2024-07-17

 

صدقۃ الفطر (فطرانہ) کے بنیادی احکام

  صدقۃ الفطر (فطرانہ) کے بنیادی
احکام

از قلم ساجد محمود انصاری

صدقۃ الفطر جسے اردو میں فطرانہ بھی کہا جاتا ہے رمضان کے
آخر ی دن اور شوال کی پہلی رات  کو ادا کی
جانے والی ایک مالی عبادت ہے جس کا  بنیادی
مقصد فقرا کو عیدالفطر کی خوشیوں میں شریک کرنا ہے۔فقہی اصطلاح میں صدقۃ الفطر کو
زکوٰۃ الفطر بھی کہا جاتا ہے اور اکثر فقہا نے اسے زکوٰۃ کے احکام کے ساتھ بیان
کیا ہے۔

صدقۃ الفطر کے بارے میں چار بنیادی مسائل بیان کیے گئے ہیں:

1۔ صدقۃ الفطر کس پر واجب ہوتا ہے اور اس کا مستحق کون ہے؟

2۔ صدقۃ الفطر کب واجب ہوتا ہے؟

3۔ صدقۃ الفطر کی واجب مقدار کیا ہے؟

1۔ صدقۃ الفطر کس پر واجب ہوتا ہے اور اس کا مستحق کون ہے؟

رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق اصولی طور پر صدقۃ
الفطرہرمردووعورت ، آزاد اور غلام مسلم پر فرض ہے، سوائے فقرا ومساکین کے جن کے
پاس ایک دن کا کھانا بھی موجود نہ ہو۔

عَنِ اْلَحَسِن قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی
‌اللہ ‌عنہما فِی آخِرِ رَمَضَاَنَ، فَقَالَ: یَا اَہْلَ الْبَصْرَۃِ! اَدُّوا
زَکَاۃَ صَوْمِکُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ،
فَقَالَ: مَنْ ہٰہُنَا مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ؟ قُوْمُوْا فَعَلِّمُوْا
إِخْوَانَکُمْ فَإِنَّہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ
‌وآلہ ‌وسلم فَرَضَ صَدَقَۃَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ اَوْ صَاعًا مِنْ
شَعِیْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی۔
[1]

امام حسن بصریؒ  کہتے ہیں: سیدناعبد اللہ بن عباس ‌علیہما السلام
نے ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور کہا: ا
ےاہل بصرہ! تم
اپنے روزوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سن کر لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے،
انہوں نے کہا: یہاں مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ اٹھو ذرا اور
اپنے بھائیوں کو یہ تعلیم دو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر
غلام و آزاد اور مردوزن پر صدقۂ فطر کے سلسلہ میں گندم کا نصف صاع اور جو اور کھجور کا
ایک ایک صاع فرض کیا ہے۔

 

جس شخص کے پاس  صدقۃ
الفطر کے علاوہ عید کے دن کے لیے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی خوراک  یا اس کی قیمت موجود ہے اس پر صدقۃ الفطر
(فطرانہ)   واجب ہے۔اس قول کی بنیاد یہ ہے کہ نبی ﷺ کے
فرمان کی رو سے صرف فقرا ہی صدقۃ الفطر کے وجوب سے مستثنیٰ ہیں۔

 شریعت کی نظر میں فقرا
 و مساکین کون ہیں؟ اس کا جواب درج ذیل
حدیث سے واضح ہے:

عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :

((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً عَنْ ظَہْرِ غِنًی، اِسْتَکَثَرَ
بِہَا مِنْ رَضْفِ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: مَا ظَہْرُ غِنٍی؟ قَالَ: ((عَشَائُ
لَیْلَۃٍ۔))

سیدناعلی ‌علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ
‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی  ہونے کے
باوجود لوگوں سے مانگتا ہو، وہ اپنے لئے جہنم کے گرم پتھروں میں اضافہ کرتا ہے۔
صحابہ نے پوچھا: غِنٰی کی مقدار کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
ایک دن رات کا کھانا۔[2]

سہل بن سعد الانصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم
ﷺ نے فرمایا:

إِنَّہُ مَنْ سَاَلَ وَعِنْدَہُ مَا یُغْنِیْہِ فَإِنَّمَا
یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِجَہَنّمَ۔)) قَاُلْوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا
یُغْنِیْہِ؟ قَالَ: ((مَا یُغَدِّیْہِ وَ یُعَشِّیِہِ۔

جو شخص غنی ہونے کے
باوجود مانگتا ہے، وہ اپنے لیے جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنا
مال غنی ہونے کے لیے کفایت کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنا
مال کہ جو اس کے صبح اور شام کے کھانے کے لیے کافی ہو۔

مسند احمد: رقم 1775

احناف کے نزدیک جن فقرا کو صدقۃ الفطر کے وجوب سے مستثنیٰ
کیا گیا ہے ان سے مراد وہ فقرا ہیں جو صاحبِ نصاب نہیں ہیں۔اگر اس رائے کو درست
مان لیا جائے تو مسلمانوں کی اکثریت اس آسان عبادت سے محروم رہ جائے گی کیوں کہ
ہر زمانے میں صاحبِ نصاب اغنیا قلیل تعداد میں رہے ہیں۔ اس رائے کو تسلیم نہ کرنے
کا دوسرا سبب درج ذیل حدیث بھی ہے:

وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَ الصِّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ
وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ.

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے مروی ہے کہ رسول
اکرم ﷺ نے زکوٰۃ الفطر فرض کی ہے تا کہ یہ روزہ دار وں کے لیے بے ہودہ کاموں اور
گناہ سے پاک کرنے کا ذریعہ بنے اور مساکین کو کھانا نصیب ہو۔  [3]

اس حدیث مبارکہ میں صدقۃ الفطر کو روزداروں کے لیے پاکیزگی
کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، اگر صدقۃ الفطر صرف صاحب ِنصاب پر فرض ہے تو دوسرے روزہ
داروں کے لیے گناہوں سے پاکیزگی کا ذریعہ کیا ہوگا؟ نیزاسی حدیث میں صدقۃ الفطر
کو  مساکین کے کھانے کا ذریعہ بھی قرار دیا
گیا ہے، گویا صرف مساکین ہی صدقۃ الفطر کے وجوب سے مستثنیٰ ہیں۔درج ذیل حدیث سے
بھی اسی کی تائید ہوتی ہے:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول
اکرم ﷺ نے صدقۃ الفطر کو مساکین میں تقسیم کرنے کے بارے میں فرمایا:

اغْنُوهُمْ عَنِ اَلطَّوَافِ فِي هَذَا اَلْيَوْمِ

ان مساکین کو اس عید کے دن( مانگنے کے لیے دربدر) گھومنے کا
محتاج نہ رہنے دو۔[4]

2۔صدقۃ الفطر کب واجب ہوتا ہے؟

صدقۃ الفطر کی شوال کا چاند نظر آنے پر واجب ہوجاتا ہے۔پس
جو بچہ آخری روزے کے غروب آفتاب کے بعد پیدا ہو اس کا فطرانہ ادا کرنا اداکرنا
واجب ہے اور جو شخص اس وقت سے پہلے فوت ہوجائے اس کا فطرانہ ساقط ہوجاتا ہے۔واللہ
اعلم

وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَ الصِّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ
وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد: رقم 1609

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے مروی ہے کہ رسول
اکرم ﷺ نے زکوٰۃ الفطر فرض کی ہے تا کہ یہ روزہ دار وں کے لیے بے ہودہ کاموں اور
گناہ سے پاک کرنے کا ذریعہ بنے اور مساکین کو کھانا نصیب ہو۔  [5]

 

امام عطا بن ابی رباحؒ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ
بن عباس علیہما السلام کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اگر تم میں استطاعت ہو تو عید کی
نماز سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کردیا کرو۔[6]

 

صدقۃ الفطر کی واجب مقدار کیا ہے؟

صدقۃ الفطرکا مقصد یہ ہے کہ عید کے ایام میں کوئی فقیر ومسکین
شخص بھوکا نہ سوئے، لہٰذا نبی ﷺ کے زمانہ میں صرف غلہ یا قابلِ ذخیرہ خوراک جیسے
کھجور اور کشمش وغیرہ بطور فطرانہ ادا کیا جاتا تھا۔ کھانے کی ضرورت چونکہ کپڑے
اور جوتے سے زیادہ اہم ہے اس لیے شریعت نے صدقۃ الفطر میں قابلِ ذخیرہ غذائی
اجناس  پر اکتفا کیا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ:
فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذِہِ الصَّدَقَۃَ کَذَا
وَکَذَا وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا۔[7]

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقۂ فطر کے سلسلہ میں
فلاں فلاں جنس کا ایک ایک صاع اور گندم کا
نصف صاع مقرر فرمایا ہے۔

عَنِ اْلَحَسِن قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی
‌اللہ ‌عنہما فِی آخِرِ رَمَضَاَنَ، فَقَالَ: یَا اَہْلَ الْبَصْرَۃِ! اَدُّوا
زَکَاۃَ صَوْمِکُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ،
فَقَالَ: مَنْ ہٰہُنَا مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ؟ قُوْمُوْا فَعَلِّمُوْا
إِخْوَانَکُمْ فَإِنَّہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ
‌وآلہ ‌وسلم فَرَضَ صَدَقَۃَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ اَوْ صَاعًا مِنْ
شَعِیْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی۔
[8]

امام حسن بصریؒ  کہتے ہیں: سیدناعبد اللہ بن عباس ‌علیہما السلام
نے ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور کہا: ا
ےاہل بصرہ! تم
اپنے روزوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سن کر لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے،
انہوں نے کہا: یہاں مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ اٹھو ذرا اور
اپنے بھائیوں کو یہ تعلیم دو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر
غلام و آزاد اور مردوزن پر صدقۂ فطر کے سلسلہ میں گندم کا نصف صاع اور جو اور کھجور کا
ایک ایک صاع فرض کیا ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: فَرَضَ
رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَۃَ رَمَضَانَ عَلَی
الذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوْکِ صَاعَ تَمْرٍ اَوْ صَاعَ
شَعِیْرٍ [9]

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور
صدقۂ فطر فرض کیا ہے

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ
صُعَیْرٍ الْعُذْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ
‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمَیْنِ فَقَالَ: اَدُّوا
صَاعًا مِنْ بُرٍّ اَوْ قَمْحٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ(وَفِی رِوَایَۃٍ: عَنْ کُلِّ
اثْنَیْنِ) اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ عَلَی کُلِّ حُرٍّ
وَعَبْدٍ وَصَغِیْرٍ وَکَبِیْرٍ۔ [10]

سیدناعبد اللہ بن ثعلبہ عذری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الفطر سے دو روز قبل
لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: تم ہر دو آدمیوں کی طرف سے گندم کا ایک صاع اور کھجور اور جو کی
صورت میں ہر ایک کی طرف  سےایک ایک صاع ادا
کرو، یہ صدقہ ہر آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے پرواجب ہے۔

عَنْ اَسْمَأ بِنْتِ اَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما
قَالَتْ: کُنَّا نُؤَدِّیْ زَکَاۃَ الْفِطْرِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی
‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُدَّیْنِ مِنْ قَمْحٍ بِالْمُدِّ الَّذِی تَقْتَاتُوْنَ
بِہِ
[11]  

سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں
ایک آدمی کی طرف سے گندم کے
دو مُد  (نصف صاع) بطورِ صدقۂ فطر ادا
کرتے تھے، یہ وہی مُد ہے، جس کے ساتھ تم غلے کا لین دین کرتے ہو۔

امام
علی علیہ السلام
نے
فرمایا کہ جن کا نفقہ تمہارے ذمہ ہے ان میں سے ہر ایک کی جانب سے نصف صاع گندم یا
ایک صاع کھجور (فطرانہ) ادا کرو
۔[12]

سیدنا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صدقۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے اور غلام اور
آزاد مسلم پر واجب ہے  جوکہ نصف صاع(دو
مُد) گندم یا ایک صاع کھجور یا جو کا ہے۔[13]

امام عطا بن ابی رباحؒ  [14]، امام
مجاہدؒ   [15]، امام
سعید بن المسیب ؒ [16]اور امام
طاؤس ؒ    [17]سے گندم
کا نصف صاع منقول ہے۔امام عروہ بن زبیرؒ، امام سعید بن جبیرؒ،امام مجاہد بن جبرؒ،
امام ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسف ؒ، امام محمد بن حسن ؒ بھی گندم کے نصف صاع کے قائل
ہیں۔ گندم کے نصف صاع کو بدعت کہنا خود ایک بدعت ہے۔

صدقۃ الفطر چونکہ ہر اس شخص پر فرض کیا گیا ہے  جس کے پاس صدقۃ الفطر کے علاوہ اپنے اہل وعیال  کے لیے ایک دن رات کا کھانا موجود ہو، اس لیے
لازم تھا کہ اس کی ادائیگی کو آسان تر بنایا جائے۔ لہٰذا شریعت نے اپنے پا س دستیاب
کسی بھی جنس میں سے   صدقۃ الفطر ادا کرنے کی رخصت دی، خواہ آدمی کے
پاس درہم و دینار نہ بھی موجود ہوں۔

مزید برآں نبی ﷺ کے زمانہ میں اجناس کا تبالہ (بارٹر سسٹم)
بھی رائج تھا، لہٰذا فقرا ان اجناس کے بدلے اپنی ضرورت کا دوسرا سامان  جیسے کپڑے اور جوتے وغیرہ بھی خرید سکتے تھے۔آج
جبکہ اجناس کےتبادلےکا رواج ختم ہوچکا ہے، اس لیے صدقۃالفطر میں ملنے والی اجناس
کے بدلے لوگ دوسری ضروریات خرید نہیں سکتے۔ گویا آج صورتِ مسئلہ بدل چکی ہے۔جب
صورتِ مسئلہ بدل جائے تو فتویٰ بھی بدل جاتا ہے، لہٰذا اب مذکورہ اجناس کے علاوہ
نقد رقم کی صورت میں فطرانہ ادا کرنے کا جواز راجح ہے۔واللہ اعلم

صاع کی جدید پیمائش

  صاع  اجناس یا مائعات ماپنے کا ایک عربی پیمانہ ہے۔ ایک
صاع میں چار مُدّ ہوتے ہیں جبکہ  دونوں
ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو ملاکر جو پیالہ نما شکل بنتی ہے اس میں جتنے  جو یا کھجوریں بھری جاسکتی ہیں اسے مُدّ کہتے
ہیں۔ ایک عام آدمی کی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اگر ان میں جو یا کھجوریں بھری
جائیں تو ان کی اوزان کےجدید پیمانے کے مطابق پیمائش 250 سے 300 گرام تک ہوسکتی
ہے۔ یوں ایک صاع کا وزن زیادہ سے زیادہ 1200 گرام یا تقریباً سوا کلو کے برابر
بنتا ہے۔اس حساب سے 600 گرام گندم یا 1200 گرام جو، کھجور ،چاول یا کوئی اور جنس
یااس کی موجودہ  قیمت بطور صدقۃ الفطر ادا
کرنا  ہر فرد پرواجب ہے۔ ہر شخص اپنی جانب
سے اوراپنے زیرِ کفالت افرادکی جانب سے صدقۃ الفطر  ادا کرنے کا پابند ہے۔ بوڑھے والدین کی جانب سے
نوجوان اولاد صدقۃ الفطر ادا کرے۔واللہ اعلم بالصواب

 

 

 



[1] مسند احمد: رقم 2291

[2] مسند احمد: رقم 1253

[3] سنن ابوداؤد: رقم 1609

[4] سنن دارقطنی

[5] سنن ابوداؤد: رقم 1609

[6] مصنف عبدالرزاق: رقم 5912

[7] مسند احمد: رقم 2018

[8] مسند احمد: رقم 2291

[9] مسند احمد: رقم 4486، صحیح البخاری: رقم 1511، صحیح مسلم: رقم 2244

[10] مسند احمد: رقم 24063

[11] مسند احمد: رقم 27535

[12] مصنف عبدارزاق: رقم 5850،  سنن البیہقی: رقم 7759

[13] مصنف عبدالرزاق: رقم 5849

[14] مصنف عبدالرزاق: رقم 5842

[15] مصنف عبدالرزاق: رقم 5848

[16] مصنف عبدالرزاق: رقم 5863

[17] مصنف عبدالرزاق: رقم 5847

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading