2024-07-17

 

سورۃ الفاتحہ

تعارف

سورۃ الفاتحہ مکی سورہ ہے، جو نزولِ قرآن کے بالکل آغاز میں نازل ہوئی۔ اسباب النزول کےمؤلف علامہ واحدی ؒ   کی روایت کے مطابق قوی احتمال یہ ہے کہ پہلی سورہ جو یک بارگی مکمل نازل ہوئی وہ سورۃ الفاتحہ ہے۔ترتیبِ مصحف کے اعتبار سے یہ قرآن کی پہلی سورہ ہے ۔لہٰذا اس سورہ کو قرآن کے دیباچے کی حیثیت حاصل ہے۔ الفاتحہ کا لغوی مطلب ہے کھولنے والی۔ چونکہ اسی سورہ سے مصحف ِقرآن اور قرآت ِ قرآن کی ابتدا ہوتی ہے،  اسی لیے اسے الفاتحہ کہا گیا ہے۔ قرآن و سنت میں اس سورہ کے بعض دیگر نام بھی مذکور ہیں جیسے اُمُّ الکتاب، اُمُّ ا لقرآن، السبع المثانی، الحمد وغیرہ

قرآن چونکہ کتابِ توحید ہے اس لیے اس کے دیباچہ میں ہی توحید کی تینوں اقسام (توحید ربوبیت، توحید عبودیت، توحید وصفیت) کا تعارف کرادیا گیا ہے۔ چونکہ نماز توحید الہی کے اعلان و اظہار کا نام ہے اس لیے یہی وہ سورہ ہے جو اہلِ اسلام ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں۔ اس سورہ کی آیات کا اندازِ بیان دعا جیسا رکھا گیا ہے اس لیے رسول اکرم ﷺ نے اسے پنج وقتہ عبادت کا جزوِ لازم بنا دیا ہے۔ جمہور علمائے امت کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفاتحہ کی قرآت کے بغیر نماز نہیں ہوتی، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام سفیان الثوری رحمہم اللہ کا مؤقف یہی ھے۔ البتہ امام ابو حنیفہ ؒ کا مؤقف یہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ کی قرآت نماز میں فرض نہیں ہے بلکہ واجب ہے۔[1]



۔ موفق الدین ابن قدامہ الحنبلی ؒ، المغنی : ج ۲، ص ۱۴۶، دار عالم الکتب، ریاض[1]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading