2024-07-17

تخلیقِ کائنات

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

          تخلیقِ کائنات

ساجد محمود انصاری

          قرآن حکیم کی اساس اس عقیدہ پر ہے کہ کائنات از خود اندھے بہرے مادے کے کسی اتفاقی ہیجان سے وجود میں نہیں آئی بلکہ اسے علیم و قدیر رب نے اپنی قدرتِ کاملہ سے محض عدم سے وجود بخشا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اَللّٰہُ خَالِقُ کُلَّ شَیْء وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْل

(الزمر:٦٢

 اللہ تعالیٰ ہر شیء کا خالق ہے اور وہ ہر شیء کا نگہبان بھی ہے۔

اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ

 الفاطر:١)

ہر قسم کی تعریف اور شکر کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے جو آسمانوں اور زمین کومحض عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔

امام ابو الفرج عبدالرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی رحمة اللہ علیہ (٥٠٨۔٥٩٧ ھ)  اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں

ای خالقہما مبتدئاً علی غیر مثال

زادالمسیر:ج ٦، ص ٤٧٢)

یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی سابقہ نمونے کو دیکھے بغیر آسمانوں اور زمین کو پہلی بارپیدا کیا

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  

(الانعام:١٠١

وہی آسمانوں اور زمین کو محض عدم سے پیدا کرنے والا ہے۔

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ۖنے فرمایا:

کَانَ اللّٰہُ  وَ لمْ یَکُنْ شَیْء غَیْرُہ

 (صحیح بخاری: ح ٣١٩١

اللہ تعالیٰ اس وقت بھی موجود تھا جب اس کے سوا کسی اور شے کا وجود تک نہ تھا۔

قرآن و حدیث کی ان نصوص سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو محض عدم سے پیدا فرامایا۔سو کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے ،نہ یہ کسی حادثاتی اتفاق

کا نتیجہ ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ

نے اسے اپنی قدرتِ کاملہ سے وجود بخشا ہے۔

          معروف یونانی فلاسفہ ارسطو، سقراط، افلاطون وغیرہ کا خیال تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ان کا یہ تصور مادہّ پرست

سائنسدانوں کے لئے بھی پرکشش ثابت ہوا کیوں کہ اس لامتناہی و ابدی کائنات کے تصور سے مذہب کے دئیے ہوئے تصورِ خدا سے اعراض کیا جاسکتا تھا۔ جدید سائنس کے علمبردار نکو لس کوپرنیکس، گیلیلیو گیلیلی، آئزک نیوٹن، جان کیپلر، لیپلاس، آئن سٹائن ، فرائیڈ مین، فریڈ ہائل وغیرہ یونانی فلاسفہ کی مجوزہ ابدی کائنات کے دلدادہ تھے۔انہیں عقیدے کی حد تک یقین تھا کہ کائنات کی کوئی ابتدا ء نہیں بلکہ یہ لامتناہی وقت سے ایسے ہی موجود ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

سَنُرِیْھِمْ  اٰیٰتِنَا فِی الْاٰ فَاقِ وَ فِی اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی ےَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ

حٰم السجدہ:٥٣)

ہم ضرور آئندہ زمانے میں آفاق میں اور ان کی اپنی جانوں میں انہیں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، جس سے ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہی(قرآن) سچا ہے۔

          مشیتِ الٰہی کا کرنا ایسا ہواکہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے پے بہ پے ایسے انکشافات ہوئے جس سے یونانی فلاسفہ کے عقیدۂ ابدی کائنات میں دراڑ پڑ گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ دراڑ وسیع ہوتی گئی، تاں آن کہ اکیسویں صدی میں ابدی کائنات کی پوری عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی۔ان جدید تحقیقات کی مکمل تفصیل اگلی فصل میں آئے گی، سرِ دست اتنا بتانا کافی ہے کہ مادّہ پرست سائنسدان بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ موجودہ کائنات ابدی نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے۔ اس داستان کا آغاز یوںہوا کہ جرمن یہودی سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے بیسویں صدی کے پہلے عشرے کے دوران اپنی تحقیقات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذکیا کہ یہ تصور غلط ہے کہ مادّہ قدیم یعنی ابدی ہے لہٰذا اسے پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ فنا ہوسکتا ہے۔ آئن سٹائن نے کہا کہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ اس نے اپنی مشہورِ زمانہ مساوات کے ذریعے ثابت کیا کہ مادّہ کو توانائی میں اور توانائی کو مادّہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ وہ مساوات یہ تھی

E=mc2    

آئن سٹائن جانتا تھا کہ اس کی دریافت کردہ اس مساوات کو انسانیت کی تباہی کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔اگرچہ وہ خود اس کے غلط استعمال کے خلاف تھا، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔جنوری 1930ء میں ایڈولف ہٹلر جرمنی کا چانسلر(صدر کے برابر عہدہ) مقرر ہواجو کہ یہودیوں کا پکا دشمن تھا۔چناں چہ یہودی سائنسدانوں کو جرمنی سے ہجرت کرنا پڑی۔آئن سٹائن بھی جان بچا کر امریکہ پہنچا۔انہی دنوں آئن سٹائن کو بھنک پڑی کہ جرمنی اس کی دریافت کردہ مساوات کی بنیاد پر نیوکلیئر بم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، اس نے اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کو اس خطرے سے آگاہ کیا۔روزویلٹ نے سائنسدانوں کی ایک کمیٹی کو نیوکلیئر بم بنانے کے کام پر مأمور کردیا کہ کہیں جرمنی اسلحے کی دوڑ میں اس سے آگے نہ نکل جائے۔ اس کمیٹی کا چیئرمین رابرٹ اوپن ہائمر تھا، جو انسانیت کی تباہی کا تمغہ اپنے سینے پر سجانے میں کامیاب ہو گیا۔انہی دنوں دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوگیا۔آدھی دنیا ایڈولف ہٹلر کے ساتھ تھی تو باقی دنیا امریکہ کی اتحادی تھی۔جاپان ایڈولف ہٹلر کا حمایتی تھا، اس نے ہٹلر کے اکسانے پر دسمبر 1941ء میں امریکی نیول ہیڈکوارٹر پرل ہاربر پر حملہ کردیا۔امریکہ نے جاپان کو سبق سکھانے کے لئے اگست 1945 ء میں اس کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر یکے بعد دیگرے نیوکلیئر بم گرا دئیے جس کے نتیجہ میں صرف دو منٹوں میں دو لاکھ کے قریب انسان  لقمۂ اجل بن گئے۔اس انسانیت سوز واقعہ نے جہاں جمہوریت کے علمبرداروں کا راز فاش کردیا، وہیں ساری دنیا نے مادے کے فنا ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔سینکڑوں کلومیٹر وسیع رقبہ پر پھیلے ہوئے دو بڑے شہر پلک جھپکنے میں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔آئن سٹائن کی بات سچ ثابت ہوگئی کہ مادّہ توانائی میں اورتوانائی مادّے میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔

 (Wikipedia: History of Nuclear Weapons)     

قرآن حکیم میں صراحت ہے کہ کائنات کا آغاز نور سے ہوا جب کہ نور توانائی کی ایک ایسی شکل جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ط وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ

الانعام:١)

ہر قسم کی تعریف اور شکر کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اوراندھیروں اور

نور(روشنی) کو وجود بخشا۔

سید محمود آلوسی الحنفی رحمة اللہ علیہ (م ١٢٧٠ ھ) کے مطابق یہاں ظلمت سے مراد عدمِ محض ہے۔

(روح المعانی، ج ١، ص ٢١٩)

امام قتادہ بن دعامہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

خُلِق السماوات قبل الارض والظلمات قبل النور

تفسیر ابن جریر:ج ٩، ص ١٤٥)

آسمانوں کو زمین سے پہلے اور ظلمت کو نور سے پہلے پیدا کیا گیا۔

گویا اس ظلمت یعنی عدمِ محض کے بعد نور پیدا کیا گیا۔

کائنات کی نور سے تخلیق ہونے کی تائید درج ذیل آیات سے بھی ہوتی ہے


 (الفلق:١)   مِنْ شَرِّ مَا خَلَقِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ

کہہ دیجئے کہ میں رب الفلق کی پناہ مانگتا ہوں، تمام مخلوقات کے شر سے۔

ان آیاتِ کریمہ میں عظیم کائناتی حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔فلق  کا لغوی مطلب پھاڑنا ہے۔جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فَالِقُ الِاْصْبَاح ِ (الانعام:٩٦) کی ترکیب استعمال ہوئی ہے جس کا مطلب ہے اندھیرے کو پھاڑ کر صبح کی روشنی ظاہر کرنے والا۔اسی لئے اکثر مفسرین نے الفلق کا معنیٰ فلق الصبح  لکھا ہے۔فلق الصبح کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ رات کی تاریکی پھاڑ کر نور کا ظاہر ہونا۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ  الفلق سے مراد الخلق یعنی کل مخلوق ہے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم الرازی:رقم ١٩٥٣٨) اس سے اشارہ ملتا ہے کہ الفلق سے مراد محض صبح کا اجالا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ اولین نور ہے جس سے کل مخلوقات پیدا کی گئی ہیں۔سورة الفلق کی دوسری آیت  مِنْ شَرِّ مَا خَلَقِمیں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ امام اسماعیل بن کثیر رحمة اللہ علیہ فرماتے  ہیں:من شر ماخلق: من شر جمیع المخلوقات  یعنی تمام مخلوقات کے شر سے(پناہ مانگتا ہوں)۔

(تفسیر ابن کثیر:ج ٨، ص ٥٣٥)

پس الفلقسے مراد وہ اولین نور ہے جس سے جمیع مخلوقات پیدا کی گئی ہیں۔الفلق میں پھٹنے 

کا مفہوم بھی پوشیدہ ہے، گویا اولین نور جس سے کائنات پیدا کی گئی ہے، اک زوردار جھماکے کے ساتھ ظاہر ہوا ۔ عجب نہیں کہ ربّ ذوالجلال کے ہیبت و جلال سے اس نور کے ظہور کے وقت آسمانی بجلی کے کڑاکے جیساکوئی زور دار دھماکہ

بھی ہوا ہو۔(واللہ اعلم بالصواب

سیدنا عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اول ما خلق اللّٰہ تبارک و تعالیٰ القلم، ثم قال: اکتب،فجری تلک الساعة بما ھو کائن الیٰ یوم القیامة

مسند امام احمد:ح ٢٣٠٨١، جامع الترمذی: ح ٢١٥٥)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سب سے پہلے القلم پیدا کیا اور اسے فرمایا کہ لکھو، پس اس نے اسی وقت وہ سب کچھ لکھ دیا جو قیامت تک ہونے والا ہے۔

اسی مو ضوع  پر وارد بعض دیگر احادیث میں وضاحت ہے کہ یہ القلم نور سے پیدا کیا گیا۔سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 

 اول شیئٍ خلق اللّٰہ القلم من نور

مسند الدیلمی: ح  ٢،  بحوالہ مسند ابو یعلیٰ)

اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور سے القلم پیدا کیا۔

راجح قول یہ ہے کہ القلم سے مراد وہ فرشتہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کائنات کی تقدیر لکھی۔

( روح المعانی:ج ١، ص ٢١٩)

احادیث صحیحہ میں صراحت ہے کہ القلم کی تخلیق آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی۔سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ان اللّٰہ قدّر مقادیر الخلائق قبل ان یخلق السماوات والارض بخمسین الف سنة و کان عرشہ علی الماء

 مسند امام احمد   ، صحیح مسلم  )

 اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیر آسمانوں اورزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھی جب کہ اس وقت اس کا عرش (خاص قسم کے ) پانی کے اوپر تھا۔ 

پس معلوم ہوا کہ موجودہ کائنات کی ابتداء نور سے ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ اولین نور ظاہر ہوا اور اس

نور سے تمام کائنات پیدا کی گئی۔

اکیسویں صدی میں سائنسدانوں کی غالب اکثریت یہ تسلیم کرتی ہے کہ کائنات کی ابتدانہایت کثیف نور سے ہوئی ہے جو کہ ایک وحدت

کی صورت میں مجتمع تھا۔اسی نوری وحدت میں پھیلاؤ کے نتیجہ میں موجودہ کائنات وجود میں آئی۔سائنس دان اس نظریہ کو بگ بینگ  کا نام دیتے ہیں۔اس نظریہ کا مختصر تعارف اس نظریہ پر تحقیق کرنے والی ایک ویب سائٹ پریوں کرایا گیا ہے

The Big Bang theory is an effort to explain what happened at the very beginning of our universe. Discoveries in astronomy and physics have shown beyond a reasonable doubt that our universe did in fact have a beginning. Prior to that moment there was nothing; during and after that moment there was something: our universe. The big bang theory is an effort to explain what happened during and after that moment.

https://www.big-bang-theory.com/

’’بگ بینگ نظریہ اس مسئلہ کی وضاحت کی ایک کوشش ہے کہ کائنات کے آغاز میں کیا ہوا؟فلکیات اور طبیعیات میں ہونے والی دریافتوں سے بغیر کسی شک و شبہ کے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری کائنات کا ایک باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔اس لمحے سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور اس کے بعد ایک شے کا وجود تھا اور وہ ہے ہماری کائنات۔بگ بینگ نظریہ یہ وضاحت کرنے کی کوشش ہے کہ اس لمحے کے دوران اور اس کے بعد کیا ہوا تھا؟‘‘

خلائی تحقیقات کے بارے ایک ویب سائٹ سپیس ڈاٹ کام پر الزبتھ ھاول رقمطراز ہیں

The Big Bang Theory is the leading explanation about how the universe began. At its simplest, it says the universe as we know it started with a small singularity, then inflated over the next 13.8 billion years to the cosmos that we know today.

https://www.space.com/25126-big-bang-theory.html

’’بگ بینگ نظریہ ‘‘ کائنات    کے آغاز کے بارے میں ایک نمایاں ترین وضاحت ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں وہ کائنات جسے ہم جانتے ہیں، اس کا آغاز ایک وحدت سے ہوا جو اگلے  ۱۳ اعشاریہ ۸ ارب سالوں میں پھیل کر وہ کائنات بن گئی جو ہمارے علم میں ہے۔‘‘

امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کئ ماہر فلکیات چارلس لارنس آغاز کائنات کے اولین کے بارے میں کہتے ہیں

“Planck can see the old light from our universe’s birth, gas and dust in our own galaxy, and pretty much everything in between, either directly or by its effect on the old light,”

https://www.nasa.gov/jpl/planck-mission-explores-the-history-of-our-universe

’’پلانک (خلائی مشن) ہماری کائنات کی پیدائش کے وقت وجود میں آنے والے قدیم نور،گیس ،غبار اور اس کے بین وہ سب کچھ ہماری اپنی کہکشاں میں بلا واسطہ طور پر دیکھ سکتا ہے، یا پھر قدیم نورپر اس کے اثرات کے ذریعے۔‘‘

 

قرآن حکیم ایک ایسی کائنات کا تصور دیتا ہے جو ہمہ وقت متحرک اور معرضِ تغیر ہے۔کائنات کی ابتداء کے ضمن میں بیان ہوا کہ الفلق  میں پھٹنے کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی شیء پھٹتی ہے تو اس کے اجزاء تیزی سے پھٹنے کے مقام سے دور ہٹتے ہیں اور منتشر ہوجاتے ہیں۔کائنات کی بتداء ہی انتہائی سُرعت کے ساتھ ہوئی، جس کے نتیجہ میں یہ تیزی سے پھیلنے لگی۔قرآن حکیم نے اس حقیقت کی طرف قوی اشارہ کیا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَالسَّمَأ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّ اِنَّا لَمُسِعُوْنَ

 (الذاریات:٤٧)

اور ہم نے اپنی قوت سے آسمان بنایا ہے اور ہم ہی اسے کشادہ کر رہے ہیں۔

آلِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عظیم مفسر عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمة اللہ علیہ (م  ١٨٢ ھ) نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس آیت میں موسعون سے مراد طبعی وسعت ہے۔تفسیر ابن جریر میں ہے

قال ابن زید فی قولہ  (اِنَّا لَمُسِعُوْن) قال:اوسعھا جلّ جلالہ۔

تفسیر ابن جریر: ج ٢١، ص ٥٤٦)

عبدالرحمٰن بن زیدؒ  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرمان اِنَّا لَمُسِعُوْن کا مطلب ہے کہ اللہ جل جلالہ نے آسمان کو وسیع بنایا۔

تیسری صدی ہجری کے معروف مفسر امام ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الزجاج البغدادی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

الموسعون ما بین السماء والارض

 (زادالمسیر:ج ٨، ص ٤١

یعنی آسمان اور زمین کے مابین (خلا) کو وسیع کرنے والے

سورة الذاریات کی جو تفسیر مذکورہ بالا بزرگ مفسرین نے بیان کی ہے اس کی تائید سورة الانبیاء کی درج ذیل آیت سے بھی ہوتی ہے

اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقَاً فَفَتَقْنٰھُمَا

الانبیا:٣٠)

کیا یہ کفار دیکھتے نہیں کہ آسمان اور زمین باہم گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انہیں جدا جدا کردیا۔

 

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے  کَانَتَا رَتْقَاًکی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا

کانتا ملتزقتین ففتقھما اللّٰہ

(تفسیر ابن جریر: ج ١٦، ص ٢٥٥)

یعنی آسمان و زمین دونوں باہم پیوست تھے، پھر ہم نے انہیں جدا جدا کردیا۔

جب کہ انہی  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری روایت میں کانتا ملتصقتین کے الفاظ بھی مروی ہیں۔ملتزقتین اور ملتصقتین دونوں الفاظ قریب المعنیٰ ہیں۔لَصِقَ ، لَصْقاً، لَصُوق کا مطلب ہے ایک دوسرے کے ساتھ چپکنا۔ بعینہ یہی معنیٰ لَزِقَ، لَزُوْقاً کا ہے۔(مصباح اللغات) پس مطلب یہ ہوا کہ آسمان اور زمین بالکل ابتداء میں باہم پیوست ،جکڑے ہوئے اور یکجا جمع تھے۔امام قتادہ اور امام حسن البصری رحمة اللہ علیہما نے یہ مفہوم زیادہ صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، فرماتے ہیں:کانتا جمیعا

یعنی ان کا مادّہ یکجا جمع تھا۔

تفسیر ابن جریر: ج ١٦ ، ص ٢٥٦)

فَتَقَ، فَتْقاً کا لغوی مطلب ہے پھاڑنا۔اسی لئے صبح کواَلْفَتَق اور سورج کی شعاع کو اَلْفِتَاق بھی کہاجاتا ہے۔(مصباح اللغات)گویا اَلْفَلَقاور اَلْفَتَقہم معنیٰ الفاظ ہیں۔چنانچہ سورة الانبیاء کی اس آیت کو سورة الفلق کے تناظر میں دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ابتداء میں آسمان و زمین کا تمام مادّہ یکجا تھا، جسے ربِ کریم نے پھاڑ کر جدا جدا کردیا۔ اسی رتق کی کیفیت  کو بیان کرنے کے لیے سائنسدان وحدت یا سنگولیرٹی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔سنگو لیرٹی میں فتق (جھماکے)  کے نتیجہ میں کائنات پھیلنے لگی۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔تا آن کہ یہ موجودہ صورت کو پہنچ گئی۔ سورة الذاریات کی آیت٤٧ میں موسعون یعنی فاعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے جس میں فعل حال جاری کامفہوم پایا جاتا ہے۔یعنی قرآن حکیم کی اس نص کے مطابق کائنات آج بھی پھیل رہی ہے۔

قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے متحرک کائنات کا تصور ایسے وقت میں عطاکیا جب ساری دنیا کے لوگ کائنات کو ساکن و جامد سمجھتے تھے۔کائنات کے ساکن و جامد یعنی غیر متغیر

ہونے کا تصور سب سے پہلے یونانی فلاسفہ نے متعارف کرایا۔ہزاروں سالوں سے یونان، چین، ہند،مصر اور میزوپوٹامیہ کی قدیم تہذیبوں میں ساکن کائنات کا تصور مروج تھا۔اسی پر بس نہیں، مادّہ پرست سائنسدانوں نے بھی بڑے فخر کے ساتھ یونانیوں کی تقلیدکو ترجیح دی۔ بیسویں صدی کے اختتام تک

سائنسدانوں کی ایک بڑی جمعیت ساکن و جامد کائنات کی تائید کرتی رہی ہے۔آئن سٹائن اپنی تحقیقات اور خدا داد ذہانت کی بنا پر جان گیا تھا کہ کائنات غیر متحرک نہیں ہو سکتی، مگر چونکہ سائنسی برادری اس وقت

تک ساکن کائنات پر یقین رکھتی تھی اس لئے اس نے اسی پر اکتفا کرنے میں عافیت سمجھی۔ لہٰذا اس نے اپنے عمومی نظریۂ اضافیت میں ایک کائناتی مستقلے

کا اضافہ کیا تھا۔ اس کے مطابق اس مستقلےکی قیمت ساری کائنات میں وقت کے تمام لمحات میں یکساں ہونا چاہیے۔ بعد میں آئن سٹائن نے تسلیم کیا کہ عمومی نظریۂ اضافیت میں اس کائناتی مستقلے کو شامل کرنا اس کی بہت بڑی غلطی تھی۔

(Wikipedia: General Relativity)

          کائنات کے بارے میں تمام جدید سائنسی تحقیقات کی بنیاد آئن سٹائن کا نظریۂ اضافیت ہے، اس نظریۂ اضافیت کے دو رُخ ہیں۔ اس کا پہلا رُخ خصوصی نظریۂ اضافیت ہے جو اس نے 1905ء میں پیش کیا اور دوسرا رُخ عمومی نظریۂ اضافیت ہے جو اس نے 1915ء میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔آئن سٹائن نے یہ نظریہ ریاضی کی نہایت پیچیدہ زبان میں پیش کیا تھا ، جسے کما حقہ سمجھنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ہم یہاں صرف سادہ زبان میں اس کے نظریۂ اضافیت کے نتائج بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

           نظریۂ اضافیت کی ساری عمارت نیوٹن کے مشہورِ زمانہ قانونِ تجاذب

پر کھڑی ہے، جس کے مطابق کائنات کے ہر دو اجسام ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں، تاہم اس کشش کی شدّت کا انحصار ان اجسام کی کمیت اور ان کے مابین فاصلے پر ہے۔زمین پر یہ کشش ہمیں اپنے وزن کی شکل میں محسوس ہوتی ہے کیونکہ زمین بھی اپنے اوپر موجود اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے اس لئے تمام اشیاء اوپر سے نیچے کی طرف گرتی ہیں۔کائناتی پیمانے پر چونکہ کمیت بڑھ جاتی ہے اس لئے قوتِ جاذِبہ

بھی شدید تر ہوجاتی ہے۔

آئن سٹائن کے مطابق کائنات کی سب سے تیز رفتار کی حامل شیء روشنی ہے۔روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اکیاسی میل یعنی تین لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ روشنی عام حالات میں خطِ مستقیم میں حرکت کرتی ہے، لیکن اگر روشنی سورج جتنی جسامت

کے کسی جسم کے قریب سے گزرتی ہے تو اس جسم کی قوتِ جاذِبہ اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتی ہے جس کی وجہ سے روشنی کا راستہ خمیدہہوجاتا ہے۔اسی طرح اس کا تصور یہ ہے کہ مادّے اور اس کی قوتِ جاذِبہ کے باعث مکان

بھی خمیدہ ہے۔اسی طرح اگرروشنی یا اس کے برابر رفتار کے ساتھ حرکت کرنے والا جسم کسی طاقتور تجاذبی میدان میں سے گزرتا ہے تو اس کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

          اِقلیدس کے علم ا لہندسہ کے مطابق جہات

صرف تین ہیں یعنی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی یا گہرائی۔آئن سٹائن نے ایک چوتھی جہت متعارف کرائی۔ اس کے مطابق وقت کائنات کی چوتھی جہت ہے۔گویا زمان و مکان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ یہ باہم گوندھے ہوئے ہیں۔ بالفاظِ دیگر اگر کائنات ابدی ہے تو وقت بھی قدیم(ابدی) ہے اور اگر کائنات حادِث (جس کا کوئی آغاز ہوا)ہے تو وقت بھی حادِث ہے۔

عمومی نظریۂ اضافیت کا تیسرا اہم پہلو حرکت اور رفتارِ حرکت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شیء کے ساکن یا متحرک ہونے کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے کہ آیا وہ کسی دوسرے جسم کے لحاظ سے فاصلہ طے کر رہا ہے یا نہیں۔مثال کے طور پر زمین پر لیٹا ہوا بے حِس و حرکت شخص زمین کے لحاظ سے ساکن ہے مگر چونکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اس لئے یہ جسم سورج کے لحاظ سے حرکت میں ہے۔ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث اجرامِ سماویہ کی حرکت کی فصل میں بیان کی جائیگی۔

          اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اگردو الگ الگ ناظر ایک ہی واقعہ کا مشاہدہ کر رہے ہوں ، جبکہ ان میں سے ایک ناظر ساکن ہو اور دوسرا روشنی کی رفتار سے حرکت کر رہا ہو تو دونوں کے نزدیک اس ایک

ہی واقعہ میں صرف ہونے والا وقت مختلف ہوگا۔ گویا ایسا ممکن ہے کہ کائنات کے کسی گوشے میں وقت کی رفتار ارضی وقت سے مختلف ہو۔

          امریکی ماہرِ فلکیات ویسٹو میلوِن سلِفر 

۱۹۰۹ء میں انڈیانا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد ایریزونا(امریکہ) میں واقع لاوِل آبزرویٹری میں بطور ماہرِ فلکیات مقرر ہوا اور بعد ازاں 1916 -1952  کے دوران اسی رصد گاہ کے ڈائریکٹر کے طور پر تعینات رہا۔سلِفر کی تحقیقات کا مرکز کہکشائیں اور ان کی محوری حرکت تھی۔اس نے 1912 ء میں مشاہدہ کیا کہ دوردرازکہکشاؤں سے آنے والی روشنی کے طیف

کی لکیریں طیف کے سرخ حصے کی طرف منقل ہو رہی ہیں، جسے اب اصطلاحاً سرخ منتقلی

کہا جاتا ہے۔طبعی لحاظ سے ایسا اسی وقت ممکن ہے جب کہکشائیں ہم سے دُور ہٹ رہی ہوں۔چناں چہ سلِفر نے نتیجہ اخذکیا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دُور ہٹ رہی ہیں۔جن دنوں ویسٹو سلِفر نے مذکورہ بالا مشاہدات کئے، تقریباً انہی دنوں میں جیمز ایڈوِن کیلر اور ولیم والیس نے بھی ایسے ہی مشاہدات کئے۔

(Wikipedia: Vesto Slipher)

۱۹۱۷ء میں آئن سٹائن نے اپنے عمومی نظریۂ اضافیت کی بنیاد پر نتیجہ نکالا کہ کائنات غیر متغیر نہیں ہوسکتی، یا تو یہ پھیل رہی ہے یا سکڑ رہی ہے۔بعد ازاں ۱۹۲۲ ء میں آئن سٹائن کے مدّاح روسی ماہرِ طبیعیات الیگزینڈر فرائیڈمین نے آئن سٹائن کے تجویز کردہ کائناتی ماڈل میں ذرا سی ترمیم کرکے متحرک کائنات

کا تصور پیش کیا ۔اس نے کہا کہ کائنات یا تو سکڑ رہی ہے یا پھیل رہی

ہے۔بہرکیف کائنات جامد و غیر متغیرہرگز نہیں ہے۔

          ء میں ماؤنٹ ولسن آبزرویٹری(کیلیفورنیا) میں امریکی ماہرِ فلکیات ایڈوِن ہبل  ۱۹۲۲

کہکشاؤں پر تحقیق کر رہا تھا۔ اس مقصد کے لئے ووہ وہاں نصب ہُوکر ٹیلی سکوپ استعمال کر رہا تھا جس کے عدسے کا رداس سو(۱۰۰) انچ تھا، اس لحاظ سے یہ کرہ ارض پر اپنے وقت کی

سب سے بڑی ٹیلی سکوپ تھی۔اپنے مشاہدات کی بنا پر ہبل نے بتایا کہ کائنات میں صرف ہماری اکلوتی کہکشاں ملکی وے ہی نہیں ہے بلکہ اس جیسی سیکڑوں کہکشائیں کائنات میں موجود ہیں۔ اس کی تحقیق کے

دوران ویسٹو سلِفر کے کئے ہوئے مشاہدات کی بھرپور تائید ہوتی نظر آئی، جب ایڈوِن ہبل نے قطعیت کے ساتھ دعویٰ کیا کہ کہکشائیں تیز رفتاری کے ساتھ ایک دوسرے سے دُور جارہی ہیں۔ہم آسمان پر جس طرف بھی نظر دوڑائیں، ایسا لگتا ہے کہ کہکشائیں ہم سے دُور بھاگ رہی ہیں۔ ایڈوِن ہبل نے جلدبازی سے کام لینے کی بجائے اپنے ان مشاہدات کی جانچ جاری رکھی، تاں آن کہ اسے قطعی طور پر یقین ہوگیا کہ واقعتاً کہکشائیں ایک دوسرے دور ہٹ رہی ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ایڈوِن ہبل نے اپنی تحقیقات23 نومبر 1924 ء کو مشہور رسالے نیو یارک ٹائمز میں شائع کیں تو دنیا پر بیسویں صدی کا سب سے بڑا انکشاف ہوا کہ کائنات جامدو ساکن نہیں بلکہ تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے۔بعد ازاں یکم جنوری 1925 ء کوا پنا تحقیقی مقالہ امریکی فلکیاتی انجمن

کے سامنے پیش کیاجسے انجمن کی طرف سے بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے 1990 ء میں دنیا کی سب سے بڑی خلائی دوربین خلاء میں بھیجی توایڈوِن ہبل کے اعزاز میں اس کا نام ہبل سپیس ٹیلی سکوپ رکھا۔

(Wikipedia: Wdwin Hubble)

          ۱۹۲۷ء میں بلجیم کے ماہرِ فلکیات اورپادری جارجیس لیمترے نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر باقاعدہ اعلان کیا کہ کہکشاؤ ں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس حقیقت کی قوی شہادت ہے کہ کائنات

پھیل رہی ہے۔کائناتی انکشافات کی اس دلچسپ کہانی کے اس موڑ پر پہنچنے تک ہم دیکھ چکے ہیں کہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کس طرح ایک کے بعد ایک دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔قرآن کی بیان کردہ حقیقت کہ کائنات جامدو غیر متغیر نہیں بلکہ پھیل رہی ہے آخر دنیا کے سامنے آکر رہی اور دنیا کے پاس اسے تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔۱۹۳۱  میں جارجیس لیمترے نے برطانوی تحقیقی رسالے نیچر میں چھپنے والے

 

ایک مضمون میں یہ تصور پیش کیا کہ اگر ہم پھیلتی ہوئی کائنات کی فلم کو الٹا چلا دیں تو کیا ہوگا؟ پھیلتی ہوئی کائنات سکڑنے لگے گی، دور ہوتی ہوئی کہکشائیں قریب آنے لگیں گی، ان کا درمیانی فاصلہ سمٹتا جائے

گا، یہاں تک کہ سکڑتی ہوئی کائنات ایک انڈے جتنی وحدت میں سموہوجائے گی، جسے کائناتی بیضہ کہا جاسکتا ہے۔لہٰذااسی کائناتی بیضے سے کائنات کی پیدائش ہوئی ۔لیمترے کی ملاقات تین دفعہ آئن سٹائن سے ہوئی اور اس نے اپنے اس نظرئیے کے لئے اس کی تائید چاہی، مگر وہ آئن سٹائن کو قائل کرنے میں ناکام رہا۔

(Wikipedia: Georges Lemaitre)

           کائنات کی پیدائش کا تصور آئن سٹائن کے حلق سے نہیں اتر پارہا تھا کیوں کہ ساری سائنسی برادری کائنات کوساکن، لامحدود اور ابدی تسلیم کرتی تھی۔اس تصور کو تسلیم کرنے میں ایک اہم رکاوٹ برطانوی ماہرِ فلکیا ت آ رتھر ایڈنگٹن بھی رہا، جو کہ اس و قت رائل ایسٹرانومیکل سوسائٹی (برطانیہ) کا سیکرٹری تعینات تھا۔ایڈنگٹن گنتی کے ان چند لوگوں میں سے تھا جو آئن سٹائن کے عمومی نظریۂ اضافیت کو ریاضی کی زبان میں خوب اچھی طرح سمجھتے تھے۔وہ اس نظریہ کاسب سے بڑا حمایتی اور پرچارک تھا۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو اس نظریہ کا صحیح فہم دینے میں ایڈنگٹن کا کردار، آئن سٹائن سے بڑھ کر تھا۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ آئن سٹائن جرمن زبان بولتا تھا اور اس کی انگلش اتنی اچھی نہیں تھی۔لہٰذا ایڈنگٹن اس کا قریب ترین دوست اور ترجمان بن گیا۔حتّٰی کہ جب 1923ء میں ایڈنگٹن کی شہرۂ آفاق کتاب

   The Mathematical Theory of  Relativity

    شائع ہوئی تو آئن سٹائن نے اس

پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس موضوع کو دنیا کی کسی بھی زبان میں سب سے عمدہ انداز میں پیش کیا گیا ہے تو وہ یہی کتاب ہے۔آئن سٹائن کے اس تبصرے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایڈنگٹن کاکس قدر گرویدہ تھا۔ ایڈنگٹن نظریۂ اضافیت کا صرف حمایتی ہی نہ تھا بلکہ اس نے اس نظرئیے کی حقانیت

ثابت کرنے کے لئے افریقہ کے ایک جزیرے کا سفر کیا ، جہاں اس نے 29 مئی 1919 ء کو لگنے والے مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کیا اور اس کی تصاویر لیں۔ ان تصاویر کی مدد سے اس نے ثابت کیا کہ آئن

سٹائن سچ کہتا ہے کہ روشنی قوتِ جاذِبہ

کی وجہ سے خمیدہ ہوسکتی ہے۔ 

(Wikipedia: Arthur Eddington)

          آرتھر ایڈنگٹن نے جارجیس لیمترے کے کائناتی بیضے کا تصور نہ صرف پڑھابلکہ اس کی شدیدمخالفت کی۔کیونکہ وہ ارسطو کے اس عقیدے کو صحیح مانتا تھا کہ مادّہ قدیم(ابدی) ہے ، اس کا کوئی آغاز یا انجام نہیں، چناں چہ اس نے لیمترے کے ردّ میں

 مضامین شائع کئے۔حقیقت یہ ہے کہ آئن سٹائن اپنے اُس دوست کی مخالفت مول لینے کیلئے ذہنی طور پرتیارنہ تھا جس نے اس کے اپنے نظریۂ اضافیت کی تشہیر وتفہیم اوراثبات میں اتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔ چنانچہ یہ جان لینے کے باوجود کہ کائنات متحرک ہے ساکن نہیں، آرتھر ایڈنگٹن کی دوستی نے اسے لیمترے کی حمایت سے باز رکھا۔

          ۱۹۲۰ تا ۱۹۳۰ ء کے عشرے کے دوران سائنسدانوں کی واضح اکثریت ارسطو کی ابدی کائنات کی حامی تھے۔ لہٰذا مادّہ پرست سائنسدانوں نے لیمترے کے مقابلے میں کائنات کے ایسے ماڈل پیش کئے جن میں کائنات پھیلتی بھی رہے اور اس کا ابدی ہونا بھی مشکوک نہ ہو۔خود آئن سٹائن اس موقع پر جھولتی کائنات

کے تصور کی حمایت کرنے لگا جو کہ الگزینڈر فرائیڈ مین کے ذہنی تخیل کی پیداوار تھی۔لیمترے کی حمایت نہ کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لیمترے ایک رومن کیتھولک پادری تھا اور آئن سٹائن،ایڈولف ہٹلر کے مظالم کا شکار ہونے کی وجہ سے عیسائی مذہب سے خاص طور پر نالاں تھا۔

          مادّہ پرست سائنسدان ابدی کائنات کے تصور کو بیساکھیوں کا سہارا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ 1948ء میں فریڈ ہوئل، ہرمان بانڈی اور تھامس گولڈ نے ارسطو کی ابدی کائنات کی وکالت کا ایک جدید طریقہ متعارف کرایا۔ان کا مجوّزہ متوازن حالت نظریہ مادّہ پرستی کی آخری پناہ گاہ تھا۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات کی کثافت وقت کے تمام لمحات میں ہمیشہ ایک جیسی رہی ہے، جب کائنات پھیلتی ہے تو اس میں نیا مادّہ پیدا ہوتا ہے جس سے کائنات کی کثافت ہمیشہ متوازن رہتی ہے۔

(Wikipedia:Steady State Theory)

          مادہّ پرست اپنے اس نظرئیے پر بہت نازاں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انہوں نے ابدی کائنات پروارد ہونے والے تمام علمی اعتراضات کا جواب دے دیا ہے۔مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔1950تا 1960  ء کے عشرے میں ٹیکنالوجی نے تیز رفتار ترقی کی جس کی وجہ سے کائنات کے بہت سے اسرار پر سے پردہ اٹھنے لگا۔جن کی تفصیل ذیل کی سطور میں آرہی ہے۔

          ۱۹۴۸ء میں ہی جارجیس لیمترے کے مجوّزہ کائناتی بیضے کی ایک نئی تعبیر سامنے آئی۔جارج گیمو، رالف ایلفراور رابرٹ ہرمن نے اپنے ایک اجتماعی مقالے میں لیمترے کے تصور کو صحیح قرار دیتے ہوئے اس کی تائید میں نئے شواہد پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ کائنات کی ابتداء توانائی کی ایک نہایت ہی کثیف وحدت

سے ہوئی ہے، جس کا درجہ حرارت انتہائی بلند تھا۔ گویا یہ روشنی کا ایک انتہائی طاقتور بم تھا۔یہ وحدت یکا یک پھٹ گئی اور پھیلنے لگی اور اس میں مادّے کے ابتدائی ذرات بننے لگے۔ کائنات پھیلتی گئی اوراس کا درجۂ حرارت کم ہوتا گیا۔تب بنیادی ذراّت نے مل کر اولین سادہ ایٹموں کو جنم دیا۔یہ سادہ ترین ایٹم ہائیڈروجن گیس کے تھے۔ہائیڈروجن کے نیوکلیائی مل کر ہیلیم کے ایٹم بنانے لگے۔ کائنات مزید ٹھنڈی ہوئی تو سحابیے یعنی نیبولے

وجود میں آئے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کہکشاؤں میں تبدیل ہوگئے۔جن میں ستاروں نے جنم لیا۔مادّہ پرست فریڈ ہائل نے مارچ 1949 ء میں بی بی سی ریڈیو کو دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جارج گیمو کے اس نظریہ پر طنز کرتے ہوئے اسے بگ بینگ تھیوری  (بڑے دھماکے) کا نام دیا  اور اس نظریے کا یہی نام مشہور ہوگیا۔  

          جارج گیمو اور اس کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی کائنات کے اولین نور کی باقیات آج بھی شعاعوں کی شکل میں ساری کائنات میں موجود ہیں جن کا درجۂ حرارت پانچ کیلون تک ہوسکتا ہے۔

بعد ازاں 1960 ء میں رابرٹ ڈکی اور یاکوف زیلدووِچ نے الگ الگ کام کرتے ہوئے اپنے مشاہدات کی بنا پر جارج گیمو اور اس کے ساتھیوں کی تائید کی کہ واقعتاً کائنات میں اولین نور کی باقیات

خرد موجوں یعنی مائیکرو ویوزکی شکل میں موجود ہونا چاہییں۔

جارج گیمو کی یہ پیش گوئی تقریباً سولہ سال بعدسچ ثابت ہوگئی۔ہوا یوں کہ دو امریکی ماہرِ طبیعیات آرنو

پینزیاس اور رابرٹ وِلسن، نیو جرسی (امریکہ) میں واقع بیل ٹیلی فون لیبارٹریز میں ایک خرد موج پیما

یعنی ریڈیو میٹر

بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ان کا مقصد اس آلے کے ذریعے سیٹلائٹ کمیونی کیشن اور ریڈیو ایسٹرانومی کی تحقیقات تھا۔20 مئی 1964 ء کو یہ دونوں ماہرین اپنے معمول کے کام میں مصروف تھے کہ ریڈیو میٹر کے انٹینا نے غیر معمولی اعدادو شمار ظاہر کرنا شروع کردئیے۔ ابتداً وہ اسے آلے کی خرابی سمجھے مگر تمام احتیاطی تدابیر کرنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ انٹینا کا رُخ جس طرف بھی کیا جائے وہ 4 کیلون درجۂ حرارت کی حامل شعاعوں کی موجودگی ظاہر کر رہا تھا۔ یوں حادثاتی طور پر جارج گیمو کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ آرنو پینزیاس اور رابرٹ وِلسن کی دریافت کی اہمیت کے پیشِ نظر انہیں 1978 ء کے نوبیل پرائز سے نوازا گیا۔مادّہ پرست فریڈ ہائل نے کائنات کا واضح آغازہونے کے اس ثبوت کو پرِ کاہ کی بھی حیثیت نہ دی اور اس مشاہدے کی یہ تاویل کی کہ یہ خرد موجیں دور دراز کہکشاؤ ں سے آنے والی منتشرروشنی ہے۔ لیکن بعد کے مشاہدات نے ہائل کی تاویل کو غلط ثابت کر دیا۔سائنسدانوں نے بہتر سے بہتر ریڈیو میٹر ایجاد کئے اور ان سے بہتر پیمائشیں سامنے آئیں۔ جن سے یہ نتیجہ نکلا کہ خرد موجیں کہکشاؤں سے نہیں آرہیں بلکہ یہ کہکشاؤں کی روشنی کے علاوہ اور ہی شعاعیں ہیں جو پوری کائنات میں یکساں طور پر پھیلی ہوئیں ہیں۔ ان کی یکسانیت اس بات کی غماز ہے کہ یہ ماضی میں پائے جانے والے شدید درجہ ٔ حرارت کی بازگشت ہیں، لہٰذا یہ بگ بینگ کی حقانیت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ 1976 ء میں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خرد موجوں پر تحقیق کے لئے ایک مشن خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا۔آخر 18نومبر 1989 ء کو کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلوررنامی مشن خلا میں بھیجا گیا جو زیادہ ترکوب کے نام سے مشہور ہے۔اس مشن پر گئے ہوئے سائنسدانوں نے 23اپریل 1992ء کو تصدیق کردی کہ واقعتاً کائنات میں چہار جانب خردموجیں موجود ہیں۔اس رپورٹ کو ساری دنیا میں ایک عظیم سائنسی دریافت کے طور پر مشتہر کیا گیا، حتّٰی کہ

نیویارک ٹائمز نے اس خبر کو سر ورق پر شائع کیا۔کوب کی تحقیقات کے رہنما سائنسدانوں کو 2006 ء میں طبیعیات کا نوبیل پرائز دیا گیا۔کوب کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ کائنات میں تقریباً 3 کیلون درجۂ حرارت کی حامل شعاعیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، نیز یہ شعاعیں کہکشاؤں سے آنے والی شعاعوں سے مختلف ہیں۔سٹیفن ہاکنگ کے الفاظ میں خرد موجوں کی دریافت مادّہ پرست متوازن حالت نظرئیے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔

جدید تحقیقات سے یہ حقیقت بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ کائنات میں سب سے زیادہ پائے جانے والا عنصر ہائیڈروجن ہے۔جبکہ بگ بینگ کے مطابق کائنات کا اولین عنصر ہائیڈروجن ہی تھا۔ اس طرح ہائیڈروجن اور دوسرے ہلکے عناصر ہیلیم اور لیتھیم کی کثرت ثابت کرتی ہے کہ بگ بینگ نظریہ حقیقت کی صحیح تصویر دکھا رہا ہے۔

          آج سائنسدانون کی ا کثریت طوعاً وکرہاً یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ ا س کائنات کی ابتدا ایک محدود وقت میں ہوئی ہے۔فریڈ ہائل کا متوازن حالت نظریہ اپنی اہمیت کھو چکا، اگر چہ چند متشدد مادہّ پرست اسے اب بھی گلے سے لگائے ہوئے ہیں، لیکن سائنسدانوں کی اکثریت اب بگ بینگ نظرئیے کی حامی ہے۔راقم نے یہ الفاظ کسی اعتقاد سے مغلوب ہوکر تعصب کی بنیاد پر نہیں لکھے، بلکہ تمام بین الاقوامی نوعیت کی سائنسی ویب سائٹس یہی مژدہ سنا رہی ہیں۔

اس دلچسپ داستان سے قرآنِ حکیم کے درج ذیل نکات واضح ہوگئے ہیں

١۔ کائنات کی ایک واضح ابتدا ء ہے۔

٢۔ کائنات کا آغاز نور (توانائی ) کے شدید جھماکے سے ہوا۔

٣۔ کائنات کا سارا مادّہ کسی زمانہ میں یکجا جمع تھا۔

٤۔ کائنات کی اولین وحدت عدم سے وجود میں آئی۔

٥۔ اولین وحدت یکایک پھیلنے لگی اور پھیلتے پھیلتے اتنی وسیع ہوگئی جتنی آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

٦۔ کائنات آج بھی پھیل رہی ہے۔

          پہلی اور دوسری فصل میں تفصیل سے مذکور ہوا کہ کائنات کی ابتداء نور (توانائی) کے ایک زبردست فلق یعنی جھماکے سے ہوئی۔اس کے بعدنورِاولین نے حکمِ الٰہی سے ابتدائی مادّے کی شکل اختیار کی جس کے لئے قرآن میں الماء  کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَ کَانَ عَرْشُہ عَلَی الَمَآئِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً  (ہود:٧)

وہی (اللہ ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس کا عرش اس وقت ( ایک خاص قسم کے )پانی پر تھا۔

واضح رہے کہ اس کائناتی سیّال کو پانی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کی طبعی حالت معروف پانی سے ملتی جلتی تھی، ورنہ اس آیت میں پانی سے مراد عام پانی نہیں ہے، جیسا کہ امام احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی  رحمة اللہ علیہ نے تصریح کی ہے۔ فرماتے ہیں:

و لیس المراد بالماء ماء البحر بل ہو ما تحت العرش کما شاء اللّٰہ تعالیٰ  (فتح الباری: ج ١٣، ص ٥٠٥)

یہاں الماء سے سمندر کا پانی مراد نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ (خاص پانی) ہے جو عرش کے نیچے اللہ کی مشیئت کے مطابق موجود تھا۔

اسی خاص پانی کے بارے میں احادیث میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شے اس پانی سے پیدا فرمائی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ۖنے فرمایا:

کُلُّ شَیْئٍ خُلِقَ مِنْ مَاء ٍ  (مسند امام احمد: ح ٧٩١٩)

ہر شیء خاص قسم کے پانی سے پیدا کی گئی ہے۔

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ۖنے فرمایا:

وَ کَانَ عَرْشُہ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ  (صحیح بخاری:ح ٧٤١٨)

 

اور اس حال میں اس کا عرش پانی پر تھا پھر اس نے آسمان اور زمین پیدا کئے۔

معلوم ہوا کہ الماء   کی تخلیق آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے کی گئی۔

امام قتادہ بن دعامہ رحمة اللہ علیہ سورہ ہود کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

ینبئکم ربکم تبارک و تعالیٰ کیف کان بدء خلقہ قبل ان یخلق السماء والارض

(تفسیر ابن جریر:ج ١٢، ص ٣٣٣)

اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں خبر دے رہے ہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے اس نے اپنی خلقت کی ابتداء کیسے کی۔

امام مجاہد بن جبر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :

کان عرشہ علی الماء قبل ان یخلق شیئا  ( ایضاً)

کوئی بھی (مادّی) شے ء پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔        

پہلی اور دوسری فصل کی تفصیلات کو جب سورہ ہود اور مذکورہ احادیث کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو بلا تأمل نتیجہ نکلتا ہے کہ اولین نور کی تخلیق کے بعد عرش کے نیچے خاص قسم کا پانی پیدا کیا گیا اور اسی پانی جیسے مادّے سے آسمان و زمین کی تخلیق کی گئی۔ یہی وہ اولین مادّہ تھا جو رتق کی حالت میں موجود تھا، جس میں فتق کے ذریعے کائنات پیدا کی گئی۔ واللہ اعلم بالصواب

          مادّہ عام طور پر تین حالتوں میں پایا جاتا ہے، یعنی ٹھوس، مائع اور گیس۔مذکورہ بالا آیت میں الماء (خاص پانی) کی تعبیر مادّے کی چوتھی حالت کے لئے استعمال کی گئی ہے جسے جدید سائنس کی زبان میں پلازما (Plasma) کہا جاتا ہے۔اولین مادّہ جس حالت میںپایا جاتا تھا اس کے بیان کے لئے عام آدمی کی ذہنی دسترس کے مطابق مائ(پانی) سے بہتر کوئی تعبیر نہیںہوسکتی۔پانی ایک سیّال(Fluid)ہے اور کائنات کا اولین مادّہ سیّال حالت میں تھا۔

          ہم جانتے ہیں کہ ایٹم کے مرکزہ میں بنیادی ذرّات پروٹون اور نیوٹران پائے جاتے ہیں۔ نیوٹرانز کی تشکیل ان سے بھی سادہ ذرّات سے ہوئی ہے جنہیں کوار ک کہتے ہیں۔کوارک غیر قیام پذیر

 

ذرّات ہیں ، جن کا وجود انتہائی بلند درجہ ٔ  حرارت یا انتہائی شدید کثافت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔غیر قیام پذیر ہونے کی وجہ سے کوارک باہم مل کر نیوٹران بناتے ہیں ۔علمِ کونیات(Cosmology) کے ماہرین نے 1980 ء کی دہائی میں تجویز کیا تھاکہ کائنات کے بالکل ابتدائی لمحات میں مادّہ ایک خاص قسم کے سیّال (Fluid)  پر مشتمل تھا جسے طبیعیات کی اصطلاح میں کوارک گلوآن پلازما کہا جاتا ہے۔ اس کوارک گلوآن پلازما کا تعارف وکی پیڈیا پر یوں کرایا گیا ہے:

A quark–gluon plasma (QGP) or quark soup is a state of matter in quantum chromodynamics (QCD) which is hypothesized to exist at extremely high temperature, density, or both temperature and density. This state is thought to consist of asymptotically free quarks and gluons, which are several of the basic building blocks of matter. It is believed that up to a few milliseconds after the Big Bang, known as the Quark epoch, the Universe was in a quark–gluon plasma state. In June 2015, an international team of physicists produced quark-gluon plasma at the Large Hadron Collider by colliding protons with lead nuclei at high energy inside the supercollider’s Compact Muon Solenoid detector. They also discovered that this new state of matter behaves like a fluid.

(https://en.wikipedia.org/wiki/Quark_gluon_plasma)


کوارک گلوآن پلازما یا کوارک شوربہ کرومو ڈائنامکس کی اصطلاحات میں مادّے کی ایک حالت

 

ہے،جس کے بارے میں یہ رائے قائم کی گئی تھی کہ یہ انتہائی بلند درجۂ حرارت یا شدید کثافت یا دونوں شدید حرارت اور کثافت کی حالت میں اپنا وجود رکھتا ہے۔مادّے کی اس حالت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آزاد کوارک اور گلوآنز پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ مادّے کی بنیادی تعمیراتی اینٹوں کا کام دیتے ہیں۔ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ بگ بینگ کے تقریباً چند ملی سیکنڈ کے بعد، جسے کوارک دور کہا جاتا ہے، کائنات کوارک گلوآن پلازما کی حالت میں تھی۔جون 2015   ء میں ماہرینِ طبیعیات کی ایک ٹیم نے لارج ہیڈران کولائیڈر میں سوپر کولائیڈر کے کمپیکٹ میوآن سولینائیڈ سراغرساں میں انتہائی شدید توانائی پر نیوٹرانوں کو لیڈ کے مرکزوں سے ٹکرا کرکوارک گلوآن پلازما (عملاً) پیدا کر لیا۔انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ مادّے کی یہ نئی حالت ایک سیّال کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔

اللّٰہ اکبر کبیرا والحمد للّٰہ کثیرا و سبحان اللّٰہ بکرةً و اصیلا

          ملاحظہ کیجئے قرآن حکیم کا بلیغ اور جامع بیان کہ وَ کَانَ عَرْشُہ عَلَی الَمَآء (اس کا عرش خاص قسم کے پانی پر تھا) ۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے وہ حقیقت کس قدر جامعیت کے ساتھ  بیان فرمادی تھی جس تک رسائی بیسویں صدی میں ممکن ہو سکی ہے۔کوارک گلوآن پلازما کو کائناتی سیّال یعنی(Cosmic Fluid) بھی کہا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اب کوارک گلوآن پلازما کا وجود کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اس کے وجود کا ثبوت ہیں۔تاہم یہ موضوع طبیعیات کے جدید ترین موضوعات میں سے ہے، جس پر تیزی سے تحقیق جاری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جوں جوں مزید حقائق سے پردہ اٹھے گا،دنیا پر قرآن کی سچائی واضح سے واضح تر ہوتی جائے گی۔

 

      دُخان اور آسمان

          اب تک کی داستان کا خلاصہ یہ ہے کہ نور کے ایک زبردست جھماکے سے کائنات وجود میں آئی ۔ یہ نور مادّے کے اولین ذرّات کوارک اور گلوآن میں تبدیل ہوا جو کہ ایک سیّال کی شکل میں تھا، جسے کائناتی سیّال کہتے ہیں۔اسی کائناتی سیّال میں ارتقاء کے نتیجے میں مشیئتِ الٰہی کے مطابق کائنات کی تخلیق ہوئی۔

قرآنِ حکیم میں کائنات کی تخلیق کا اگلا مرحلہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآئِ وَ ھِیَ دُخَان(حٰم  السجدہ: )

پھر اس نے آسمان کی تخلیق کا ارادہ کیا تب وہ(آسمان) دھوئیں کی شکل میں ظاہر ہوا۔

اس آیتِ مبارکہ میںآسمان کی تخلیق کے بالکل ابتدائی مرحلے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔کائناتی سیّال(Cosmic Fluid) نے جس اولین مادّے کی شکل اختیار کی اسے یہاں دُخان (دھوئیں)سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ملا علی القاری الحنفی رحمة اللہ علیہ امام خطابی  رحمة اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

و طلع دخان من تموّج الماء الی جانب السماء فخلقت السماوات منھا

 (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح: ج ١٠، ص ٣٦٥)

خاص قسم کے پانی میں طلاطم پیدا ہونے سے اس میں سے دھواں نمودار ہوا اور اوپر کی جانب اٹھا پھر اسی سے آسمان بنائے گئے۔

امام فخرالدین الرازی رحمة اللہ علیہ دُخان کے بارے فرماتے ہیں:

لا معنی الدخان الا اجزأ متفرقة غیر متواصلہ عدیمة النور

(التفسیر الکبیر:ج ٢٧، ص ١٠٥)

یہاں دُخان(دھوئیں) سے مراد متفرق اجزأ ہیں جو ایک دوسرے سے فاصلے پر موجود تھے اور ان میں (معروف )روشنی مفقود تھی۔

عربی زبان میں دُخان کا لفظ عام طور پر دھوئیں کے لئے بولا جاتا ہے جو لکڑی یا کاغذ وغیرہ کے جلنے سے

پیدا ہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دھواں ہوا سے ہلکا ہوتا ہے اسی لئے وہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے۔جدید

تحقیقات کے مطابق کائناتی سیّال سے جو مادّہ وجود میں آیا وہ ایک ہلکی گیس کی صورت میں تھا جسے ہائیڈروجن کہتے ہیں۔ہائیڈروجن گیس ہوا سے ہلکی ہے اسی لئے کرہ ہوائی کے سب سے بیرونی حصے میں پائی جاتی ہے۔ہائیڈروجن گیس کے ذرّات(مالیکیول) ایک دوسرے سے انتہائی فاصلے پر واقع ہوتے ہیں۔تاہم ابتدائی طور پر ہائیڈروجن کے پروٹان اور الیکٹران باہم گڈ مڈ  تھے اور الل ٹپ حرکت میں مصروف تھے۔کائناتی سیّال یعنی کوارک گلوآن پلازما بننے کے چند سیکنڈ بعد بنیادی ذرّات الیکٹران،

نیوٹران اور پروٹان وجود میں آنے لگے۔ اس دوران بڑی مقدار میںمرئی روشنی کے ذرّات فوٹان بھی پیدا ہوئے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات ایک طویل عرصہ فوٹان دورPhoton Epoch) ( دور سے گزری ہے جس میں کائنات کا مادہّ پلازما پر مشتمل تھا۔ اس دور میں کائنات میں ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا تھا۔ یہی وہ نور ہے جس کی باقیات کاسمک مائیکرو ویوز بیک گراؤنڈ کی شکل میں آج بھی کائنات میں موجود ہیں، جس کا درجۂ حرارت جدید تحقیق کے مطابق تقریباً تین کیلوِن ہے۔

(https://en.wikipedia.org/wiki/Photon_epoch)

 

فوٹان دور میں پلازماہائیڈروجن پر مشتمل ایک سفید گرم دھند جیسا تھا۔جسے کھولتے پانی کی بھاپ سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے سفید دھواں بھی کہا جاسکتا ہے۔قرآن کا بیان ہے کہ کائنات  پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب یہ دُخان یعنی دھویں سے پر تھی۔ جدید سائنس بھی قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے۔وکی پیڈیا لکھتا ہے:

When the universe was young, before the formation of stars and planets, it was denser, much hotter, and filled with a uniform glow from a white-hot fog of hydrogen plasma. As the universe expanded, both the plasma and the radiation filling it grew cooler.

https://en.wikipedia.org/wiki/Cosmic_microwave_background

 

ستاروں اور سیاروں کی تخلیق سے پہلے ،جب کائنات ابھی کم عمر تھی، یہ نہایت کثیف اور بہت گرم تھی اور ہائیڈروجن پلازما کی سفید گرم دھند سے منتشر ہونے والی چمک سے بھری ہوئی تھی۔جیسے جیسے کائنات پھیلتی گئی پلازما اور اس کو پر کرنے والی روشنی کی شعاعیں ٹھنڈی ہوتی گئیں۔

کوارک گلوآن پلازما کا دور اگرچہ مختصر سا تھا مگر پلازما کا دورآج بھی جاری ہے۔آج بھی یہ پلازما کہکشاؤں اور ستاروں میں پایا جاتا ہے۔سچ یہ ہے کہ آج بھی کائنات کا بیشتر مادّہ پلازما پر مشتمل ہے۔

Plasmas are by far the most common phase of ordinary matter in the universe, both by mass and by volume. Essentially, all of the visible light from space comes from

stars, which are plasmas with a temperature such that they radiate strongly at visible wavelengths. Most of the ordinary (or baryonic) matter in the universe, however, is found in the intergalactic medium, which is also a plasma, but much hotter, so that it radiates primarily as X-rays.

https://en.wikipedia.org/wiki/Plasma_(physics)

 

پلازما ، کمیت اور حجم کے لحاظ سے،کائنات کا نسبتًاسب سے زیادہ پایا جانے والا مادّہ ہے، خلا سے آنے والی تمام مرئی روشنی ستاروں سے آتی ہے، جو کہ پلازما کے بنے ہیں اور جن کا درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہے

جومرئی طولِ موج والی روشنی خارج کرنے  کے لئے درکار ہے۔کائنات میں عام مادّے کا زیادہ حصہ کہکشاؤں میں پایا جاتا ہے، جو کہ پلازما ہی کی ایک قسم ہے، مگر یہ نسبتًا زیادہ گرم ہے جس سے ایکس ریز خارج ہوتی ہیں۔

          قرآن حکیم میں کوئی لفظ بھی بس یونہی بلا مقصد استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ہر لفظ نہایت نپا تلا اور

جامعیت و بلاغت لئے ہوئے ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ دُخان کا لفظ بغیر کسی حکمت کے بیان کیا گیا ہو۔ مذکورہ بالا تصریحات سے واضح ہے کہ کائناتی سیّال سے پیدا ہونے والے مادّے ہی کے لئے لفظ دُخان استعمال ہوا ہے اور یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ یہ مادّہ دھوئیں جیسی صفات کی حامل ہائیڈروجن پر مشتمل تھا۔واللہ اعلم بالصواب


Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading