2024-07-17

 ڈاؤن لوڈ پی ڈی ایف

عربی رسم الخط کی ابتدا و ارتقاء

ساجد محمود انصاری

ہمارا ماننا یہ ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جو علم الاسما عطا فرمایا تھا وہ عربی زبان  میں مستعمل  اشیا ء   کے معروف  نام تھے۔سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے صراحت فرمائی ہے کہ علم الاسما سے مراد تمام اشیا کے معروف نام ہیں۔[1]

پس آدم علیہ السلام کی زبان عربی زبان ہی تھی۔سیدنا نوح علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی زبان بھی عربی ہی تھی۔شام و عراق کے آثارِ قدیمہ سے جو کتبے اور نوشتے دریافت ہوئے ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ شمالی  و جنوبی جزیرۃ العرب پر زمانہ قبل از تاریخ میں بھی عربی زبان ہی بولی جاتی تھی۔

اُغارتی رسم الخط

عربی زبان کا ابتدائی رسم الخط  فلسطین  (قدیم شام)  میں ایجاد ہوا۔ یہ رسم الخط بابل (عراق)  میں استعمال ہونے والے تصویری رسم الخط کی ترقی یافتہ شکل تھی۔اس کا ثبوت شامی علاقے رأس الشمر اکے آثارِ قدیمہ سے دریافت ہونے والے کتبے ہیں۔ 1929میں شام کے علاقے رأس الشمر ا  میں  کھدائی کے نتیجہ میں ایک قدیم بستی دریافت ہوئی جسے اہل مغرب اُغارت  کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اہلِ مغرب کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ بستی فرانسیسی ماہرینِ آثار قدیمہ نے دریافت کیے تھے۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اُغارت  کے آثارِ قدیمہ کے بارے میں رقمطراز ہے

Ugarit, ancient city lying in a large artificial mound called Ras Shamra (Raʾs Shamrah), 6 miles (10 km) north of Latakia (Al-Lādhiqīyah) on the Mediterranean coast of northern Syria. Its ruins, about half a mile from the shore, were first uncovered by the plow of a peasant at Al-Bayā Bay. Excavations were begun in 1929 by a French archaeological mission under the direction of Claude F.A. Schaeffer..[2]

اُغارت کے قدیم  ترین آثار تو پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں تاہم اُغارت کا سنہری زمانہ  تقریبا ً 1500 قبلِ مسیح سے شروع ہوا ۔اُغارت کا تعلق قدیم فلسطینی(کنعانی) تہذیب سے تھا۔وہاں سے ملنے والے کتبات سے مترشح ہوتا ہے کہ وہاں کی اصل زبان عربی تھی۔قدیم عربی لٹریچر میں اس خطے میں آباد قوموں کو عمالقہ کے نام سے موسوم کیا جاتا  رہاہے۔ عمالقہ نہ صرف فلسطین کے حکمران تھے بلکہ انہوں نے  3000 قبل مسیح کے لگ بھگ  مصر میں  دریائے نیل  کے ڈیلٹا  کےآس پاس بھی اپنی سلطنت قائم کرلی تھی۔ مصر کی پہلی باقاعدہ بادشاہت کا آغاز عمالقہ نے کیا تھا کیونکہ پہلی مصری سلطنت کا پہلا بادشاہ نمیر تھا[3] اکثر  فراعنہ مصر عمالقہ  میں سے تھے۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے سیدنا یوسف علیہ السلام جب مصر پہنچے تو اس وقت بھی عمالقہ ہی میں سے ایک بادشاہ ریان بن ولید کی حکومت تھی۔[4] حتیٰ کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعونِ مصر  تختِ شاہی پر متمکن تھا اس کا نام عرب مؤرخین نے قابوس بن مصعب بن معاویہ بتایا ہے۔[5]

یاد رہے کہ مصری کتبات ایک خاص تصویری زبان میں لکھے گئے تھے، جنہیں پڑھنے کی مقدور بھر کوشش ماہرین نے کی ہے۔ مگر چونکہ اس تصویری زبان کے قواعدو ضوابط خود ماہرین نے طے کیے ہیں اس لیے بعض ناموں کے تلفظ میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ فراعنہ مصرکئی القاب اختیار کیا کرتے تھے۔لہٰذا کتبات میں ان کے اصل ناموں کی جگہ مقامی زبان میں  ان کے القاب لکھے ہوئے ہیں ۔

اس جملۂ معترضہ کا مقصد یہ بتاناہے کہ  صرف جزیرۃ العرب میں ہی نہیں بلکہ مصر تک عمالقہ کے عربی نام مروج تھے۔یہ عربی الاصل نام ظاہر کرتے ہیں کہ عمالقہ کی اصل زبان عربی ہی تھی۔

ماہرین لسانیات کی  رائے ہے کہ تمام سامی زبانیں  مثلاً عربی، عبرانی،  حبشی اور اُغارتی ایک مشترک زبان سے ماخوذ ہیں  جسے وہ پروٹو سیمیٹک زبان کہتے ہیں۔اس زبان کے تعارف میں وکی پیڈیا لکھتا ہے

Proto-Semitic had a simple vowel system, with three qualities *a, *i, *u, and phonemic vowel length, conventionally indicated by a macron: *ā, *ī, *ū. This system is preserved in Akkadian, Ugaritic and Classical Arabic.[6]

ماہرین لسانیات نے اس  پروٹو سیمیٹک زبان  کے جو خواص تجویز کیے ہیں وہ بعینہ وہی ہیں جو عربی زبان کے ہیں۔ دراصل لسانی تعصب کی وجہ سے پروٹو سیمیٹک زبان کا مفروضہ قائم کیا گیا ہے، ورنہ ماہرین پر یہ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے کہ تمام سامی زبانوں کی ماں عربی زبان ہے، مگر قرآنی  زبان کی یہ برتری یہودونصاریٰ سے برداشت نہیں ہوتی۔اس لیے انہوں نے ایک نئی زبان کا مفروضہ گھڑ لیا ہے جو عربی سے ملتی جلتی تھی۔ یہ کسی پر الزام نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جسے دبے لفظوں میں سبھی ماہرین لسانیات تسلیم کرتے ہیں۔  مجوزہ پروٹو سیمیٹک زبان کے خواص کے بارے میں وکی پیڈیا لکھتا ہے

The reconstruction of Proto-Semitic was originally based primarily on Arabic, whose phonology and morphology (particularly in Classical Arabic) is extremely conservative, and which preserves as contrastive 28 out of the evident 29 consonantal phonemes. Thus, the phonemic inventory of reconstructed Proto-Semitic is very similar to that of Arabic.[7]

اس پروٹو سیمیٹک زبان کے مبدا   (مقامِ ابتدا) کے بارے میں ماہرین مختلف الرائے ہیں تاہم  اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اس کا مبدا موجودہ شام کا علاقہ ہے جسے قدیم مغربی مؤرخین لیوانٹ کے نام سے موسوم کیا کرتے تھے۔وکی پیڈیا لکھتا ہے

Bayesian analysis performed in 2009 suggests an origin for all known Semitic languages in the Levant around 3750 BC, with a later single introduction from South Arabia into the Horn of Africa around 800 BC.[8]

لیجیے، ماہرینِ لسانیات نے ہمارے اس دعوے کی تصدیق کردی ہے کہ قدیم شام (فلسطین)  کی اصل زبان عربی تھی۔ ہاں عربی سے ملتے جلتے لہجوں والی مزید  علاقائی زبانیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوئیں، مگر عربی زبان اپنی اصل صورت میں ہمیشہ برقرار رہی۔ پس ہم یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں  کہ اُغارتی زبان عربی زبان ہی کا ایک علاقائی لہجہ تھا۔ ہمارا یہ دعویٰ اور نکھر کر سامنے آجائے گا   جب ہم اُغارتی زبان کے حروف تہجی پر گفتگو کریں گے۔

انسائکلوپیڈیا برٹانیکا اُغارت کے سنہری دور کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے

The most prosperous and the best-documented age in Ugarit’s history dated from about 1450 to about 1200 BCE and included periods of domination by the Egyptians (c. 1400–1350 BCE) and the Hittites (c. 1350–1200 BCE). That age produced great royal palaces and temples and shrines, with a high priests’ library and other libraries on the acropolis. Some of the family vaults built under the stone houses show strong Mycenaean influence. Mycenaean and Cypriot pottery in great amounts has also been found. [9]

فلسطینی علاقے اُغارت کا سنہری دور1450 تا 1200 قبل مسیح کے دوران مانا گیا ہے۔ ہم وکی پیڈیا کے حوالے سے لکھ آئے ہیں کہ 3750 قبل مسیح میں بھی فلسطین کے علاقے میں عربی یا اسی سے ملتی جلتی کوئی زبان بولی جاتی تھی جو کہ تمام سامی زبانوں کی ماں ہے۔

ماہرین لسانیات نے اُغارتی زبان سے واقفیت اُغارت سے ملنے والے کتبات سے حاصل کی ہے۔اُغارتی  رسم الخط  ایجاد ہونے سے پہلے شام و عرق کی دیگر مقامی زبانیں تصویری علامات کی صورت میں لکھی جاتی تھیں، مگر یہ طرزِ تحریر نہایت مشکل تھا اور  اس زمانے میں بھی  کہ جب یہ زبانیں   باقاعدہ بولی جاتی تھیں،صرف ماہرین  ہی انہیں سمجھ سکتے تھے۔عوام اس طرزِ تحریر سے نا آشنا تھے۔ تاہم اُغارتی رسم الخط نے یہ سب مشکلات حل کردیں اور عام آدمی کے لیے بھی فن کتابت سیکھنا ممکن ہوگیا۔یاد رہے کہ اُغارتی رسم الخط کو بعض اوقات  فونیقائی (فوئ نیشین)  رسم الخط بھی کہا جاتا ہے کیونکہ بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ایک لمبی پٹی میں آباد  طاقتورشہری ریاستوں پر مشتمل علاقے کو کسی زمانے میں  فونیقا (فوئی نیشیا ) بھی کہا جاتا تھا۔[10]

اُغارتی زبان عربی رسم الخط کی طرح  دائیں سے بائیں  لکھی  اور پڑھی جاتی تھی۔ اُغارتی زبان  کے حروف تہجی کی تعداد کے بارے میں ماہرین مختلف الرائے ہیں۔ہمارے نزدیک ان  ماہرین کی رائے درست ہے جن کے خیال میں اُغارتی حروف تہجی کی تعداد تیس ہے۔[11]تاہم ماہرین کی اکثریت  کابائیس  حروف تہجی پر اتفاق ہے۔ اُغارتی رسم الخط میں حروف علت لکھے نہیں جاتے تھے بلکہ پڑھنے والا ہر لفظ کی مناسبت سے ازخود اس میں حروف علت پڑھ لیتا تھا۔اس رسم الخط میں گنتی لکھنے کی سہولت بھی شامل تھی۔ الفاظ کی طرح اعداد بھی دائیں سے بائیں جانب  لکھے جاتے تھے۔اعداد لکھنے کا طریقہ یہ تھا کہ 143 کو اس طرح لکھاجاتا تھا

1+1+1+20+20+100

بعض کتبات میں الفاظ کے درمیان خلا نہیں رکھا گیا جبکہ بعض دوسرے کتبات میں الفاظ کے درمیان نقطہ کے ذریعے فاصلہ کیا گیا ہے۔اُغارتی رسم الخط میں ہر حرف کو دوسرے حرف سے الگ لکھا جاتا تھا، انہیں عربی کے موجودہ رسم الخط کی طرح آپس میں ملایا نہیں جاتا تھا۔

بائیس اُغارتی حروف تہجی  درج ذیل تصویر میں دیکھے جاسکتے ہیں

 

 

اُغارتی حروف کی علامات کا بنیادی مأخذ قدیم تصویری رسم الخط ہی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ قدیم تصویری رسم الخط میں ہر تصویر کسی لفظ کی نمائندگی کرتی تھی جبکہ اُغارتی حروف تہجی میں سے ہر حرف ایک صوت (مخرج) کی نمائندگی کرتا ہے۔درج ذیل تصویر میں اغارتی حروف تہجی میں سے کچھ مزید حروف بھی دکھائے گئے ہیں۔

قدیم  سامی زبانوں میں رسم الخط کے موازنے کے لیےدرج ذیل  قرطاس  پر بہت مفید معلومات دستیاب ہیں، اگرچہ ان معلومات میں کسی قدر تعصب برتا گیا ہے تاہم  سامی زبانوں میں رسم الخط  کے ارتقا سے  دلچسپی رکھنے والے احباب ا سے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

https://en.wikipedia.org/wiki/Proto-Sinaitic_script

ان حروف تہجی کے نام بھی بڑے دلچسپ ہیں۔ان میں سے اکثر حروف تہجی کی آواز شکل کے ابتدائی حرف کی آواز کو ظاہر کرتی ہے۔ درج ذیل جدول میں ان حروف کی اشکال ، ان کا نام اور ان سے شرع ہونے والی صوت (آواز  ) ملاحظہ فرمائیں

صوت

شکل

حروف کا نام

ب

گھر

بیت

ک

ہتھیلی

کف

ی

ہاتھ

ید

م

پانی

ما

ع

آنکھ

عین

ر

سر

رأس

ف

منہ

فاہ

ش

سورج

شمس

ح

رسی

حبل

اُغارتی زبان میں حروف کی اشکال عربی ناموں کی مناسبت سے رکھنےکا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں   کہ اُغارتی زبان کی اصل عربی زبان  ہی تھی۔

بلاشبہہ ماہرین لسانیات نے اُغارتی زبان کو پڑھنے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کی ہیں مگر اشکال کی آواز کے تعین میں امکانِ خطا کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ بعض اشکال کی آواز کے بارے میں ماہرین میں اختلاف ہے۔بہرکیف مجموعی طور پر یہ عمدہ کوشش ہے۔

ذیل میں اُغارتی زبان کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے جو کہ ایک کتبے کی شکل میں ہے۔

آرامی رسم الخط

اُغارتی رسم الخط سے آرامی رسم الخط برآمد ہوا۔کہا جاتا ہے کہ اصل انجیل آرامی زبان میں تھی۔ ابن منظور الافریقی   المصری کے بقول آرام شام کا قدیم شہر تھا جسے اب دمشق کہا جاتا ہے۔[12]  اسی آرام شہر کی مقامی زبان کو آرامی کہا جاتاہے۔ابتدا میں آرامی رسم الخط اُغارتی رسم الخط سے زیادہ مشابہت رکھتا تھا۔ذیل میں آرامی حروفِ تہجی کی تصویر ملاحظہ فرمائیں۔

تاہم بعد میں آرامی رسم الخظ میں تبدیلیاں آتی رہیں تا آنکہ درج ذیل صورت سامنے آئی۔

آرامی رسم الخط کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں

 نباطی رسم الخط

آرامی زبان سے ہی بعد میں رقیم (پیٹرا) کا رسم الخط وجود میں آیا جو کہ  دوسری صدی قبل مسیح میں لیوانٹ  ( موجودہ اردن اور شام )میں مستعمل تھا۔ اس زبان کے نمونے رقیم (پیٹرا) کے محلات میں آج بھی کندہ ہیں۔

ذیل میں نباطی رسم الخط کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں

 صنعانی رسم الخط

یمن کی تاریخی عمارتوں اور آثارِ قدیمہ میں عربی زبان کے نہایت قدیم رسم الخط کندہ ہیں ، جن میں سے بعض نویں صدی قبل مسیح کے نمونے بھی شامل ہیں۔ان نمونوں کا اُغارتی، آرامی اور نباطی رسم الخط سے موازنہ کرنے سے یہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ جس طرح شمالی جزیرۃالعرب میں قدیم  فلسطینی  رسم الخط سے اُغارتی  رسم الخط برآمد ہوا اسی طرح جنوبی جزیرۃ العرب میں صنعانی رسم الخط پر اسی قدیم فلسطینی  رسم الخط کے اثرات نظر آتے ہیں۔تاہم غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی صنعانی  رسم الخط اگرچہ اُغارتی رسم الخط سے آزاد الگ طور پر وجود میں آیا ہوگا مگر  بعد میں اس پر اُغارتی اثرات گہرے ہوتے گئے۔یہ رسم الخط چھٹی صدی عیسوی تک عرب میں رائج رہا۔[13]

درج ذیل تصویر میں صنعانی رسم الخط کا ایک نمونہ دکھایا گیا ہے۔


انباری رسم الخط

یمن سے بنو کندہ نے عراق کی طرف ہجرت کی تو اپنے ساتھ صنعانی رسم الخط لے کر گئے۔یہ لوگ عراق کے قدیم شہر انبار میں سکونت پذیر ہوگئے۔ اہلِ انبار نے  بنو کندہ سے فن کتابت سیکھا۔  رفتہ رفتہ اس خط میں بھی تبدیلیاں واقع ہوئیں، تا آن کہ وہ رسم الخط وجود میں آیا جسے ہم آج جانتے ہیں۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ رسم الخط انباری ہے۔  مکہ کے رہائشی بنو عبد شمس کے  سرخیل حرب بن امیہ نے  اہل انبار سے فن کتابت سیکھا اور اس نے اہل مکہ میں سے چیدہ چیدہ افراد کو یہ فن سکھایا۔امام دانی نے یہ سب واقعہ  اپنی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے نقل کیا ہے۔[14]

خطِّ حجازی

اہل مکہ نے  خط انباری کو خوب نکھارا اور حق یہ ہے کہ اسے چار چاند لگادئیے۔سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچازاد جناب ورقہ بن نوفل ؓ   قدیم الہامی کتب کے عالم تھے اور انجیل کا ترجمہ عبرانی سے عربی میں  کیاکرتے تھے۔یوں انہوں نے خطِ حجازی کی خوب خدمت کی۔رسول اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کے بعد عام لوگوں کو  بھی کتابت سیکھنے کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ کی ترغیب پر سیدنا علی علیہ السلام نے کتابت سیکھی اور ہماری معلومات کے مطابق آپ ہی قرآن کے سب سے پہلے کاتب تھے۔بعد میں متعدد صحابہ ؓ  کو کتابتِ وحی کا شرف حاصل ہوا جن میں سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم سرِ فہرست ہیں۔

ہجرت کے بعد رسول اکرم ﷺ نے مختلف شاہانِ وقت کو دعوتی مکتوبات لکھے ، ان میں  سےبعض مکتوبات منظرِ عام پر بھی آچکے ہیں۔رسول اکرم ﷺ کی زندگی میں ہی آپ ﷺ کی نگرانی میں مکمل قرآن ضبطِ تحریر میں لایا جاچکا تھا مگر قرآن متفرق اوراق اور صحائف کی شکل میں تھا۔ یہ اوراق و صحائف اصلاً چمڑے کے پارچوں پر مشتمل تھے۔ نبی ﷺ کی زندگی میں اسے مجلد نسخہ کی شکل میں   مدون نہیں کیا گیا تھا کیونکہ نزولِ وحی کا سلسلہ نبی ﷺ کے  آخری ایام تک جاری رہا۔ اس لیے نبی ﷺ نے اسے مجلد نسخے کی شکل نہیں دی۔تاہم یہ صحائف و اوراق کی شکل میں محفوظ تھا۔جیسا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ کو قرآن کو مجلد مصحف کی شکل میں جمع کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو ہم نے چمڑے کے پارچوں، اونٹ کے شانے کی ہڈیوں، کھجور کی چوڑی ٹہنیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن جمع کیا۔

صحیح البخاری میں ان کے اصل الفاظ یوں روایت ہوئے ہیں

فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالأَكْتَافِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ [15]

الرقاع رقعہ کی جمع ہے ۔رقعہ کا لفظی مطلب ایسا  پارچہ ہے جس پر کچھ تحریر ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت چمڑے کے پارچوں پر لکھنے کا رواج تھا اس لیے یہاں رقاع سے مراد چمڑے کے پارچے ہیں۔واللہ اعلم

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ  عنہ نے اسی مصحف کی نقول تیار کرکےتمام بلاد اسلامیہ کے مراکز میں ارسال کی تھیں تاکہ لوگ اپنے اپنے  تحریر کردہ مصحف  کی اصلاح  اس معیاری مصحف کے مطابق کرسکیں۔

رسول اکرم ﷺ کے خطوط میں سے ایک خط کا نمونہ جو انہوں نے بحرین کو حاکم منذر بن ساویٰ  رضی اللہ عنہ کے نام لکھا تھا۔

اسی طرح سیدنا عثمان بن عفان  رضی اللہ عنہ کے مصحف کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں جو کہ خطِ حجازی میں لکھا گیا تھا ۔تاہم اس پر نکات اور اعراب نہیں لگائے گئے تھے۔

 

خطِّ کوفی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں عراق میں ایک چھاؤنی بنائی گئی جسے کوفہ کا نام دیا گیا۔ بہت جلد یہ شہر علم و فن کا مرکز بن گیا۔ اسی شہر کے کاتبوں نے خطِ حجازی کو ترقی دے کر خطِ کوفی کی تشکیل کی۔خطِ کوفی میں لکھے گئے قرآن  کا ایک نمونہ ذیل میں دیکھا جاسکتا ہے

خطِ حجازی کے بعد کاتبوں نے  خطاطی کے مزید دلکش انداز اختیار کیے۔ یوں خط کوفی کے ساتھ ساتھ خط نسخ، خط ثلث، خط نستعلیق ، خط  بریدہ وغیرہ منظرِ عام پر آگئے۔

اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم فلسطین میں  تقریباً چار ہزار سال پہلے عربی رسم الخط کی داغ بیل ڈالی گئی جو مختلف مرحلوں سے ہوتی ہوئی اس خط حجازی تک پہنچی جس میں ابتدائی طور پر قرآن لکھا گیا تھا۔پھر اسی حجازی رسم الخط سے 

متعدد رسوم ایجاد ہوئے۔

ذیل میں مختلف رسوم الخط کا ایک موازنہ پیش کیا گیا ہے، جس سے عربی رسم الخط کے ارتقا کو اصانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔




[1] عبدالرحمٰن ابن الجوزیؒ، زادا لمسیر فی علم التفسیر:1/62، المکتب الاسلامی بیروت لبنان

[4] ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ:1/107، دارالکتب العلمیۃ، بیروت لبنان

[5] ایضاً 1/130

[12] لسان العرب

[15] صحیح البخاری: رقم 4679

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading