2024-07-17

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وبا کے دنوں میں گھر پر نماز پڑھنے کا حکم

دین اسلام میں انسانی جان کی بہت زیادہ قدرو قیمت ہے۔اس کا اندازہ اسلام کے جملہ احکام سے کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی احکام کا بنیادی مأخذ قرآنِ حکیم ہے۔ قرآن حکیم میں جتنے احکام بیان ہوئے ہیں ان سب میں انسانی جان کے تحفظ کو خاص طور مقدّم رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں سب سے زیادہ زور نماز  کے احکام پر دیا گیا ہے۔ لیکن ان احکام میں انسانی جان کو خصوصاً فوقیت دی گئی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔
۱۔نماز کے لیے وضو کرنا شرط قرار دیا گیا ہے مگر اگر وضو سے انسانی جان کو کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو وضو کی جگہ تیمم کی اجازت دی گئی ہے۔  یہ نقصان شدید سردی کی صورت میں یا مرض کی صورت میں واقع ہوسکتا ہے۔( المائدہ:۶)
۲۔ امن اور سکون کے دنوں میں یا اپنے وطن میں قیام کی صورت میں مکمل نماز پڑھنے کا حکم ہے مگر اگر با مشقت سفر درپیش ہو ، یا سفر میں دشمن کے حملے کا خوف ہو تو نماز قصر کرنے کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ مشقت اور حملے کے خوف میں اصل نکتہ یہی ہے کہ اس سے انسانی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ (سورۃ النساء: ۱۰۱)
۳۔ عام حالات میں نماز میں قیام فرض ہے، مگر  عین حالت ِجنگ میں جب دشمن سے دو بدو مقابلہ جاری ہو   اور قیام کرنے سے جان جانے کا یقینی خدشہ ہو تو چلتے پھرتے یا سواری پر سوا ہوکر بھی بغیر قیام کیے نماز درست ہے۔ اسی طرح مرض کے سبب آدمی کھڑا نہ ہوسکتا ہو تو قیام کا فرض ساقط ہوجاتا ہے۔(البقرۃ: ۲۳۹)
۴۔  حالتِ صحت میں  نماز کے دوران قیام کے ساتھ ساتھ رکوع و سجود بھی فرض ہیں۔ لیکن حالتِ مرض میں یہ فرض ساقط ہوجاتے ہیں اور اشاروں سے بھی نماز درست سمجھی جاتی ہے۔ یہ رخصت صرف اس لیے دی گئی ہے کہ مرض کی حالت میں اگر ان فرائض کو باقی رکھا جائے تو مرض بڑھنے اور بالآخر جان جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔
۵۔ہر عاقل ، بالغ مردو عورت پر حالتِ صحت میں سارے رمضان کے روزے فرض ہیں اور انہیں بلاجواز مؤخر نہیں کیا جاسکتا ۔ مگر حالتِ مرض میں انہیں مؤخر کرنے اور بعد میں قضا دینے کی اجازت ہے۔(البقرۃ: ۱۸۵)
۶۔ حج کے موقع پر مناسکِ حج میں سے ایک اہم رکن  مردوں کے لیے سر منڈانا  ہے۔ تاہم اگر کسی کے سر میں تکلیف ہو تو قرآن نے اسے سر نہ منڈانے اور اس کی جگہ فدیہ دینے کی رخصت دی ہے۔ یہ رخصت بھی اسی لیے دی گءی ہے کہ کہیں سر منڈانے سے سر کی تکلیف بڑھ نہ جائے جس سے انسانی جان خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔(البقرۃ:۱۹۶)
ان مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسلامی شریعت کی نظر میں انسانی جان کی کتنی اہمیت ہے۔ واضح رہے کہ یہ رخصتیں خود اللہ تبارک واتعالیٰ نے مرحمت فرمائی ہیں اور ان رخصتوں کا مطلب اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہرگز نہیں ہے۔
اب آئیے مسئلہ زیرِ بحث کی طرف کہ آیا وبا کے دنوں میں گھر پر نماز ادا کرنے کی رخصت ہے یا نہیں؟
اس سے پہلے کہ ہم مذکورہ مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالیں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عام دنوں میں گھر پر نماز ادا کرنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
قرآن و سنت میں باجماعت نماز ادا کرنے کی تاکیدمطلقاً وارد ہوئی ہے ، نماز باجماعت کے لیے مسجد میں حاضر ہونا شرط نہیں ہے۔ یعنی جہاں دو یا دو سے زائد مسلمان موجود ہوں ، وہاں وہ با جماعت نماز  ادا کرسکتے ہیں، اس کے لیے وہ مسجد میں جانے کے پابند نہیں ہیں۔
عَنْ حُذَیفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلٰثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوْفِ الْمَلٰئِکَۃِ وَجُعِلَتْ لَنَا الْاَرْضُ کُلُّھَا مَسْجِدًا وَّجُعِلَتْ تُرْبَتُھَا لَنَا طُہُوْرًا اِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَآ۔
صحیح مسلم
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تین باتوں میں ہمیں دوسرے مذاہب پر فوقیت دی گئی ہے ایک یہ کہ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی  طرح بنتی ہیں، دوسرے یہ کہ ساری روئے زمین ہمارے لیے مسجد بنادی گئی ہے اور تیسرے یہ کہ جب پانی نہ ملے تو اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔
الْاَرْضُ کُلُّھَا مَسْجِدًا سے پتہ چلتا ہے کہ ساری زمین ہمارے لیے مسجد کی مانند ہے ہم جہاں بھی ہوں وہاں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں، بشرط یہ کہ وہ جگہ پاک ہو۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مسجد کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یقینا ً مسجد مسلمانوں کے اجتماع کا بنیادی ستون ہے۔اسی لیے جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے۔ نیز عام نمازیں بھی گھر یا کھیت کھلیان میں پڑھنےکی بجائے مسجد میں پڑھنا افضل ہے۔
 باجماعت نماز ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، جسے بلا جواز ترک کرنا گناہِ صغیرہ ہے۔  تاہم کسی شرعی عذر کی صورت میں اکیلے بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
جیسا کہ درج ذیل صحیح حدیث سے واضح ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ـ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي، فَأَتَّخِذُهُ مُصَلًّى‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏”‏‏.‏ قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ لِي ‏”‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ‏”‏‏.‏ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ، فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ
صحیح البخاری: رقم الحدیث ۴۵۰۱
سیدنا عِتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو کہ بدری  انصاری صحابی ہیں روایت کرتے ہیں کہ وہ  نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ  اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے آنکھوں سے ٹھیک طرح دکھائی نہیں دیتا۔ جبکہ میں اپنی قوم کی نماز میں امامت کرتا ہوں۔ جب بارش ہوتی ہے اور وادی کے نالے  بہنے لگتے ہیں تو میں  اس قابل نہیں ہوتا کہ ان  کی مسجد تک نہیں پہنچ کر ان کی امامت کراؤں۔ یارسول اللہ ﷺ میری تمنا ہے کہ آپ میرے گھر پر تشریف لائیں اور وہاں نماز ادا فرمائیں  تاکہ میں اسی جگہ نماز پڑھا کروں۔  رسول اکرم ﷺ نے وعدہ فرمایا کہ کہ ان شاءاللہ وہ تشریف آور ہونگے۔ جب اگلے روز دن چڑھا تو رسول اکرم ﷺ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میرے گھر  پرتشریف لائے۔نبی ﷺ نے اند آنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی تو آپ ﷺ میرے گھر میں داخل ہوئے اور بیٹھےنے سے پہلے فرمانے لگے کہ تم  اپنے گھر کے کس حصے میں میرا نماز پڑھنا پسند کروگے؟  تب میں نے ایک کونے کی طرف اشارہ کردیا۔رسول اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی۔  پس ہم نے بھی آپ کے پیچھے صف بنائی اور آپ کے ساتھ دو رکعات (نفل) ادا کیں۔
سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ نے گھر پر نماز ادا کرنے کی نہ صرف اجازت عطا فرمائی بلکہ ان کے  گھر تشریف لاکر ان کی دلجوئی اور عزت افزائی فرمائی۔ انہیں یہ رخصت دینے کا سبب کیا تھا؟ یہی کہ وہ عام حالات میں تو وادی پار کرکے مسجد میں پہنچنے کی طاقت رکھتے تھے مگر بارش کی وجہ سے راستے تنگ ہوجانے کی وجہ سے اگر وہ جانے کی کوشش کرتے تو ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔اس لیے نبی ﷺ نے انہیں جان جانے کے خوف کے سبب گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔
ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ گمان گزرے کہ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ کو یہ رخصت صرف نابینا ہونے کی وجہ سے عطا کی گئی تھی۔ ایسا نہیں ہے ۔ درج ذیل  احادیث صحیحہ  ملاحظہ فرمائیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ لَمَّا بَلَغَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ‏.‏ قَالَ قُلِ الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا فَقَالَ كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمْ هَذَا إِنَّ هَذَا فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ـ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّهَا عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ‏.‏ وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ
 صحیح البخاری: رقم الحدیث۶۶۸
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کی وجہ سے کیچڑ بننے کے سبب مؤذن کو حکم فرمایا کہ وہ حی علی الصلوٰۃ  کی بجائے الصلوۃ فی الرحال (گھروں پر نماز ادا کرو)  کے الفاظ دہرائیں۔ یہ سن کر لوگ تعجب سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔تب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ لگتا  ہےکہ تم لوگوں کو یہ عجیب لگا ہے۔ یہ کام تو انہوں نے کیا تھا جو مجھ سے بھی بہتر ہیں یعنی نبی ﷺ ۔  کیچڑ میں چل کر نماز کے لیے آنا مشقت بھرا کام ہے اور مجھے اچھا نہ لگا کہ تم لوگ  اس حال میں مسجد میں آؤ کہ تم گھٹنوں تک مٹی میں لت پت ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ المُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ، يَقُولُ: «أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»
صحیح بخاری 666
ایک بار سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے  سرد  اور آندھی والی رات اذان کہی اور پھر فرمایا کہ اپنے گھروں پر نماز ادا کرو۔ پھر آپ نے وضاحتاً فرمایا کہ نبی ﷺ بھی سردی اور بارش کی رات مؤذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ کہہ دے کہ  اپنے گھروں پر نماز ادا کرو۔
رسول اکرم ﷺ نے  شدید سردی اور بارش کی وجہ سے گھروں پر نماز ادا کرنے اور نماز کے لیے مسجد نہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اگرچہ یہ حکم اجازت پر محمول کیاجاتا ہے مگر بعض صورتوں میں اسے استحباب پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اذان کی آواز سنتا ہو اور وہ اس کو سن کر مسجد نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ اسے کوئی عذر لاحق ہو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ عذر سے کیا مراد ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ خوف یا مرض ۔
غرض  شدیدمشقت ، مرض میں مبتلا ہونے ،جان جانے یا مال تلف ہونے کے خوف سے لوگوں کو گھر پر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے ۔ وبائی امراض چونکہ عام امراض سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اور متعدد بار جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اس لیے ان سے حفاظت کی غرض سے مسجد نہ آنے اور گھر پر نماز ادا کرنے کی بطریقِ اولیٰ اجازت ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
امام ابو محمدعبداللہ بن احمد ابن قدامہ الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ خوف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
و سوا ء  خاف علی نفسہ من سلطان، او لصّ او سبع، او غریم یلزمہ ولا شئی  معہ یعطیہ، او علی مالہ من تلف او ضیاع او سرقۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام  ابو محمد عبداللہ بن احمد ابن قدامہ الحنبلی ؒ، الکافی، جلد ۱، صفحہ ۳۹۹
اگر کسی کو بادشاہ  یا راہزن  یا  درندے کی جانب سے اپنی جان کا خوف ہو،یا کسی پرکوئی تاوان لازم ہوچکا ہو مگر اس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو،  یا اسے اپنے مال کے تلف ہونے، ضائع ہونے یا چوری ہونے کا خوف ہو تو یہ سب حکم میں یکساں ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں طاعون کی وبا پھیلی مگر انہوں نے مسجد میں نماز ادا کرنا ترک نہیں کی۔ عرض ہے کہ اول تو یہ کسی صحیح تاریخی روایت سے ثابت نہیں کیا جاسکا کہ  صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  وبا زدہ علاقے میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے۔  اگر بالفرض یہ ثابت بھی ہوجائے تو بھی یہ حجت نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ صحابہ کرام ؓ کے دور  میں کوئی بھی طاعون کاسبب نہیں جانتا تھا۔ جراثیم  سے امراض کے پیدا ہونے کا نظریہ پہلی بار ابن سینا نے ۱۰۲۵ عیسوی میں بیان کیا تھا۔
جبکہ یہ تصور کہ کے طاعون کے جراثیم سانس کے ذریعے بھی پھیل سکتے ہیں بہت بعد میں سامنے آیا۔ پس اگر صحابہ کو علم ہوتا کہ طاعون کے جراثیم سانس کے ذریعے پھیل سکتے ہیں تو وہ لازماً اس کے تدارک کے لیے اقدامات کرتے۔
رسول اکرم ﷺ کی طاعون سے متعلق حدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ سانس کے ذریعے طاعون (نمونیے والا) کے پھیلنے کا نظریہ درست ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ سَعْدًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا ‏”‏‏
صحیح البخاری : رقم الحدیث ۵۷۲۸
سیدنا سعد بن  ابی وقّاص رضی اللہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی بستی کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے تو  وہاں ہرگز مت جاؤ اور اگر تمہاری اپنی بستی میں طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے باہر مت جاؤ۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ اگر طاعون زدہ بستی میں جاؤگے تو تمہیں بھی طاعون ہونے کا قوی امکان ہے اور اگر تمہاری بستی میں طاعون پھیل گیا ہے تو تم  کسی دوسری بستی میں مت جاؤ تاکہ تمہارے ذریعے یہ مرض دوسری بستی میں منتقل نہ ہو۔واللہ اعلم بالصواب

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading