2024-07-17
شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ اور جنگِ صفین

شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ اور جنگِ صفین

شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ اور جنگِ صفین

از قلم ساجد محمود انصاری

امام علی المرتضیٰ  کرّم اللہ وجہہ کے کردار کی عظمت یوں تو ہر زمانے میں نمایاں رہی ہے مگر خاص طور پر آ پ کی عظمت کا ظہور اس وقت ہوا جب آپ مسندِ خلافت پر جلوہ فگن ہوئے۔ آپ کی بیعتِ خلافت انہی اصول و قواعد کی بنیاد پر عمل پذیر ہوئی جن اصول کے تحت آپ کے پیشرو خلفا ءِثلاثہ (سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم)  کی خلافت منعقد ہوئی۔ تاہم شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہم امت مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑے فتنے (آزمائش) کا باعث بن گئی۔

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی المناک و مظلوم شہادت  کے بعد امام علی علیہ السلام کی بیعت ِ خلافت مدینہ منورہ میں اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اور  جید صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی مشاورت سے  واقع ہوئی۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تعلق چونکہ بنو امیہ سے تھا اس لیے بنو امیہ کے سرخیل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت خلافتِ اسلامیہ کے صوبہ شام کے گورنر تھے۔امام علی علیہ السلام کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے میں کوئی تاءمل نہیں تھا، مگر مسئلہ یہ تھا کہ فتنے   کی وجہ سے قاتلین عثمان کا تعین نہیں ہوپارہا تھا ۔ بعض فتنہ پردازوں نے تو یہاں تک الزام لگادیا کہ سیدنا علی علیہ السلام قصاص لینے سے منحرف ہوگئے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ خود قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک ہیں (معاذاللہ)۔ امام علی علیہ السلام نے اس الزام کی سختی سے تردید کی اور اپنا عذر لوگوں پر واضح کیا۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بیٹےابان بن عثمان رحمہ اللہ  نے گواہی دی کہ امام علی علیہ السلام نے  ان کے والد کے دفاع میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ (امام ذہبی، تاریخ الاسلام:3/449) تاہم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اصرار تھا کہ وہ اس وقت تک امام علی علیہ السلام  کی بیعت نہیں کریں گے جب تک وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچاتے۔یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے  کہ مالک اشتر النخعی  قتلِ عثمان  رضی اللہ عنہ میں شریک تھا، مگر چونکہ اس نے امام علی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی اور امام عالی مقام نے اس کی شجاعت کی وجہ سے اسے سپہ سالار بنادیا تھا، اس لیے اس خیال کو تقویت ملی کے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ امام علی علیہ السلام کے ساتھی بن گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مالک اشتر النخعی پر قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کا الزام ثابت نہیں۔ اگر اشتر واقعی قاتل ہوتا تو امام علی علیہ السلام اسے سزا دینے کی بجائے سپہ سالار  ہرگز نہ بناتے۔دراصل مالک اشتر کو قتلِ عثمان میں ملوث کرنے کی سازش خارجیوں اور ناصبیوں نے بنی تھی تاکہ اس سازش کے ذریعے امام علی علیہ السلام کو بدنام کیا جائے۔

مختصر یہ کہ امام علی علیہ السلام کی بیعت کے وقت حالات ایسی گھمبیر شکل اختیار کرچکے تھے کہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملہ کو لے کر لوگ غیر یقینی کیفیت کا شکار تھے۔حقائق شکوک و شبہات کی دھند میں لپٹے ہوئے تھے،  نیزسچ اور جھوٹ میں شدید التباس ہوچکا تھا،  جس کی وجہ سے ہر شخص کا درست رائے تک پہنچنا ہمالیہ سر کرنے کے مترادف ہوگیا تھا۔ ایسے میں اہلِ شام سے ایک فاش سیاسی غلطی سرزد ہوگئی اور انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں امام علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کردیا۔

کئی ماہ تک امام علی علیہ السلام اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین مذاکرات چلتے رہے۔جب معاملات طے نہ پائے تو شامی فوج نے  طاقت کے بل پر اپنا مطالبہ منوانے یا خود قصاص لینے کا فیصلہ کیا۔  امام علی علیہ السلام کو شامی فوج کی پیش قدمی کی اطلاع ملی تو آپ بھی اپنا لشکر لے کر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مدینہ منورہ کو خونریزی سے بچانے کے لیے آپ نے کوفہ کو دارالخلافہ قرار دیا اور یہیں سے شامی فوج کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا۔مرکزی فوج اور شامی فوج  میں جھڑپیں شروع ہوئیں تو طرفین کو اندازہ ہوگیا تھا کہ امت کے لیے یہ جنگ ہرگز خیر کا باعث نہ بنے گی بلکہ اس سے شر برآمد ہوگا۔ چنانچہ صلح کے لیے کوششیں شروع ہوگئیں اور یہ طے پایا کہ ہر فریق میں سے ایک ایک شخص ثالثی کے فرائض سرانجام دے۔ ثالثی کا فیصلہ سازشی ٹولے پر بجلی بن کر گرا۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام کے لشکر میں سے ہزاروں افراد کا ایک لشکر آپ سے الگ ہوگیا جنہیں آج ہم خوارج کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ انہیں خوارج سے بعد میں امام علی علیہ السلام نے  نہروان کے مقام پرجنگ بھی کی۔اس ساری صورتحال میں امام علی علیہ السلام نے بھانپ لیا تھا کہ وہ اہل شام پر غلبہ نہ پاسکیں گے۔صلح کا معاملہ بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔آخر سازشی گرووہوں کی چالوں کی وجہ سے مرکز اور شام میں جنگ ہوئی اوردونوں طرف سے ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔یہ جنگ طول پکڑ گئی اور امت کی  تفریق وتقسیم کا باعث بن گئی۔یہاں تک کہ امام علی علیہ السلام کو ایک سازش کے ذریعے شہید کردیا گیا۔آپ کے بعد آپ کے بڑے بیٹے امام حسن علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کی گئی ، مگر اہلِ شام اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ آخر امام حسن بن علی علیہما السلام نے نبی ﷺ کی پیشگوئی کا مصداق بنتے ہوئے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی اور خود خلافت سے دستبردار ہوگئے۔

جمہورِ امت کی رائے یہی ہے کہ اس جنگ میں امام علی علیہ السلام کی رائے قرآن و سنت کے زیادہ قریب تھی اور اہل شام کو بغاوت کی بجائے اطاعت کا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے تھا۔یہ مؤقف نہایت عجیب معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو آپ حاکم ہی تسلیم نہیں کرتے اس پر قصاص لینے کو واجب کررہے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ امام علی علیہ السلام کا بڑا پن اور کشادہ دلی ہے کہ آپ نے اہلِ شام کے ساتھ وہ سلوک روا نہیں رکھا جو عام طورپر مقتدر ہستیاں اپنے مخالفین کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔جنگ کے دوران بھی آپ نے اہلِ شام کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا۔ ایک موقع پر مرکزی فوج نے پانی کے ذخیروں پر قبضہ کرلیا تھا، مگر امام علی علیہ السلام نے حکم فرمایا کہ شامی فوج کو پانی لینے سے نہ روکا جائے۔(مصنف ابن ابی شیبہ: رقم 39005)

امام علی علیہ السلام جب شامی فوج کے کسی دستے پر قابو پاکر انہیں ہتھیار پھینکنے پر مجبور کردیتے تو انہیں قید نہ کرتے تھے اور نہ ہی ان کا مال ان سے چھینتے تھے، صرف اس وعدے پر انہیں آزاد چھوڑ دیتے تھے کہ وہ دوبارہ ان کے مقابل نہیں آئیں گے۔

 (مصنف ابن ابی شیبہ: رقم 39014)

لہٰذا اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کا دم بھرنے والوں کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اپنی جانب سے کوئی رائے قائم نہ کریں، بلکہ ان کے بارے میں وہی رائے رکھیں جو امام علی علیہ السلام کی رائے تھی۔

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جنگِ صفین میں امام علی علیہ السلام کی جانب سے لڑے تھے، تاہم انہوں نے صلح کی تجویز کے وقت خارجیوں  کے اعتراض کے وقت ان سے کہا تھا:
اے لوگو! اپنی رائے کو قطعی مت سمجھو۔رسول اکرم ﷺ کی معیت میں ہمیشہ ہمارے لیے  جنگی معاملات کو سمجھنا آسان تھا  (کیونکہ جنگ کافروں کے ساتھ تھی)، مگر اب ہم  اس جنگ کے بارے میں کوئی قطعی رائے قائم نہیں کرسکتے (کیونکہ مقابلے میں مسلمان ہیں)۔ ہم اس کے ایک کونے کو بند کرتے ہیں تو دوسرا کونا کھل جاتا ہے۔ہمیں سجھائی نہیں دیتا کہ کیا تدبیر اختیار کرنا چاہیے۔

(صحیح بخاری: رقم 4189، صحیح مسلم: رقم 4634)

ہم امام علی علیہ السلام اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو امام علی علیہ السلام نے فرمائی تھی۔ جب امام علی علیہ السلام سے جنگ صفین کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہمارے اور ان کے مقتولین جنت میں ہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: رقم 39035)

معلوم ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی تکفیر اہلِ بیت علیہم السلام کا مسلک ہرگز نہیں ہے۔اگر ایسا ہوتا تو امام علی علیہ السلام اہلِ شام کے مقتولین کے جنازوں میں شریک نہ ہوتے۔لہٰذا ہم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بغضِ علی علیہ السلام کی تہمت لگا کر انہیں  منافق کہنا جائز نہیں سمجھتے بلکہ ان کی صحبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے ان کی تعظیم و تکریم ہم پر لازم ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری اور ان کی خطاؤں سےدرگزر فرمائے ۔ آمین

ہم نہ تو رافضیوں کی طرز پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں اور نہ ہی ناصبیوں کی طرز پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو امام علی علیہ السلام کا ہم مرتبہ یا ان سے بھی افضل سمجھتے ہیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں، تاہم حفظِ مراتب میں آپ کا شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ  کے اس طبقہ میں ہوتا ہے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور انہیں تالیفِ قلب کے لیے صدقات دیے جاتے تھے۔جیسا کہ امام ابو عمر یوسف بن عبدالبر ؒ نے لکھا ہے:

معاویۃ و ابوہ من المؤلفۃ قلوبھم

معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ان کے والد مؤلفۃ القلوب میں سے تھے۔

 (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب:  ترجمہ معاویہ بن ابو سفیان، رقم ترجمہ:2349)

اب کہاں مؤلفۃ القلوب میں شمار ہونے والے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور کہاں آیتِ تطہیر  کی فضیلت رکھنے والے آلِ محمد ﷺ کےآقا و سردار؟ لہٰذا رافضیوں کی ضد میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو امام علی علیہ السلام کا ہم مرتبہ  و ہم نشیں قرار دینا بھی بہر کیف اہلِ حق کا مسلک نہیں ہے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading