2024-07-17

 

    

    

    

    

    

دارُالحِکمہ پاکستان


افکارِ غامدی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمدللّٰہ وحدہ والصلوٰۃوالسلام علی من لا نبی بعدہ

            اللہ تعالیٰ نے جب سے شیطان کو یہ مہلت دی ہے کہ وہ انسانوں کواپنے دامِ فریب میں پھنسانے کے جتن کرتا رہے، تب سے آج تک وہ انسانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں اللہ کے بتلائے ہوئے صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔اس کے لئے کبھی وہ قومِ نوح کے پاس کسی بزرگ کی شکل میں نمودار ہوتاہے، تو کبھی امتِ محمدیہ علیہ الصلوٰة والسلام میں کسی مصلح کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے، کبھی وہ پیشواکا روپ دھارتا ہے، تو کبھی کسی فلسفی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ  کے متعین کردہ صراطِ مستقیم سے بہکانے والے ان نام نہاد پیشواؤں کا منصوبہ یہ ہوتا ہے  کہ افرادِ امت کو سلف صالحین سے متنفر کرکے انہیں اصل دینِ اسلام کے بارے شکوک و شبہات میں مبتلا کیا جائے اور بالآخر انہیں کسی نئے ایجاد کردہ دین کا پیروکار بنا دیا جائے۔ اس کام کی ابتدا وہ عموماً اس  پروپگنڈا سے کرتے ہیں کہ دنیا میں جو اسلام آج موجود ہے، وہ امام الانبیاء محمدرسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کا تعلیم کردہ نہیں بلکہ یہ اسلام مجتہدین امت یا صوفیائے کرام نے ایجاد کیا ہے۔ معاذاللہ

باور کرلیں کہ یہ شیطان کا ایک خطرناک پھندا ہے جس میں پھنسا کر وہ آدمی کو صراطِ مستقیم سے بھٹکاتا ہے۔

صراطِ مستقیم سے منحرف ہونے والوں میں عصرِ حاضر کے نام نہاد مصلح و سکالر جاوید احمد غامدی بھی شامل ہیں۔

غامدی کا بنیادی اصول

جاوید احمد غامدی کے اصولِ 

دین ساری امت سے جداگانہ ہیں کیونکہ ان کا تصورِ سنت ساری امت کے تصورِ سنت سے نرالا ہے۔ ان کے نزدیک سنت وہی ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جاری فرمائی ہے۔ غامدی میزان میں اصول و مبادی کے عنوان کے تحت رقمطراز ہے
سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔[1]
سنت کی تعریف کرتے ہوئے غامدی مزید لکھتا ہے
’’کسی چیز کا حکم اگر اصلاً قرآن پر مبنی ہے اور پیغمبر نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے یا اُس پر طابق النعل بالنعل عمل کیا ہے تو پیغمبر کے اِس قول و فعل کو ہم سنت نہیں ،بلکہ قرآن کی تفہیم وتبیین اور اسوۂ حسنہ سے تعبیر کریں گے ۔سنت صرف اُنھی چیزوں کو کہا جائے گا جو اصلاً پیغمبر کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر مبنی ہیں اور اُنھیں قرآن کے کسی حکم پر عمل یا اُس کی تفہیم و تبیین قرار نہیں دیا جا سکتا ‘‘۔ [2]

ساری امت 

  کا ماننا ہے کہ سنتِ رسول علیہ الصلوات والسلام  فی الحقیقت  ساری کی ساری قرآن کی تفسیرو تبیین ہے۔مثلا قرآن میں نماز کا حکم ہے مگر نماز کیسے پڑھنی ہے اس کی تفصیل حدیث سے ملتی ہے۔ غامدی کی سنت کی تعریف کے مطابق نماز کا  وہ مسنون طریقہ جو روایات ِ حدیث میں وارد ہوا ہے  وہ غامدی کے نزدیک  نہ صرف سنت نہیں ہے بلکہ وہ سرے سے دین کا مأخذ ہی نہیں ہے۔

حجیتِ حدیث کا صریح انکار

غامدی مبادی تدبرِ حدیث کے عنوان کے تحت رقمطراز ہے

’’چنانچہ اِس مضمون کی تمہید میں ہم نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔ لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح ،آپ کے اسوۂ حسنہ اور دین سے متعلق آپ کی تفہیم و تبیین کے جاننے کا سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ حدیث ہی ہے ‘‘۔[3]

 

لیجیے غامدی نے حدیث کے دین کا مأخذ ہونے سے صاف لفظوں میں انکار کیا ہے۔ یہ حجّیتِ حدیث کا انکار نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر کوئی شخص کہے میں قرآن کو تاریخ کی بہترین کتاب مانتا ہوں مگر اس پر عمل کرنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔ کیا ایسا شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے؟ اسی طرح جو شخص یہ کہتا ہے کہ حدیث میں محض سیرت اور اسوہ کا بیان ہے تو اس نے حدیث کو تاریخ سے زیادہ کیا درجہ دیا؟

غامدی نے   میزان میں  اصول و مبادی کے عنوان کے تحت   اپنے مذکورہ دعویٰ کو وضاحت سے بیان  کیا ہے، غامدی رقمطراز ہے
’’دین لاریب ،اِنھی دو صورتوں میں ہے ۔اِن کے علاوہ کوئی چیز دین ہے ،نہ اُسے دین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارآحادجنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے ، اِن کے بارے میں یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اِن کی تبلیغ و حفاظت کے لیے آپ نے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ چاہیں تو اِنھیں آگے پہنچائیں اور چاہیں تو نہ پہنچائیں، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں ،وہ درحقیقت قرآن و سنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم و تبیین اور اِس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ اِس معاملے میں یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اِس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبو ل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ [4]

غامدی نے اپنے اس بیان میں  حدیث کے بارے میں بہت سے مغالطے پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی ہے اور بہت سے حقائق کا انکار کیا ہے۔جن کی تفصیل یہ ہے

۱۔  غامدی کے بقول علمِ حدیث سارے کا سارا اخبارِ احاد پر مبنی ہے۔حالانکہ صحیحین کا اکثر حصہ متواتر بالمعنیٰ ہے۔ محدثین کی ایک معتد بہ جماعت ان احادیث کو متواتر مانتی چلی آئی ہے جو چار یا چار  سے زائدصحابہ ؓسےصحیح سند سے مرفوعاً ثابت ہیں۔

۲۔غامدی کا یہ دعویٰ کہ اِن کی تبلیغ و حفاظت کے لیے آپ نے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ چاہیں تو اِنھیں آگے پہنچائیں اور چاہیں تو نہ پہنچائیں، سراسر خلافِ حقیقت ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے

نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا  فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغُہُ [5]

 ”  اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جو ہماری  حد یث سنے ، اسے یاد رکھے اور اسے (دوسروں تک) پہنچائے  ”

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام کو مخاطب کرکے فرمایا
لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ  [6]

خبردار ہوجاؤ ہر حاضر کو چاہیئے کہ وہ غیر حاضر کو پہنچا دیا کرے بعض وہ لوگ جنہیں پہنچایا جائے پہنچانے والے سے بھی زیادہ نگہداشت رکھنے والے ہوتے ہیں۔
۳۔  غامدی نے دعویٰ کیا ہے
حدیث سے دین اخذ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ دین کا مأخذ ہی نہیں ہے۔اس کے اس دعویٰ کے برعکس ساری امتِ مسلمہ حدیث صحیح کو دین کا مأخذ تسلیم کرتی آئی ہے، خواہ وہ خبرِ واحد ہو یا خبرِ متواتر۔ جبکہ غامدی کے نزدیک اخبارِ احاد سے سنت بھی ثابت نہیں ہوتی۔

مبادی سنت کا ساتواں اصول بیان کرتے ہوئے غامدی رقمطراز ہے

’’ساتواں اصول یہ ہے کہ جس طرح قرآن خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتا ،اِسی طرح سنت بھی اِس سے ثابت نہیں ہوتی‘‘۔[7]

غامدی  نے کم فہم لوگوں کو دھوکہ دینے  اور یہ تأثر قائم کرنے  کے لیے کہ وہ حدیث کو  حجت مانتا ہے، میزان میں فرائض کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے سینکڑوں احادیث کا حوالہ دیا ہے، جبکہ حقیقت وہی ہے جو ہم اس کے حوالے سے اوپر بیان کر آئے ہیں کہ وہ احادیث کو دین میں حجت نہیں مانتا۔ ہمارے اس دعویٰ کی مزید تائید اس کے درج ذیل بیانات سے ہوتی ہے۔

وہ مبادی تدبر سنت کا پہلا اصول یہ بیان کرتا ہے
’’پہلا اصول یہ ہے کہ سنت صرف وہی چیز ہو سکتی ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے دین ہو‘‘۔[8]

جبکہ حدیث و سنت کے عنوان کے تحت مقامات میں لکھتا ہے
’’ثالثاً، اِس فہرست سے ہٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات بھی دین کی حیثیت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض کو میں نے ’’تفہیم و تبیین‘‘ اور بعض کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کے ذیل میں رکھا ہے‘‘۔[9]
کچھ سمجھے کہ حضرت کیا کہہ رہے ہیں؟ غامدی نے صاف کہہ دیا ہے کہ اس کی جاری کردہ سنتوں کی فہرست کے سوا جتنی بھی احادیث اس نے اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں، ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسے ایک مثال سے سمجھیے۔
مبادی تدبر سنت کا چھٹا اصول بیان کرتے ہوئے غامدی نے لکھا ہے
’’روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے لوگوں کو تشہد اور درود بھی سکھایا ہے اور اِس موقع پرکرنے کے لیے دعاؤں کی تعلیم بھی دی ہے ،لیکن یہی روایتیں واضح کر دیتی ہیں کہ اِن میں سے کوئی چیز بھی نہ آپ نے بطور خود اِس موقع کے لیے مقرر کی ہے اور نہ سکھانے کے بعد لوگوں کے لیے اُسے پڑھنا لازم قرار دیا ہے۔یہ آپ کے پسندیدہ اذکار ہیں اور اِن سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی ،لیکن اِس معاملے میں آپ کا طرز عمل صاف بتاتا ہے کہ آپ لوگوں کو کسی بات کا پابند نہیں کرنا چاہتے ، بلکہ اُنھیں یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی سکھائی ہوئی یہ دعائیں بھی کر سکتے ہیں اور اِن کی جگہ دعا و مناجات کے لیے کوئی اور طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں ۔ لہٰذا سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دو زانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے ۔ اِس کے علاوہ کوئی چیز بھی اِس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔‘‘[10]
لیجیے تشہد(التحیات) اور درود بھی  مسنون نماز  سے خارج ہوگئے ہیں جو کہ بہت سے فقہا کے نزدیک سنت سے بھی بڑھ کر واجب کے درجہ میں ہیں۔
بہر کیف  غامدی کے اس بیان سے اس کے اوپر مذکور بیان کی  خوب وضاحت ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ غامدی  افکارخیرالقرون کےمتوارث  دین سے بالکل ایک الگ شئے ہیں۔ ہاں وہ اپنی لفاظی کے ذریعے بھولے بھالے لوگوں کو فریب دینے میں ضرور کامیاب ہوجاتا ہے۔ غامدی نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے نماز، روزے، زکوٰۃ، حج وغیرہ کے بیان میں سینکڑوں احادیث نقل کی ہیں، مگر اس کے نزدیک ان احادیث کی حیثیت دین کی نہیں ہے کیونکہ اس کے بقول ’’ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے ‘‘ بلکہ صرف تبیین و تشریح ہے جس کا قبول کرنا دین کا تقاضا نہیں ہے۔کسی کو اچھا لگے تو مان لے، اچھا نہ لگےتو کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ ہمارا الزام نہیں بلکہ غامدی کے اپنے الفاظ ملاحظہ کیجیے۔

’’یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے ‘‘

قرآن و سنت متواترہ کا عطا کردہ تصورِ سنت ترک کرنے اور حجیتِ حدیث کا انکار کرنے کے بعد دین کی شکل کس طرح مسخ ہوتی ہے اس کا مشاہدہ غامدی کے بیان کردہ مسائل سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ جس کی چند مثالیں ذیل میں بطور نمونہ از خروارے پیشِ خدمت ہیں۔

غامدی کی نماز

نماز کے بارے میں غامدی  لکھتا ہے
 ’’نماز کے لیے جو اعمال شریعت میں مقرر کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں
نماز کی ابتدارفع یدین سے ، یعنی دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھا کرکی جائے ،
قیام کیا جائے ،
پھر رکوع کیا جائے ،
پھر آدمی قومہ کے لیے کھڑا ہو ،
پھر یکے بعد دیگرے دو سجد ے کیے جائیں ،
ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دو زانوہوکر قعدے کے لیے بیٹھے ،
نماز ختم کرنا پیش نظر ہو تو اِسی قعدے کی حالت میں منہ پھیر کر نماز ختم کردی جائے ۔
نماز کے یہ اعمال اجماع اور تواتر عملی سے ثابت ہیں ‘‘۔[11]
غامدی شدید فکری تضادات کا شکار ہے۔ ایک جانب اس نے دعویٰ کیا ہے کہ قعدہ اجماع و تواتر عملی سے ثابت ہے جبکہ دوسری جانب اس کے نزدیک قعدہ میں کوئی مخصوص کلمات پڑھنا اجماع و تواتر سے ثابت نہیں ، ہاں روایات میں بعض کلمات کا ذکر ہے جو دین کا مأخذ بہر کیف نہیں ہیں۔سوال یہ ہے کہ پھر قعدہ کس لیے کیا جائے گا؟
یہ جو آپ نے لکھا ہے  کہ نماز ختم کرنا پیش نظر ہو تو اِسی قعدے کی حالت میں منہ پھیر کر نماز ختم کردی جائے ۔ اس سے تو اخذ ہوتا ہے کہ اگر آدمی قعدہ میں کوئی دعا کیے بغیر سلام پھیر دے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ آپکے بقول  سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دو زانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے ۔ اِس کے علاوہ کوئی چیز بھی اِس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔
پھر آخر شریعت نے قعدہ کس لیے مشروع کیا ہے؟ اگر شریعت نے یہاں کچھ بھی پڑھنا مقررنہیں کیا تو اس قعدے کا مقصد کیا ہے اور اسے آپ جلسہ سے کیسے الگ شناخت کریں گے؟
روایات تو آپکے کے بقول سرے سے دین ہی نہیں ہیں، پھر آخر انہی روایات سے اسلام کی اہم ترین عبادت کے لیے اذکار کیونکر اخذ کیے جاسکتے ہیں؟ آپکو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ تاریخی روایات کو دین بنا ڈالیں؟
اوقاتِ نماز کے بارے میں غامدی میزان میں رقمطراز ہے
’’نماز ہر مسلمان پر شب و روز میں پانچ وقت فرض کی گئی ہے ۔ یہ اوقات درج ذیل ہیں
صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہو جائے تو یہ فجر ہے ۔

ظہر سورج کے نصف النہار سے ڈھلنے کا وقت ہے ۔

سورج مرأی العین سے نیچے آ جائے تو یہ عصر ہے ۔

سورج کے غروب ہو جانے کا وقت مغرب ہے ۔

شفق کی سرخی ختم ہو جائے تو یہ عشا ہے ‘‘۔[12]
لیجیے جناب، اوقاتِ نماز کا جو تعین غامدی نے شریعت کے نام تھوپا ہے یہ شریعت کا مذاق اڑانے کی دلیل ہے۔ غامدی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ نماز کے اوقات قرآن سے مأخوذ ہیں۔ جبکہ ان میں سے کوئی بھی وقت نمازوں کے نام لے کر قرآن میں بیان نہیں ہوا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اس تحریر میں یہ بھی صراحت نہیں ہے کہ آیا یہ نماز کے ابتدائی اوقات ہیں یا انتہائی اوقات؟ بالآخر غامدی کو ابتدائی اور انتہائی اوقات کے تعین کے لیے چاروناچار انہی روایاتِ حدیث کا سہارا لینا پڑا ہے جو اس کے بقول دین کا مأخذ نہیں بن سکتیں۔ تفصیل کے لیے میزان (غامدی) ملاحظہ فرمائیں۔
اس تحریر میں ایک اور لطیفہ بھی پوشیدہ ہے وہ یہ کہ غامدی کے بقول ’’سورج مرأی العین سے نیچے آ جائے تو یہ عصر ہے ۔‘‘ اس وقت کا ذکر قرآن کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث میں بھی موجود نہیں۔ نماز عصر کا یہ وقت کہ جب وہ مرأ
ی العین سے نیچے آجائے کسی امام مجتہد نے بھی بیان نہیں کیا۔ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ اوپر مذکور اقتباس کے چند سطروں بعد غامدی رقمطراز ہے
عصر کی نماز اُس وقت پڑھتے ، جب سورج بلندی پر اور پوری طرح روشن ہوتا تھا
حقیقت یہ ہے کہ غامدی کی کتابیں تضادات کا شاہکار ہیں، جس کی ایک  ادنیٰ مثال یہی عصر کا وقت  بھی ہے۔ پہلے لکھا کہ سورج مرأی العین سے نیچے آجائے تویہ عصر کا وقت ہے، واضح رہے کہ دنیا کی اکثر آبادی میدانی علاقوں میں آباد ہے۔ جبکہ ان علاقوں میں سورج مرأی العین سے نیچے اس وقت آتا ہے جب وہ ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے اور سورج کی ٹکیہ کا نچلا کنارا افق کو چھو رہا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک روایت کا سہارا لے کر لکھا ہے ’’عصر کی نماز اُس وقت پڑھتے ، جب سورج بلندی پر اور پوری طرح روشن ہوتا تھا‘‘۔
کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟کیا مرأی العین سے نیچے آنے  کےبعد سورج بلندی پر اور روشن  ہی رہتا ہے؟
نماز عید کی زائد تکبیرات کے بارے میں غامدی لکھتا ہے
اِس کی تکبیروں کے بارے میں یہ بات، البتہ واضح رہنی چاہیے کہ اُن کی کوئی تعداد مقرر نہیں کی گئی ۔ مسلمان اپنی سہولت کے مطابق قراء ت سے پہلے یا اِس کے بعد جتنی تکبیریں چاہیں، کہہ سکتے ہیں۔
اسے کہتے ہیں دین کو بازیچۂ اطفال بنانا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ نبی ﷺ نے صرف مخصوص تعداد ہی میں تکبیرات کہی ہیں، موصوف کا کہنا ہے کہ جتنی تکبیریں چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ یعنی صرف دو تکبیریں بھی کہہ سکتے ہیں اور سو تکبیریں بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ان کی کوئی تعداد جو مقرر نہیں کی گئی۔

غامدی کا روزہ
روزے کے بارے میں غامدی لکھتا ہے
’’روزے کی نیت سے اور محض اللہ کی خوشنودی کے لیے کھانے پینے اور بیویوں کے پاس جانے سے اجتناب ہی شریعت کی اصطلاح میں روزہ ہے‘‘۔[13]
گویا غامدی کے نزدیک مجامعت اور کھانے پینے کے سوا کسی بھی کام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ہمارے اس دعویٰ کی تائید اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ غامدی نے ان کے سوا کسی شے کو بطور مفسداتِ صوم بیان نہیں کیا۔ جبکہ قرآن حکیم میں سورۃ البقرہ آیت ۱۸۷ میں فرمایا
اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَـةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُـمْ لِبَاسٌ لَّـهُنَّ ۗ عَلِمَ اللّـٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَخْتَانُـوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۖ فَالْاٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّـٰهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُـمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَاَنْـتُـمْ عَاكِفُوْنَ فِى الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ اٰيَاتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ[14]
تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں سے مباشرت کرنا حلال کیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے پردہ ہیں اور تم ان کے لیے پردہ ہو، اللہ کو معلوم ہے تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے پس تمہاری توبہ قبول کر لی اور تمہیں معاف کر دیا، سو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے فجر کے وقت صاف ظاہر ہو جائے، پھر روزوں کو رات تک پورا کرو، اور ان سے مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو، یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان کے قریب بھی مت پھٹکو، اسی طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیز گار ہو جائیں۔
اس آیت کے ابتدائی حصے میں روزے کی حالت میں بیویوں سے مجامعت کی ممانعت وارد ہوئی ہے اور اس کے آخری حصے میں فرمایا تلک حدوداللہ فلا تقربوھا (یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ان کے قریب بھی مت پھٹکو) یعنی ایسے کام بھی مت کرو جو جماع پر اکسائیں یا جماع سے ملتے جلتے ہوں جیسے مشت زنی، بوس وکنار اورایک دوسرے کی شرم گاہوں کو چھونا، چومنا یا چوسنا۔ یہ سب بھی ازروئے قرآن روزہ کی حالت میں منع ہیں جیسا کہ اکثر فقہا نے اس کی تصریح کی ہے۔اگر ان میں سے کسی حالت میں بھی انزال ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، اگرچہ اسے مجامعت(جماع) نہیں کہتے۔
اس کے برعکس غامدی لکھتا ہے
’’روزے میں مجامعت کے سوا بیوی سے ہر طرح اظہار محبت کرسکتے ہیں‘‘[15]
ایسے کام بھی منع ہیں جو کھانے یا پینے سے مشابہت رکھتے ہوں جیسے اپنا یا بیوی کا لعاب نگلنا، تمباکو نوشی کرنا وغیرہ۔ اسی طرح تقوی کے منافی امور سر انجام دینا بھی ممنوع ہے جیسے جھوٹ بولنا، فحش مناظر دیکھنا، فحش گفتگو، کم تولنا، غیبت، لڑائی جھگڑا اور دیگر منکرات سے اجتناب ضروری ہے۔

غامدی کا حج
حج کے دوران صفا و مروہ کی سعی کرنا فقہا کے نزدیک کم از کم واجب ہے جبکہ امام احمد ؒ کے نزدیک یہ فرض(رکن) ہے جسے کسی حال میں بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ یہ حکم قرآن حکیم کی درج ذیل آیت سے مأخوذ ہے
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا ، فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ[16]

صفا اور مروہ یقیناًاللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔ چنانچہ وہ لوگ جو اِس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں ، اُن پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اِن دونوں کا طواف بھی کر یں، اور جس نے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اُسے قبول کرنے والا ہے ، اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔
اس آیت میں بنظرِ ظاہر صفاومروہ کی سعی کی صرف اجازت دی گئی ہے مگر اصل بات وہ ہے جو امام عامر الشعبی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے وہ یہ  کہ  کوہِ صفاپر اساف نامی اورکوہِ مروہ پر  نائلہ نامی بت زمانہ جاہلیت میں نصب تھا اور کفار مکہ صفا و مروہ کی سعی کے دوران ان بتوں کو چومتے تھے اور ان کا طواف بھی کرتے تھے، جس کی وجہ سے بعض نو مسلموں نے سمجھا کہ یہاں بت نصب ہونے کی وجہ سے صفا ومروہ کا طواف درست نہیں[17] مگر چونکہ جناب ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے سعی صفا و مروہ حج  و عمرہ کالازمی حصہ  سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے قرآن نے واضح کردیا کہ ان بتوں کی وجہ سے سنتِ ابراہیمی کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔قاعدہ یہ تھا کہ حج و عمرہ کے جو مناسک زمانہ جاہلیت میں مروج تھے ان میں سے ان رسوم کی ممانعت کردی گئی تھی جو اخلاقیات کے منافی تھے، جیسے بیت اللہ کا عریاں طواف وغیرہ اور جن  مناسک سے منع نہیں کیا گیا تھا انہیں حج  و عمرہ کے مستقل مناسک کے طور پر جاری رکھا گیا۔ یہی معاملہ صفاو مروہ کی سعی کا ہے۔ جب  صحابہ کرام ؓ  کے ذہن میں یہ گمان گزرا کہ کہیں  یہ  سعی مشرکینِ مکہ کی ایجاد کردہ بدعت نہ ہو،تو وہ سعی صفاومروہ سے ہچکچائے ،تب اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان فرمادیا کہ اس میں کچھ بھی مضائقہ نہیں ہے، لہٰذا اس سنتِ ابراہیمی کو جاری رکھا جائے۔ پس یہاں سعی صفا و مروہ  کی سنت جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ناں کہ صرف جواز فراہم کیا گیا ہے۔
اس قرآنی حکم کے برعکس غامدی کا دعویٰ ہے کہ سعی صفا و مروہ محض تطوع (مستحب) کے درجہ میں ہے یعنی کوئی سعی صفاو مروہ کرنا چاہے تو کرلے نہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ غامدی میزان میں حج و عمرہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے
’’قربانی کی طرح صفا ومروہ کی یہ سعی بھی بطور تطوع کی جاتی ہے۔ یہ عمرے کا کوئی لازمی حصہ نہیں ہے ۔ عمرہ اِس کے بغیر بھی مکمل ہوجاتا ہے‘‘۔[18]

آپ نے ملاحظہ کیا کہ ایک جانب غامدی کے لیے اسوہ ابراہیم  علیہ السلام اس قدر اہم ہے کہ اس کے نزدیک کسی عمل کے لیے سنت قرار پانے کے لیے شرط  ہے کہ اسوہ ابراہیمی سے اس کی تائید ہوتی ہو، دوسری جانب سعی صفا و مروہ اسوہ ابراہیمی ہونے کے باوجود سنت کے درجہ پر بھی فائز ہونے کے لائق نہیں چہ جائے کہ اسے حج و عمرہ کا رکن تسلیم کیا جائے۔

غامدی اور بت شکنی

یاد رہے کہ غامدی کے نزدیک اسوہ ابراہیمی  میں سے وہی افعال سنت ہیں جن پر اس کے آقاؤں (یہودوہنود) کو اعتراض نہیں ہے، ورنہ بت شکنی غامدی اور اس کے ہمنواؤں کے نزدیک سخت قابلِ مذمت ہے، جبکہ قرآن حکیم بت شکنی کو اسوہ ابراہیمی کے  امتیاز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ [19]

تمہارے لئے ابراہیم(علیہ السلام)  اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا: ہم تم سے اورجن جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو ان سب سے بری وبے زار ہیں۔ ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کیلئے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لے آؤ۔

اس آیتِ مبارکہ سے واضح  ہوجاتاہے کہ اسوہ ابراہیمی بتوں سے  اعلانِ برأت (بیزاری)   ہےنہ کہ بت پرستی سے رواداری برتنا۔ جبکہ جاوید احمد غامدی  ایک استفسار کے جواب میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی کی یہ تاویل کرتا ہے کہ وہ ان کے اپنے گھر کے بت تھے، لہٰذا وہ ان سے جیسا سلوک چاہتے کرسکتے تھے مگر بت پرستوں کےکسی بت خانے میں بتوں کو توڑنے کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔[20]حالاں کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مکہ ،  مدینہ اور طائف کےگردو نواح میں نصب بت پاش پاش کردیے تھے۔ تفصیل کے لیے فتح مکہ اور اس کے بعد کے غزوات کا مطالعہ کیجیے۔

جاوید احمد غامدی کی آفیشل ویبسائٹ پر اس کے دو شاگردوں طالب محسن اور ڈاکٹر فاروق خان کے مضامین موجود ہیں جن میں بت شکنی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مجسمہ سازی کے حوالے سے طالب محسن  اپنی کتاب استفہام میں لکھتا ہے:

’’سوال: آج کل فنون لطیفہ میں بت تراشی، یعنی مجسمہ سازی کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ کیا شرعی لحاظ سے اس میں کوئی ممانعت ہے؟ (عارف جان)

جواب: تصویر سے متعلق ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس کی حرمت شرک کے سد ذریعہ کے طور پر ہے۔ وہ تصویریں اس میں شامل نہیں ہیں جن میں مذہبی عقیدت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسی اصول کے تحت ایسے مجسمے بنانے میں بھی حرج نہیں ہے جو اس علت کے تحت نہیں آتے۔‘‘[21]

مجسمہ سازی کی حرمت  سنتِ متواترہ اور صحابہ کرام  ؓ     کےاجماع سے ثابت ہے، خواہ مجسمے کسی بھی مقصد کے لیے بنائے گئے ہوں  ان کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے۔

بعض لوگ مجسمہ سازی کے جواز کے لیے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اب حق واضح ہوچکا ،اب مسلمانوں کا بت پرستی میں ملوث  ہونا محال ہے۔ لہٰذا مجسمہ سازی میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جبکہ مخبر صادق  سیدنا محمد ﷺ نے خبر دی ہے کہ  عنقریب امت مسلمہ کے بعض لوگ بت پرستوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بت پرستی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ [22]

حتیٰ کہ جزیرۃ العرب میں قبیلہ دوس کے لوگ زمانہ جاہلیت میں جس ذوالخلصہ نامی بت کی پوجا کرتے تھے، وہ قربِ قیامت میں دوبارہ اسی بت کی پوجا شروع کردیں گے۔[23]

دِیَت کی مِقدار

دِیت وہ ہرجانہ ہے جو قاتل کی طرف سے مقتول کے ورثا کو قصاص کی جگہ ادا کیا جاتاہے۔قرآن نے دِیت کی مقدار کا تعین نہیں کیا تاہم سنتِ متواترہ  اور فتاوی صحابہ و اہلِ بیت میں صراحت ہے کہ نبی ﷺ نے  آزاد مرد کی دِیت  کی مقدار (خون بہا) سواونٹ مقرر فرمائی ہے۔[24]تاہم سو اونٹوں  کی جگہ ان کی قیمت کسی بھی شکل میں ادا کی  جاسکتی ہے۔

جاوید  احمدغامدی کے نزدیک چونکہ حدیث دین میں حجت نہیں ہے اس لیےاس نے دیت کی کسی متعین مقدار کا سرے سے انکار کردیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے ، برہان میں غامدی کی ترنگ

’’اِس بحث سے یہ حقیقت پوری طرح مبرہن ہو جاتی ہے کہ اسلام نے دیت کی کسی خاص مقدار کا ہمیشہ کے لیے تعین کیا ہے ، نہ عورت اور مرد ، غلام اور آزاد اور کافر اور مومن کی دیتوں میں کسی فرق کی پابندی ہمارے لیے لازم ٹھیرائی ہے ۔ دیت کا قانون اسلام سے پہلے عرب میں رائج تھا۔ قرآن مجید نے قتل خطا اور قتل عمد ، دونوں میں اُسی کے مطابق دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ قرآن کے اِس حکم کی رو سے اب دیت ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے اسلام کا واجب الاطاعت قانون ہے ، لیکن اِس کی مقدار ، نوعیت اور دوسرے تمام امور میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ ’معروف‘ یعنی معاشرے کے دستور اور رواج کی پیروی کی جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے دیت کے فیصلے اپنے زمانے میں عرب کے دستور کے مطابق کیے ۔ فقہ و حدیث کی کتابوں میں دیت کی جو مقداریں بیان ہوئی ہیں، وہ اِسی دستور کے مطابق ہیں ۔ عرب کا یہ دستور اہل عرب کے تمدنی حالات اور تہذیبی روایات پر مبنی تھا۔ زمانے کی گردشوں نے کتاب تاریخ میں چودہ صدیوں کے ورق الٹ دیے ہیں ۔ تمدنی حالات اور تہذیبی روایات ، اِن سب میں زمین و آسمان کا تغیر واقع ہو گیا ہے ۔ اب ہم دیت میں اونٹ دے سکتے ہیں ، نہ اونٹوں کے لحاظ سے اِس دور میں دیت کا تعین کوئی دانش مندی ہے ۔‘‘ [25]

یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ دیت کا قانون اسلام سے پہلے عرب میں رائج تھا۔ قرآن مجید نے قتل خطا اور قتل عمد ، دونوں میں اُسی کے مطابق دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ میں نہ مانوں کی تکرار جاری ہے۔ اب قرآن کا حکم بھی تاریخ کی گرد تلے دب گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا دنیا سے اونٹ ناپید ہوگئے ہیں یا اونٹوں کی خریدو فروخت اور استعمال بالکلیہ موقوف ہوگیا ہے کہ اونٹوں کے ذریعے دیت کا تعین دانش مندی کے منافی قرار پائے؟ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اگر قرآن کے اس حکم کو مِن و عن تسلیم کرلیں تو مجتہد مطلق ہونے کا زعم کدھر جائے گا؟ اس طرح تو حدیث بھی مأخذِ دین قرار پائے گی، بھلا غامدی یہ پاپ کیوں کرے؟

غامدی کی قرآن فہمی

فقہا ئے امت نے قرآن و سنت سے گواہوں کی تعداد، نوعیت اور کوائف کے بارے میں جو نظام اخذکیا ہے اسے قانون شہادت کی تعبیر سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیتِ دَین  میں مالی معاملات میں گواہوں کی موجودگی میں وثیقہ لکھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ اسی آیت میں مذکور ہے کہ اول تو کوشش کریں کہ گواہ دو  سچے اور باکردار مرد ہوں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ایک مرد کی جگہ دو عورتیں کفایت کریں گی کیونکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے۔ملاحظہ فرمائیں


يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا تَدَايَنْتُـمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْـتُبُوْهُ ۚ وَلْيَكْـتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْـتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللٰهُ ۚ فَلْيَكْـتُبْۚ وَلْيُمْلِلِ الَّـذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهٝ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَاِنْ كَانَ الَّـذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِـيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٝ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۖ فَاِنْ لَّمْ يَكُـوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتَانِ مِمَّن تَـرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدَاهُمَا الْاُخْرٰى ۚ وَلَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ۚ وَلَا تَسْاَمُـوٓا اَنْ تَكْـتُـبُوهُ صَغِيْـرًا اَوْ كَبِيْـرًا اِلٰٓى اَجَلِـهٖ ۚ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰٓى اَلَّا تَـرْتَابُـوٓا ۖ اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْـرُوْنَـهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْـتُبُوْهَا ۗ وَاَشْهِدُوٓا اِذَا تَبَايَعْتُـمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ۚ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٝ فُسُوْقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ ۗ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْـمٌ
اے ایمان والو! جب تم کسی وقتِ مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور چاہیے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے، اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو اللہ نے سکھایا ہے، سو اسے چاہیے کہ لکھ دے، اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے، پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا سرپرست ٹھیک طور پر لکھوا دے، اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہو تاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے، اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو، یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو، مگر یہ کہ (جب) تجارت ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو، اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو، اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے، اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا، اور اللہ سے ڈرو، اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

قرآن کے اس حکم کے مطابق   مالی معاملات میں اکیلی عورت کی گواہی یا صرف دو عورتوں کی گواہی ہرگز کافی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مالی معاملے میں تین عورتیں بھی  بطور گواہ پیش کردے تو اس کی گواہی ناقص ہونے کی وجہ سے رد کردی جائے گی اور اس کا مقدمہ خارج کردیا جائےگا، کیونکہ  قرآنی نصاب شہادت کی تکمیل کےلیے  مردوں کی عدم موجودگی میں کم از کم چار عورتوں  کی  گواہی  ضروری ہے۔ اس قرآنی حکم میں حکمت یہ ہے کہ اکثرمعاشروں میں عام طور پر عورت اپنے خاندان کے مردوں کے زیرِ اثر ہوتی ہے۔مرد انہیں ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کی گو اہی دینے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ تاہم عورتوں کے مقابلے میں  مردوں کو ڈرانے دھمکانے  کےامکانات کافی کم ہوجاتے ہیں۔ پھر بھی شریعت نے ایک  کی بجائے دو مردوں کی گواہی کو ترجیح دی ہے۔  اب اکیلے  مرد کی گواہی  ناقص ہونے کی وجہ سے اسے رد کردیا جائے گا مگر کوئی بھی اسے  اس مرد کی توہین نہیں سمجھتا۔ اس کے برعکس معاشرے کے حالات  اور غالب امکانات کی بنا پر اگر تین عورتوں کی گواہی کےناقص ہونے کی وجہ سے رد کردیا جائے تو اس پر عورت کی توہین کا  واویلا کیا جاتا ہے۔حالاں کہ اس شرعی حکم کا مقصود عورت  یا مرد کی توہین ہرگز نہیں ہے۔ مگر بزعمِ خویش مجتہد مطلق سے مرد اور عورت کی گواہی میں عدم مساوات کسی طرح بھی ہضم نہیں ہوپارہی۔ لہٰذا مرچیں چباتے ہوئے قرآن کے مذکورہ فرمان پر یوں حکم لگاتے ہیں

’’اس لیے کہ عورت گواہی کے وقت اگر گھبرا جائے گی اور عدالت محسوس کرے گی کہ اُس کی گواہی اِس سے متاثر ہوئی ہے تو وہ کسی خاص مقدمے میں ، جہاں یہ معاملہ پیش آ جائے اِس گواہی کو رد کر سکتی ہے ، لیکن اِ س سے یہ نتیجہ آخر کس طرح نکلا کہ قانون کی کتاب میں یہ دفعہ ہمیشہ کے لیے ثبت کر دی جائے کہ اب عورتوں کی شہادت ہی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ وہ گھبرا سکتی ہے ، اِس احتمال کو ہم تسلیم کرتے ہیں ، لیکن اِس کے مقابلے میں اتنا ہی قوی احتمال کیا یہ بھی نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی گھبراہٹ کے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی گواہی عدالت میں پیش کر دے ؟ قرآن نے اگر کہا ہے تو یہ کہا ہے کہ مبادا وہ گھبرا جائے ۔ یہ تو نہیں کہا کہ وہ بہرحال گھبراتی ہے یا وہ لازماً گھبرائے گی ۔ احتمال ہر حال میں احتمال ہے ، اِسے یقین اور قطعیت میں بدل کر ایک قاعدۂ کلیہ کی بنیاد آخر کس منطق کی رو سے بنایا جائے گا؟‘‘[26]

 لیجیے، اب قرآنی حکم  کوبھی کسی منطق کے تحت قاعدہ وکلیہ نہیں بنایا جاسکتا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پھر قرآن نے کب کہا ہے کہ عورت گھبرا سکتی ہے؟ اس نے تو یہ کہا ہے کہ عورت بھول سکتی ہے۔

 غامدی  قانونِ شہادت میں اپنے اجتہاد کا نچوڑ یوں بیان کرتا ہے

’’لہٰذا حدود کے جرائم ہوں یا اِن کے علاوہ کسی جرم کی شہادت ،ہمارے نزدیک یہ قاضی کی صواب دید پر ہے کہ وہ کس کی گواہی قبول کرتا ہے اور کس کی گواہی قبول نہیں کرتا۔ اِس میں عورت او رمرد کی تخصیص نہیں ہے ۔ عورت اگر اپنے بیان میں الجھے بغیر واضح طریقے پر گواہی دیتی ہے تو اُسے محض اس وجہ سے رد نہیں کر دیا جائے گا کہ اُس کے ساتھ کوئی دوسری عورت یا مرد موجود نہیں ہے‘‘۔[27]

اول توغامدی سے مالی معاملات میں بھی نصابِ شہادت پورا نہ ہونے کی صورت میں عورت کی گواہی کا رد ہونا برداشت نہیں ہوتا، اس پر مستزاد یہ کہ وہ چاہتا ہے کہ کسی اکیلی عورت کی گواہی پر کسی قتل کے ملزم  کو پھانسی چڑھا دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ قرآن تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ تین عورتوں کی گواہی پر  کسی شخص کا مال ایسے شخص کے حوالے کردیا جائے جو ان عورتوں کو  بہکا ، ورغلا یا دھمکاکر گواہی کے لیے عدالت میں گھسیٹ لایا ہو اور غامدی کو اصرار ہے کہ اکیلی عورت کی گواہی پر ملزم کی جان لے لی جائے۔ کیا اسی کا  نام قرآن فہمی ہے؟ ایسے فہمِ قرآن کو ہمارا دور سے سلام ہے۔ ملزم کی جان کا تحفظ بھی شریعت کے مقاصد میں سے ہے تاوقتیکہ کہ مطلوبہ شہادتوں سے  قابلِ اطمینان حد تک ہر شبہہ سے بالا تر ہوکر ثابت نہ ہوجائے کہ اسی نے کسی معصوم کی جان لی ہے یا وہ بلا جبرو اکراہ اقبالِ جرم نہ کرلے۔اس وقت تک عدالت اس  ملزم کی جان لینے کا حکم جاری نہیں کرسکتی۔

غامدی اور اجماعِ صحابہ ؓ

غامدی نے متعدد مقامات پر اجماع صحابہ کا حوالہ دیا ہے جس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ شاید غامدی اجماعِ صحابہ کو دین میں حجت مانتا ہے۔ جیسا کہ سنت کے ثبوت کی بحث میں وہ  اصول و مبادی کے عنوان کے تحت میزان میں لکھتا ہے

’’ سنت یہی ہے اور اِس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اِس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ۔وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ،یہ اِسی طرح اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا اِس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔‘‘ [28]

حالاں کہ غامدی اجماعِ صحابہ کو الگ حیثیت میں حجت نہیں مانتا، اس کے نزدیک اجماعِ صحابہ سنت کے ثبوت کا صرف ایک ذریعہ ہے جب کہ صحابہ  کاکسی مسئلے پر اجماع دین کا مستقل مأخذ نہیں ہے۔جیسا کہ اس نے اصول و مبادی کے آغاز میں ہی لکھا ہے

’’ یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اِس کے ماخذ کی تفصیل ہم اِس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :

۱۔ قرآن مجید

۲ ۔سنت‘‘ [29]

پس  غامدی کے نزدیک اجماعِ صحابہ دین کا کوئی مستقل مأخذ نہیں ہے۔ایک مثال سے اسے سمجھ لیجیے۔

صحابہ کرام  ؓ   کا اجماع ہے کہ جو مسلمان  بھی دینِ اسلام سے منحرف ہوجائے  اس کی سزا قتل ہے، خواہ اس مسلمان کا تعلق جزیرۃ العرب سے ہو یا  وہ دنیا کے کسی بھی کونے  میں بستا ہو۔ جیسا کہ علی بن ابو طالب، [30]سیدنا عبداللہ بن عباس[31]، سیدناانس بن مالک[32]،سیدنا معاذ بن جبل،[33]سیدناعبداللہ بن مسعود ،[34] سیدہ عائشہ صدیقہ [35] اورسیدنا جریر بن عبداللہ [36]  رضی اللہ عنہم سے مرفوعاً ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مرتد کی سزا قتل مقرر فرمائی ہے۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اس فرمان نبوی کے عین مطابق ہے۔[37] غرض دس سے زائد صحابہ کرامؓ بشمول اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام سے مرفوعا ًیا موقوفا ًثابت ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔ کسی صحابی کا بھی اس بارے میں کوئی اختلاف  منقول نہیں ہے۔خیرالقرون میں بھی اس اجماع پر عمل جاری رہا۔تمام آئمہ مجتہدین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہوجائے تو اس کی سزا قتل ہے۔جیسا کہ امام ترمذی نے تصریح کی ہے۔[38]

اس مسئلہ میں اجماع ِصحابہ کےثبوت کی اعلیٰ ترین شرطیں پائی جاتی ہیں۔مگر صحابہ کرام کا اجماع غامدی کے لیے قابلِ التفات نہیں ہے۔چناں چہ وہ اس مسئلہ میں وارد متواتر بالمعنی حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتا ہے(برہان:حدودتعزیرات)

’’ہمارے فقہا اِسے بالعموم ایک حکم عام قرار دیتے ہیں جس کا اطلاق اُن کے نزدیک اُن سب لوگوں پر ہوتا ہے جو زمانۂ رسالت سے لے کر قیامت تک اِس زمین پر کہیں بھی اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں گے۔ اُن کی رائے کے مطابق ہر وہ مسلمان جو اپنی آزادانہ مرضی سے کفر اختیار کرے گا، اُسے اِس حدیث کی رو سے لازماً قتل کر دیا جائے گا ۔ اِس معاملے میں اُن کے درمیان اگر کوئی اختلاف ہے تو بس یہ کہ قتل سے پہلے اُسے توبہ کی مہلت دی جائے گی یا نہیں اور اگر دی جائے گی تو اُس کی مدت کیا ہونی چاہیے ۔ فقہاے احناف البتہ ، عورت کو اِس حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ۔ اُن کے علاوہ باقی تمام فقہا اِس بات پر متفق ہیں کہ ہر مرتد کی سزا ، خواہ وہ عور ت ہو یا مرد ، اسلامی شریعت میں قتل ہے ۔ لیکن فقہا کی یہ رائے محل نظرہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تو بے شک ثابت ہے ، مگر ہمارے نزدیک یہ کوئی حکم عام نہ تھا، بلکہ صرف اُنھی لوگوں کے ساتھ خاص تھا جن پر آپ نے براہ راست اتمام حجت کیا اور جن کے لیے قرآن مجید میں ’مشرکین‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ۔‘‘ [39]

صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ یہ عام حکم تھا، اس میں کسی گروہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے  اسی کے مطابق خلفائے راشدین ؓنے عمل کیا اور کسی بھی صحابی نے ان پر انگلی نہیں اٹھائی۔مگر چونکہ اجماعِ صحابہ غامدی کے نزدیک قابلِ التفات نہیں  ہےاس لیے میں نہ مانوں کی تکرار یہاں بھی جاری ہے۔اس عبارت میں غامدی نے عمداً یہ فریب دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ جیسے یہ خیرالقرون کے بعد کے فقہا کی رائے ہے۔حالانکہ ہم یہ ثابت کر آئے ہیں کہ اس مسئلہ میں صحابہ کرام ؓ کا اجماع ہے۔

اسی زعم میں غامدی نے شراب  پینے کی حد ( طے شدہ سزا)  کا سرے سے انکار کردیا ہے حالانکہ نبی اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین سے شرابی پر حد جاری کرنے کا قطعی ثبوت موجود ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم ﷺ نے شرابی کو  چالیس کوڑے مارے،  اسی طرح سیدنا بو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے۔جبکہ سیدنا عمری رضی اللہ عنہ نے اسے بڑھا کر  اسی  کوڑے کر دیا۔یہ سب سنت کے عین مطابق ہیں۔[40]

شراب پینے کی اصل حد تو چالیس کوڑے ہی ہے مگر چونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بہت سے عجمی ممالک اسلام کے زیرِ نگین آچکے تھے اور ان کے باشندے اسلام قبول کرنے کے باوجود تقویٰ و تدین میں فروتر تھے، ان سے چونکہ شراب کی  عادت چھوٹ نہیں  پارہی تھی ،اس لیے بہت سے لوگ شراب پی کر پاکدامن عورتوں کی عزتوں پر حملہ آور ہوتے اور ان پر الٹا زنا کا الزام لگا دیتے۔  اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ نے نے حدِ قذف (پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کی سزا) یعنی اسی کوڑے ان شرابیوں کو لگانے کا حکم جاری کیا کیونکہ ان کا جرم دہرا تھا، وہ شراب بھی پیتے اور پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت بھی لگاتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شراب کی حد  ہرگزتبدیل نہیں کی بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بیک وقت ایک سے زائد جرائم کا ارتکاب کرے تو اس پر سب سے سخت سزا نافذ کی جاتی ہے اور نرم سزائیں موقوف کردی جاتی ہیں۔ اب اس ساری صورتحال کو جاننے کے باوجود غامدی شراب کی سزا کے بارے میں لکھتا ہے(برہان:حدودتعزیرات)

’’پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ شراب نوشی کی یہ سزا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے اُن کے ارباب حل و عقد کے ساتھ مشورے سے مقرر کی ہے ۔ اِس کی تاریخ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو شخص اِس جرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا ، اُسے بالعموم جوتے، لات، مکے ، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجور کے سنٹے مارے جاتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اِس کے لیے باقاعدہ چالیس کوڑے کی سزا مقرر کی اور سیدنا عمر نے اپنے دور خلافت میں جب یہ دیکھا کہ لوگ اِس جرم سے باز نہیں آتے تو اُسے اسی کوڑے میں بدل دیا ۔ ‘‘ [41]

بے شک بعض  روایات میں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے شرابی کو جوتے یا چھڑی سے پٹوایا مگر  حقیقت یہ ہے کہ شراب تدریجا ًحرام ہوئی ہے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب شراب  کے بارے میں قرآن کا رویہ ذرا نرم تھا۔ ورنہ بعد میں رسول اکرم ﷺ نے شرابی کے بارے میں نہایت سخت رویہ اپنایا تھا یہاں تک کہ بار بار شراب پینے والے کو  قتل تک کی دھمکی دے ڈالی تھی اگرچہ آپ نے کسی شرابی کو قتل نہیں کیا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ،  سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا معاویہ، سیدنا شرحبیل بن اوس   اور سیدنا شرید رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا  جو شخص شراب پیے اسے کوڑے مارو، اگر وہ پھر پیے تو کوڑے مارو،اگر پھر پیے تو کوڑے مارو اور اگر پھر پیے تو اسے قتل کرڈالو۔[42]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس ایک شرابی کو لایا گیا تو رسول اکرم ﷺ نے اس پر حد جاری کی۔[43]

متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے شرابی کی حد خود جاری فرمائی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صراحت فرمادی ہے کہ یہ حد چالیس کوڑوں پر مشتمل تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی خلفائے راشدین ؓ کے حد سکران جاری کرنے پر نکیر نہیں فرمائی اس لیے جمہور امت اسے بھی اجماع ِ صحابہ کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

غامدی کا نیل پالش کے بارے میں فتویٰ

اسی طرح غامدی نےاجتہاد کے زعم میں  نیل پالش کی موجودگی میں وضو کو درست قرار دیا ہے۔

غامدی اپنی کتاب مقامات میں لکھتا ہے
تیسرا یہ کہ اِسے جرابوں کے مسح پر قیاس کرنا چاہیے۔ چنانچہ نیل پالش اگر وضو کرکے لگائی گئی ہے تو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے، اِس کے اوپر ہی وضو کر لیا جائے گا، لیکن وضو کے بغیر لگائی گئی ہے تو اِسے اتار کر وضو کرنا چاہیے۔

ہمارے نزدیک یہی تیسرا مسلک قابل ترجیح ہے۔[44]
یہ مسئلہ فقہائے امت کے ہاں مسلمہ ہے کہ جن اعضائے وضو کو دھونا فرض ہے ان پر اگر کوئی ایسا روغن وغیرہ لگا ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے میں حائل ہو تو اس روغن کا زائل کرنا وضو کی لازمی شرط ہے۔ فقہا نے اس کیفیت کو مسح علی الخفین پر قیاس نہیں کیا۔ کیونکہ یہ قیاس مع الفارق ہے۔ چرمی موزے سرد یا صحرائی علاقوں کی ایک ضرورت ہیں۔ جبکہ نیل پالش کا تعلق ضروریات کی بجائے جمالیات سے ہے۔ اسے نہ بھی لگایا جائے تو انسان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔
غسل کے لیے غامدی نے اپنے مذکورہ مضمون میں کوئی وضاحت نہیں کی حالانکہ غسل کے لیے روغنیات کی موٹی تہہ کو بدن سے زائل کرنا ضروری ہے ورنہ غسل ہی نہ ہوگا۔ یہاں تو مسح علی الخفین پر بھی قیاس کرنا ممکن نہیں۔
ایسے بیسیوں نادر مسائل ہیں جو غامدی نے متعارف کرائے ہیں، جن کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون کی گرفت سے باہر ہے۔ بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے اور ادھر ادھر نکلنے والے گمراہی کے راستوں سے محفوظ رکھے، نیز جاوید احمد غامدی اور اس کے پیروکاروں کو ہدایت عطا فرمائے۔آمین
جاویداحمد غامدی کے تمام مذکورہ اقتباسات اس کی آفیشل ویبسائٹ سے لیے گئے ہیں۔

https://www.javedahmedghamidi.org/

سنت کے صحیح تصور اور اس کے حجت ہونے کے دلائل کے لیے ہمارا درج ذیل مضمون ملاحظہ فرمائیے

منھاج المصطفٰے


[5] مسند احمد: رقم  ، ٤١٥٧

 

[6] صحیح البخاری: رقم ۶۷

[14] البقرہ آیت ۱۸۷

[15]ایضاً

[16]البقرہ: ۱۵۸

[17] عبدالرحمٰن ابن الجوزیؒ،زادامسیر فی علم التفسیر، جلد ۱، صفحہ ۱۶۴

[19] الممتحنۃ: ۴

[22] جامع الترمذی: رقم ۲۲۱۹

[23] صحیح البخاری :رقم ۷۱۱۶

[24] شرح الزرکشی، جلد ۳، صفحہ ۳۲۔۳۳

[29] ایضا ً

[30] مسند امام احمد: رقم ۲۵۵۱، صحیح البخاری: رقم ۱۸۷۱

[31] ایضاً

[32] مسند امام احمد: رقم ۲۹۶۷

[33] مسند امام احمد: رقم ۲۲۳۶۵

[34] مسند امام احمد: رقم ۳۶۲۱، صحیح البخاری: رقم ۶۸۷۸، صحیح مسلم:رقم ۱۶۷۶

[35] مسند امام احمد: رقم ۲۶۳۱۴

[36] مسند امام احمد: رقم ۱۹۴۵۲

[37] ابن قدامہ الحنبلی ؒ ، المغنی والشرح الکبیر، جلد ۱۰، صفحہ ۷۴، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان

[38] جامع الترمذی، کتاب الحدود، باب ما جأ فی المرتد

[42] مسند امام احمد: رقم ۶۷۹۱،۶۱۹۷ ۱۰۷۴۰،۱۶۹۷۲، ۱۸۲۱۷،۱۹۶۸۹ 

[43] مسند امام احمد: رقم۴۷۸۶

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading