب اچھے نام سے خوش بختی اور برے نام سے بد بختی کا شگون لیتے تھے، بنو سعد کے نام سے ہی خوش بختی ٹپکتی ہے، چناں چہ یہ بھی بنو سعد کے انتخاب کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ بنو سعد قریش کے پڑوس میں رہنے کے سبب انہی کے لب و لہجے میں عربی بولتے تھے۔نیز بنو سعد بھی قریش کی طرح قبیلہ مُضر میں سے تھے اور بدوی زندگی بسر کرنے کے باعث ان کے لب و لہجے اور فصاحت و بلاغت پر وہ حضروی اثرات نہ پڑے تھے، جو عام طور پر مکہ جیسے تجارتی و مذہبی مرکز میں آباد لوگوں کے لب ولہجے پر رونما ہوتے ہیں۔قریش کی زبان میں بعض عجمی الفاظ عجمی قوموں کے ساتھ میل ملاپ اور خریدو فروخت سے ہی داخل ہوئے تھے، اس کے بر عکس بدوی زندگی گزارنے والے اس قسم کے عجمی اثرات سے کافی حد تک محفوظ تھے۔اسی لیے رسول اکرم ﷺ سے جب ان کی فصاحت و بلاغت اور جامیعت کلام کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواباً فرمایا:”اول تو میں قریشی ہوں، دوسرا میں نے بنی سعد میں دودد پیا ہے۔یعنی میری ابتدائی پرورش بنی سعد میں ہوئی ہے ۔”۔(عبدالرحمٰن السہیلی ، الروض الانف مع السیرة لابن ہشام، ج١، ص ٣١٨)

نبی اکرم ﷺ نے اپنی عمر کا بالکل ابتدائی حصہ بنو سعد میں گزارا اور یہی وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ پہلی بار کوئی زبان سیکھتا ہے۔چناں چہ ان کی زبان وہی تھی جو سیدہ حلیمہ سعدیہ   اور ان کے گھر والے بولتے تھے۔ ہر قوم کی زبان اور لب و لہجے کے کچھ ایسے امتیازات ہوتے ہیں جو کسی دوسری زبان میں پائے نہیں جاتے۔نسل در نسل وہی زبان مخصوص لہجے میں بولتے رہنے کی وجہ سے ہر قوم یا قبیلہ کی ذہنی ساخت، جبڑے اور زبان کی بناوٹ، حلق کے اندر موجود آلۂ صوت (ساؤنڈ باکس) اور آواز کی خصوصسیات ایک خاص قالب میں ڈھلتی جاتی ہیں جو اس مخصوص زبان کے بولنے میں معاون و ممد ثابت ہوتی ہیں۔یہی سبب ہے کہ عربی زبان کو لغتِ ضاد اور عربی قوم کو اہل ِضاد بھی کہتے ہیں کیوں کہ جس سہولت اور صحت کے ساتھ اصیل عرب حرف ضاد کا مخرج ادا کرسکتے ہیں، اس طرز پر کسی عجمی قوم کافرد ادا نہیں کر سکتا۔  یہی حال دیگر زبانوں کا ہے ۔ یہ بات جس طرح ایک قومی زبان کے لیے سچ ہے اسی طرح اس کے الگ الگ لہجوں کے لیے بھی درست ہے۔پس رسول اکرم ﷺ کو قبیلہ قریش کے جو مخصوص جسمانی اوصاف اپنے والدین سے وراثت میں ملے تھے ان کی وجہ سے قریش کا مخصوص لب و لہجہ ان کی شخصیت کا لازمہ تھا۔

          کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ مکے کے رئیس اور بیت اللہ کے متولی نے اپنے پیارے پوتے کو دو سال کی طویل مدت کے لیے رضاعت و تربیت کی غرض سے کسی ایسی اجنبی عورت کے سپرد کر دیا ہو جس سے اس کی ملاقات سرِ راہ ہوئی ہو اور وہ اس کے اخلاق و کردار ، خاندانی پس منظر اور گھر کے ماحول سے قطعی نا واقف ہو؟حاشا و کلا ایسا نہیں ہوسکتا۔ لا محالہ بنو سعد اوربنو ہاشم میں قریبی تعلقات رہے ہوں گے۔یوں بھی بنو سعد کا نسب مُضر بن نِزارپر بنو ہاشم کے ساتھ جاملتا ہے اور یہ خالص عدنانی قبیلہ ہے۔اوپر مذکور ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی باپ حارث بن عبدالعزیٰ کی کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ اپنے نام سے زیادہ اپنی کنیت سے پہچانے جاتے تھے۔بنو ہاشم ہی نہیں دیگر قریش مکہ بھی ابو کبشہ سے خوب واقف تھے۔ ہمارے اس دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ  کی نبوت کے اعلان کے بعد قریش مکہ نبی ﷺ کی تحقیر کی غرض سے انہیں ان کے اصل نسب کی بجائے ان کے رضاعی باپ کی نسبت سے ابن ابی کبشہ کہہ کر پکارتے تھے۔حدیث و سیرت میں ایسے متعدد واقعات مروی ہیں جن میں قریش مکہ نے نبی ﷺ  کو ابن ابی کبشہ کہہ کے پکارا تھا۔نمونے کے طور پر یہاں صرف چند روایات کی طرف اشارہ کافی ہے۔ تقریباً سبھی معتبر کتب حدیث میں نبی اکرم ﷺ کے قیصرِ روم کے نام خط ،قیصرِ روم کی سیدناا بو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ سے گفتگو ، اس کے رد عمل اور قریش کی حیرت کا تذکرہ موجود ہے ۔سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ (جو تا حال ایمان نہ لائے تھے )نے قیصرِ روم کے شاہی دربار سے باہر آکر جو تبصرہ کیا اس کے الفاظ حدیث میں محفوظ ہیں:

فقلت لاصحابی حین اخرجنا :لقد اُمِرَ اَمرُ ابن ابی کبشة ، انہ یخافہ ملک بنی اصفر 

(صحیح البخاری، کیف بد ألوحی، رقم ٧)

جب ہمیں وہاں سے باہر نکال دیا گیا تو میںنے اپنے ساتھی سے کہا: ارے ابو کبشہ کے بیٹے (محمد ﷺ)کی شان تو بہت بڑھ گئی ہے کہ بنی اصفر (رومیوں) کا بادشاہ بھی اس سے خوف کھاتا ہے۔

امام ابن حجر العسقلانی   اس جملے کی شرح میں نبی ﷺ  کو ابن ابی کبشہ کہنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں ابو کبشہ کون تھا؟

و قیل  ھو  ابوہ من الرضاعة و اسمہ حارث بن عبدالعزیٰ  قالہ ابو الفتح الازدی و ابن ماکولا و ذکر یونس بن بکیر عن ابن اسحاق عن ابیہ عن رجال من قومہ انہ اسلم و کان لہ بنت تسمی کبشہ یکنی بھا۔  (فتح الباری، ج ١، ص ٥٤)

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ (ابو کبشہ) در اصل رسول اکرم ﷺ کے رضاعی باپ ہیں جن کا نام حارث بن عبدالعزیٰ ہے۔ یہ امام ابو الفتح الازدی  اور امام ابن ماکولا  کا قول ہے۔جبکہ یونس بن بکیر امام محمد بن اسحاق سے اور انہوں نے اپنے والد سیار سے انہوں نے بنو سعد کی قوم کے بعض لوگوں سے یہ روایت بیان کی ہے کہ (حارث بن عبدالعزیٰ ) نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام کبشہ تھا اور اسی بیٹی کی نسبت سے ان کی کنیت ابو کبشہ پڑ گئی تھی ۔

اسی طرح معجزہ شق القمر کی روایات میں بھی مذکور ہے کہ قریش نے شق القمر کا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر کہا

ھذا سحر ابن ابی کبشہ

(مسند داؤد الطیالسی ، رقم ٢٩٥، دلائل النبوة للبیہقی

یہ تو ابو کبشہ کے بیٹے کا جادو ہے۔

اگرچہ شارحین حدیث نے کفار کی جانب سے نبی اکرم ﷺ کو ابو کبشہ کا بیٹا کہنے کے کچھ دوسرے احتمالات بھی بیان کیے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ قرین قیاس وہی ہے جسے ہم نے اختیار کیا ہے۔ مثلاً ایک احتمال یہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ کے نانا وھب بن عبد مناف کی کنیت بھی ابو کبشہ تھی، یا یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی ﷺکے اجداد میں سے چھے افراد کی کنیت ابو کبشہ تھی، لیکن کیا اس سے نسب مجروح ہوتا ہے؟ بہر کیف وہ نبی ﷺکے اجداد تو تھے ہی ناں۔پھر اس میں حقارت کا پہلو کہاں سے نکل آیا؟عربوں میں کتنے ہی ایسے لوگ تھے جن کی کنیت یا نسبت کسی دور کے رشتہ دار ، جد اعلیٰ یا کسی جانور یا مٹی وغیرہ سے منسوب کی گئی تھی۔ مگر اس میں وہ کوئی توہین یا تحقیر محسوس نہیں کرتے تھے۔مثال کے طور پر سیدنابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلی کے بلونگڑوں کی نسبت سے ابو ہریرہ کہتے تھے مگر وہ خود یا دوسرے لوگ اسے تحقیر کا باعث نہیں سمجھتے تھے۔ رؤسائے کفار کے تکبر و استکبار سے سبھی لوگ واقف ہیں، وہ غریب بدّو ابو کبشہ حارث بن عبدالعزیٰ  کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، لہٰذا ان کے زعم میں رئیس ِقریش اور

 بنو ہاشم کے گل سرسبد جناب عبدالمطلب کے پوتے کو ایک غریب بدو کا بیٹا کہنے میں تحقیر کا پہلونمایاں تھا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

غرض محمد عربی ﷺ کی رضاعت و تربیت کے لیے بنو سعد کا انتخاب محض اتفاقیہ نہ تھابل کہ اس کے پیچھے معقول وجوہات کارفرما تھیں۔ یوں بھی بنظر ظاہر تو بنو سعد کا انتخاب عبدالمطلب نے کیا تھا مگر درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کااپنے محبوب نبی کے لیے خاص انتخاب تھا۔واللہ اعلم

سیدہ حلیمہ سعدیہ  اور ان کے سب گھر والے  ننھے محمدﷺ  کا بہت خیال رکھتے تھے، سیدہ حلیمہ   ہمیشہ اس پیارے بچے کو اپنی نظروں کے سامنے رکھتی تھیں،یہ بچہ ان کی آنکھ کا تارا بن گیا تھا۔وہ اپنے بچوں سے بھی بڑھ کر اس کی ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔ادھر سیدہ آمنہ کے لیے اپنے لختِ جگر کی جدائی برداشت نہیں ہوتی تھی، چناں چہ سیدہ حلیمہ   گاہے بگاہے بچے کو اس کی والدہ اور باقی خاندان والوں سے ملوانے کے لیے مکہ لے جاتی تھیں۔وقت ایسے ہی گزرتا رہا تا آن کہ عرب دستور کے مطابق بچے کی رضاعت کی مدت پوری ہوگئی جو دو سال پر محیط تھی۔سیدہ حلیمہ  کی جان ننھے محمدﷺ میں اٹکی ہوئی تھی، وہ ابھی اس مبارک بچے کو اپنے ساتھ مزید دن رکھنا چاہتی تھیں، مگر معاہدۂ رضاعت کی مدت پوری ہونے کے باعث چارو ناچار بچے کو لے کر اس کی ماں کی خدمت میں حاضر ہوگئیں اور ان کی منت سماجت کرنے لگیں کہ ابھی بچے کو کچھ اور مدت ان کے ساتھ رہنے دیں۔سیدہ آمنہ دیکھ چکی تھیں کہ بنو سعد کے خوشگوار ماحول میں دو سال کی پرورش سے ان کے بیٹے کی صحت و جسامت بہت اچھی ہوگئی تھی اور بچے کی تربیت بھی خوب کی گئی تھی۔اتنی کم سنی میں بھی بچہ بڑی فصاحت کے ساتھ عربی بولنے کے قابل ہوگیا تھا۔بنو سعدنے ایک عمدہ نرسری ہونے کا ثبوت بہم پہنچا دیا تھا لہٰذا سیدہ آمنہ کو بنو سعد کی یہ نرسری بھا گئی۔چناں چہ جدائی کے دن وصل میں ڈھلنے کی تمناکے باوجودسیدہ آمنہ نے ننھے محمد ﷺ کو بادلِ ناخواستہ دوبارہ سیدہ حلیمہ  کے سپرد کر دیا۔

واقعۂ شق صدر(سینے کا چاک کیا جانا

سیدنا محمد عربی ﷺ قابلِ رشک صحت اور قدوقامت والے لڑکے بالے بن گئے تھے ، لہٰذاآپ نے نجد کے سبزہ زاروں میں گھومنا پھرنا، کھیلنا کودنا اور بھاگنا دوڑنا شروع کر دیا تھا۔آ پ کے رضائی بہن بھائی صبح سویرے  اپنی بھیڑ بکریاں چرانے کے لیے نکل جاتے تھے، آپ گھر میں تنہائی محسوس کرتے تھے، چناں چہ سیدہ حلیمہ سے اجازت لے کر آپ بھی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بھیڑ بکریاں چرانے کے لیے چلے جاتے۔ آپ کی رضائی والدہ دوپہر کا کھانا تیار کرکے ساتھ بھیجتی تھیں۔ایک صبح جب آپ مویشی چرانے کے لیے نکلے تو دوپہر کا کھانا ساتھ لینا بھول گئے۔ آپ نے اپنے ایک رضائی بھائی کو کھانا لانے کے لیے واپس بھیج دیا اور خود بکریوں کے ریوڑ کے پاس رک گئے۔ اتفاقاً اس روز کوئی دوسرا بھائی ساتھ نہ آیا تھا۔آپ اکیلے ہی کھڑے تھے کہ اچانک آسمان سے دو سفید گدھ نما پرندے اپنی طرف آتے دیکھے۔ قریب آنے پر معلوم ہوا کہ وہ تو سفید لباس میں ملبوس دو پروں والے آدمی ہیں۔ان میں سے ایک کے پاس سونے کا طشت تھا جس میں برف رکھی ہوئی تھی،آپ ابھی انہیں حیرت سے دیکھ ہی رہے تھے کہ انہوں بڑے شفقت بھرے انداز میں آپ کو دونوں بازوؤں سے تھامااورآہستگی سے کمر کے بل نیچے لٹا دیا۔پھر انہوں نے آپ کا سینہ چاک کیا اور اندر ہاتھ ڈال کر آپ کا قلب مبارک  باہر نکال لیا۔پھر انہوںقلب مبارک  کو چیر ڈالا اوراس میں سے دو سیاہ لوتھڑے نکال کر پھینک دیے۔پھر انہوں نے برف سے آپ کا سینہ اندر سے دھو ڈالا۔پھر(اسی برف  کے پگھلنے سے بنے ہوئے) ٹھنڈے پانی سے آپ کا قلب مبارک  دھویا۔پھر قلب مبارک میں سکینہ (سکون) بکھیر دیا۔اس کے بعد انہوں نے آپ کا سینہ سی دیا۔اس کے بعد( پشت کی جانب سے) عین دل کے مقام پر نبوت کی مخصوص مہر لگا دی۔اس سارے عمل کے دوران نہ تو خون بہا نہ آپ کو کوئی تکلیف محسوس ہوئی۔ دفعتاً ایک ترازو ظاہر ہوا۔ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے کہنے لگا کہ انہیں ان کی امت کے مقابل تولیے۔پہلے آپ کو اپنی امت کے دس افراد کے مقابل تولا گیا، آ پ کا پلڑا بھاری رہا، پھر آپ کو سو افرد کے مقابل تولا گیا مگر آپ کا پلڑا بھاری رہا۔پھر آ پ کو ہزار افراد کے مقابل تولا گیا مگر بھر بھی آ پ کا پلڑا ہی بھاری رہا۔تب وہ شخص کہنے لگا کہ اگر تم انہیں ان کی ساری امت کے مقابل بھی تولو گے تو بھی ان کا پلڑا ہی بھاری رہے گا۔اس کے بعد وہ دونوں چلے گئے۔اس ناگہانی حادثہ کے باعث ننھے محمدﷺ  کا رنگ فق ہو رہا تھا۔جب  وہ فرشتے آپ ﷺ  کا سینہ چاک کر رہے تھے تو اس دوران بعض بچے بھی وہاں پہنچ گئے تت انہوں نے یہ سب دیکھا تو خوف کے مارے کانپنے لگے اور سیدہ حلیمہ سعدیہ   کو خبر دینے کے لیے دوڑے۔بچوں نے جاکر بی بی حلیمہ   کو بتایا کہ کسی نے محمد ﷺ کو قتل کردیا ہے۔یہ خبر سن کر ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔فوراً ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے دوڑیں۔ سیدنا محمد ﷺ انہیں رستے میں ہی مل گئے۔ان کے چہرے کا رنگ بدلا ہواتھا۔بی حلیمہ   نے لپک کر انہیں اپنے سینے سے لگایا ، ماتھا چوما اور انہیں لے کر گھر پہنچیں۔سیدہ حلیمہ   کو اپنے لعل کی زندگی خطرے میں محسوس ہوئی۔چناں چہ انہوں نے بچے کو فوراً اس کی والدہ کے سپرد کرنے میں عافیت سمجھی۔ایک اونٹ پر سوار ہو کر وہ مکہ پہنچی۔ سیدہ آمنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہیں سارا ماجرہ کہہ سنایا۔خلافِ توقع سیدہ آمنہ یہ ماجرہ سن کر ذرا بھی پریشان نہ ہوئیں اور الٹا سیدہ حلیمہ   کو تسلی دینے لگیں کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے۔ اس کی بڑی شان ہے۔جب یہ پیدا ہوا تو میرے وجود سے ایک ایسا نور نکلا جس نے شام کے محل روشن کردیے۔ تب کہیں جا کربی بی حلیمہ   کی جان میں جان آئی۔

مذکورہ بالا واقعہ شق صدر قوی طرق و اسانید سے متعدد کتب حدیث میں روایت ہوا ہے، بعض راویوںنے یہ واقعہ اختصار کے ساتھ اور بعض نے قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔راقم نے ان روایات کا مجموعی مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی سعی کی ہے، جس میں حتی الوسع کوشش کی ہے کہ کوئی شیء اپنی جانب سے شامل نہ کی جائے۔راقم نے واقعہ کا اصل مدار مسندامام احمد کی روایت (رقم الحدیث ١٧٧٩٨)  پر رکھا ہے، تاہم بیان واقعہ میں صحیح المسلم (کتاب الایمان: باب الاسرأ،رقم ١٦٢)،  دلائل النبوة للبیہقی( ج ١، ص ١٣٩۔١٤١)   اور سیرت ابن ہشام مع الروض الانف (ج ١، ص ٣٢١۔٣٢٢)  وغیرہ سے بھی مدد لی ہے۔امام ابوالفداء اسماعیل بن کثیر  نے ان میں سے اکثر روایات البدایہ اولنہایہ (ج ٣، باب ذکر رضاعہ علیہ الصلوٰة والسلام) میں جمع کردی ہیں۔

معلوم ہونا چاہیے کہ شقِ صدر کا مذکورہ واقعہ ایک معجزہ ہے اور اسے حقیقت پر محمول کرنا اہل سنت کا مسلک ہے۔یہ کوئی معنوی شے نہیں کیوں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے صراحت کی ہے کہ نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کے مدہم سے نشان انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔(صحیح المسلم :رقم ١٦٢)

 

  

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading