2024-07-17

 

نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ اور کورونا وائرس

ساجد محمود انصاری

ایک زمانہ تھا کہ جب ٹیلی وژن صرف ایک مفید ذریعۂ مواصلات کی حیثیت رکھتا تھا  اور اس پر محدود وقت کے لیے تفریحی پروگرامز بھی پیش کیے جاتے تھے۔مگر پھر  ڈش انٹینا اور انٹر نیٹ   کی سہولت میسر آگئی جس سے چوبیس گھنٹے نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ  ممکن ہوئی مگر یہ سہولت صرف پیسے والوں کو میسر تھی۔  لہٰذا دجالی تہذیب نے کوشش کرکے ہر شخص کو چوبیس گھنٹے نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیبل کی سہولت اختراع کی۔آج  چوبیس گھنٹے نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ کی دلل میں سب لوگ گردن تک دھنسے ہوئے ہیں۔ کاروباری حضرات اور ملازمین تو اپنے فارغ وقت میں ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، لہٰذا وہ محدود وقت کے لیے ہی اس انٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں مگر  طلبا  اس بے لگام انٹرٹینمنٹ سے سب سے زیاہ متأثر ہونے والا طبقہ ہے۔حال یہ ہے کہ طلبا اس نان سٹاپ انٹرٹینمٹ کی وجہ سے ورزشی کھیلوں  تک سے دور ہوچکے ہیں، تعلیم کا تو کہنا ہی کیا؟ اس کے لیے مغز ماری کرنا پڑتی ہے، مشقت اور محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے تعلیم کا بہترین متبادل نان

 سٹاپ انٹرٹینمنٹ قرار پایا۔

گھروں میں والدین اپنے بچوں کی تعلم و تربیت کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے، مگر انہیں اس نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ سے فرصت ملے گی تو وہ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت نکالیں گے ناں۔اگر ماں باپ  انٹرٹینمنٹ میں مصروف ہوں تو ایسے میں وہ اپنے بچوں سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ عین اسی وقت وہ  گھر پر دلجمعی سے اپنے تعلیمی اسباق پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ایسے میں ہوم ایجوکیشن کی گنجائش ہی کہاں بچتی ہے؟

اب جبکہ کرونا  وبا کے باعث سکول اور اکیڈمی بند ہے،  والدین کو اپنے مشاغل پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔اگر وہ اپنے بچوں کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ کی عادت کو بدلنا ہوگا۔ انٹرٹینمنٹ کے اوقات کو محدود تر  کرنا ہوگا اور اساتذہ کے مشورے سے  اپنے بچوں کے لیے تعلیمی پروگرام تشکیل دینا ہوگا۔

وہ ہوم ایجوکیشن جو ہمارے اسلاف کا امتیاز ہوا کرتی تھی اسے از سرِ نو زندہ کرنا ہوگا۔

الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور ایک جاندار اور مؤثر  نظامِ تربیت کےوارث ہیں۔ لہٰذا ہمیں واقعی مسلمان بننا ہوگا۔ جس میں جتنی استطاعت ہے   وہ اپنے مقدور بھر نہ صرف خود دین سیکھے بلکہ اپنے بچوں کو بھی سکھائے۔ اخلاقیات کی تعلیم اسلام سے بڑھ کر کوئی نہیں دے سکتا۔اخلاقیات ہی تربیت کی بنیاد بنا کرتی ہیں۔اپنے بچوں کی تربیت کیجیے۔ان کے اسباق میں ان کی رہنمائی کیجیے۔ان کی مشکلات دور کیجیے۔

پس ذرا رُک کر سوچیے کہ ہمیں نان سٹاپ انٹرٹینمنٹ زیادہ عزیز  ہے یا اپنی اولاد؟

اور ہاں اگر کبھی فرصت ملے تو اس پر بھی ضرور غور کیجیے گا کہ جس انٹرٹینمنٹ کے لیے ہم اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں اس نے آج تک عملی طور پر کیا فائدہ باہم پہنچایا ہے؟

نیز یہ کہ کیا انٹرٹینمنٹ کی بھی کوئی حدود مقرر ہونی چاہییں یا جو کچھ بھی میڈیا ہمیں دکھا دے ہمیں اسےمزے لے کر دیکھتے رہنا چاہیے، اس چیز کی پرواہ کیے بغیر کہ ہمارے دین نے تفریح کی کیا حدود مقرر کی ہیں؟ یاد رکھیے کہ جو انٹرٹینمنٹ آپ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے  ،خود آپ کو بھی اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading