2024-07-17

 بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تسمیہ یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  ہردو سورتوں کے درمیان فصل کرنے کے لیے قرآن کی مستقل آیت ہے سوائےاس کے کہ یہ  سورۃ الفاتحہ   کی پہلی اور سورۃ النمل کی درمیانی آیت ہے۔

 اس قول کی صریح دلیل سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کی یہ مرفوع روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺکو دو سورتوں کے درمیان فصل کا علم اس وقت تک نہیں ہوتا تھا جب تک کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نازل نہ ہوتی تھی۔[1]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ مسلمانوں کو تکمیلِ سورت کا علم نہیں ہوتا تھا جب تک کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نازل نہ ہوجاتی جب یہ آیت نازل ہوتی تو لوگ جان لیتے کہ پچھلی سورت مکمل ہوچکی ہے۔[2](اب نئی سورت شروع ہوگئی ہے)

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کی روایت کی تائید درج ذیل صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ اس دوران آپ ﷺ کو اونگھ آگئی۔پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا ۔ہم نے عرض کیا کہ آ پ کے تبسم فرمانے کا کیا سبب ہے؟  آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ نے پڑھا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، انا اعطیناک الکوثر۔۔۔۔۔۔۔۔الخ[3]

قرآن حکیم میں واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ سورۃ الفاتحہ کی سات آیات ہیں جو  نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ [4]

اور یقیناً ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیات اور( بقیہ )قرآن عظیم عطا کیا ہے۔

سیدنا ابو سعید بن المعلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز پڑھ  رہا تھا کہ اس دوران رسول اکرم ﷺ نے مجھے آواز دی مگر میں نے جواب نہ دیا۔بعد میں میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول جب بھی تمہیں بلائیں  تو ان  کی پکار پر لبیک کہو۔میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں قرآن کی سب سے زیادہ عظمت والی سورت کے بارے میں بتاؤں گا۔جب ہم نے مسجد سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تھا آپ مجھے قرآن کی سب سے زیادہ عظمت والی سورت کے بارے میں بتائیں گے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ  وہ الحمد للہ رب العالمین (سورۃ الفاتحہ)ہے یہی  السبع المثانی ہے اور اور وہ عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔[5]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) ہی السبع المثانی  اورعظمت والا قرآن ہے۔[6]

سیدنا علی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ سبعا ًمن المثانی (بار بار دہرائے جانے والی سات آیات )سے کیامراد  ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے سورۃ الفاتحہ مراد ہے۔ان سے کہا گیا کہ اس کی تو چھ آیات ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ساتویں آیت ہے۔[7]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے بھی ایسا ہی قول مروی ہے۔[8]

امام سعید بن جبیر ؒ سے و لقد اتیناک سبعا من الثانی  کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) ہے۔پھر امام سعید بن جبیر ؒ نے سورۃ الفاتحہ اس طرح پڑھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ، الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔۔ الخ  پھر فرمایا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ساتویں آیت ہے۔انہوں نے کہا میں نے یہی بات سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کے سامنےکہی تھی تو انہوں میری تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم کا وہ ذخیرہ دیا ہے جو میرے کسی  دوسرے شاگرد کو نہیں ملا۔[9]

یہی سبب ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نماز  میں قرأت کی ابتدا بسم اللہ سے فرمایا کرتے تھے۔[10]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کے شاگرد امام عکرمہ،  امام عطا بن ابی رباح، امام طاؤس، امام مجاہد اور امام سعید بن جبیر رحمہم اللہ جہری نماز میں بسم اللہ بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔[11]جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے سبعاً من المثانی  کی تفسیر میں مروی مذکورہ بالا قول ہی درست ہے  اور ان سے منسوب دوسرا قول شاذ ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے کہ سبعا من المثانی سے مراد سورۃ الفاتحہ کی سات آیات ہیں، جن  میں تسمیہ بھی شامل ہے۔[12]

امام نافع  ؒ فرماتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  جب نماز پڑھنے لگتے تو کہتے اللہ اکبر پھر پڑھتے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمدللہ رب العالمین۔۔۔۔۔۔۔الخ ،پھر جب سورۃ الفاتحہ کی قرأت مکمل کرلیتے تو پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر بسم اللہ پڑھنے کے لیے نہیں ہے تو پھر اسے مصاحف میں کیوں لکھا گیا تھا؟ [13]

نبی ﷺ سے تواتر سے ثابت ہے کہ وہ نماز میں  اور نماز کے علاوہ سورۃ الفاتحہ کے شروع میں بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ علیہا السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ یوں قرأت فرمایا کرتے تھے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمدللہ رب العالمین، الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔الخ یعنی ہر آیت کو ٹھہر ٹھہر کر جدا جدا پڑھا کرتے تھے۔[14]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز میں بآوازِ بلند قرأت کرتے ہوئے  بسم اللہ سے  ولاالضالین تک سورۃ الفاتحہ پڑھی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ تمہارے مقابلے  میری نماز سب سے زیادہ رسول اکرم ﷺ سے مشابہت رکھتی ہے۔[15]

امام دارقطنی ؒنے یہ حدیث لکھنے کے بعد فرمایا

ھذا حدیث صحیح و رواتہ کلھم ثقات

سیدنا علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ دونوں سورتوں سے پہلے بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔[16]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ (جہری) نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔[17]

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ (جہری) نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے تھے[18]

سیدنا انس  بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  رسول اکرم ﷺ  بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔[19]

محمد بن المتوکل ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام معتمر بن سلیمان ؒ کے پیچھے فجر یا مغرب کی نماز پڑھی۔انہوں نے سورۃ الفاتحہ کے شروع میں اور آخر پر بسم اللہ بلند آواز سے پڑھی۔پھر میں نے امام معتمر بن سلیمان ؒ  کو فرماتے سنا کہ میں تو اپنے والد کی نماز کی نقل کرتا ہوں، اور میرے والد فرماتے تھے کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز کی نقل کرتا ہوں۔ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے تھےکہ میں رسول اکرم ﷺ کی نماز کی نقل کرتا ہوں۔ [20]

امام حاکم نیشاپوری ؒ نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا

رواتہ کلھم ثقات

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اکرم ﷺ کی قرأت کیسی تھی تو انہوں فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ الفاظ کو لمبا کرکے پڑھا کرتے تھے یعنی بسم اللہ لمبی کرکے، الرحمٰن لمبا کرکے، الرحیم لمبا کرکے پڑھتے تھے۔[21]

بظاہر الفاظِ حدیث عام قرأت کے بارے میں ہیں مگر غالب گمان یہ ہے کہ اس سے مراد نماز میں  جہری قرأت ہے۔اس حدیث میں یہی احتمال وجہِ دلالت ہے۔واللہ اعلم

سیدنا سمرہ  بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم جہری قرأت میں دو سکتے (وقفے) فرمایا کرتے تھے ایک سکتہ بسم اللہ پڑھنے سے پہلے اور دوسرا  سکتہ  دوسری سورت کی قرأت کے بعد رکوع سے پہلے  فرماتے۔سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو اس پر تعجب ہوا تو انہوں نے مدینہ میں  سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو یہ مسئلہ لکھ بھیجا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ درست فرماتے ہیں۔[22]

سید بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک آیت یا  سورت  کے بارے میں بتاؤں گا کہ اس جیسی سورت سلیمان علیہ السلام کے بعد میرے سوا کسی پر نازل نہیں ہوئی۔پھر آپ چلتے ہوئے مسجد کے دروازے تک آگئے اور میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔آپ ﷺ مسجد سے باہر قدم نکالنے لگے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ کیا آپ ﷺ اپنا وعدہ بھول گئے؟اسی وقت نبی ﷺ نے میری جانب دیکھ کر اشاد فرمایا کہ جب تم  نماز پڑھتے ہو تو قرأت کی ابتدا کیسے کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی ہے ،یہی ہے وہ۔[23]

امام شعبیؒ فرماتے ہیں میں نے سیدنا علی علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے اور ان کے پیچھے نماز بھی پڑھی ہے، وہ نماز میں بسم اللہ بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔[24]

الازرق بن قیس ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے پیچھے نماز پڑھی ، انہوں نے بلند آواز سے بسم اللہ پڑھی۔[25]

امام زین العابدین علیہ السلام کے شاگرد امام زہری ؒ قرأت کی ابتدا بسم اللہ سے کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ کتاب اللہ کی آیت ہے مگر لوگوں نے اس کی قرأت ترک کردی ہے۔[26]

امام بیہقی رحمہ اللہ نے الخلافیات میں لکھا ہے کہ آل محمد علیہم الصلوات والسلام کا جہری نماز میں  بلند آواز سے  بسم اللہ کی قرأت کرنے پر اجماع ہے۔انہوں نے اجماع  اہلِ بیت کا یہ قول امام ابو جعفر الباقر   الہاشمی علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔[27]

یہ تمام روایات شاہد ہیں کہ بسم اللہ الرحمٰن سورۃ الفاتحہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ یہ صحیح احادیث اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام کے مسلک کی تائید کرتی ہیں۔اہلِ بیت  علیہم الصلوات والسلام کا یہ مسلک زیادہ محفوظ اور احوط ہے۔ مصاحف میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا لکھا جانا  بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ہر سورت کا حصہ ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اہلِ بیت و صحابہ محض تبرک کی نیت سے کسی کلمے کو قرآن کا حصہ نہیں بنا سکتے تھے۔اسی طرح تمام قُرّا ئے عظام ؒ  سورۃ الفاتحہ کی ابتدا میں بسم اللہ کی قرأت کیا کرتے تھے۔جس سے الحمد کی ابتدا میں بسم اللہ کا متواتر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا بسم اللہ کے تمام سورتوں(الا التوبہ)  بالخصوص سورۃ الفاتحہ کا حصہ ہونے سےانکار پر مبنی قول خطرے سے خالی نہیں ہے ۔

تابعین و اتباع تابعین میں سے امام عبداللہ بن المبارک، امام شافعی،امام احمد بن حنبل، امام ابو عبید بن القاسم اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا مؤقف بھی اہلِ بیت علیہم السلام کے موافق ہے۔[28]

بعض لوگوں کا گمان ہے کہ حدیث ِ رسول ﷺ میں بسم اللہ کے سورۃ الفاتحہ کا حصہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے۔کوئی ایسی صحیح حدیث کسی ایک صحابی سے بھی مروی نہیں کہ جس میں صریحاً ذکر ہو کہ  رسول اکرم ﷺ نے نماز میں  سورۃ الفاتحہ پڑھی ہو اور اس میں بسم اللہ نہ پڑھی ہو۔ اس کے برعکس رسول اکرم ﷺ کا سورۃ الفاتحہ میں بسم اللہ پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جیساکہ مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہے۔

رہی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ قدسی جس میں نماز کے دو برابر حصوں میں تقسیم ہونے کا ذکر ہے تو اس سے بسم اللہ کے فاتحہ کا حصہ ہونے سے انکار کرنے والوں کا مقصود ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ذکر نماز کا کیا ہے مگر اس میں تفصیل صرف سورۃ الفاتحہ کی بیان کی ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث نامکمل ہے۔اس کا کچھ حصہ نقل ہونے سے رہ گیا ہے۔مزید یہ کہ اہلِ بیت کے اجماع کے مقابلے میں یہ خبرِ واحد حجت نہیں بن سکتی۔واللہ اعلم

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف تھا۔ واضح رہے کہ صحابہ کرام کا اختلاف اس بارے میں تھا کہ جہری نماز میں بسم اللہ آہستہ آواز سے پڑھنی چاہیے یا بلند آواز سے؟ جبکہ وہ سب نماز میں سورۃ الفاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے قائل و فاعل تھے۔اگر بالفرض اختلاف تسلیم بھی کرلیا جائےتو اختلافِ صحابہ  رضی اللہ عنہم کی صورت میں اہلِ بیت علیہم السلام کا قول ہمارے لیے حجت ہے۔



[1] سنن ابو داوؐد: رقم 788

[2] رواہ الحاکم فی لمستدرک و صححہ و واقفہ الذھبی

[3] مصنف ابن ابی شیبہ: رقم 32187، رواہ النسائی معناہ :رقم 903

[4] الحجر:87

[5] ، سنن ابن ماجہ: رقم 3785، سنن ابو داؤد: رقم 1458،صحیح البخاری: رقم 5006

[6] صحیح البخاری: رقم 4704

[7] تفسیر ابن جریر،سنن الدادقطنی

[8] تفسیر ابن جریر

[9] تفسیر ابن جریر، مستدرک الحاکم، مصنف عبدالرزاق: رقم2609

[10] مصنف عبدالرزاق: رقم 2610

[11] المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیر: 1/521، نیل الاوطار:2/220

[12] الطبرانی فی الاوسط: رقم 5102، سنن الدارقطنی

[13] سنن البیہقی: رقم 2417

[14] مسند امام احمد: رقم 26583، سنن ابوداؤد: رقم 4001، جا،ع الترمذی: رقم 2927

[15] سنن النسائی: رقم 904، صحیح ابن خزیمہ: رقم 499، صحیح ابن حبان: رقم 1801، سنن دارقطنی

[16] سنن الدارقطنی،اس حدیث کے راوی جناب عیسی بن عبداللہ ؒ اہلِ بیت میں سے ہیں انہوں نے یہ روایت اپنے اجداد سے بیان کی ہے۔

[17] سنن الدارقطنی

[18] سنن الدارقطنی

[19] سنن الدارقطنی

[20] مستدرک الحاکم، سنن الدارقطنی

[21] صحیح البخاری: رقم5046

[22] سنن الدارقطنی،سنن ابو داؤد: رقم 779، سنن ابن ماجہ: رقم 844، مسند احمد: رقم 20428

[23] سنن الدارقطنی

[24] سنن البیہقی: رقم 2437

[25] مصنف ابن ابی شیبہ: رقم 4173

[26] مصنف عبدالرزاق: رقم 2612

[27] محمد بن علی الشوکانی ؒ، نیل الاوطار:2/220، دار احیا التراث العربی، بیروت، لبنان

[28] المغنی لابن قدامہ: 1/522

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading