2024-07-17
میرا خدا

میرا خدا

 

 

    میرا خدا

از قلم ساجد محمود انصاری

میں کہاں سے آیا ہوں؟ یہ وہ سوال ہے جو مجھے بہت بے چین کیے رکھتا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ میرا بدن چند عناصر ارضی کے خاص تناسب سے مرکب ہے۔ ہائیڈروجن آکسیجن، کاربن، کیلشیم، سلفر، فاسفورس، میگنیشیم، آئرن، کلورین وغیرہ کی آمیزش و ترکیب سے ہی تو میرا مادّی وجود پیکر میں ڈھلا ہے۔ مگر یہ کوئی بے جان مجسمہ نہیں ہے، بلکہ قابل مشاہدہ زندگی کی اعلیٰ ترین صورت میرے وجود کا حصہ ہے۔

          میں یہ بھی جانتا ہوں کہ مذکورہ عناصر ارضی سے تیار ہونے والے مسالے سے جو اینٹیں بنتی ہیں انہیں خلیات 

کہتے ہیں۔ خلیات ہی وہ اینٹیں ہیں جن سے میرے بدن کی عمارت تعمیر ہوئی ہے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میں ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، جیسا اب ہوں۔ اس دنیا میں سانس لینے سے پہلے میں اپنی ماں کے رحم میں نو ماہ جنین کی شکل میں مختلف مرحلوں سے گزرتا رہا، ابتدا میں بس ایک نطفۂ اَمشاج کی صورت میں تھا جو میرے ماں باپ کے مخصوص مادۂ تولید کے اختلاط سے وجود میں آیا تھا۔ نطفۂ اَمشاج بننے سے پہلے میں اپنے ماں باپ کی شریانوں اور وریدوں میں خون بن کر گردش کرتا رہا، میرے بدن کے عناصر ان کے خون کا جزو تھے، ہاں یہ وہی عناصر ہیں جو زمین کی مٹی اور ہوا میں شامل تھے۔ ان عناصر نے کہیں اناج کی شکل اختیار کی، کہیں سبزیوں کی، کہیں پھلوں کی صورت میں نمودار ہوئے، تو کہیںمیوہ جات کی شکل میں اور کہیں ان جانوروں کا چارہ بن گئے، جن کا گوشت میرے ماں باپ نے کھایا تھا۔ لہٰذا یہ عناصر میرے ماں باپ کے خون میں ان کی غذا کی صورت میں پہنچے تھے۔ معلوم ہوا کہ میں عرصۂ دراز تک مٹی کی شکل میں زمین پر رُلتا رہا ہوں۔

          جاننے والے بتاتے ہیں کہ زمین بھی ہمیشہ سے ایسی نہیں، جیسی کہ اب ہے، اس پر بڑے بڑے انقلابات آتے رہے ہیں، ایک زمانہ وہ بھی تھا جب میرے بدن کے عناصر لاکھوں ٹن برف کے نیچے دبے ہوئے تھے، یہ وہ دور تھا جب زمین کی کل سطح برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ میں اس دور کو برفیلے زمانے

کے نام سے یاد کیا کرتا ہوں۔ اس برفیلے زمانے سے بہت ہی پہلے زمین جلتے کوئلے کی طرح دہکتی تھی۔ میرے عناصر یہ شدید حرارت بھی سہتے رہے۔

          جاننے والے بتاتے ہیں کہ زمین بالکل ابتداء میں گیسوں اور میرے بدن کے دوسرے ٹھوس عناصر کے آمیزے پر مشتمل ایک بہت بڑا گولہ تھی جو اپنے ساتھی سیاروں کے ہمراہ اپنی ماں سورج کے وجودسے الگ ہو کر اس گرد گھومنے لگی تھی۔ ارے باپ رے! اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں پہلے سورج میں رہا کرتا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ سورج آگ کا بہت بڑا گولہ ہے، جس میں میرے وجود کے عناصر صدیوں سے جلتے آرہے تھے۔

          آسمان پر سورج کا وجود تنہا نہیں۔ کائناتی پیمانے کے اعتبار سے اس کے آس پاس اسی جیسے آگ کے کھربوں گولے ہیں، کوئی اس سے بڑا کوئی چھوٹا۔ کوئی کم روشن اور کوئی اس سے بھی ہزاروں گنا زیادہ روشن۔ آگ کے یہ گولے مجھے دن میں دکھائی نہیں دیتے، مگر رات کو آسمان پر روشن چراغوں (ستاروں) کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ ارضی پیمانے کے اعتبار سے یہ زمین سے بہت زیادہ فاصلے پر ہونے کی وجہ سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ کائناتی فاصلوں کے اعتبار سے ان میں سے اکثر سورج کے آس پاس اسی کے محلے کے باسی ہیں۔ سورج کے اس محلے کا نام ہے کہکشاں ۔ کائنات نامی بستی میں اک میرا ہی محلہ نہیں، جہاں میں صدیوں سے سورج میں بستا ہوں، بلکہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ایسے کھربوں محلے ہیں۔ یہ سب محلے (کہکشائیں) خلا میں کسی انجانی سمت دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے، ان کا آپس کا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ میں بھی تقریباًپانچ لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے والے اڑن کھٹولے پر اس وقت سے سوار ہوں جب سے یہ اڑن کھٹولا (کہکشاں) وجود میں آیا ہے۔ بڑھتے ہوئے فاصلے بتاتے ہیں کہ یہ دوریاں ہمیشہ سے نہیں بلکہ کبھی یہ محلے ایک دوسرے کے بہت ہی قریب تھے۔ حتیٰ کہ ابتدا میں ہمارا ایک ہی محلہ تھا، مگر جوں جوں کہکشاؤں کی تقسیم ہوتی گئی، فاصلے بڑھتے گئے۔ تقسیم سے پہلے ہمارا محلہ تو ایک ہی تھا، مگر تھا وہ بہت گنجان آباد۔ میرے وجود کے عناصر کائنات کے اس سب سے پہلے محلے میں اربوں سالوں سے رکھے ہوئے تھے۔

          میرا یہ پہلا محلہ کائنات کی اوّلین وحدت تھی۔ یہ وحدت بھی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھیلتی رہی ہے۔ میرے وجود کے عناصر بھی پہلے اس طرح متشکل نہیں تھے جیسے اب ہیں، موجودہ صورت اختیار کرنے سے پہلے یہ باردار اور بے بار ذرّات کی شکل میں الل ٹپ گھومتے پھرتے تھے۔ اس سے بھی پیچھے جاؤں تو میرا وجود یکسر معدوم ہوجاتا ہے اور نور کے اِک منبع میں غائب ہوجاتاہے ۔ جس کی اصلیت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔

          جب میں اپنے وجود کی تاریخ پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ پہلے میرا وجود مطلق نہ تھا، میں محض عدم تھا اور بس ___آخر پھر میں کہاں سے آیا ہوں؟ میرے وجود کے ذرّات محض عدم سے معرض وجود میں کیونکر آئے؟

          اس سوال کے ممکنہ جوابات صرف تین ہیں، جن میں سے صرف ایک جواب درست ہوسکتا  ہےجبکہ باقی دوجوابات یقینا غلط ہونے چاہئیں۔

               (ا) میں یونہی محض اتفاق سے عدم سے وجود میں آگیا۔         

(۲) میں نے اپنا وجود خود بنایا۔

           (۳) مجھے کسی اَن دیکھے خالق نے عدم سے وجود بخشا۔

          جب میں پہلے جواب پر غور کرتا ہوں تو مجھے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب یقینا غلط ہے۔ جس کائنات میں میں زندہ ہوں، یہ کوئی بے ہنگم، غیرمرتب اور غیرمربوط شئے نہیں ہے بلکہ یہ اس قدر مربوط و منظم ہے کہ اسے بجا طور پر ’موافق کائنات 

کہاجاسکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے کائنات کی ہرشئے میرے وجود کو پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لیے صدیوں سے سرگرمِ عمل تھی۔

          میں نے جب دنیا میں پہلا سانس لیا تھا تو اس وقت میرے جینے کے لیے وہ تمام اشیاء زمین پر پہلے سے مہیا کردی گئی تھیں جو میری لازمی ضروریات ہیں۔ سانس لینے کے لیے متوازن کرہ ہوائی جس میں آکسیجن اپنے مخصوص جزوی دباؤکے ساتھ موجود ہے، جو میرے لیے موزوں ترین ہے۔ میرے نحیف ونازک بدن کے لیے میری صحت کے موافق نہایت متوازن غذا ماں کے دودھ کی صورت میں مہیا کر دی گئی۔ اسی پر بس نہیں مستقبل میں مجھے جن غذاؤں کی ضرورت تھی، زمین پہلے سے انہیں پیدا کرنے پر مأمور تھی۔ اناج، پھل، سبزیاں اور میری خوراک بننے والے جانوروں کا چارہ زمین صدیوں سے اُگارہی تھی۔ ان غذاؤں کو اُگانے کے لیے درکار ”روشنی” زمین کے وجود سے بھی پہلے سورج کی صورت منصہ شہود پر آچکی تھی۔ میرے پینے کے لیے میٹھے پانی کے چشمے زمین سے پھوٹ رہے تھے، جو دریاؤں کی صورت میں بہتے تھے۔ مجھے سردی ، گرمی سے بچانے والا لباس کپاس بن کے اُگ رہا تھا۔ میری اپنی بے احتیاطی سے بیمار ہونے کی صورت میں علاج کے لیے جڑی بوٹیاں اُگ رہی تھیں۔ مجھے سہولیات مہیا کرنے کے لیے زمین سونا، چاندی، لوہا، تانبا، کوئلہ، گیس اور تیل کے ذخیرے اپنے دامن میں سمیٹے میرے سامنے کھڑی تھی۔ کونسی ایسی شئے ہے جس کی مجھے ضرورت ہے اور میرے وجود میں آنے سے پہلے زمین پر ہی مہیا نہ کر دی گئی ہو۔

          زمین جو میرا مسکن ہے ، ایسے نپے تلے حجم اور کمیّت کی حامل ہے کہ اگر ان میں کوئی واضح کمی بیشی ہوتی تو زمین کی کثافت اور بناوٹ اس سے بہت مختلف ہوتی جیسی وہ اب ہے۔ اسی متناسب کثافت کی وجہ سے زمین کی سطح پر کشش ثقل میرے لیے اتنی موزوں ہے کہ میں اس پر سہولت کے ساتھ اور اپنی مرضی کے مطابق ہر کام کر سکتا ہوں، کھڑا ہو سکتا ہوں، اعتماد سے چل پھرسکتا ہوں۔ اگر زمین کی کثافت بہت کم یا بہت زیادہ ہوتی تو میں ان کاموں میں سے کوئی کام بھی نہ کرسکتا۔ پھر زمین سے سورج کا فاصلہ بھی حیرت انگیز حد تک متناسب و موزوں ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم و بیش ہوتا تو زمین پر میرا وجودہی ممکن نہ تھا۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ کم ہوتا جیسے عطارد اور زہرہ سیاروں کا ہے تو زمین سورج کے قریب ہونے کے باعث ہمیشہ اس قدر شدید گرم رہتی کہ یہاں سیسہ بھی پگھلا ہوا مائع بن جاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتا جیسے مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون اور پلوٹو سیارہ کا ہے، تو زمین ہمیشہ یخ بستہ و سرد رہتی، اتنی سرد کہ پانی ہمیشہ برف کی شکل میں منجمد رہتا، کبھی اس قابل نہ ہوپاتا کہ اس سے زندگی جنم لے سکے۔ دیگر سیاروں کے سورج سے فاصلے اور ان کے مداروں کے زاویے ایسے بنائے گئے ہیں کہ وہ سیارے زمین سے کبھی نہیں ٹکراتے۔ نظامِ شمسی                                                                                                     کا یہ نظم و ضبط ہی یہ ثابت کرنے کی کافی دلیل ہے زمین کو خاص میری رہائش کے لیے بنایا گیا ہے۔

 کیاان حقائق کے باوجود میں یہ کیسے مان لوں کہ کائنات اور میرا وجود محض اتفاق کی پیداوار ہے؟ کیا کسی پیشگی منصوبہ سازی کے بغیر ہی یہ سارا نظام وجود میں آسکتا تھا؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہے۔

          میں کہاں سے آیاہوں؟ کا دوسرا ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ میں نے خود اپنا وجود پیدا کیا ہے۔ یہ جواب بھی بداہتاً غلط ہے۔ میرا وجود مادی عناصر کا مجموعہ و مرکب ہے۔ گویا میں سرتا پا مادّہ ہوں۔ جو مادّہ ابھی خود وجود میں نہ آیا تھا وہ میرے وجود کے ذرّات کیسے تخلیق کر سکتا تھا؟ یہ ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا انکار کم ازکم میں تو نہیں کرسکتا کیونکہ میں ایک صاحب عقل مخلوق ہوں، کوئی بے شعور و بے جان مجسمہ نہیں۔

 اب مسئلہ زیر بحث کا تیسرا جواب ہی درست ہو سکتا ہے کہ مجھے اک قادرِ مطلق خالق نے عدم سے وجود بخشا ہے، میرے مشاہدات اور میرا علم مجھے یہی رہنمائی کرتا ہے کہ یہ تیسرا جواب بالیقین درست ہے۔ ہر منصوبہ اک منصوبہ ساز، ہر خاکہ اک خاکہ ساز اور ہر نقشہ اک نقشہ ساز کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ یقینا کائنات کا منظم خاکہ و نقشہ اک مدبّر و علیم منصوبہ ساز خالق کے وجود کی ناقابل تردید دلیل ہے۔

          جب میں شہد کی مکھیوں کے کسی چھتے کی طرف دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ موم سے بنا ہوا یہ چھتا چھوٹے چھوٹے سینکڑوں شش پہلو                                                                                                                     خانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ چھتا نہ کسی مشین میں بنایا جاتا ہے اور نہ کسی ماہر کاریگر نے مکھیوں کو تحفہ دیا ہے بلکہ شہد کی مکھیاں اپنا یہ چھتا خود تیار کرتی ہیں۔ کچھ کارکن مکھیاں ایک جانب سے اور کچھ دوسری کارکن مکھیاں دوسری جانب سے چھتا تیار کرنا شروع کرتی ہیں ۔ اپنے منہ سے لعاب کی شکل میں نکلنے والے موم کو اس انداز میں جمع کرتی جاتی ہیں کہ شش پہلو خانے بنتے جاتے ہیں۔ تقریباً سبھی خانے ایک ہی جسامت اور حجم کے ہوتے ہیں۔ میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ آخر یہ مکھیاں شش پہلو خانے ہی کیوں بناتی ہیں، مربع، مثلث، مستطیل، دائرہ یا ہشت پہلو شکل کے خانے کیوں نہیں بناتیں؟ جاننے والے بتاتے ہیں کہ کسی مائع شے کو زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کے لیے شش پہلو شکل سے بہتر اور کوئی شکل نہیں کیونکہ شش پہلو شکل کے خانوں کا حجم              باقی ہر شکل کے خانوں زیادہ ہوتا ہے۔ میں حیرت زدہ ہوں کہ مکھیوں کو یہ بات کس نے سجھائی ہے۔ اس شاہکار فن تعمیرکا ڈپلومہ انہوں نے کس یونیورسٹی سے حاصل کیا ہے؟ انہوں نے کس ورکشاپ میں فرداً فرداً ایک ہی حجم و جسامت اور شکل کے خانے بنانے کی تربیت لی ہے؟ مکھیاں اپنے تیار کردہ چھتے میں جو شہد ذخیرہ کرتی ہیں، وہ بھی خود تیار کرتی ہیں۔ اگر میں یہ شہد خود تیار کرنا چاہوں تو مجھے ایک بہت بڑے پراجیکٹ کی ضرورت ہوگی، جس میں طرح طرح کی پیچیدہ مشینری فٹ کرنا ہوگی، اس کے لیے خام مال مہیا کرنا ہوگا جو مختلف عناصر یا مرکبات کی شکل میں آسانی سے دستیاب ہو، پھر اس پراجیکٹ کو چلانے کے لیے بہت زیادہ انرجی کی بھی ضرورت ہوگی۔ میں جانتا ہوں کہ شہد کی مکھیوں کے پاس بظاہر ان سب اشیاء میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہوتا مگر اس کے باوجود وہ شہد تیار کرتی ہیں۔ انہیں یہ کون بتاتا ہے کہ ان کا خام مال پھولوں کے زردانوں                          میں ہے؟ کیاا نہوں نے یہ سارا فن محض سعی و خطا                                                                                                                                             کے کسی طویل عمل سے سیکھا ہے؟

اسی پربس نہیں، میں دیکھتا ہوں کہ شہد کی مکھیاں اپنے بنائے ہوئے خانوں کو شہد سے بھرنے کے بعد یونہی ضائع ہونے کے لیے نہیں چھوڑ دیتیں، بلکہ انہیں موم کے ڈھکن سے باقاعدہ سربمہر                                                                          کرکے میرے لیے محفوظ کردیتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کو یہ ساری ہدایات کہاں سے ملتی ہیں ؟ کیا ان عجائبات کی علت محض ان کی جبلت                                                                                                           ہے؟ کیا بے جان و بے شعور مادہ از خود اس جبلت کو تخلیق کر سکتا ہے؟ یہ سب محض ”اتفاقات” کا نتیجہ ہے؟

          جب میں ان حقائق پر غور کرتا ہوں تو میرا دل اور دماغ یہ گواہی دیتا ہے کہ مادہ یا اتفاقات یا جبلت ایسے مربوط و منظم اور پہلے سے مقررشدہ                                                                                                                            حقائق کو جنم نہیں دے سکتے بلکہ یقینا ایک علیم و قدیر ہستی ان حقائق کی خالق ہے۔ جب میں اپنے وجود کی بناوٹ اور اس میں ہمہ وقت روبہ عمل ہونے والے نظاموں پہ غور کرتا ہوں تو میرا یہ یقین اور بھی پختہ ہو جاتا ہے۔ میرے وجود کا اِک اِک عضو اور اِک اِک خلیہ                                                                                                                           یہ شہادت دیتا ہے کہ یہ کسی اَن دیکھے ، بے مثال اور قادر مطلق انجینئر کی کاری گری کا شاہکار ہے۔

 میرا دماغ کائنات کی سب سے پیچیدہ                                                                                                                          معلوم شے ہے، اس سے زیادہ پیچیدہ شے تاحال مشاہدہ میں نہیں آئی۔ دماغ کی تخلیق ایک ایسا عجوبہ ہے جس کی کوئی مثال کائنات میں معلوم نہیں، دماغ سارے جسم کے اعضا کو نہ صرف کنٹرول کرتا ہے بلکہ ان کے مابین رابطے کاکام بھی سر انجام دیتا ہے۔ اگر جسم کے کسی حصے کا دماغ سے رابطہ کسی سبب سے معطل ہوجائے تو وہ حصہ مفلوج ہوجاتا ہے ، اگر ایسا مستقل طور پر ہو جائے تو وہ عضو یکسر بے کار ہو جاتا ہے۔ یہ دماغ ہی ہے جس کے ذریعے میں کائنات کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرتا ہوں، اسی کے ذریعے میں دنیا بھر کی اطلاعات و آوازیں سنتا ہوں، اسی کے ذریعے انواع و اقسام کے کھانوں اور مرغوب غذاؤں کے ذائقے چکھتا ہوں، اسی کے ذریعے میں خوبصورت پھولوں کی خوشبو سونگھتا ہوں، اسی کے ذریعے مجھے کسی شے کی ملائمت یا کھردرے پن کا احساس ہوتا ہے، اسی کے ذریعے اپنی شریک حیات کے لمس وحرارت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ اسی کے ذریعے سردیوں میں گرم دھوپ اور گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کا احساس ہوتا ہے۔ اسی سے مجھے بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے۔ میں سوچا کرتا ہوں کہ یوں تو میرے لیے ہر احساس اتنا قیمتی ہے کہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر صرف سرد و گرم کا احساس ختم ہو جائے تو زندگی کس قدر پھیکی اور بدمزہ ہو جائے گی۔ لہٰذا میری جلد بھی میرے لیے اتنی ہی قیمتی ہے جتنی میری آنکھیں یا کان یا ناک یا زبان۔ اور سب سے قیمتی شے ہے ان سب کو کنٹرول کرنے والا دماغ جو سب احساسات کا مرکز ہے۔

          یہ دماغ ہی ہے جو دنیا بھر کی کتابوں کو اپنے حافظے میں سما لیتا ہے، ہرقسم کے احساس کو محفوظ کرلیتاہے، یہ حافظہ ہی تو ہے جس کے باعث میں اپنے ماں، باپ ، بہن ، بھائی ، بیوی ، بچے، دوست اور دشمن کی شناخت بغیر کسی دِقت کے کر لیتا ہوں۔ جس شخص کو میں نے صرف ایک بار نظر بھر کر دیکھا ہوا س کی تصویر میرے دماغ کے کینوس پر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔ اگر کہیں یہ حافظہ چھن جائے تو کیا ہو؟

          میرا دماغ ہی ہے جو مجھے باربار یہ احساس دلاتا ہے کہ کوئی ہے جس نے مجھے عدم سے وجود بخشا ہے۔ میرا دماغ اپنی پیچیدگی کو گواہ بنا کرکہتا ہے کہ میں اندھے بہرے اتفاقات کے سبب معرضِ وجود میں نہیں آیا بلکہ علیم و قدیر خالق نے مجھے باقاعدہ منصوبے کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ساری کائنات کو میری حیات قائم رکھنے کے لیے کام میں لگا رکھا ہے، میرے ذمے یہ ہے کہ میں اس کی سب نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔

 میرا دماغ مجھے یقین دلاتا ہے کہ جس خالق نے مجھے پیدا کیا ہے، وہ میرے جیسا نہیں ہوسکتا کیونکہ میں اپنے ما حول کا سراپا محتاج

 ہوں ، جو خود ماحول کا محتاج ہو وہ خالق کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر وہ کیسا ہے؟ فی الحقیقت میں کوشش کے باوجود اس کی کوئی تصویر اپنے دماغ کے کینوس پر نہیں پاتا کیونکہ کائنات میں اس کی کوئی مثال ہی نہیں کہ جسے دیکھ کر میں کہہ سکوں کہ وہ ایسا ہے۔ پھربھی نجانے کیوں میرے دماغ میں یہ احساس جڑ پکڑ چکا ہے کہ میرا خالق مجھے یہ الفاظ لکھتے ہوئے دیکھ رہا ہے، جس طرح میں اپنے ماحول سے آگاہ ہوں، اسی طرح وہ بھی مجھ سے بڑھ کر میرے ماحول سے آگاہ ہے۔ جو آوازیں مجھے سنائی دے رہی ہیں، وہ بھی انہیں سن رہا ہے۔ میں بے چین ہو کر اسے ادھر ادھر تلاش کرتا ہوں، وہ مجھے کہیں دکھائی نہیں دیتا، مگر مجھے یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ میرے قریب ہی ہے۔ ان سب احساسات کے باوجود مجھے یقین ہے کہ وہ کل کائنات سے ماوراء ہے، مجھے یقین ہے کہ جس خالق کل نے یہ وسیع کائنات تخلیق کی ہے، وہ خود اس کے مقابلے میں بہت بڑا ہے ، کتنا بڑا؟ اس کی نسبت و تناسب طے کرنا میرے دماغ کے بس میں نہیں۔ 

 میرے دماغ میں اچانک یہ خیال اُبھرا کہ کیا میں اپنے اس مہربان خالق سے رابطہ کرسکتا ہوں جس نے میری ضرورت کی ہر شے مجھے پیدا کرنے سے بھی پہلے پیدا کر دی تھی؟ میں جانتا تھا کہ اہل مذہب خالق کائنات کو خدا                                                                                                                    کہتے ہیں اور اس سے رابطے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، کیوں نہ ان کو ٹٹولا جائے۔ براہ راست سبھی اہل مذہب کو ٹٹولنے کی بجائے میں نے ان کے مقدس صحیفوں                                                                                         کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا۔ میں نے سبھی صحیفوں میں خدا سے رجوع کرنے کی تعلیم تو موجود پائی مگر مجھے ان صحیفوں میں خود ”خدا” کے بارے میں ایسے عجیب و غریب تصورات کا سامنا ہوا کہ میں چکرا کے رہ گیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے قلب و دماغ نے خدا کے بارے میں جو تصورات قائم کیے تھے، جن کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ہے، ان صحیفوں کے تصورات ان سے قطعی متضاد و مختلف ہیں۔ کسی صحیفے نے خدا کو باپ اور بیٹے کے رشتے میں جکڑ رکھا ہے، جہاں باپ مجبور اور بیٹا مختارِ کل دکھائی دیتا ہے۔ کسی صحیفے نے خدا کو ماورائے کائنات ماننے کی بجائے، کائنات کو خد اکے وجود کا جزو قرار دیا ہے تو کسی نے خود کائنات کو ہی خدا بنا رکھا ہے۔ کسی کے نزدیک کائنات کے دو خدا ہیں،ایک نے ظلمت کو پیدا کیا تو دوسرے نے نور کو، کسی نے خود انسان کو ہی خدا قرار دیا ہے۔

          ہاں ایک مقدس کتاب مجھے ایسی بھی ملی جس میں خدا کے بارے میں مجھے بعینہ وہی تصورات ملے جو میرے قلب ودماغ نے فطرت کا مطالعہ کرنے کے بعد قائم کیے تھے۔

جس ہستی نے اتنی وسیع و عریض اور عظیم الشان منظم کائنات محض عدم سے پیدا کردی ہے، یقینا وہ ہرشئے پر قادر                                                                                                           ہے۔ ہر وہ کام جو مجھے بظاہر غیرممکن دکھائی دیتا ہے، اس کے لیے بالکل آسان ہے۔

          کائنات کی تشکیل بتاتی ہے کہ اس کا خالق اس کے ادنیٰ سے ادنیٰ تر ذرّے اور اس کے اَفعال و خواص سے پوری طرح باخبر ہے۔ میں بھی کتنا پگلا ہوں، جس نے پیدا کیا بھلا اسی کو خبر نہ ہوگی! جس نے میری زندگی کے ہر لمحے کی ضروریات میرے وجود سے پہلے پیدا کیں، یقینا اسے ہر شئے کا پیشگی علم ہے۔ میری زندگی ہی نہیں کل کائنات کے اِک اِک لمحے کی اسے پہلے سے خبر ہے۔ کتنا مہربان اور کبیرالشان ہے میرا خالق۔ میرے علیم و عظیم خالق کی مقررکردہ ”تقدیر” کیا ہی خوب ہے۔

          ہر شئے ایسے نظم و ترتیب کی حامل ہے کہ میں سہولت کے ساتھ اس کا گہرا مشاہدہ کرسکتا ہوں اور اس سے معقول نتائج اخذکرسکتا ہوں، اگر ایسا نہ ہوتا تو کائنات کا مطالعہ کرنا میرے لیے غیرممکن ہوتا۔ کائنات کا مطالعہ کرنے سے ہی اس کے بعض گوشوں کو مسخر کرنا میرے لیے ممکن ہوا ہے۔ اک ادنیٰ مخلوق ہونے کے باوجود سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میری رسائی میں ہے، اس ٹیکنالوجی کی مدد سے میں کائنات کے دور دراز گوشوں میں بھی جھانک سکتا ہوں، زمین تو ہمہ وقت میرے سامنے ہے، میں جب چاہوں، زمین کے جس کونے میں چاہوں دیکھ سکتا ہوں، ہزاروں میل کے فاصلے سے زمین پہ پڑی سوئی بھی دیکھ سکتا ہوں، اسی پر بس نہیں بلکہ آرام کرسی پر بیٹھے بیٹھے سمندر کی گہرائیوں اور زمین کی پنہائیوں میں چھپے خزانے بھی کھنگال سکتا ہوں، جس خالق نے اس سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے اسباب و ذرائع پیدا کیے ہیں، اس کے مشاہدہ کا عالم کیا ہوگا، جب میں سوچتا ہوں تو انگشت بدنداں رہ جاتا ہوں۔ کائنات کی وہ کونسی شئے ہے جو اس سے پوشیدہ ہے۔

   وہ ایٹم کے بنیادی ذرّات سے لے کر کائنات کی وسعتوں تک ہر شے کو بغیر کسی آلے کے دیکھتا ہے اور معمولی سے معمولی فریکوئنسی سے لے کر زیادہ سے زیادہ فریکوئنسی کی تمام آوازوں (بشمول الٹراسونکس اور سپرسونکس) کو خود براہ راست بغیر کسی آلے کے سنتا ہے۔ ہاں اس دیکھنے اور سننے سے اس کے ازلی علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہرشئے اور ہر حادثہ سے ہمیشہ سے واقف ہے۔ چنانچہ وہ کل کائنات کا تنہا نگہبان ہے۔

          میرے خالق کے یہ کمالات بتلاتے ہیں کہ وہ زندۂ جاوید ہے، کوئی بے جان و بے شعور ہستی نہیں۔ وہ کب سے زندہ ہے؟ یہ تو یقینی بات ہے کہ وہ کائنات کی تخلیق سے پہلے بھی زندہ تھا، وقت دو حوادث کے درمیانی وقفہ کا نام ہے، خالق کائنات سے پہلے کسی حادثہ                                                                                                                             کا مجھے علم نہیں، اس لیے اس سے قبل وقت کا تصور میرے لیے محال ہے، لہٰذا میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب سے زندہ ہے البتہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے، میری زندگی اور اس کی زندگی میں کوئی مماثلت نہیں، جس حیاتِ خلویہ کا میں حامل ہوں، وہ زندۂ جاوید اس سے مبرأ و منزہ ہے، کیونکہ میری حیاتِ خلویہ مخصوص ماحول کی محتاج ہے، جبکہ وہ اُس لمحے بھی زندہ تھا جب اس                                                                         کے سوا کسی شئے کا وجود تک نہ تھا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ خود یا اس کی زندگی کسی بھی شئے کی محتاج نہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ تھی، نہ ہے، نہ کبھی ہوگی۔ پس میری محدود قدرت اور محدود علم کو اس کی لامحدود قدرت و علم سے کوئی نسبت ہی نہیں، مشابہت و مماثلت کا کیا سوال؟۔

          صحیفۂ فطرت کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنی قدرتِ مطلقہ سے اپنے علم کی بنیاد پر جب چاہا، جو چاہا پیدا کیا، یہ حقیقت میری رہنمائی کرتی ہے کہ وہ صاحب ِارادہ ہستی ہے، یوں بھی وہ قدرت، قدرتِ کاملہ کہلانے کی مستحق ہی نہیں جو ”ارادہ” پر قادر نہ ہو۔ اس کا ارادہ اس کی ذات کے ساتھ اسی طرح ہمیشہ سے قائم ہے، جس طرح اس کا علم و قدرت اور حیات اس کے ساتھ قائم ہے، ہمیشہ وہی ہوا جس کا ارادہ اس نے ازل میں کیا تھا اور وہ نہیں ہوا جس کا ارادہ اس نے نہیں کیا۔

          یقینا اس کا علم، قدرت، حیات، ارادہ اور ذات کی جملہ صفات ایسی بے نظیر ہیں کہ میں کوشش کے باوجود ان میں سے کسی ایک کی

 مثل تلاش نہیں کرسکا۔ یہی سبب ہے کہ جب میں اس کے وجود کو اپنے ذہن میں متصور کرنا چاہتا ہوں تو اس کی کوئی تصویر میرے دماغ کے کینوس پر نہیں اُبھرتی،جبکہ اس کے بارے ’’سب کچھ‘‘ نہیں تو کم از کم ’’بہت کچھ‘‘ جاننے کے لیے میرا تجسّس بڑھتا چلاجارہا ہے۔ کیا یہ عین ممکن ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں بتلائے؟

          مہربان خالق ِکائنات نے شہد کی مکھی کو اس کے فرائض تفویض کیے ہیں اور انھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے طریقے بھی سکھائے ہیں، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مجھے ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے لیے شہد کی مکھی سے بھی بڑھ کے اس کی رہنمائی کی ضرورت ہے، زندگی کے سینکڑوں معاملات میں مجھے ٹھیک سے سجھائی نہیں دیتا کہ میں کیا کروں؟ اس صورت میں عموماً میں اپنی عقل اور سابقہ تجربے پہ بھروسا کرتا ہوں یا اکثریت کی رائے کی اتباع کرتا ہوں، لیکن بعد میں حاصل ہونے والی نئی معلومات اور تجربات میرے سابقہ رویے کو قطعی غلط قرار دیتے ہیں، میں اپنی ساری توانائی کو مجتمع کرکے از سرِنو نئی رائے قائم کرتا ہوں مگر بالآخر وہ بھی غلط ثابت ہوتی ہے۔ آخر میں کب تک اپنی انفرادی یا اجتماعی غیرمعقول و غیرمستحکم ‘رائے’ کے پیچھے یوں دیوانہ وار چلتا رہوں گا؟ میں زندگی کی مستقل شاہراہ پہ کب پہنچوں گا اور کب تک ناہموار پگڈنڈیوں پر بھٹکتا رہوں گا؟ جس خالق نے میری ضرورت کی ہر شئے پیدا کی ہے کیا وہ میری رہنمائی نہیں کرے گا؟ کیا وہ مجھ سے رابطہ کرکے شہد کی مکھی کی طرح مجھے بھی ”ہدایت”  نہیں دے گا؟ اس کے بارے میں میرے قلب و دماغ میں جو تجسّس عرصہ سے پل رہا ہے، کیا وہ اس تجسّس کی تسکین نہیں کرے گا؟

          میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میرا خالق میری زندگی کی کشتی کو دنیا کے سمندر کی لہروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑسکتا۔ جیسے وہ شہد کی مکھی اور ہر جاندار کی راہنمائی کرتا ہے، یقینا میری رہنمائی بھی کرسکتا ہے۔ میں اک ادنیٰ مخلوق ہونے کے باوجود اس کے پیدا کیے ہوئے ذرائع و وسائل کو استعمال کرکے انٹرنیٹ پر دنیا میں کسی بھی جگہ موجود شخص سے براہِ راست رابطہ کرسکتا ہوں، اس کے لیے میرے اور اس کے درمیان کوئی مادّی وسیلہ  موجود نہیں ہوتا۔ تو کیا میرا قادرِ مطلق خالق مادّی وسائل کے بغیر مجھ سے رابطہ قائم کرنے سے قاصر ہوگا؟ ہرگزنہیں۔ یقینا وہ کسی مادّی و مرئی وسیلہ کے بغیر میری نوع کے کسی بھی فرد سے رابطہ کرسکتا ہے۔

          میری نوع کی تاریخ میں ایسے ہزاروں افراد گزرے ہیں جنھوں نے نہ صرف یہ دعویٰ کیا کہ خالق کائنات ان سے رابطہ کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہا کہ اس علیم و قدیر مالک نے انھیں کامل شخصیت کے جملہ اوصاف اور کامیاب زندگی گزارنے کے سنہری اصول بھی سکھائے ہیں۔ ان افراد نے خود کو خالق کائنات کے پیغامبر  کی حیثیت سے پیش کیا اور اس کے پیغام کو ’’کامل ہدایت‘‘یا اَلہدیٰ کا نام دیا۔

میرے خالق کے ان پیغامبروں میں آدم، نوح، ہود، صالح، شعیب، الیاس، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، محمد (علیہم السلام اجمعین) کے نام نمایاں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ سب ہستیاں ایسی کامل شخصیت کی حامل تھیں، جس میں کوئی عیب تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ خالق کائنات کے سب پیغامبر نہایت راست باز، حق گو، جری، نیکی پر عامل اور نیکی کی طرف بلانے والے اور بدی سے دُور اور بدی سے روکنے والے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ہر پیغامبر کے معاصر انسانوں میں سے سب سے زیادہ راست باز اور کامل افراد نے اس کی صداقت کی گواہی دی۔ حتیٰ کہ اس کے دشمن بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ اس سے بڑھ کر سچا اور کوئی نہیں۔ ہر پیغامبر نے خالق کائنات کی وہی صفات بتلائیں جو صحیفہ کائنات کے گہرے مطالعہ سے منکشف ہوتی ہیں۔ اس نے نہ صرف محسوس و مشہود کائنات کے حقائق سے آگاہ کیا بلکہ حواس سے پرے کی دنیا کے حقائق سے بھی پردہ اُٹھایا۔ اس نے معاشرے کے کسی خاص طبقے کی بجائے ہر انسان کے حقوق کی بات کی۔ ان میں سے کوئی پیغامبر اپنے دیے ہوئے پیغام سے کبھی منحرف نہیں ہوا۔ چنانچہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ سب پیغامبر سچے تھے۔ واقعتا خالق کائنات نے انھیں اپنا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی اور سبھی نے اپنی ذمہ داری کماحقہ پوری کی۔

          جب میں اپنے خالق کے پیغامبروں کے مفصل پیغام کی تلاش کے لیے تاریخ کی طرف رجوع کرتا ہوں، تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ کسی پیغامبر کا پیغام اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں سوائے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے۔ یہ پیغام

فی الحقیقت میرے خالق کا پیغام ہے۔ جبکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیغام کو پوری وضاحت کے ساتھ پہنچانے والے ہیں۔

          دوسرے پیغامبروں کا پیغام اوّل تو تاریخ کی گرد تلے دب کر کہیں گم ہوگیا ہے

جن پیغامبروں سے منسوب بعض اسفار دستیاب ہیں ان میں اس قدر ردّوبدل کیا جاچکا ہے کہ ان کا اصلی پیغام نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے اور اس کی جگہ بعد والوں کی تحریفات و ترامیم  نے لے لی ہے، چنانچہ پورے وُثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اسفار ان پیغامبروں کا اصلی پیغام بہرکیف نہیں ہیں، خواہ وہ عہدنامہ قدیم  ہو یا عہدنامہ جدید ۔

           

 

 

 

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading