2024-07-17

 

 

از قلم ساجد محمود انصاری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا تو اسے حواسِ خمسہ کے ساتھ ساتھ عقل کی نعمت عطا فرمائی۔ یہ عقل ہی ہے جو انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔اگرچہ جانوروں میں بھی عقل کسی درجے تک موجود ہوتی ہے مگر انسانی عقل کے مقابلے میں جانوروں کی عقل کالعدم ہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل سے کام نہ لینے والوں کو بدترین جانور قرار دیا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

الانفال:22

ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک وہ گونگے بہرے لوگ بدترین جانور ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

واضح رہے کہ یہاں گونگے بہرے  کے الفاظ ان لوگوں کے لیے مجازاً استعمال کیے گئے ہیں جونہ تو  حق بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی حق کی تصدیق کرتے ہیں۔ سورۃ الانفال کی اس آیت مبارکہ میں اگرچہ اشارہ توکفار مکہ کی طرف کیا گیا ہے مگر اس کا اطلاق ہر اس شخص یا گروہ پر ہوتا ہے جو عقل سے کام لیتے ہوئے حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے  نہ صرف جہالت و جاہلیت پر اڑا رہتا ہے بلکہ حق کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاتا ہے۔

قرآن حکیم میں تقریباً 800 کے قریب آیات میں حواس خمسہ کے ذریعے مشاہدات کرنے اور عقل کے ذریعے ان سے  درست نتائج اخذ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ مثلاً درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیں:

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

الاعراف: 179

ترجمہ: اور ہم جہنم کو بہت سے جنوں اور انسانوں سے بھر دیں گے (کیونکہ) ان کے دل تو ہیں مگر ان سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے، ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں،ان کے کان تو ہیں مگر ان سے سنتے نہیں، یہی لوگ جانوروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ یہ لوگ (اللہ کی نشانیوں) سے غافل ہیں۔

 وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

یوسف: 105

ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ان کے سامنے موجود ہیں مگروہ ان سے اعراض کیے  ہوئے ہیں۔

 قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ

یونس:101

ترجمہ: ان سے کہیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو (مخلوق)ہے  اس میں غوروفکر کرتے رہا کرو۔بے ایمان قوم کے لیے نشانیاں اور انذار کا فی نہیں ہوتا۔

نیز فرمایا

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا  يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش  اور دن رات کے بدل بدل کر آنے جانے اور سمندر میں چلنے والی کشتی جس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے جو بارش نازل کی پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا  اور اس (زمین) میں تمام جانور پھیلائے  اور ہواؤں کی چلت پھرت اور آسمان اور زمین کے مابین مسخر بادل میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے۔

یہ چند نمونے کی آیات ثابت کرتی ہیں کہ قرآن اپنے قاری سے بغیر سوچے سمجھے محض اندھا دھندایمان لانے کا تقاضہ نہیں کرتا  بلکہ اسے کائنات میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے  تاکہ قاری قرآن کے دعاوی کی صداقت کو خوب جانچ پرکھ کر اسے قبول کرے۔کائنات میں اس غوروفکر کی دعوت نے ہی عرب کے جاہلیت زدہ ماحول میں علم و حکمت کی شمعیں روشن کیں، جن سے روشنی پاکر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پروانہ وار علم و حکمت کے موتیوں سے اپنے دامن بھرنا شروع کردیئے۔قرآن کے ان سچے قاریوں نے قرآن کے اک اک لفظ کو اپنی روح میں جذب کیا تھا، جس کی بدولت وہ دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں چھاپے خانے نہ ہونے کی وجہ سے عربوں میں تصنیف و تالیف کا رواج بہت ہی کم تھا۔اس لیے ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نتائج فکر کسی ایک کتاب میں یکجا نہیں ملتے، تاہم مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، تفسیر ابو حاتم اور تفسیر ابن جریر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نتائج فکر کا ایک خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے۔البتہ یہ ذخیرہ موضوعاتی ترتیب پر نہیں ہے بلکہ متفرق مضامین کی شکل میں دستیاب ہے۔یہ درست ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہر طرح کی علمی استطاعت رکھنے والے افراد شامل تھے، تاہم ان میں ایک ممتاز جماعت ان ہستیوں کی بھی تھی جنہیں قرآن نے راسخون فی العلم کا خطاب عطا فرمایا ہے۔راسخون فی العلم میں وہ صحابہ رضی اللہ عنہم شامل تھے جو اپنے ایمان و ایقان ،علم و عرفان  اور عقل و وجدان میں دوسرے سب صحابہ سے ممتاز تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم علم و عرفان اور عقل و وجدان کی کان ہونے کے باوجود سراپا ایمان و ایقان تھے اوراپنی رائے کے اظہار میں بہت محتاط تھے۔صحابہ کا زمانہ رخصت ہوا تو اظہار رائے میں احتیاط کا پیمانہ بھی بدل گیا۔عجمی اثرات کے تحت قیل و قال اور بحث و جدال میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں علم الکلام وجود میں آیا۔علم الکلام کا مقصد خدا کے بارے میں خالصتاً عقلی سطح پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب تلاش کرنا تھا۔چونکہ عقل کوکسی محدوددائرہ میں قید نہیں کیا جاسکتا اس لیے بعض ایسے سوال بھی اٹھ گئے جو بظاہر اسلام کے مسلمات سے  ہی متصادم تھے۔ان سوالات کے عقلی جواب تلاش کرنا فی نفسہ کوئی معیوب بات نہیں، مگر چونکہ عوام الناس کی اکثریت اوسط ذہنی سطح کی مالک ہوتی ہے اس لیے ان کے ذہن ایسے پیچیدہ اور غامض قسم کے سوالات کے متحمل نہیں ہوسکتے اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ یہ پرپیچ گھاٹیاں  ایمان کی سلامتی کے ساتھ عبور کر پائیں گے۔اس لیے بہت سے علما نے عوام الناس کو علم الکلام  کے مباحث سے دور رہنے کی تاکید کی، جس کا منفی نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس سرے سے عقلی مباحث سے ہی برگشتہ ہوگئے اور عقل و خرد شجر ممنوعہ بن گئے۔

تاہم علما کے ایک بہت بڑے گروہ نے عقل و فکر کی شمعیں فروزاں رکھیں جنہیں حکما کہا جاتا تھا۔ حکیم جابر بن حیان، حکیم ابن الہیثم، حکیم عبدالمالک اصمعی، حکیم بو علی سینا ، حکیم محمد بن زکریا الرازی، حکیم الادریسی، حکیم ابن النفیس اور حکیم ابن طفیل کے نام سر فہرست ہیں۔علما کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جو علم الکلام سے یکسر بد ظن تھا مگر حکما کی جدوجہد سے تجرباتی علوم کو مہمیز ملی اور یوں عالم اسلام میں ایجادو اختراع کا سلسلہ چل نکلا۔وہ زمانہ کہ جسے یورپ میں تاریک دور یا ڈارک ایجز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،  عالم اسلام میں تجرباتی علوم کی بہار کا زمانہ تھا۔ یہاں تک کہ یورپ میں پاپائیت کے خلاف بغاوت ہوگئی اور روشن خیالی کی تحریک پیدا ہوئی۔چنانچہ مسلم حکما کی کتب یورپی زبانوں میں ترجمہ کی جانے لگیں اور بطور نصاب انہیں پڑھانے کی ابتدا ہوئی۔ یوں علم جدید مسلم حکما کے توسط سے یورپ منتقل ہوا۔

یوں تو مذکورہ بالا حکما کی اکثر کتب نے یورپ میں جدید علم کی داغ بیل ڈال دی تھی، تاہم جدید سائنسی تحریک کی ابتداابوبکر محمد بن عبدالملک  ابن طفیل کے ناول حی بن یقظان سے ہوئی۔حی بن یقظان  نہ صرف انسانی تاریخ کا پہلا فلسفیانہ ناول ہے بلکہ اسے بجا طور پر پہلا اسلامی ناول بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ پہلا ناول تھا جس میں اسلامی عقیدے کو کہانی کے رنگ میں عقلی دلائل سے ثابت کیا گیا تھا۔ اگرچہ ناول کی کہانی بنیادی اسلامی عقائد کے گرد گھومتی ہے، مگر ناول کا انداز بیان خالصتا ً عقلی و منطقی ہے۔ناول کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانی شعور کیسے کام کرتا ہے اور اسے کیسے پروان چڑھایا جاسکتا ہے؟ ناول میں تعلم یعنی سیکھنے کے عمل کو نہایت  احسن انداز میں تدریج کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس ناول کا ترجمہ سب سے پہلے 1674 میں لاطینی زبان میں ہوا تو یورپ میں فطرت کےفطری مطالعہ کا تعارف ہوا اور سائنسی طریقہ کار کی راہ ہموار ہوئی۔تاآن کہ یورپ میں سائنسی انقلاب برپا ہوا اور جدید ٹیکنالوجی کی صورت پیدا ہوئی۔

غرض آج یورپ میں جو سائنسی ترقی نظر آتی ہے اس کی بنیاد قرآنی فکر پر مبنی ناول حی بن یقظان کی مرہون منت ہے۔پھر کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا پودا جو قرآن کے پانی سے سیراب ہوا ہو ،اس پر ایسے پھل لگیں جو قرانی فکر کی ہی نفی کرتے ہوں۔جان لیجیے کہ مغرب میں رونما ہونے والی مادرپدر آزادی اور اخلاقی پستی کا سبب قرآنی فکر پر مبنی علم جدید (سائنس) نہیں بلکہ  عیسائیت کےشخصی خدا سے بغاوت  اورمادہ پرستی ہے۔

 

ہرگاہ کہ عقل حقیقت  تک پہنچنے کا ایک آلہ ہے مگر بہر کیف انسانی عقل کا موازنہ حکمتِ الہٰی سے نہیں کیا جاسکتا۔انسانی عقل کتنی ہی بلند پروا زکیوں نہ ہورب ذوالجلال کے ابدی علم کے سامنے اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔لہٰذا عقل کی تمام تر فتوحات کے باوجود اسے رب ذوالجلال کے علم کے سامنے سجدہ تسلیم بجالانا ہی جچتا ہے۔

پس آج بھی معتدل رویہ یہی ہے کہ مادی کائنات کے بارے میں ہم اپنی عقل کے ذریعے جتنا آگے بڑھ سکیں اتنا ہی کم ہے، اسی طرح رب ذوالجلال کے کلام (قرآن) کو سمجھنے کے لیے بھی ہم اپنی عقل کا بھرپور استعمال کریں،  مگر اپنی عقل کو قرآن پر حاکم نہ بنائیں۔عقلی نتائج کتنے ہی پختہ کیوں نہ ہوں، یہ تاریخ کی شہادت ہے کہ عقلی نتائج ابدی و لافانی نہیں ہوتے۔ انسانی عقل بعض نامکمل مشاہدات  کی بنیاد پر ایک نتیجہ اخذ کرتی ہے اور چند صدیوں بعد نئے مشاہدات ہمارے سابقہ نتائجِ فکر کو ناقص قرار دے دیتے ہیں۔ارسطو کا خیال تھا کہ مینڈک مٹی سے پیدا ہوتے ہیں اس لیے وہ بے جان شے سے جاندار کی پیدائش (اے بائیو جنیسس) کا قائل تھا۔آج تمام عقلا متفق ہیں کہ جاندار ہمیشہ جاندار شے سے ہی پیدا ہوتے ہیں، جسے بائیو جینسس کہتے ہیں۔ اسی طرح کوانٹم مکینکس کی دریافت سے پہلے نیوٹن کے قانون تجاذب کو ایک کائناتی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا، مگر آج ہم جانتے ہیں کہ یہ قانون کائنات کے ہر گوشے پر یکساں لاگو نہیں ہوتا۔بیسویں صدی کا ذہین ترین سائنسدان آئن سٹائن اپنی عمر کے آخری حصے تک یہ سمجھتا رہا کہ کائنات  بحیثیتِ مجموعی ساکن و جامد ہے، مگر زندگی کے آخری ایام میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ آج کے تمام فلکیاتی مشاہدات  ثابت کرتے ہیں کہ کائنات ساکن و جامد نہیں ہے بلکہ یہ حرکت پذیر ہے۔غرض عقل کوئی ایسا مستقلہ نہیں ہے جو کبھی تبدیل نہ ہوتا ہو۔ عقلی نتائجِ فکر کی یہ تغیر پذیری ثابت کرتی ہے کہ عقلی نتائج میں وہ قطعیت نہیں ہوسکتی جو اللہ تعالیٰ کے ابدی علم کو حاصل ہے اور جس کا ایک حصہ اس نے اپنے کلام (قرآن) کی شکل میں ہمیں عطا کیا ہے۔

تاہم یہ بات ہمیشہ مد نظر رہے کہ قرآن حکیم بذات خود ایک الگ شے ہے اور اس کا فہم ایک دوسری چیز ہے، ان دونوں کو باہم خلط ملط مت کریں۔بارہا ایسا ہوچکا ہے کہ کسی مسلمہ سائنسی حقیقت کو قرآن سے متصادم قرار دے دیا جاتا ہے، مگر درحقیقت قرآن میں ایسی کوئی بات بیان ہی نہیں کی ہوتی جو سائنسی مسلمات کے خلاف ہو۔ ایک مثال سے اسے سمجھ لیجیے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ

الانبیا:31

ترجمہ: اور ہم نے زمین میں پہاڑ پیدا کیے تاکہ تمہیں لے کر ڈول نہ جائے۔

 قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ اس لیے بنائے ہیں تاکہ وہ ےتمہیں لے کر ڈول نہ جائے۔اس آیت سے بعض  لوگوں نے  قلت فہم کی وجہ سےیہ مطلب اخذ کیا ہے کہ زمین ہر اعتبار سے ساکن ہے، لہٰذا  ان کے نزدیک زمین کی سالانہ اور محوری گردش کا تصور قرآن سے متصادم ہے۔ واضح رہے کہ حرکت کی تین  بنیادی اقسام ہیں، یعنی خطی حرکت (ایک سیدھ میں حرکت)، دوری حرکت (دائرے کے مرکز یا اپنے محور کے گرد چکر کاٹنا) اور ارتعاشی حرکت (تھرتھراہٹ)۔ مذکورہ آیت میں زمین کی من حیث المجموع ارتعاشی حرکت کی نفی کی گئی ہے، ناں کہ دَوری حرکت کی۔ لہٰذا زمین کی دوری حرکت کا تصور قرآن سے متصادم ہرگز نہیں ہے۔واللہ اعلم

یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ علم جدید (سائنس) ایک تدریجی علم ہے جس میں مشاہدات کی بنیاد پر مفروضے قائم کیے جاتے ہیں پھر اس مفروضے سے استنباط کیا جاتا ہے اور اس استنباط کو تجربات کے ذریعے پرکھا جاتا ہے۔ اگر تجربات کے نتائج سے استنباط درست ثابت ہوجائے تو مفروضہ کو نظریے کا درجہ مل جاتا ہے اور جب  دنیا بھر میں ہونے والے تجربات سے نظریہ کی تائید ہوتی چلی جائے تو اس نظریہ کو قانون یا اصول کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی سائنسدان کی کسی رائے کا موازنہ قرآن سے کرنے سے پہلے یہ ضرور جان لیجیے کہ اس رائے کی خود سائنسدانوں کی برادری میں کیا حیثیت ہے؟ آیا وہ کوئی مفروضہ ہے، نظریہ ہے یا قانون؟سائنسی مفروضہ اور نظریہ غلط ہوسکتا ہے مگر سائنسی اصول اور قوانین غلط نہیں ہوسکتے۔سائنسی نظریہ اور مفروضہ قرآن کے مقابلے میں غلط بھی ہوسکتا ہے مگر سائنسی قوانین قرآن سے متصادم نہیں ہوتے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading