2024-07-17

 

 

آل اسماعیل علیہ السلام کا امتیاز

ساجد محمود انصاری

اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے پر اپنی خصوصی برکات کا نزول 

فرمایا اور آل ابراہیم میں نبوت کا سلسلہ جاری فرمادیا۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے فرزند سیدنا اسحاق علیہ السلام کو سیدنا یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے جن کا لقب اسرائیل(اللہ کا غلام) تھا۔ چناں چہ ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا۔جتنے انبیاء بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے کسی دوسری قوم میں پیدا نہیں ہوئے۔یہی سبب ہے کہ قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کا تذکرہ بڑے اہتمام اور تفصیل کے ساتھ وارد ہوا ہے، یہاں تک کہ ایک مستقل سورہ بنی اسرائیل کے نام سے معنون ہے۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پہلوٹھے فرزند اور ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ نسل در نسل تو نہیں چلا مگر آل اسماعیل میں امام المرسلین محمد عربی  ﷺکی پیدائش نے آل اسماعیل کو سارے جہانوں سے ممتاز کر دیا۔نیز اسماعیل علیہ السلام کو اس لحاظ سے ابوالعرب کہنا بھی درست ہے کہ وہ فصیح عربی جس میں قرآن حکیم نازل ہوا اصلاً سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے مأخوذ ہے اور آل اسماعیل اس قرآنی عربی مبین کی وارث قرار پائی۔

          قرآن حکیم میں آل اسماعیل  کے اکابرین کا تذکرہ صرف اشارتاً ہی کیا گیا ہے، جس کا سبب غالباً یہ ہے کہ جن لوگوں کی طرف براہ ِراست قرآن بھیجا گیا تھا ان کا تعلق آل اسماعیل ہی سے تھا اور وہ اپنی تاریخ سے بخوبی آگاہ تھے۔ان کے برعکس بنی اسرائیل نے چوں کہ اپنی تاریخ میں بہت زیادہ تحریف کردی تھی اور بہت سے حقائق چھپا لیے تھے اس لئے ان کی صحیح تاریخ اجاگر کرنا ضروری تھا، جو اصلاً انبیاء ِ بنی اسرائیل کی تاریخ ہے۔تاہم عربوں کی طرف نبی ﷺ کی بعثت  اور آ پ ﷺ کی دعوت کی سرگزشت،عربوں کے  ابتدائی ردِ ّعمل اور دعوت کے قبول کرنے کے نتیجے میں انہیں ملنے والے عروج و کمال  کی داستان کافی تفصیل سے بیان ہوئی ہے، اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کہ اگرچہ بنو اسماعیل کی قدیم تاریخ پر قرآن نے بہت کم روشنی ڈالی ہے مگر  قرآن حکیم جدید  بنو اسماعیل  کے تذکرے سے مأمور ہے۔یہ بنو اسماعیل ہی تو تھے جو السابقون الاولون کا لقب پاکر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔   

سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بارہ بیٹے اپنی قوم کے سردار ہوئے۔تاہم ان کے دو بڑے بیٹوں نابت اور قیدار کی اولاد بہت زیادہ پھلی پھولی اورجزیرة العرب  میں پھیل گئی۔

      بنو قیدار

          بنو قیدار کا قبیلہ نہ صرف بہت پھلا پھولا بلکہ یہ کئی صدیوں تک جزیرة العرب کے شمالی حصے میں برسرِ اقتدار رہا۔اہلِ مغرب بنو قیدار کو  قیدارائٹس کے نام سے یاد کرتے ہیں۔بائبل کی کتاب الایام میں بنو قیدار کی شان و شوکت کی طرف اشارات کیے گئے ہیں۔ بنی اسرائیل کے انبیاء حزقیل، یرمیاہ اوریسعاہ(علیہم السلام) کے اسفار میں بھی بنو قیدار کا ذکرموجود ہے۔ ، تاہم بائبل سے باہر تاریخی طور پر بنو قیدار کا تذکرہ سوریا(شام) سے ملنے والے آثارِ قدیمہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔قدیم مؤرخین نے بھی بنو قیدار کی عظمت کے گن گائے ہیں۔ پانچویں صدی قبل مسیح کے مشہور یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس نے اپنی کتاب ہسٹوریا میں اور پہلی صدی قبل مسیح کے رومی مؤرخ دیودور الصقلی  نے اپنی معروف کتاب ببلوتھیکا ہسٹوریکا میں بنو قیدارسے تعلق رکھنے والے عرب بادشاہوںکا تذکرہ کیا ہے۔تاریخی کتبات سے پتہ چلتا ہے کہ بنو قیدار کا دارالسلطنت اور اہم ترین تجارتی مرکز عرب کا مشہور تاریخی شہر دو مۃ الجندل تھا۔کہا جاتا ہے کہ دومہ کا نام سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بیٹے دوما کے نام پر رکھا گیا تھا۔[1]

بنو نابت

          مکہ کی شہری ریاست کا بانی سیّدنا اسماعیل  علیہ السلام کا گھرانہ تھا۔ اس لیے وہی اس کے پہلے رئیس و حاکم تھے۔ ان کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے نابت مکہ کے رئیس بنے۔ جناب نابت کی وفات کے بعد بنو جرہم نے مشاورت کے بعد سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے سسر اور جناب نابت کے نانا جان مضاض بن عمرو الجرہمی کو مکہ کا رئیس منتخب کرلیا، جبکہ بنو نابت نے اپنے ننھیال کی مخالفت کرنا مناسب نہ سمجھا۔[2]

بعد ازاں مکہ کی ریاست بنو جرہم میں نسل در نسل منتقل ہونے لگی اور بنو نابت اس پر راضی رہے۔تاہم ذرائع معاش اور خوراک کی تلاش نے انہیں مکہ سے باہر جانے پر مجبور کردیا۔چناں چہ وہ حجاز کے اطراف میں پھیل گئے۔ رفتہ رفتہ ان کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا اور ان کی سکونت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔تاں آن کہ ان کی بستیاں شمال میں سوریا(شام) اور جنوب میں عسیر تک آباد ہوگئیں۔تاریخ میں بنو نابت کی ان وسیع بستیوں کی داستانیں محفوظ ہیں۔

انباط اور بنو نابت

          انباط(واحد:نَبطی یا  نُبا طی) ایک ایسی قو م ہے جس کے اصل و نسب کے بارے میں اہل عرب مختلف الرائے ہیں۔تاہم جدید عصری تحقیقات اورقدیم عربی ادب کو ملا کر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے۔ عموماً اہل عرب انباط کو عجمی تصور کرتے ہیں۔جیسا کہ لسان العرب میں صراحت ہے

و فی المحکم:ینزلون سواد العراق و ہم الانباط والنسب الیہم نبطی، و فی الصحاح: ینزلون بالبطائح بین العراقین[3]

المحکم(لغت) میں ہے کہ وہ لوگ جو سوادِ عراق میں آباد ہیں وہ انباط ہیں اور ان سے منسوب شخص نبطی کہلاتا ہے۔ جبکہ لغت الصحاح  میں ہے کہ وہ دونوں عراقوں(عراق عرب اور عراق عجم) کے درمیان سنگلاخ وادیوں میں آباد ہیں۔

مصباح اللغات میں ہے

النَّبَط: ایک عجمی قوم جو عراقین کے درمیان آباد رہتی تھی۔[4]

انباط کو عجمی تصور کرنے کا ایک سبب جزیرة العرب کی شمالی حدودکا غلط تعین ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فرضی خط جو خلیج عقبہ اور خلیج العربی کے شمالی کناروں کوشرقاً غرباً ملاتا ہے وہ جزیرة العرب کی آخری شمالی سرحد ہے۔ حالانکہ جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی حقائق کو پیشِ نظر رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ طبقۂ عربیہ (عریبین پلیٹ ) کی شمالی حدود طوروس کے پہاڑوں تک وسیع ہیں اور بادیۂ شام کی شمالی حدود تک عرب زمانہ قبل از تاریخ سے آباد رہے ہیں جس کی ایک معروف مثال موجودہ ترکی کی حدود میں آنے والا شہر دیارِ بکر ہے، جو طوروس پہاڑ کے دامن میں آباد ہے۔

بہر کیف انباط چونکہ جزیرة العرب کی فرضی شمالی حد سے باہر آباد تھے اس لئے انہیں عجمی باور کرلیا گیا۔حالانکہ قدیم عراق کے آثارِ قدیمہ سے جو کتبات ملے ہیں ان سے واضح ہوجاتا ہے کہ قدیم انباط کی زبان بھی اصلاً عربی ہی تھی۔ قدیم عمان(موجودہ اردن) اورقدیم بحرین (موجودہ  عراق) میں آباد انباط کے بارے میں تو خود عربی لغت کے ماہرین تسلیم کرتے آئے ہیں کہ وہ عربی بولتے تھے۔جیسا کہ محمد بن مکرم المصری نے ایوب بن القریہ کا قول نقل کیا ہے

اہل عمان عرب استنبطوا و اہل البحرین نبیط استعربوا [5]

عمان کے باشندے اصلاً عرب ہی ہیں ، ہاں انہوں نے نبطی طرزِ زندگی اختیار کر لیا تھا اور بحرین کے باشندے اصلاً نبطی ہیں تاہم وہ بھی عرب بودوباش میں رچ بس گئے تھے۔

          مغربی مؤرخین انباط کو نبا طینزکے نام سے موسو م کرتے ہیں۔ مشہوریہودی مؤرخ جوزفس فلاویس یا یوسف بن متی تیاہو(37-100)عیسوی نے اپنی کتاب اینٹی کوٹیز آف دی جیوز میں صراحت کی ہے کہ انباط درحقیقت نابت بن اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں، لہٰذا مغربی مؤرخین نے انباط کا شمار ہمیشہ عربوں میں کیا ہے۔[6]

           انباط کو عجمی سمجھنے کا ایک دوسرا سبب یہ ہے کہ انباط کا صحیح نسب عرب نسابین کے ہاں معروف نہ تھا۔ عدنان اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے درمیان پیدا ہونے والی قرون(نسلوں) کے انساب میں ماہرین انساب کے ہاں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ عرب ان قرون کے انساب کما حقہ محفوظ نہیں رکھ سکے۔چناں چہ وہ انباط کا نسب محفوظ رکھنے میں بھی ناکام  رہے حالانکہ تاریخ اور آثارِ قدیمہ شاہد ہیں کہ انباط کے آباؤ اجداد تقریباً دوہزار سالوں سے جزیرة العرب کے شمالی حصے میں آباد چلے آرہے ہیں۔ انباط کا اصل ونسب تاریخ کی گرد میں گم ہوگیا تھا۔ تاہم ہر قوم کے کچھ خواص ایسے ہوتے ہیں کہ جن سے اس کی اصل کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

علامہ سید سلیمان ندوی (م  ١٣٧٣ ھ) ان خواص کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں

’’ایک اور چیز جس سے کسی قدیم قوم کی جائے سکونت اور قومیت کی نوعیت کی تحقیق میں بڑی مددمل سکتی ہے ، اشخاص تاریخی اور ان کے مقاماتِ سکونت کے ناموں کا یا دو قوموں کی زبان ،اشخاص  اور دیوتاؤں کے ناموں کا باہمی تطابق ہے۔

اشخاص و مقامات کے ناموں کاباہمی تطابق ان اشخاص کے مقاماتِ سکونت کا پتہ دیتا ہے،اور دو قوموں کی زبان اور ان کے باہمی اسماء کا تطابق ان کے اتحادِ قومیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘‘[7]

سید سلیمان ندوی ؒمزید فرماتے ہیں

’’ہر قوم کے ناموں کی ایک خاص نوعیت و ترکیب ہوتی ہے،جس میں اس کی قومیت کا امتیاز مضمر ہوتا ہے۔اقوامِ موجودہ میں ہندوؤں ، مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے ناموں کی اور پھر ان مذاہبِ مختلفہ میں سے مختلف ملکوں کے باشندوں کے ناموں کی ایک خاص نوعیت ہوتی ہے جس سے ان کی قومیت کا نشان ملتا ہے۔ اس بناء پر اگر دو قوموں کے ناموں میں باہمی تشابہ نظر آئے گا تو ہم نہایت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دونوں قومیں درحقیقت متحدالاصل ہیں۔اسی طرح مذہبی اعتقادات کا تشابہ اور الفاظِ زبان کی مماثلت و مشاکلت بھی باہمی اقوام کے اتحادِ نسل کی ایک مبہم دلیل ہے۔‘‘[8]

          انباط کی قدیم بستیوں کے آثار جزیرة العرب کے شمالی حصوں میں کثرت سے دریافت ہوئے ہیں۔خصوصاً خلیج عقبہ کے مشرقی جانب وہ خطہ جو صحرائے سیناء سے ملا ہوا ہے ، انباط کا معروف مسکن رہا ہے۔بُصریٰ، رقیم (بطرا)اورمدائن ان کی مرکزی بستیاں تھیں۔ان آثارِ قدیمہ سے ملنے والے حجری کتبات اورچرمی نوشتوں سے انباط کے مندرجہ ذیل خواص نمایاں ہوکر ابھرے ہیں

١۔انباط کی زبان عربی تھی اگرچہ اس کا رسم الخط آرامی زبان سے ملتا جلتا تھا۔

٢۔ انباط کے نام حجاز کے باشندوں سے ملتے جلتے تھے، جیسے حارثہ، عبیدہ ، مالک وغیرہ

٣۔ انباط انہی بتوں کی پوجا کرتے تھے جن کی حجاز میں پوجاکی جاتی تھی، یعنی لات، منات، عزّٰی،ذو الشعریٰ وغیرہ

انباط کے ان خواص سے آسانی سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انباط اور حجازی عربوں کی اصل ایک ہی ہے یعنی دونوں قومیں آل اسماعیل میں سے ہیں۔ عصرِ حاضر کے اکثر ماہرینِ انساب اور مؤرخین کی یہی رائے ہے۔سید سلیمان ندوی   ؒکی بھی یہی رائے معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ باب’’جغرافیہ عرب از تورات‘‘ میں لکھتے ہیں

’’قبائل اسماعیلیہ کا دوسرا نام ’بنو ہاجرہ ‘یا ہاجرین بھی تھا۔اس نا م سے بھی تورات میں ان کا ذکر آیا ہے۔بنو اسماعیل یا بنو ہاجرہ میں سے دو قبیلے نامور ہوئے۔نبایوت(نبطین) یا قیدار۔‘‘[9]

موصوف آگے چل کر اس سے بھی زیادہ صریح الفاظ میں فرماتے ہیں

’’نبط: نجد سے سواحل بحر احمر، عقبہ و بادیۂ شام تک کی حکومت مسیح (سے) دو تین سو برس پیشتر نبط بن اسماعیل کے اولاد کے ہاتھ میں تھی۔نبط کی جمع انباط اور نبطین ہے۔‘‘[10]

معلوم ہوا کہ سید سلیمان ندوی  بھی نبطین یعنی انباط کو نابت بن اسماعیل (نبایوت ) کی اولاد میں شمار کرتے ہیں۔ڈاکٹر جواد علی نے بھی اپنی معرکة الآرا کتاب ’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘ میں انباط کو عرب قبیلہ تسلیم کیا ہے۔

اصحابِ کہف

قرآن حکیم میں اصحاب کہف کا تذکرہ کسی قدر تفصیل سے وارد ہوا ہے۔یہاں تک کہ ایک سورہ اسی نام سے موسوم ہے۔ سورة الکہف میں ارشاد ہے

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَہْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوا مِنْ آیّتِنَا عَجَباً

(الکہف:١١٠)

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غار اور رقیم والے ہماری (قدرت کی) عجیب نشانی تھے۔

اس آیت مبارکہ میں رقیم سے کیا مراد ہے؟اس بارے میں مفسرین کے تین اقوال زیادہ مشہورہیں

١۔ رقیم اس حجری کتبے کا نام ہے جس پر اصحاب کہف کے نام کندہ تھے اور یہ کتبہ اس غار کے باہر نصب تھا۔

٢۔ رقیم اس شہر کا نام تھا جس میں اصحاب کہف غار میں چھپنے سے پہلے ،سکونت پذیر تھے۔

٣۔ اس وادی کا نام ہے جس میں یہ غار واقع تھا۔

           عمان(اردن) میں ایک قدیم شہر ایستادہ ہے جسے مغربی مؤرخین پیٹرا کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اس شہر کی عمارات پہاڑوں کو تراش کر نہایت خوبصورت انداز میں تعمیر کی گئی ہیں۔یہاں سے ملنے والے آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شہر کا اصل مقامی نام رقیم تھا۔قدیم مؤرخ فلیویس جوزفس نے بھی لکھا ہے کہ پیٹرا کا اصل نام رقیم تھا۔ عرب کے اس شہر رقیم کا تذکرہ قدیم مصری کتبات اور بحر میت سے ملنے والے قدیم نوشتوں میں بھی موجود ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ شہر انباط کا مرکزی شہر تھا۔[11]

رقیم کے باشندے(بشمول اصحاب کہف ) اصلاً دین مسیح کے پیروکار تھے۔جب رومی بادشاہ دقیوس  (ڈیکیس) نے 249 ء میں جنوبی روم کا اقتدار سنبھالا تو اس نے رقیم پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران اس نے دین مسیح کے پیرو کاروں پر تشدد کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر دیا۔یہاں تک کہ بہت سے مسیحیوں کو مار ڈالا۔[12]

ظن غالب یہی ہے کہ اصحاب کہف بھی انباط تھے اور ان کا تعلق آل اسماعیل سے تھا، کیوں کہ وہ بھی رقیم کے باشندے تھے۔واللہ اعلم بالصواب

المَناذِرہ

خلیج العربی کے شمالی و مغربی ساحل کے ساتھ واقع ایک وسیع پٹی زمانہ قبل از اسلام میں البحرین کے نام سے مشہور تھی، جس کا دارالحکومت الحِیرہ کہلاتا تھا۔تقریباً تیسری صدی عیسوی میں یہاں  عدنان کی اولاد میں سے عمرو بن عدی کی حکومت قائم ہوئی۔یہ سلسلۂ بادشاہت رسول اکر م  ﷺکے مبارک زمانہ تک چلتا رہا جب اس سلسلہ کے بادشاہ منذر بن ساویٰ نے رسول  ﷺ کی دعوت پرمشرف بہ اسلام ہوکر اطاعت قبول کرلی۔اس سلسلہ کے بادشاہوں نے المنذر کا لقب اختیار کیا۔جس کی وجہ سے اس سلسلۂ بادشاہت کو المناذرہ (واحد: المنذر)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایک قول کے مطابق المناذِرہ آلِ اسماعیل کی بجائے بنو قحطان میں سے تھے، تاہم ان کا آلِ اسماعیل میں سے ہونے کا قول زیادہ قوی اور قابل اعتمادہے۔[13]

سورہ قٓ  میں اصحاب الایکہ(تبوک) اور اصحاب الرس (یمامہ) کا تذکرہ اشارتاً کیا گیا ہے۔ اہلِ تحقیق کا ماننا یہ ہے کہ یہ لوگ آل اسماعیل میں سے تھے۔[14]

 


[2]  البدایہ والنہایہ: ٣/١٨٠

 

[3] لسان العرب،ج ٧، ص ٤١١، مادہ:  نبط

 

[4] مصباح اللغات: ص ٨٤٩

 

[5] لسان العرب:ج ٧، ص ٤١١

 

[7] سید سلیمان ندوی، تاریخ ارض القرآن، جلد ۱، صفحہ ۴۳

[8] ایضاً، صفحہ ٤٥

 

[9] تاریخ ارض القرآن، ص ٥٧

 

[10] ایضاً: ص ۶۷

[13] سیرت ابن ہشام مع الروض الانف:ج ١، ص ٥٣

 

[14] السیرة الحلبیہ، ج ١، ص ٣٤

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading