2024-07-17
روم کا پہلا سفر

روم کا پہلا سفر

از قلم ساجد محمود انصاری

چھٹی صدی عیسوی میں جزیرۃ العرب کا شمالی حصہ سلطنتِ رُوم کے قبضے میں تھا جسے عربوں کی زبان میں الشام کہا جاتا تھا۔چوتھی صدی عیسوی میں سلطنتِ روم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی، مشرقی روم کو اس کے دارالحکومت بازنطین کی نسبت سے بازنطینی روم بھی کہا جاتا تھا۔بعد میں بازنطینی شہنشاہ قسطنطین نے بازنطین کا نام اپنے نام پر قسطنطینیہ رکھ دیا تھا، جسے آجکل استانبول کہتے ہیں، جوکہ موجودہ ترکی کا دارلحکومت ہے۔

رسول اکرم ﷺ ابھی کمسن بچے ہی تھے کہ ایک بار آ پ کے رحمدل چچا ابوطالب تجارتی قافلہ کے ساتھ  روم (شام) کے سفر پر جانے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار فرمایا۔آپکے شفیق چچا انکار نہ کرسکے اور بھتیجے کو اپنے ساتھ لے کرقافلے کے ساتھ روانہ ہوئے۔ رومی شہر بُصریٰ پہنچ کر قافلے نے ایک نیک پرورعیسائی راہب بَحیریٰ کے آستانے پر پڑاؤ ڈالا۔تجارتی قافلے پہلے بھی یہاں پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، مگر بحیریٰ راہب ان کی طرف کوئی خاص التفات نہیں کرتا تھا۔مگر اب کی بار جیسے ہی قافلہ جا کے وہاں ٹھہرا،وہ راہب  خود چل کر ان کےپاس آیا اور گرمجوشی سے ان کا استقبال کرنے لگا۔ مسافروں کے لیے یہ امر تعجب خیز تھا۔آخر انہوں نے اس بدلے ہوئے رویے کا سبب جانے کی کوشش کی تو راہب نے بتایا : میں اس آستانے کی اوپر کی منزل میں محوِ عبادت تھا کہ میں نے آپ کا قافلہ دور سے  آتے ہوئے دیکھا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ قافلہ جس طرف جاتا تھا ایک گھنا بادل اس پر سایہ فگن رہتا۔ یہاں تک کہ جب قافلہ میرے آستانے کے باہر ٹھہر گیا تو بادل بھی یہیں رک گیا اور  اس نے قافلے پر مسلسل سایہ کیے رکھا۔ یہ دیکھ کر میں جان گیا کہ قافلے میں کوئی غیر معمولی اور مکرم و محترم  شخصیت شامل ہے، جس پر یوں اللہ کریم مہرباں ہے۔

پھر راہب بحیریٰ نے قافلے والوں کے لیے پر تکلف کھانا تیار کروایا اور انہیں تاکید کی کہ کوئی شخص اس دعوت میں شریک ہونے سے رہ نہ جائے۔کھانے کے بعد راہب کھڑا ہوا اور رسول اکرم ﷺسے ان کی عادات کے بارے میں مختلف سوالات کرنے لگا۔نبی ﷺ کے جوابات سے راہب کو اپنے ذہن میں پلنے والے خیال کی مکمل تائید مل گئی اور وہ پکار اٹھا کہ یہ ہاشمی لڑکا مستقبل میں نبی بننے والا ہے۔ مزید تصدیق کے لیے اس نے نبی ﷺ کے کندھے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو وہاں اس مہر نبوت کو ثبت پایا جس کا تذکرہ سابقہ انبیا  علیہم السلام کی پیش گوئیوں میں کیا گیا تھا۔

اس کے بعد راہب نے جناب ابو طالب سے پوچھا کہ یہ لڑکا آ پکا کیا لگتا ہے؟ انہوں  نے ازروئے شفقت کہہ دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اس پر راہب بولا کہ اس بچے کا باپ اس وقت زندہ نہیں ہوسکتا۔تب ابو طالب نے کہا:جی یہ میرا بھتیجا ہے۔راہب نے کہا کہ اس کے باپ کے بارے میں بتائیے۔ تب انہوں نے بتایا کہ اس کا باپ اس وقت فوت ہوگیا تھا جب یہ بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھا۔اس پر راہب کہنے لگا کہ آپ نے سچ کہا۔ آپ اپنے بھتیجے کو فوراً اس کے وطن واپس لے جائیں اور یہودیوں سے اس کی حفاظت کریں کیونکہ اگر انہوں نے بھی ان میں وہ نشانیاں دیکھ لیں جو میں نے دیکھی ہیں تو وہ انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔تب جناب ابو طالب نے نبی ﷺ کو واپس مکہ بھیج دیا۔

(سیرت ابن ہشام مع الروض الانف، ج1، ص 345-348

یہ واقعہ حدیث و سیرت کی متعدد امہات  کتب میں قریب المعانی الفاظ کے ساتھ نقل ہوا ہے،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کوئی فرضی قصہ نہیں ہے بلکہ نفسِ واقعہ ضرور پیش آیا ہے۔ ہاں بیان کرنے والوں نے ترتیب واقعات میں کچھ ردو بدل کردیا ہے۔ہم نے اس واقعہ کی صرف وہی باتیں ذکر کی ہیں جواس موضوع کی اکثر  روایات میں وارد ہوئی ہیں۔البتہ ترتیب ہم نے وہ اختیار کی ہے جو منطقی ترتیب کے قریب ترین ہوسکتی ہے۔

یہ واقعہ رسول اکرم ﷺ کی نبوت کےدلائل میں سے ایک قوی دلیل ہے، اگرچہ آپکی نبوت کا انحصار اس ایک واقعہ پر نہیں ہے ، مگر کسی سچے واقعہ کو محض اس لیے رد کردینا مناسب نہیں کہ معاندین اسلام اس واقعہ سے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرتے ہیں۔وہ تو قرآنی آیات تک کو اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا کرتے ہیں، تو کیا ہم قرآن سے ہی دستبردار ہوجائیں؟

جہاں یہ واقعہ سنداً قابل اعتماد ہے وہیں کچھ خارجی شہادتیں بھی منصہ شہود پر آچکی ہیں جو اس واقعہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہیں۔اس واقعہ میں شام کے جس شہر بُصریٰ کا ذکر ہوا ہے ، اس  شہر کا تذکرہ دیگر احادیث میں بھی وارد ہوا ہےجن کاذکر ہم نے رسول اکرم ﷺ کے میلاد مبارک کے باب میں بھی کیا ہے کہ سیدنا آمنہ علیہا السلام بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ولادت کے وقت ان کے بدن سے ایک نور نکلا جس سے بُصریٰ کے محلات روشن ہوگئے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ ارضِ حجاز میں سے  ایک آگ  نہ نکلے  جس سے بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی۔ (صحیح البخاری، رقم 7118)

 بُصریٰ شہر آج بھی قائم ہے جو دمشق کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور ان دونوں شہروں کا درمیانی فضائی فاصلہ گوگل ارتھ کے مطابق  102 کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔یونیسکو نے بُصریٰ کو ورلڈ ہیری ٹیج (عالمی ورثہ)  قرار دیتے ہوئے  اس کا تعارف یوں کرایا ہے:

Bosra, once the capital of the Roman province of Arabia, was an important stopover on the ancient caravan route to Mecca. A magnificent 2nd-century Roman theatre, early Christian ruins and several mosques are found within its great walls۔

https://whc.unesco.org/en/list/22

bosra

بُصریٰ  بازنطینی روم کے صوبے عریبیا  پیٹرا  کاصدر مقام اور مرکزی شہر تھا۔ تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سےتجارتی قافلوں کی آمدو رفت یہاں کا عام معمول تھا۔تجارتی مرکز ہونے کے علاوہ بُصریٰ کا ایک خاص امتیاز یہاں کا راہبانہ نظام تھا جسے یورپی اصطلاح میں آرک بشپ کہا جاتا ہے۔یہ نظام راہبوں کی ترتیب فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر آرک بشپ صوبے بھر کے کلیساؤں اور راہبان کا نگران اور سربراہ ہوتا ہے۔لہذا جس راہب بحیریٰ کا مذکورہ واقعہ میں ذکر کیا گیا ہے وہ کوئی راہ چلتا  درویش یا  خود مست مجنون نہیں تھا، بلکہ سیکڑوں راہبوں کا سردار تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک صاحب علم راہب تھا۔واقعہ میں بھی اشارہ موجود ہے کہ بحیریٰ سابقہ انبیا کی  کتب کا بڑا عالم تھا جو آنے والے نبی کی سب نشانیوں سے آگاہ تھا۔رومی تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بُصریٰ کے راہب عیسائیت کے آرتھوڈاکس فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ بُصریٰ میں پانچویں اور چھٹی  صدی عیسوی کے قدیم کھنڈرات بھی دریافت ہوئے ہیں جن میں راہبوں کا ایک قدیم آستانہ  بھی شامل ہے۔

بعض اسلامی تاریخی روایات  میں راہب کا نام سرجیس اور بعض میں جرجیس بتا یا گیا ہے۔ (الراوض الانف، السیرۃ الحلبیہ)  ہمارا گمان یہ ہے کہ سرجیس یا جرجیس راہب  بحیریٰ کا اپنا نام نہیں تھا  بلکہ یہ راہبوں کے آستانے یا اس سے ملحق کلیسا کا نام ہوسکتا ہے ، کیوں کہ سینٹ جرجیس اور اور سینٹ سرجیس دونوں قدیم بزرگ گزرے ہیں اور دمشق کے قرب و جوار میں ان ناموں کے کلیساؤں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

https://de.zxc.wiki/wiki/St.-Sarkis-Kathedrale_(Damaskus)

 

 

یاد رہے کہ اس موضوع کی تقریباً تمام روایات کا اس پر اتفاق ہے کہ جناب ابو طالب نے راہب کا مشورہ مانتے ہوئے انہیں فوراً مکہ واپس روانہ کردیا۔ لہٰذا رسول اکرم ﷺ کی راہب بحیریٰ سے نہایت مختصر سی ملاقات ہوئی تھی۔اس ملاقات میں راہب نے تو فیضان رسالت سے ضرور کچھ پایا ہوگامگر مستشرقین کا یہ دعویٰ کہ محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کیں وہ اصل میں انہوں نے راہب بحیریٰ سے سیکھی تھیں، دور کی کوڑی ڈھونڈ کے لانا ہے۔ اتنی مختصر سی ملاقات میں وہ تعلیمات سیکھنا ممکن ہی نہیں ہے جو نبی ﷺ نے پیش کی ہیں۔یہ مستشرقین کی رائی کا پہاڑ بنانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading