2024-07-17
قمری تقویم

اسلامی قمری تقویم کی بنیادیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للّٰہ رب العٰلمین و الصلٰوة والسلام علٰی سید المرسلین وعلٰی آلہ و اصحابہ اجمعین، اما بعد

          اسلامی تہذیب کا ایک نمایاں وصف خالص قمری تقویم ہے، جس کی بنیاد منازلِ قمرپر رکھی گئی ہے۔اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے

                ھُوَالَذِیْ جَعَلَ الشَمْسَ ضِیَآ وَّالقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَرَہ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِنِیْنَ وَالحِسَابَ ج  مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالحَقِّ  یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ

یونس:٥

          وہی(اللہ) ہے جس نے سورج کو ضیا اور چاند کو چمکتا ہوا بنایا اور اس نے اس (چاند) کی منزلیں مقررکردیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔ اللہ نے یہ سب حق کے ساتھ پیدا فرمایا ، وہ اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے علم والوں کے لئے۔

منازلِ قمر

          دینِ اسلام نے ماہانہ و سالانہ عبادات کو شمسی تقویم کی بجائے قمری تقویم سے متعلق کیا ہے،جس کا ایک سبب یہ ہے کہ منازلِ قمر ظاہری آنکھ سے دکھائی دیتی ہیں،لہٰذا ہر صاحبِ بصارت ان کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ چاند کی پہلی منزل ہلال ہے جو ایک نورانی قوس کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد چاند کی قوس بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ چاند بدر کی شکل میں طلوع ہوتا ہے۔پھر یہ گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور گھٹتے گھٹتے نظروں سے بالکل اوجھل ہو جاتا ہے۔پھر اگلی رات دوبارہ ہلال کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ منازلِ قمر کے اس مکمل چکر کو دورِ قمرکہتے ہیں۔اسی دورِ قمر کو ایک ماہ شمار کرتے ہیں جو کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دنوں کا۔منازلِ قمر کے برعکس ، منازلِ شمس کا مشاہدہ عام آدمی نہیں کرسکتا، اس کے لئے نہایت تردد و مشقت اور مسلسل ریاضت ومہارت کی ضرورت ہوتی ہے،جس کا عام آدمی مکلف نہیں ہو سکتا۔یوں بھی سورج کی کوئی ایسی ظاہری علامت نہیں کہ جس سے شمسی مہینے اور سال کے آغاز کا اندازہ کیا جاسکے۔یہی سبب ہے کہ شمسی تقویم میں مہینوں کے دنوں کا تعین فطرت کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کا انحصارانسانی عقل پر ہوتا ہے۔چنانچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں شمسی مہینوں کے دنوں کی تعداد بدلتی رہی ہے۔اسی طرح شمسی سال کے دورانیے کا تعین بھی ظاہری مشاہدے کی بنیاد پر ممکن نہیںبلکہ اس کے لئے ریاضیاتی حسابات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ علمِ فلکیات میں انتہائی ترقی کے باوجود زمین کی سورج کے گرد گردش کی مدت (365.25دن)  جو آج ہم جان سکے ہیں ، وہ محض اوسط مقدار ہے،ناں کہ اصل مقدار۔اسکی اصل مدت کا تعین تقریباً ناممکن ہے کیونکہ زمین کی رفتارِ حرکت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی ،بلکہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اسی لئے عیسوی شمسی تقویم میں کئی مرتبہ اصلاحات کے باوجود اس میں نقائص موجود ہیں۔غرض جس یقین و قطعیت کے ساتھ قمری ماہ وسال کا تعین کیا جاسکتا ہے، شمسی تقویم اس قطعیت سے محروم ہے۔ اس لئے اسلام میں قمری تقویم کو شمسی تقویم پر ترجیح دی گئی ہے۔

          منازلِ قمر کی سائنسی توجیہہ یہ ہے کہ چاند، زمین کے گرد قدرے بیضوی مدار میں مخالف گھڑی وارگردش کرتا ہے، جب کہ زمین اپنے چاند سمیت سورج کے گرد مخالف گھڑی وار گردش کرتی ہے۔چاند کی زمین کے گرد گردش کے دوران ایک مقام ایسا آتا ہے کہ سورج ،زمین اور چاند اس طرح ایک سیدھ میں آجاتے ہیں کہ چاند، سورج اور زمین کے درمیان ہوتا ہے۔اس حالت میں ایک خط سورج ،چاند اور زمین کے مراکز کو ملاتا ہے۔اس لمحے کو فلکیاتی اصطلاح میں قِرانِ شمس و قمر یا اجتماعِ 

شمس و قمر کہتے ہیں۔ملاحظہ کیجئے شکل نمبر ١۔

 

چاند سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ روشن دکھائی دیتا ہے۔قِران کے وقت چاند کا روشن حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے اور چاند کا وہ رخ زمین کی طرف ہوتا ہے جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ رہی ہوتی۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قِران کے وقت چاند زمین سے دکھائی نہیں دیتا۔ اس فطری مظہر کو محاق کہا جاتا ہے جس کا لغوی مطلب ہے مٹ جانا۔ کیونکہ چاندوقتِ قران ظاہراً آسمان سے مٹ جاتا ہے، اس لئے اس لمحے کو محاق بھی کہتے ہیں۔

 ( محمد موسیٰ روحانی البازی، الھیئة الوُسطٰی: ص  ٤٠٥۔٤٠٦) 

ا س تاریک چاند کو جدیدفلکیاتی اصلاح میں نیو مون کہا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ماہرینِ فلکیات نیو مون کو ڈارک مون بھی کہتے ہیں۔

          چاند اور سورج مسلسل حرکت میں ہیں، ان کی رفتارِ حرکت مختلف ہونے کی وجہ سے چاند سورج سے پیچھے رہ جاتا ہے،لہٰذا محاق کے بعد چاند اور سورج کے قرص  ایک دوسرے سے الگ ہونے لگتے ہیں۔جس کے نتیجے میں چاند کے روشن حصے کا نہایت باریک کنارہ ایک قوسِ نورکی شکل میں برآمد ہوجاتا ہے۔ ابتدا میں یہ قوسِ نور اس قدر باریک اور چھوٹی ہوتی ہے کہ زمین سے دکھائی نہیں دیتی ۔ اس کے نظر نہ آنے کا ایک سبب سورج کی تیز روشنی بھی ہے، جیسے چراغ کی لو سورج کی روشنی میں نظر نہیں آتی، ایسے ہی ابتدائی قوسِ نور سورج کی تیز روشنی میں نظر نہیں آتی۔ آہستہ آہستہ سورج اور چاند کا درمیانی زاویائی فاصلہ بڑھتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے قوسِ نور بڑی اور موٹی ہونے لگتی ہے۔ چونکہ قوسِ نور سورج اور چاند کے درمیان زاویائی فاصلہ کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے اس لئے اس کی پیمائش درجاتِ زاویہ کے ذریعے کی جاتی ہے، جب قوسِ نور کی مقدار تقریباً  دس درجے ہوجاتی ہے تو یہ زمین سے دکھائی دیتی ہے،اس قابلِ مشاہدہ قوسِ نور کو شرعی اصطلاح میں  ہِلال   کہتے ہیں۔کسی مخصوص مقام سے خالی نظر سے ہِلال کے دکھائی دینے کے لئے ضروری ہے کہ قوسِ نور کی مقدار دس درجے ہو اور غروبِ شمس کے وقت چاند افق سے کم از کم آٹھ (٨)  درجے بلند ہو۔دنیا کے جن مقامات پر مذکورہ شرطیں پوری ہوں وہاں ہلال دکھائی دینے کا قوی امکان ہوتا ہے۔وہ تمام علاقے جہاں ہلال دکھائی دیتا ہے ، انہیں مجموعی طور پر مطلعِ قمر کہتے ہیں۔پوری دنیا میں ہلال ایک ہی دن دکھائی نہیں دیتا ،بلکہ مختلف مقامات پر مختلف دنوں میں نظر آتا ہے۔ہلال کا اس طرح مختلف ایام میں دکھائی دینے کے مظہر کو اختلافِ مطالع کہتے ہیں۔

          جوں جوں دن گزرتے ہیں قوسِ نور کی مقدار بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ یہ ایک سو اسی (١٨٠) درجے ہو جاتی ہے تو چاند بدر کی شکل میں طلوع ہوتا ہے۔اس کے بعد قوسِ نور پھر گھٹنا شروع ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ قوسِ نور غائب ہوجاتی ہے۔اس لمحے دوبارہ قِرانِ شمس وقمر ہوتا ہے،جو کہ عموماً قمری ماہ کی آخری تاریخ کوہوتا ہے۔ قران کے دوران چاند اوسطاً بیس (٢٠) گھنٹے تک زمین والوں کے لئے غائب رہتا ہے۔تا آنکہ قوسِ نور دوبارہ دس  درجے ہوجائے اور نیا ہلال زمین سے دکھائی دینے لگے۔ اس طرح ایک دورِ قمر مکمل ہو جاتا ہے۔

رؤیتِ ہلال

          قرآن حکیم نے اس دورِ قمر کو مختصراً ان الفاظ میں بیان کیا ہے

                وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ

  یٰسین: ٣٩

          اور ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کردیں ،یہاں تک کہ وہ دوبارہ کھجور کی بوسید ہ خمدارشاخ کی طر ح ہو جاتا ہے۔

اَلْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْم کا  لغوی مطلب کھجور کی بوسیدہ شاخ ہے جو سوکھ کرپتلی اور خمدار ہوجاتی ہے۔اس سے مراد نیا ہلال ہے جو قمری ماہ کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے۔

لسان العرب

پس اسلامی قمری ماہ کی ابتدا قابلِ رؤیت ،ہلال سے ہوتی ہے ناں کہ قرانِ شمس وقمر سے۔

          باور کر لیجئے کہ رؤیتِ ہلال نہایت اہم فقہی مسئلہ ہے جس کے بارے شرع نے واضح اور دوٹوک ہدایات فراہم کی ہیں۔ارشادِباری تعالیٰ ہے

یَسْئَلُوْنَکَ  عَنِ الْاَھِلَّةِ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ

        البقرة: ١٨٩

اے نبی یہ لوگ آپ سے ہلال کے بارے پوچھتے ہیں،انہیں بتا دیجئے کہ یہ لوگوں کے لئے اور حج کے لئے مواقیت (معیارِ وقت) ہیں۔

          سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ثعلبہ بن غنم رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہلال کا کیا معاملہ ہے کہ یہ دھاگے کی مانند باریک حالت سے ابتدا کرتا ہے، پھر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے حتیٰ کہ پورا چاند طلوع ہوتا ہے، پھر گھٹتا رہتا ہے حتیٰ کہ ابتدائی حالت پر لوٹ آتا ہے، سورج کی طرح ایک حالت پر قائم نہیں رہتا؟ تب سورة البقرہ کی مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔

فخرالدین الرازی ، مفاتیح الغیب: ج ٢ ، ص ٢٨١

اس آیت سے پہلے رمضان المبارک کا بیان جاری ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے

                فَمَنْ شَھِدَمِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ 

          البقرة :٨٥ا

          تم میں سے جو کوئی (رمضان کا ) مہینہ پائے ،اسے چاہیے کہ وہ پورے مہینے کے رووزے رکھے۔

          رمضان کا مہینہ پانے سے مراد رمضان کی رؤیتِ ہلال ہے، جیسا کہ شارح ِقرآن محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے وضاحت کی ہے

          سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

       صُوْمُوْا  لِرُؤیَتِہِ وَافظِرُوْا لِرُؤیَتِہِ

          ( مسند احمد:  ح  ٩٣٦٥ ،  صحیح بخاری: ح  ١٩٠٩،  صحیح مسلم : ح  ١٠٨١)

          ہلال دیکھ کر روزے رکھو اور ہلال دیکھ کر روزہ رکھنا موقوف کرو۔

          رؤیتِ ہلال سے متعلق یہ قولی حدیث حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہے۔ متعدد صحابہ ٔ  کرام رضی اللہ عنہم نے رؤیتِ ہلال سے متعلق احادیث روایت کی ہیں، جن میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا حذیفہ بن الیمان، سیدنا انس بن مالک اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان ،حج،عیدین اور دیگر 

قمری مہینوں کا معیارِ وقت  رؤیتِ ہلال ہے ناں کہ ڈارک مون۔

 

          سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں ہلالِ رمضان دیکھنے کے لئے جس قدر اہتمام فرماتے تھے ، اتنے تردد کے ساتھ دوسرے مہینوں کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔

مسند احمد: ح  ٢٥٦٧٦،  سنن ابو داؤد: ح  ٢٣٢٥

          سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا ” میں نے رمضان کا ہلال دیکھا ہے”، آپ نے فرمایا ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں ؟” اس نے کہا ”جی ہاں”پھر آپ نے فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟” اس نے کہا ”جی ہاں” تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اے بلال! لوگوں میں منادی کردو کہ کل کا روزہ رکھیں۔’

سنن ابوداؤد: ح  ٢٣٤٠

          سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں (صحابہ کرام ) نے ہلال دیکھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے ہلال دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام  کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔

سنن ابو داؤد: ح  ٢٣٤٢

          سیدنا نافع بن عبداللہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں جب شعبان کے انتیس دن گزر جاتے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی کو ہلال دیکھنے کے لئے بھیجتے تھے۔

مسند احمد : ح  ٤٤٨٨

          نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ، آپکے اپنے عمل اور صحابہ کرام  کے تواتر عملی سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی قمری مہینے کی ابتدا رؤیتِ ہلال سے ہوتی ہے، نیو مون کی ولادت سے نہیں۔نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رؤیتِ ہلال سے مراد محض ولادتِ ہلال نہیں بلکہ مغربی افق پر ہلال کا ظاہر ہونا مراد ہے۔

          لغاتِ قرآن کے ماہر امام حسین بن محمد راغب اصفہانی  رحمة اللہ علیہ (متوفیٰ ٥٠٧ ھ) فرماتے ہیں:

       اَھَلَّ الْہِلَال کے معنی (نیا) چاند نظر آنے کے ہیں۔

          (مفردات القرآن: ج ٢ ،  ص ١١٦٦)

          امام فخرالدین محمد بن ضیا ء الدین عمر الرازی الشافعی رحمة اللہ علیہ( متوفیٰ ٦٠٦ ھ)  فرماتے ہیں

       الاھلة جمع الھلال و ھو اول حال القمر حین یرا ء الناس

                   مفاتیح الغیب: ج ٢ ،  ص ٢٨١

          اھلة جمع ہے ہلال کی، یہ چاند کی پہلی حالت ہے جس کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں۔

          شیخ الاسلام امام موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد ابن قدامہ الدمشقی الحنبلی رحمة اللہ علیہ ( متوفیٰ٦٣٠ ھ)  فرماتے ہیں

       سرر الشھر آخرہ لیال یستسر الھلال فلا یظھرہ

        ( المغنی والشرح الکبیر:  ج ٣،  ص ١٥)

          اور قمری ماہ کی تاریک راتیں اس کے آخر میں ہوتی ہیں جب چاند چھپا رہتا ہے اور مطلق ظاہر نہیں ہوتا۔

          حافظ تقی الدین ابو لعباس احمد بن تیمیہ الحنبلی  رحمة اللہ علیہ ( متوفٰی ٧٢٨ ھ) فرماتے ہیں

      فالمقصود  ان المواقیت حددت با مر ظاہر بیّن یشترک فیہ الناس ولا یشترک الھلال فی ذالک شئی ، فان اجتماع الشمس والقمر الذی ھو تحاذیھما الکائن قبل الھلال : امر خفی لا یعرف الا بحساب ینفرد بہ بعض الناس       

                                                                                      مجموع فتاوٰی ابن تیمیة: ج ٢٥،  ص ١٣٦

          مقصود یہ ہے کہ اوقات( قمری ) کی حد بندی ایسی ظاہرو واضح شے سے کی گئی ہے جو تمام انسانوں کے لئے یکساں ہے، ہلال کے مقابلے میں کوئی شے ا سکی برابری نہیں کر سکتی ۔، بلا شبہہ اجتماعِ شمس وقمر ،جو کہ ظہورِ ہلال سے قبل واقع ہوتا ہے، ایک پوشیدہ امر ہے جسے ایسے حساب کے ذریعے ہی معلوم کیاجاسکتا ہے جو چند لوگوں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔

          امام عبداللہ بن احمد النسفی الحنفی رحمة اللہ علیہ  (متوفیٰ ٧١١ ھ)  فرماتے ہیں

       و یثبت رمضان برؤیة ھلالہ

          ( کنز الدقائق: ص ٦٧)

          رمضان کا مہینہ رؤیت ِ ہلال سے ثابت ہوتا ہے۔

          امام ابوالولید محمد بن احمد ابن رشد القرطبی المالکی رحمة اللہ علیہ (متوفیٰ  ٥٩٥ ھ) فرماتے ہیں

       و علیٰ ان اعتبار فی تحدید شھر رمضان انما ھو الرؤیة

          بدایة المجتھد: ج ١،  ص ٢٠٧

          رمضان المبارک کی تحدید کے لئے اصل اعتبار صرف رؤیتِ ہلال کا ہے

ٍٍٍ          غرض اسلامی قمری مہینے کا آغاز ہلالِ مشہودہ سے ہوتا ہے ناں کہ نیومون جیسے پوشیدہ مظہر سے۔

ہلال یا نیو مون؟

نیو مون دن رات (چوبیس گھنٹوں ) میں سے کسی بھی لمحے واقع ہوسکتا ہے، اس لئے اس کی حد بندی ممکن نہیں کہ فلاں وقت نیومون پیدا ہوجائے تو قمری مہینہ شروع کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا انکار نیومون سسٹم کے حامی بھی نہیں کرسکتے۔اس کے برعکس اسلامی قمری مہینے کا آغاز غروبِ آفتاب سے ہوتا ہے ،بشرط یہ کہ طلوع ِفجر سے پہلے ہلال دکھائی دے جائے۔جبکہ نیومون سسٹم میں دن کی ابتدا کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ دن کے بارہ بجے یا رات کے بارہ بجے سے دن کا آغاز مانتے ہیں، وہ شرعِ اسلام سے ناواقف ہیں۔اگر دن کے بارہ بجے سے نئے دن کی ابتدا تسلیم کی جائے تو آدھا روزہ ایک دن میں ہوگا اور آدھا دوسرے دن میں، اسی طرح رات کے بارہ بجے سے دن کی ابتدا مانی جائے تو نصف لیلة القدر ایک دن میں شامل ہوگی اور نصف دوسرے دن میں۔ظاہر ہے کہ یہ دونوں صورتیں عقلِ صریح اور شرعِ مبین کے منافی ہیں۔یہی معاملہ ایامِ حج اور دیگر عبادات میں پیش آئے گا جو کہ بداہتاً غلط ہے۔

          یہ بدیہی حقیقت ہے کہ قرانِ شمس و قمر کے سبب اسی دن سورج گرہن لگتا ہے، سورج گرہن کبھی جزوی ہوتا ہے کبھی کلّی۔ ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے دوران مدینہ منورہ میں تین مرتبہ سورج گرہن لگا۔ایک بار جزوی طور پر اور دو بار کلی طور پر۔مگر نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے کبھی سورج گرہن کے دن (نیومون) سے قمری مہینے کا آغاز نہیں کیا۔

          ان میں سے آخری سورج گرہن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سال لگا،جوکہ طویل ترین اور کامل سورج گرہن تھا۔اس وقت مکہ و مدینہ میں عین دن کے وقت مکمل اندھیرا چھا گیا اور تقریباً اڑھائی گھنٹے سورج کو گرہن لگا رہا۔ اتنے واضح سورج گرہن کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرانِ شمس وقمر   ( نیومون ) سے قمری مہینے کا آغاز نہیں کیا۔سورج گرہن کی مذکورہ تفصیل قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری  نے بھی بیان کی ہے۔

رحمةً للعالمین: ج ٢  ص ٩١

اختلافِ مطالع معتبر نہیں

          رؤیتِ ہلال کے ضمن میں ایک نہایت اہم مسئلہ یہ ہے کہ رؤیتِ ہلال کے لئے اختلافِ مطالع شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟یعنی پہلے دن نظر آنے والا ہلال ساری امت کے لئے کافی ہے یا ہر علاقے کے لوگ اپنے ہاں ہلال نظر آنے کا انتظار کریں گے؟اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ساری امت کے لئے ایک ہی متفقہ قمری تقویم کافی ہے  یا ہر علاقے کی جدا گانہ قمری تقویم ہونا چاہیے؟

          امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی(٨٠  ۔  ١٥٠ ھ)، امام ابو عبداللہ مالک بن انس المدنی  ( ٩٣  ۔  ١٧٩ھ)،  امام ابو الحارث اللیث بن سعد المصری ( ٩٤ ۔ ١٧٥ ھ)، امام ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی البغدادی  ( ١٦٤  ۔  ٢٤١ ھ) رحمة اللہ علیہم  کا مسلک ِ مختار یہ ہے کہ اگر دنیا کے کسی ایک علاقے میں ہلال نظر آجائے تو وہ تمام امتِ مسلمہ کے لئے کافی ہے، اس سلسلے میں اخلافِ مطالع معتبر نہیں۔

          امام عبد اللہ بن احمد النسفی الحنفی رحمة اللہ علیہ ( متوفی ٰ  ٧١١ھ)  فرماتے ہیں

      ولا عبرة لاختلاف المطالع

          ( کنز الدقائق: ص ٦٧)

          اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

          فقہ حنفی کے محقق امام عبداللہ بن محمود الطحطاوی  رحمة اللہ علیہ (م ١٢٣١ ھ)فرماتے ہیں

و اذا ثبت الھلال فی بلدة و مطلع قطرھا لزم سائرالناس فی ظاہر المذھب و علیہ الفتوی، و ہو قول اکثرالمشائخ۔

جب کسی ایک شہرمیں جوکہ مطلعِ قمر میں واقع ہو، رؤیتِ ہلال ثابت ہوجائے تو ظاہر مذہب میں تمام لوگوں پر اس کی اتباع لازم ہوجاتی ہے، اسی پر فتوی ہے اور یہی اکثر مشائخ کا قول ہے۔” 

حاشیة الطحطاوی، ص ٦٥٦

فقہ حنفی کے جید امام جو خاتمة المحققین کے لقب سے معروف ہیں، یعنی علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی رحمة اللہ علیہ (١١٨٩۔١٢٥٢ ھ)  اختلاف المطالع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں

          ’’اختلاف المطالع کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، یعنی کہ آیا ہر قوم پر اپنے مطلع کا اعتبار کرنا فرض ہے اور کسی پر کسی دوسری قوم کے مطلع پر عمل کرنا لازم نہیں یا اختلاف المطالع کا کوئی اعتبار نہیں بل کہ سب سے پہلے ثابت ہونے والی رؤیت پر عمل کرنا سب پر واجب ہے، یہاں تک کہ اگر مشرق میں جمعہ کی رات رؤیت ہوئی ہو اور اور مغرب میں ہفتے کی رات کو تو کیا اہل مغرب پر اہل مشرق کی رؤیت کی اتباع واجب ہوگی؟ ایک قول پہلی رائے کے مطابق ہے جس پر امام زیلعی اور صاحب الفیض نے اعتماد کیا ہے، شافعیہ کا قول یہی ہے،ان کی دلیل یہ ہے کہ ہر قوم اسی کی مخاطب ہے جو اس کے علاقے میں ظاہرہوتا ہے جیسے نمازوں کے اوقات۔ اسی کی کتاب الدرر میں تائید کی گئی ہے جیسا کہ پہلے یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ جس شخص پر عشاء کا وقت آیا ہی نہیں اس پر عشاء اور وتر فرض ہی نہیں ہوتے۔ اس کے بر عکس فقہ حنفی کی ظاہرو مشہور روایت دوسرا قول ہے۔احناف، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک معتمد قول یہی(دوسرا)قول ہے۔اس قول کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان صوموا لرؤیتہ   (ہلال دیکھ کر روزہ رکھو) میں خطاب عام ہے، جبکہ نمازوں کے اوقات کا معاملہ اس کے بر عکس ہے۔‘‘

ردالمحتار علی الدر المختار: ج ٣، ص ٣٦٤

علامہ ابن عابدین الشامی  رحمة اللہ علیہ نے واضح فرمادیا ہے کہ احناف ہی نہیں بلکہ مالکیہ اور حنابلہ کا مختارو معتمد مسلک یہی ہے کہ اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں بل کہ دنیا میں سب سے پہلے ہونے والی رؤیت کی اتباع تمام امت پر لازم ہے، خواہ رؤیت کا مقام ان سے کتنے ہی فاصلہ پر واقع ہو۔

          امام ابوالولید محمد بن رشد القرطبی المالکی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

       فاما مالک فان ابن القاسم والمصریین  رووا عنہ انہ اذا ثبت عند اہل بلد أن اہل بلد اٰخر راوا لہلال أن علیہم قضا ذٰلک الیوم الذی افطروہ و صامہ غیرھم  و بہ قال الشافعی و احمد

          بدایة المجتھد : ج ١، ص ٢١٠

          جہاں تک امام مالک بن انس رحمة اللہ علیہ کا تعلق ہے تو امام ابن القاسم المالکی اور مصری علماء ان سے روایت کرتے ہیں کہ جب ایک شہر کے باشندگان پر ثابت ہو جائے کہ دوسرے شہر والوں نے ان سے پہلے ہلال دیکھ لیا تھا تو ان پر اس دن کی قضا لازم ہے جس کا روزہ انہوں نے نہیں رکھا، جبکہ دوسرے شہر والوں نے اس دن روزہ رکھا تھا۔امام محمد بن ادریس الشافعی اور امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہما کا بھی یہی مؤقف ہے۔

          شیخ الاسلام امام موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد بن قدامہ الدمشقی الحنبلی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

       واذا رأی الہلال اہل بلد لزم جمیع البلاد الصوم

          المغنی والشرح الکبیر: ج ٣ ص

          جب ایک شہر کے باشندگان ہلال دیکھ لیں تو تمام شہروں کے باشندگان پر روزہ رکھنا لازم ہوجاتا ہے۔

          شیخ الاسلام امام ابوالعباس احمد بن تیمیہ الحنبلی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

فالضابط أن مدارالامر علی البلوغ لقولہ ’’ صوموا  لرؤیتہ‘‘ فمن بلغہ أنہ رؤی ثبت فی حقہ من غیر تحدید بمسافة اصلا

                                                                                      مجموع فتاویٰ ابن تیمیة: ج ٢٥، ص ١٠٧

          نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان (ہلال دیکھ کر روزہ رکھو) کی بنیاد پر ضابطہ یہ ہے کہ اصل مدار ،رؤیتِ ہلال کی اطلاع پہنچنے پر ہے، پس جس شخص تک یہ اطلاع پہنچ گئی کہ ہلال نظر آگیا ہے، اس کے حق میں ہلال ثابت ہو گیا۔اس سلسلے میں مسافت و فاصلہ کی کوئی حد مقرر نہیں ۔

          شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ   مزید فرماتے ہیں

       فاذا شھد شاھد لیلة الثلاثین من شعبان انہ رآہ بمکان من امکنة قریب او بعید وجب الصوم    

(ایضا ص ١٠٥)

          جب شعبان کی تیسویں رات گواہی دینے والا گواہی دے کہ اس نے کسی ایک مقام پر ہلال دیکھا ہے، خواہ یہ مقام قریب ہو یا دور، توروزہ فرض ہوگیا۔

          امام منصور بن یونس البہوتی الحنبلی  رحمة اللہ علیہ( متوفیٰ  ١٠٥١ھ)  فرماتے ہیں

       واذا رآی  اہل بلد ای متی ثبت رؤیت ببلد لزم الناس کلہم الصوم لقول صلی اللہ علیہ وسلم : صوموا لرؤیتہ، و ھو خطاب للامة کافة  

الروض المربع: ص ۱۸۸

          جب ایک شہر کے باشندگان ہلال دیکھ لیں یعنی ایک شہر میں رؤیت ِ ہلال ثابت ہوجائے تو تمام لوگوں پر روزہ واجب ہوجاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرما ن (ہلال دیکھ روزہ رکھو) کی وجہ سے ، یہ خطاب ساری امت کے لئے  عام ہے۔

          فضیلة الشیخ ابراہیم بن محمد بن سالم بن ضویان الحنبلی رحمة اللہ علیہ ( متوفیٰ  ١٣٥٣ھ)فرماتے ہیں

یجب صوم رمضان برؤیة ہلالہ  علی جمیع الناس لقولہ تعالی فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ

منارالسبیل: ج ١، ص ٢١٧

          اللہ تعالیٰ کے فرمان( تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اسے چاہیے کہ وہ پورے مہینے کے روزے رکھے)سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کا ہلال نظر آجائے تو سب لوگوں پر رمضان کے روزے فرض ہوجاتے ہیں۔

          فقہائے امت کے مذکورہ اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں ایک مقام پر رؤیتِ ہلال ثابت ہوجائے تو وہ ساری امت کے لئے کافی ہے، ہر علاقے کے مسلمانوں کو اپنے علاقے میں ہلال نظر آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ عالمگیر امت کے لئے ایک ہی متفقہ عالمگیر قمری تقویم ضروری ہے۔ان اقوال میں جن دلائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ سابقہ سطور میں گزر چکے ہیں لہٰذانکی تکرار کی ضرورت نہیں۔تاہم ایک مزید دلیل اتمام ِحجت کے لئے بیان کیے دیتے ہیں:

          سیدنا ربعی بن حراش رحمة اللہ علیہ( تابعی ) اصحابِ رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام  نے رمضان لمبارک کاتیسواں روزہ رکھا ہوا تھا۔ اسی روز مدینہ کے باہر سے دو اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے پچھلی شام ہلال دیکھا تھا۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ روزہ توڑ دو اور کل صبح عید کے لئے نکلو۔

مسند احمد: ح  ١٩٠٢٩، ٢٣٤٥٧، سنن ابو داؤد

          سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے کہ مدینہ میں آنے والے مذکورہ اعرابی مسافر تھے، جو کسی دور دراز علاقے سے سوار ہوکر آئے تھے۔

نیل الاوطار: ج ٤، ص ٢١٣  بحوالہ مسند احمد و صحیح ابن حبان

          یہ حدیثِ صحیح، اختلافِ مطالع کو رد کرنے کے لئے صریح نص ہے اور ثابت کرتی ہے کہ ہر علاقے کے لئے جداگانہ تقویم کا تصور صریحاً غلط ہے۔آج امتِ مسلمہ میں رمضان المبارک اور عیدین کے حوالے سے جو اختلاف و انتشار پایا جاتا ہے،اس کا سبب یہ کہ ہم نے شریعت کی اصل تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور علاقائی و گروہی تعصبات کے سبب خالص دینی معاملے کو فانی و حقیر سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔حد یہ ہے کہ پاکستان جیسے محدود قلیل رقبے کے حامل ملک میں تین دن عید پڑھی جاتی ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ تین مختلف و متواتر دنوں میں ایک ہی قمری تاریخ ہو؟ عقلاً و شرعاًایسا ہونا محال ہے، پھر علمائے حق ،دین کے ساتھ اس صریح مذاق پر خاموش کیوں ہیں؟

          کہا جاتا ہے کہ امام محمد بن ادریس الشافعی المکی رحمة اللہ علیہ ( ١٥٠ ۔ ٢٠٤ھ) اور انکے کئی اصحاب  اختلافِ مطالع کے معتبر ہونے کے قائل ہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ اما م شافعی رحمة اللہ علیہ کے اس مسئلہ میں مختلف اقوال ہیں، جن میں سے ایک قول جمہور امت کے موافق ہے،جیسا کہ بدایة المجتھدکے حوالہ سے اوپر مذکور ہے، ہاں انکے بعض اصحاب اختلافِ مطالع کے معتبر ہونے کے ضرور قائل ہیں۔کما قال ابنِ قدامہ الحنبلی  ( المغنی والشرح الکبیر : ج ٣ ،  ص ٧)  امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل میں ایسی شاذ رائے قابلِ اعتنا نہیں۔قرآن وسنت کے دلائل اور فقہائے امت کے مذکورہ بالا اقوال سے واضح ہے کہ اقرب الیٰ الحق رائے جمہور امت کی ہے اوراختلافِ مطالع کے اعتبار کا قول خطا پر مبنی ہے،جس کی کوئی صریح عقلی و شرعی دلیل موجود نہیں۔ اگر اختلافِ مطالع کو معتبر تسلیم کرلیا جائے تو وہ کونسی عقلی اور شرعی دلیل ہے جس کے ذریعے مطالعِ قمر کی حد بندی کی جاسکے؟ سابقہ سطور میں وضاحت کردی گئی ہے کہ مطلعِ قمر ہر ماہ تبدیل ہو تاہے،لہٰذا اسے کسی ایک خطے کے ساتھ مقید نہیں کیا جاسکتا۔ امتِ واحدہ،پچاس سے زائد سیاسی وحدتوں میں تقسیم ہوچکی ہے، مگر ان مسلم ممالک کی موجودہ سیاسی حدود کی کوئی غیر متغیر و مستقل حیثیت نہیں، وقت کے ساتھ ان میں تبدیلی ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی تبدیلی کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا ۔پھر وہ کونسی شیء ہے جس کی بنیاد پر مطالع کی حد بندی کی جائے؟اختلافِ مطالع کے اعتبار کے قائل بعض علماء نے مسافتِ قصر اور بعض نے اقالیم (قدیم صوبے) کی حدود کو مطالع کی حد بندی کے لئے مناسب گردانا، حالانکہ ان دونوں تجاویز کی بنیاد کوئی عقلی و شرعی دلیل نہیں۔شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ الحنبلی رحمة اللہ علیہ ان تجاویز کے بارے فرماتے ہیں 

       و کلاھما ضعیف فان مسافة القصر لا تعلق لھا با لہلال  و اما الاقالیم فما حدد ذٰلک؟

یہ دونوں تجاویز بودی ہیں،  یقیناً مسافتِ قصر کا ہلال سے کوئی تعلق ہی نہیں، رہے اقالیم تو ان کی حدود کیا ہونگی؟

 (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: ج ٢٥،  ص ١٠٤)

          اقالیم اسلامیہ کی حدود مختلف ادوار میں مختلف رہی ہیں اور ان حدود کا مطالع ِقمر سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ مطالع تو ہر ماہ بدلتے رہتے ہیں۔غرض مطالع کی مستقل حدود کا تعین کسی طرح بھی نہی کیا جاسکتا۔اگر ان حدود کا تعین کیا جائے گا تو وہ صراحتاً غلط ہوگا۔پس ثابت ہوا کہ اختلافِ مطالع کے اعتبار کی کوئی عقلی و شرعی دلیل نہیں ہے۔ جس حدیث ِ مبارک کو اس رائے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس سے ان کا مقصود ثابت نہیں ہوتا ۔وہ حدیث ملاحظہ کیجئے 

          سیدنا کریب رحمة اللہ علیہ ( تابعی) بیان کرتے ہیں،” مجھے سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا  (سیدنا عباس بن عبدالطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ )   نے کسی کام سے سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس ملکِ شام بھیجا۔میں شام میں پہنچا اور اپنا کام پورا کیا۔اسی دوران جب میں شام میں تھا جمعہ کی رات میں نے رمضان المبارک کا ہلال دیکھا ۔پھر میں رمضان المبارک کے آخر میں مدینہ منورہ واپس پہنچاتو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ہلال کی بابت گفتگو کی۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ہلال کب دیکھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات۔ انہوں پوچھا کیا تم نے بھی ہلال دیکھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں، میں نے بھی اور دوسرے لوگوں نے بھی ہلال دیکھا تھا۔ لوگوں نے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے روزہ بھی رکھا تھا۔پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتہ کی رات ہلال دیکھا تھا۔جب تک تیس روزے پورے نہیںہو لیتے یا ہم (شوال کا ) ہلال نہیں دیکھ لیتے ہم روزے رکھتے رہیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہلال دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں؟  انہوں نے فرمایا، نہیں، ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی حکم دیا ہے۔”

صحیح مسلم، سنن ابو داؤد: ح ٢٣٣٢

          یہ روایت ،اختلافِ مطالع کے اعتبار کی دلیل نہیں بن سکتی،جس کی کئی وجوہ ہیں، اولاً اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صریح فرمان موجود نہیں جس سے اختلافِ مطالع کے معتبر ہونے کی دلیل مل سکے۔، ثانیاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے شام سے بُعدکی بنیاد پرسیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کی رؤیت کی اتباع کرنے سے انکار نہیں کیابلکہ جنابِ کریب رحمة اللہ علیہ کی واحد شہادتِ رؤیت کی بنا پر ٢٩ویں روزے پر رمضان کا مہینہ ختم کرنے سے انکار کیا ہے، کیونکہ جمہورِ امت کی رائے ہے کہ اکیلے شخص کی شہادتِ رؤیت سے روزے رکھنے بند نہیں کیے جاسکتے۔ ثالثاً جہاں تک پہلے روزے کی قضا کا تعلق ہے،اس کا مذکورہ حدیث میں ذکر ہی نہیں، نفیاً نہ اثباتاً ۔

المغنی والشرح الکبیر: ج ٣، ص ٨

          غرض اس مبہم روایت کی بنیاد پر قرآن و سنت کے صریح دلائل کو رد نہیں کیا جاسکتا، جن سے اختلافِ مطالع کے معتبر نہ ہونے اور پہلے دن کے ہلال کا پوری امت کے لئے لازم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔یہی سبب ہے کہ امام ابو حنیفہ، امام مالک ،امام لیث بن سعد اور امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہم اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتے۔

          دوسرا اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ امتِ واحدہ کے پچاس سے زائدخود مختار سیاسی وحدتوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے اختلافِ مطالع کا اعتبار کیے بغیر چارہ نہیں، جب تک خلافت قائم نہیں ہوجاتی،کسی ایک علاقے کی رؤیت کی بنا پر رؤیتِ ہلال کا متفقہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ استدلال نہایت کمزور اور بے وزن ہے۔اگر امتِ مسلمہ کے جید علما ء ایکا کرلیں کہ وہ اصل حکمِ شرعی کے مطابق ایک متفقہ قمری تقویم اپنائیں گے، تو کونسی قوت ہے جو انہیں اس نیک ارادے سے باز رکھ سے؟ کیا علاقائی رؤیت کا اعلان کرنے والے انہی علماء میں سے نہیں ہیں؟ کیاوہ احکام جو خلافت سے متعلق ہیں ، قیامِ خلافت تک معلق و معطل رکھے جائیں گے؟مثلاً نظامِ صلوٰة ، نظامِ زکوٰة، نظامِ حج، نظامِ جہاد اور نظامِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ قیامِ خلافت تک معطل رہیں گے؟ اگر یہ سب احکامِ شرع معطل نہیں کیے جاسکتے، تو ایک ہی دن عیدیں منانے اور ایک ہی دن رمضان کا آغاز کرنے کے حکم کو ہی کیوں معطل کیا جائے؟حقیقت یہ ہے کہ آج جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر پروگرامز کی موجودگی میں متفقہ قمری تقویم اپناناجس قدر سہل ہے، ماضی میں اس حکمِ شرع پر عمل کرنے میں اس قدر سہولت نہ تھی۔، پھر بھی ہمارے اسلاف نے اس حکم پر عمل کرکے دکھایا، آخر آج کیوں نہیں؟

          تیسرا اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کرہ ارض پر کسی بھی مخصوص وقت پر ہمیشہ دو دن ہوتے ہیں، مثلاً نصف کرہ شرقی میں جمعہ اور نصف کرہ غربی میں جمعرات۔ لہٰذا اہلِ اسلام ایک ہی دن عیدیں منا سکتے ہیں نہ ایک ہی دن روزے رکھ سکتے ہیں۔ اس اشکال کا سبب جغرافیہ سے ناواقفیت ہے۔ یہ درست ہے کہ کرہ ارض پر ایک ہی وقت پر دو مختلف دن ہوتے ہیں ،جس کا اصل سبب زمین کی کروی شکل اور اس کی محوری حرکت ہے۔ دراصل مشرق میں دن پہلے طلوع ہوتاہے اور مغرب میں بعد میں ۔ جب مغرب میں ایک دن کا سورج غروب ہورہا ہوتا ہے ،اسی لمحے مشرق میں اگلا دن طلوع ہورہاہوتا ہے۔تاہم اس کے باوجود دنیا میں کسی بھی مقام پر ایک ہی دن میں دو مختلف شمسی تاریخیں نہیں ہوتیں۔یہ تو ہوتا ہے کہ مشرق میں جمعہ کو پانچ جنوری ہے تو مغرب میں جمعرات کو چار جنوری۔ یہ نہیں ہوتا کہ دنیا کے کچھ مقامات پر جمعہ کو چار تاریخ ہو اور کچھ مقامات پر جمعہ کو ہی پانچ تاریخ ہو۔بعینہ قمری تقویم میں بھی اصولاً ایسا نہیں ہوسکتا کہ جمعہ کو کچھ مقامات پر یکم شوال ہو،کچھ مقامات پر انتیس رمضان ہو اور کچھ مقامات پر تیس رمضان۔ ایسا ماننا بداہتاً غلط ہے اور دین کا مذاق اڑانے کیلئے جواز فراہم کرنا ہے۔ پس کرہ اض پرمشرق و مغرب میں ایک ہی وقت میں دومختلف دن اورمختلف تاریخوں کا ہونا اور شئے ہے، جبکہ ایک ہی دن دو یا تین مختلف تاریخوں کا ہونا اس سے با لکل متغائر ہے۔فاعتبروا یا اولی الابصار

عالَمی قمری تقویم

          رہی یہ بات کہ متفقہ قمری تقویم اپنانے کی عملی صورت کیا ہوسکتی ہے؟ اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ مکة المکرمہ کرہ ارض کا جغرافیائی مرکز اور امتِ مسلمہ کا قبلہ وروحانی مرکز ہے۔ یہاں دنیا کا سب سے بلند کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا ہے، مکہ کلاک ٹاور کی سب سے اوپر والی منزل پر پہلے سے رؤیتِ ہلال کا مرکزی دفتر قائم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں اہلِ اسلام کی مجالسِ رؤیتِ ہلال بھی پہلے سے کام کرہی ہیں، جہاں ایسی مجلس موجود نہیں وہاں بنائی جاسکتی ہے۔ ان تمام ممالک کی مجالسِ رؤیتِ ہلال کے مکمل کوائف مکہ کی مرکزی مجلسِ رؤیتِ ہلال کے پاس کمپیوٹرمیں فیڈ کیے ہوں، تاکہ منٹوں میں ان کی پڑتال کی جاسکے اور کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی سے بچا جاسکے۔تمام مجالس ، رؤیتِ ہلال کے بارے اپنی رپورٹیں مرکزی مجلس کو انٹرنیٹ پر نیٹ میٹنگ اور ای میل کے ذریعے، نیز فیکس کے ذریعے تصدیق شدہ دستاویزات کی شکل میں ارسال کریں۔جب دنیا کے کسی علاقے میں ہلال نظر آنے کی مصدقہ شہادتیں مل جائیں تو مرکزی مجلسِ رؤیتِ ہلال مکہ مکرمہ ،ٹی۔وی اور انٹر نیٹ پر اس کا اعلان کردے۔یوں امتِ مسلمہ ایک ہی دن روزے رکھنے کاآغاز کرنے اور ایک ہی دن عیدیں منانے کے قابل ہو جائے گی۔

          یقیناً عالمی رؤیت اور عالمی تقویم اپنانے میں بعض مسائل پیش آسکتے ہیں، الحمد للہ جن کا شافی حل بھی موجود ہے۔مثلاً ایک اہم مسئلہ یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا بھر سے شہادتیں حاصل کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے میں کافی وقت صرف ہوسکتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ اعلان کی تاخیر کی شکل میں برا مد ہوگا۔مکہ کے مشرق میں آباد بعض ممالک کے لئے یہ تاخیر طلوعِ فجر تک جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں لوگوں کے لئے رات بھر اعلان کا انتظار نہایت مشقت کا باعث ہوگا۔اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ جس طرح اوقاتِ صلوٰة کے دائمی نقشے بنائے گئے ہیں، اسی طرح امکانِ رؤیتِ ہلال کی بنیاد پر ایک قمری تقویم تشکیل دی جائے۔ آج جدید ٹیکنالوجی کے باعث یہ ممکن ہے کہ صدیوں پہلے مستقبل میں ہر ماہ کے ظہورِ ہلال کے بارے ٹھیک ٹھیک پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔جس سے دنیا کے وسیع خطوں میں رؤیتِ ہلال کی پیشگوئی ممکن ہے، یعنی یہ پیشگوئی کہ دنیا میں کس دن پہلی بار ہلال دکھائی دے گا۔ایسے کمپیوٹر سافٹ ویئر موجود ہیں جن کی مددسے رؤیتِ ہلال کی درست پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔تاہم مذکورہ عالمی تقویم کیلئے ضروری ہے کہ مکة المکرمہ کو اس تقویم کا معیار بنایاجائے، کیونکہ یہ مقدس شہر نہ صرف کرہ ارض کی سطح کا مرکز ہے، بلکہ اہم ترین عبادت حج کا تعلق بھی براہِ راست مکہ سے ہے، جوکہ اسلامی تقویم کا اہم ستون ہے۔یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مکة المکرمہ کرہ ارض کی سطح کا مرکز ہے۔ دنیا میں قبلہ کی سمتیں دکھانے والے نقشے سے یہ حقیقت بالکل واضح دکھائی دیتی ہے۔مکة المکرمہ میں سے گرنے والا خطِ طول البلد وہ معیاری خط طول البلد ہے جس سے دنیا کے باقی خطوط طول البلد کی گنتی شمار کی جانی چاہیے۔گویا مکة المکرمہ میں سے گزرنے والا خط

طول البلد ہی خطِ اعظم یعنی پرائم میریڈین

ہے، جسے مکہ پرائم میریڈین کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔مکہ پرائم میریڈین کرہ ارض کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔، اسکے مشرق میں واقع حصے کو نصف کرہ شرقی اور مغرب میں واقع حصے کو نصف کرہ غربی کہتے ہیں۔کُل خطوط طول البلد تین سو ساٹھ (٣٦٠)  ہیں،جن میں سے ایک سو اسی(١٨٠) نصف کرہ شرقی میں اور اتنے ہی نصف کرہ غربی میں واقع ہیں۔مکہ پرائم میریڈین کا نمبر صفر ہے ،جبکہ یہ خط مقناطیسی شمال کی عین سیدھ میں واقع ہے۔مکہ کامقامی وقت ہی یونیورسل ٹائم ہے، جسے مکہ مین ٹائم

کا نام دیا گیا ہے۔مکہ سے ایک سو اسی درجہ مشرق اور مغرب میں واقع خط مشترک ہے۔ یہی وہ خط ہے جس پر دن اور تاریخ بدلتی ہے، اس لئے اسے بین الاقوامی خطِ تاریخ  

کہتے ہیں۔یہ بین الاقوامی خطِ ِ تاریخ  مکة المکرمہ کے خطِ عرض البلد پر جغرافیائی شمال کے عین سیدھ میں واقع ہے۔جب انتہائی مشرق ( ١٨٠ درجہ شرقی)سے مغرب کی جانب سفر کرتے ہوئے تین سو ساٹھ درجے طے کرکے ایک سو اسی درجہ غربی خط طول البلد پار کرتے ہیں تو نصف کرہ شرقی میںاگلا د ن  چڑھ آتا ہے اور تاریخ بدل چکی ہوتی ہے۔ہر خطِ طول البلد کے درمیان چار منٹ کا فرق ہے، یوں تین سو ساٹھ درجے کے فرق پر پورے چوبیس گھنٹے ( ایک دن) کا فرق پڑجاتا ہے۔مکہ پرائم میریڈین کے حساب سے چنا گیا بین الاقوامی خطِ تاریخ بحرِ الکاہل میں سے گزرتا ہے، جبکہ شمال میں اس کا کچھ حصہ امریکی ریاست الاسکا اور کینیڈا کی سرحد کے ساتھ گزرتا ہے، جہاں مکینزی پہاڑی سلسلہ مکینزی ماؤنٹینز میں سے

واقع ہے۔غرض یہ خط کسی آباد علاقے میں سے نہیں گزرتا ۔یہی وہ خط ہے جہاں قبلہ کی سمتیں مشرق اور مغرب دونوں طرف ہیں

 

          جیسے مکة المکرمہ کا مقامی وقت یونیورسل ٹائم ہے اسی طرح عالمی رؤیت کی بنیاد پر بنائی گئی قمری تقویم کا معیار بھی مکة المکرمہ ہی ہونا چاہیے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مکة المکرمہ میں طلوعِ فجر سے پہلے دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں ہلال ضرور دکھائی دیتا ہے۔ خواہ یہ برہنہ آنکہ سے دکھائی دے یا دوربین کی مدد سے، اصل مقصود مغربی افق پر ہلال کے طلوع کا یقینی ثبوت باہم پہنچانا ہے۔اس بنیاد پر عالمی تقویم کا اصول و معیار درج ذیل ہونا چاہیے :

          اگر  مکة المکرمہ میں طلوعِ فجر کے وقت زمین کے کسی خطے میں برہنہ آنکھ یا دور بین کی مدد سے ہلا ل نظر آنے کا امکان یقینی ہو  تو  مکة المکرمہ میں آنے والا دن اسلامی قمری مہینے کا پہلا دن ہوگا اور گزرنے والی رات پہلی رات ہوگی۔

          ایسا کم عمر ہلال جو دوربین کی مدد سے یقینی طور پر نظر آسکتا ہو، کے لئے ضروری ہے کہ وہ درج ذیل کوائف کا حامل ہو

قوس نور یا شمس و قمر کا زاویائی فاصلہ     ۷درجے

افق سے بلندی  ۵ درجے

 

          واضح رہے کہ مکہ کی طلوعِ فجروقت کی آخری حد کے طور پر ہے، ورنہ عام طور پر مکہ میں طلوعِ فجر سے بہت پہلے دنیا میں کہیں نہ کہیں برہنہ آنکھ یا دوربین کی مدد سے ہلال نظر آجاتا ہے۔پچھلی ایک صدی کے سائنسی مشاہدات و تجربات اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔کمپیوٹر سافت ویئر پروگرامز کے ذریعے مذکورہ معیارِ تقویم کو خوب جانچا گیا ہے اور اسے ہمیشہ درست پایا گیاہے۔مذکورہ عالمی قمری تقویم اتنی ہی معتبر اورقابلِ اعتماد ہے جتنا کہ اوقاتِ صلوٰة کے صحیح معیار پر بنائے گئے نقشے ہوتے ہیں۔ پھر بھی یہ رؤیتِ ہلال کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ یہ مکہ مین ٹائم کی بنیاد پر اس دن کی نشاندہی کرنے کے لئے ہے جب دنیا میں پہلی بار ہلال دکھائی دینے کا قوی امکان ہوتاہے۔مذکورہ معیارِ تقویم صرف دو بنیادی اوصافِ قمر قوسِ نور  یعنی قوسِ نور

 اور چاند کی افق سے بلندی 

پر انحصار کرتی ہے کیونکہ مشاہدہ یہ ہے کہ جب یہ دو اوصاف مطلوبہ حد کو پہنچ جاتے ہیں تو باقی اوصافِ قمر مثلاً چاند کی عمر، چاند اور سورج کے غروب میں فرق، ہلال کی پوزیشن، نور کی شدت وغیرہ  بھی معیاری صورت حاصل کر لیتے ہیں۔مذکورہ معیار پر پورا اترنے والا ہلال اتنا واضح ہوتا ہے کہ دنیا کے ایک وسیع خطے میں دکھائی دیتا ہے، کسی خاص شہر یا چند شہروں تک اس کی رؤیت محدود نہیں ہوتی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ ہلال کبھی مکہ میں نظر آتا ہے کبھی نظر نہیں آتاکیونکہ اس وقت مکہ میں چاند غروب ہوچکا ہوتا ہے۔یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری ہے کہ کہیں کوئی شخص اس مغالطہ میں مبتلا نہ ہوجائے کہ مجوزہ تقویم مکہ کی رؤیت پر مبنی ہے۔واضح رہے کہ مکہ مین ٹائم ضرور اس تقویم کی بنیاد ہے ، مگر مکہ کی رؤیت اس کی بنیاد نہیں۔ مکہ کی رویت کو اس لئے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا کہ اس کے مغرب میں اکثر پہلے چاند نظر آجاتاہے۔مجوزہ تقویم کو بجا طور پر گلوبل مسلم کیلنڈر

          اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو اتفاق واتحاد کا اصول اپنانے اور تمام گروہی و علاقائی تعصبات ترک کرکے فی الواقع امتِ واحدہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

آخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوٰة والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین۔

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading