2024-07-17

از قلم ساجد محمود انصاری

انبیا و رسل اللہ تعالیٰ کے منتخب کیے ہوئے غیر معمولی انسان ہوتے ہیں جن کی ارواح مقدسہ میں انابت الیٰ اللہ اور توکل علی اللہ کے پسندیدہ اوصاف اپنے اعلیٰ ترین درجے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی غیر متناہی توکل علی اللہ کے سبب انبیا و رسل جرأت و شجاعت کا بے مثال پیکر بن کر معاشرے میں ابھرتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ معاندینِ حق نے بعض انبیا کو قتل کرنے کی دھمکیاں دین ،مگر ان  بھاگوان ہستیوں کے پایہ استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی اور وہ اپنے دعوتی مشن پر گامزن رہے کبھی اس سے سرِ موانحراف کرنے کا سوچا تک نہیں۔ یہاں تک کہ بعض انبیا نے تو جان تک دینا گوارہ کر لی مگر دعوت و تبلیغ ترک نہ کی۔ قرآن شاہد ہے کہ بنی اسرائیل نے متعدد انبیا کو قتل کیا مگر انبیا کا پیغام دنیا سے مٹا نہیں۔

جس انبیا انسانوں میں سے چنیدہ ہستیاں ہوتی ہیں اسی طرح رسول انبیا میں سے منتخب کیے ہوئے اللہ کے خاص محبوب رجال جلیلہ  ہوتے ہیں۔ جس طرح عام انبیا جرأت، شجاعت اور استقلال میں عام انسانوں سے ممتاز ہوتے ہیں اسی طرح رسولوں میں یہ اوصاف بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ رسولوں کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ ان کے معاندین کوشش کے باوجود  انہیں کبھی قتل نہیں کرپاتے۔ بعض انبیا ظاہر بینوں کی نظر میں قتل ہوکر ناکام ٹھہرے مگر رسول کبھی ظاہری طور پر بھی ناکام نہیں ہوتے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

المجادلہ: ۲۱

اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہوکر رہیں گے، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا قوی اور زبردست ہے۔

اس  ضروری تمہید کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔رسول اکرم ﷺ نے تقریباً ۱۳ سال مکہ مکرمہ میں دعوتِ توحید پیش کی اور کفار نے اس دعوت کا انکار کرنے اور اسے دبانے کے لیے سڑ توڑ کوششیں کر ڈالیں۔ مگر دینِ حق مغلوب رہنے کے لیے نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مدینہ کو ایمان کی دولت نصیب فرمادی۔ مکہ والے  نبی اور اہلِ ایمان کے جانی دشمن بن گئے تھے تو مدینہ والے آ پ کو اپنی حفاظت کے حصار میں لینے کے لیے بے قرار تھے۔ رسول اکرم ﷺ پہلے ہی ایک ایسے مرکز کی تلاش میں تھے جہاں اہلِ ایمان کفار کے ظلم و جور سے بچتے ہوئے امن و اطمینان سے اپنے دین پر عمل پیرا ہوسکیں۔بیعتِ عقبہ ثانیہ میں اہلِ مدینہ نے آپ سے مدینہ تشریف لانے کی درخواست کی جو آپ نے اذنِ الٰہی سے قبول فرمالی۔

آپ ﷺ نے  مدینہ کو اپنا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام فردا فردا ً اور چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں مدینہ ہجرت کرنے لگے۔ کفار کو جب بھنک پڑی کہ رسول اکرم ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے آپ کو اس سے باز رکھنے کے لیے دارالندوہ میں مشاورت کی، کسی نے آپ کو قید کرنے اور کسی نے جلاوطن کرنے کا مشورہ دیا اور ملعونوں کے سردار ابو جہل نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا مشورہ دیا جو قبول کرلیا گیا۔ طے یہ ہوا کہ ہر قبیلہ میں سے ایک کڑیل جوان منتخب کیا جائے اور یہ سب جوان رات کے اندھیرے میں آپ ﷺ پر دھاوا بول دیں۔

ادھر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو کفار کی اس سازش کی اطلاع دے دی۔اس سازش کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

الانفال: ۳۰

اور وہ وقت یاد کیجیے جب کافر یہ تدبیر کررہے تھے کہ آپ کو بیڑیاں پہنا کر قید کردیا جائے یا قتل کردیا جائے یا جلا وطن کردیا جائے ، ایک تدبیر انہوں نے کی اور ایک تدبیر اللہ نے کی جب کہ اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

تب رسول اکرم ﷺ نے  اسی رات اللہ کے حکم سے ہجرت کرجانے کا ارادہ فرمایا۔ سیدنا علی علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ وہ آج رات ان کے بستر پر آرام کریں  اوربعد میں مدینہ میں ان سے آملیں۔کفار نے رسول اکرم ﷺ کے گھر کا محاصرہ کرلیا  مگر رسول اکرم ﷺ ان کے سامنے گھر سے پوری متانت کے ساتھ نکل کر چلے گئے اور کفار کو خبر تک نہ ہوئی۔طلوعِ فجر کے قریب جب انسان عموماً  گہری نیند سوتا ہے تو کفار نے رسول اکرم ﷺ کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ مگر رسول اکرم ﷺ کی جگہ سیدنا علی علیہ السلام کو پاکر ہکا بکا رہ گئے۔

مسند امام احمد: رقم   ۳۲۵۱  (عن عبداللہ بن عباس علیہما السلام )

اب تک کی داستان سے یہ بخوبی واضح ہوچکا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنی جان بچانے کے لیے ہجرت نہیں کی بلکہ دین اسلام کے لیے ایک پر امن سر زمین کا حصول آپ کا مقصود تھا۔اللہ تعالیٰ ہر حال میں آپ کی حفاظت کا وعدہ کرچکے تھے۔ اس لیے رسول اکرم ﷺ کو اپنی جان کی چنداں فکر نہ تھی۔ بلکہ غالب گمان یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ جان چکے تھے کہ کفار سیدنا  علی علیہ السلام  کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا علی علیہ السلام کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا تھا۔ اس لیے کسی کو یہ مغالطہ بھی لاحق نہیں ہونا چاہیے کہ نبی ﷺ نے  ان کی جان کو جانتے بوجھتے خطرے میں ڈالا۔ بہر کیف سیدنا علی علیہ السلام کی اس قربانی کی کوئی مثال تاریخ اسلام سے پیش نہیں کی جاسکتی۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ کفار نبی ﷺ کو قتل کی نیت سے آپ کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں، آپ نے اپنی جان پیش کرنے میں کسی قسم کی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔   ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ کفار انہیں نبی ﷺ کی جگہ قتل کردیں گے۔آپ تو دیوانہ وار اپنی جان نثار کرنے کے لیے تیار ہوگئے اور ان کے کپڑے پہن کر ان کے بستر پر دراز ہوگئے۔  اپنے رسول کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر میں سیدنا علی علیہ السلام کومرکزی کردار کا درجہ حاصل تھا۔ بس یہیں سے آپ کو وہ رتبہ ملا  کہ جس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہ ہوسکا۔  رسول اکرم ﷺ نے انہیں یہاں تک کہہ دیا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنے ذاتی نوعیت کے کاموں کے لیے جناب علی علیہ السلام کا انتخاب فرمایا یعنی اہل مکہ کی جو امانتیں آپ  ﷺکے پاس تھیں انہیں ان کے مالکان کو لوٹانے کا کام آپ  ﷺنے  اپنے خاص ہلِ بیت کے سپرد فرمایا۔

معاندین اسلام کا یہ دعویٰ کہ (معاذاللہ)  رسول اکرم ﷺ نے  اپنی جان کے خوف سے ہجرت کی ہرگز درست نہیں ہے۔ واللہ باللہ ایسی سوچ رسول اکرم ﷺ کی توہین ہے۔ اس لیے کسی مؤمن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ہجرت کے لیے فرار کا لفظ استعمال کرے۔  اردو، انگریزی یا کسی بھی زبان میں نبی ﷺ  کی ہجرت کو فرار قرار دینا اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں  بلکہ کفار کا بیانیہ ہے۔ہر مؤمن کو اس  طرزِ بیان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اب ہجرت کے اگلے مرحلے کی طرف آتے ہیں۔روایات میں جمع  وتطبیق سے نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے گھر سے نکل کر مکہ کے جنوب میں واقع غارِ ثور میں تشریف لےگئے۔بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے مکان پر تشریف لائے تو دیکھا کہ سیدنا علی علیہ السلام ان کے بستر پر سورہے ہیں۔سیدنا علی علیہ السلام نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ غارِ ثور میں تشریف لے گئے ہیں تب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی نبی ﷺسے غارِ ثور میں آن ملے۔

 مسند امام احمد: رقم   ۳۰۶۲  (عن عبداللہ بن عباس علیہما السلام )

سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کی روایت کے الفاظ بھی یہی ہیں کہ سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نبی ﷺ کے ہمراہ غار ثور میں نہیں گئے تھے بلکہ بعد میں ان سے آملے تھے۔

مسند امام احمد: رقم   ۲۶۱۴۴  (عن عائشہ سلام اللہ علیہا )

 غارِ ثور میں پناہ گزیں ہونے میں حکمت یہ تھی کہ کفار انہیں مکہ سے مدینہ جانے والے رستوں پر ڈھونڈھتے رہیں گے اور آخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح سفر ِ ہجرت کے دوران  کفار سے خواہ مخواہ مدبھیڑ نہ ہوگی اور سفر محفوظ رہے گا۔ یاد رہے کہ یہاں بھی نبی ﷺ کو اپنی جان کے جانے کا خوف نہیں تھا بلکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی وجہ سے ان کے کسی ساتھی کو گزند پہنچے۔تاہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جرأت و شجاعت کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے اس پُر خطر سفر میں نبی ﷺ کا ساتھ دینا قبول کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ کو معلوم تھا  کہ سار امکہ نبی ﷺ کو تلاش کرنے نکل کھڑا ہوگا اور کفار ان سے کوئی رو رعایت نہیں برتنے والے،تو اس کے باوجود ان کا نبی ﷺ کے ہمراہ جانے کا فیصلہ اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔

غارِ حرا میں اس قیام کی طرف اشارہ قرآن حکیم میں صریح الفاظ میں وارد ہوا ہے

اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا و ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا

اگر تم لوگ ان(رسول)  کی مدد نہ بھی کرو تو اللہ تو ان کی مدد پہلے بھی کرچکا  جب کفار نے انہیں (مکہ سے ) نکال دیا اور وہ غار میں  دو میں سے ایک تھے، جب انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا  کہ غم نہ کھاؤ   ،اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا میں سیدنا علی علیہ السلام کے فدیے کے  ذریعے رسول اکرم ﷺ کو  کفار کے محاصرے سے بحفاظت نکال کر لے جانے کی طرف اشارہ ہے جبکہ آگے  و ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ  میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ حرا میں قیام کی طرف اشارہ  کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

بعض نا عاقبت اندیش ’ لا تحزن ‘ سے یہ استدلال کرتے دیکھے گئے ہیں کہ  سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی جان جانے کا خوف تھا۔ واللہ باللہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ رسول اکرم ﷺ کسی بزدل کو اس پر خطر سفر کے لیے اپنے ساتھی کے طور پر ہرگز نہیں چن سکتے تھے۔ حزن اور خوف میں فرق ہوتا ہے۔ چھن جانے والی نعمتوں پر ہونے والے دکھ کو حُزن جبکہ نعمتوں کے چھن جانے کے اندیشے کو خوف کہتے ہیں۔ دراصل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا وطن  اور ماں باپ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا دکھ تھا۔ جس پر رسول ﷺ نے انہیں دلاسہ دیا کہ غم نہ کھائیں، اللہ تعالیٰ تو  مکہ میں بھی ہمارے ساتھ تھا مدینہ میں بھی ہمارے ساتھ ہی ہوگا۔ اس کی رضا کے لیے ہی ہم نے وطن چھوڑا ہے۔ پس اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد ترک نہیں کرے گا وہی ہمارا حامی و ناصر ہے، مکہ میں بھی اور مدینہ میں بھی۔

بالآخر رسول اکرم ﷺ اپنے ساتھی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور غلام عامر بن فہیرہ ؓ کے ہمراہ بخیرو عافیت قبا پہنچ گئے جوکہ مدینہ کا مضافاتی محلہ تھا۔ آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب کے سسرالی رشتہ دار بنو نجار  نے آپ کا استقبال کیا اور آپ ان کے ہمراہ مدینہ پہنچ کر بنو نجار کے محلے میں جناب ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔

یہیں آپ نے بنو نجار کا ایک احاطہ خرید کر اس میں مسجد نبوی تعمیر کی۔ جبکہ مسجد کے ارد گرد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے حجرے تعمیر کیے گئے۔ ایسا ہی ایک  حجرہ جناب علی علیہ السلام کو بھی عطا کیا گیا جس میں سیدہ فاطمہ علیہا السلام بیاہ کر آئیں اور یہیں سے آپ کا  جنازہ اٹھا۔

 

 

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading