2024-07-17

 

 مُراقبہ

ساجد محمود انصاری

اسلام نے اپنے پیرو کاروں کو تخلیق کائنات اور اس کی وسعتوں میں غورو فکر کی دعوت دی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی حاصل کریں۔ سورۃ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

 إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ

 الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار

آل عمران ۱۹۱

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔جو کھڑے، بیٹھےاور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں، (پھر پکار اٹھتے ہیں)  اے اللہ یہ سب آپ نے بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔ بے شک آپ ہر نقص سے پاک ہیں، ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما دیجیے۔

ان آیات میں صاف صاف بتادیا گیا ہے کہ  اللہ کے سچے مؤمن بندے عقل سے بے بہرہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وظیفہ تو یہ ہے کہ تخلیق کائنات میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس غوروفکر کا اصل مقصد خالق کائنات کو یاد کرنا ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، ان کا کوئی لمحہ اللہ کی یاد سے غافل نہیں گزرتا۔ اللہ تعالیٰ کی سچی محبت کا تقاضہ یہی ہے کہ  اس کی یاد ایک لمحے کے لیے بھی دل سے محو نہ ہو۔ اسی یاد کی مشق کے لیے اس نے نماز کا حکم دیا ہے، اسی لیے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں۔اسی کے لیے حج کی مشقت جھیلنے کا فرمان جاری ہوا ہے ۔  دنیا  کی محبت کی اصل علامت دولت سے محبت ہے، دنیا کی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے  زکوٰۃ فرض کی تاکہ اللہ کی محبت کی جگہ دنیا کی محبت نہ لے سکے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ

البقرہ  ۱۶۵

اور ایمان والے سب سے شدید محبت اللہ سے کرتے ہیں۔

اسی محبت الٰہی کی معراج یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب رب کو اپنے سامنے حاضر پائے۔بالخصوص جب اللہ کی عبادت کر رہا ہو تو اس وقت یہ حضورو شہود کی کیفیت طاری ہونا اللہ کے خاص بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کو بھیج کر سوال و جواب کے انداز میں صحابہ کو سمجھادیا کہ  محبتِ الٰہی کی معراج چاہتے ہو تو اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسےاسے دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم یہ ےیقین تو پختہ ہونا چاہیے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام ِمحبت کو الاحسان کا نام دیا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ اسی اثنا میں ایک انتہائی سفید لباس میں ملبوس گہرے سیاہ بالوں والا  شخص وہاں آیا جس پر نہ تو سفر کے ہی کوئی آثار تھے اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملا کر ان کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا جبکہ اس کے ہاتھ اپنی رانوں پر تھے۔تب وہ شخص کہنے لگا :اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! مجھے اسلام کے بارے میں کچھ بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں،صلوٰۃ ادا کرو،  زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ وہ شخس کہنے لگا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ (سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں کہ) ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا ہے اورخود ہی تصدیق کرتا ہے۔پھر وہ کہنے لگا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ تب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے ملائکہ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ،آخرت کے دن پر اور تقدیر کے خیروشر پر ایمان لاؤ۔ وہ کہنے لگا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، کیوں کہ اگر تم اسے نہیں بھی دیکھتے وہ تو تمہیں دیکھتا ہے۔

صحیح  البخاری ۵۰، صحیح مسلم ۸

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی تربیت ایسی کی تھی کہ انہیں اس مقام الاحسان تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔  سیدنا علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور واقعہ ہے کہ ایک جنگ میں ان کے کولہے میں تیر آلگا۔ تیر باہر کھینچتے تو شدید تکلیف ہوتی ۔ فرمانے لگے ، ٹھہرو جب میں نماز پڑھنے لگوں تو اس وقت تیر نکال لینا  کہ اپنے رب کے ساتھ کلام کرتے ہوئے مجھے تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمانے لگے تم نے تیر نکال لیا   اور مجھے ذرا بھی محسوس نہیں ہوا۔اللہ کے ساتھ کیسی لو لگائی تھی ان اللہ والوں نے۔ ایک ہم ہیں کہ   ہمیں نماز میں  بدن پرمکھی کا بیٹھنا بھی ناگوار گزرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری توجہات کا مرکز دنیا بن چکی ہے۔  نماز میں ہمارا دھیان اللہ کی طرف جاتا ہی نہیں۔ بس ادھر ادھر ذہن بھٹکتا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے کہ ہم باوجود کوشش کے اپنی توجہ اللہ کی یاد پر مرکوز نہیں رکھ پاتے۔  جس طرح بدن کے طبیب ہوتے ہیں جو جسمانی امراض کا علاج کرتے ہیں، اسی طرح نفس(روح) کے امراض و عوارض کا علاج بھی روحانی طبیب کرتے ہیں۔  

 اللہ والے روح کے طبیب ہیں۔ انہی روحانی اطبا نے عبادت میں دل نہ لگنے اور اللہ کی طرف دھیان نہ جانے یا بار بار دھیان بھٹکنے کا ایک بہت ہی تیر بہدف علاج بتایا ہے، جسے مراقبہ کہتے ہیں۔

مراقبہ کا لفظی مطلب باہم نگرانی  ہے، روح کا مرکز قلب ہے، چونکہ بندہ  مراقبہ میں اپنے قلب کی نگرانی کرتا ہے اس لیے اس نگرانی کو مراقبہ کا نام دیا گیا ہے۔ روح  کی  فہم وفراست  اور عقل و ادراک کا مرکز قلب ہے۔اسی لیے اللہ والے سارا زور قلب کی اصلاح پر صرف کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی واضح فرمایا ہے کہ اگر قلب صالح ہو تو انسان کے اعضا و جوارح سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں  اور اگر قلب بیمار ہو تو انسان اپنے رب سے دور ہوجاتا ہے اور  اس کی نافرمانی پر جری ہوجاتا ہے۔ حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں

ألا وإن في الجسد مضغةً إذا صلَحت صلَح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب

صحیح البخاری، صحیح مسلم

خبردار رہو کہ جسم میں ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر وہ صالح ہو  تو سارا جسم صالح  رہتا ہے، اور اگر اس میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، خبردار وہ لوتھڑاقلب ہے۔

روحانی طبیبوں کے سردار  امام المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا کہ اصل خرابی قلب میں ہوتی ہے۔ ساری  منکرات و سیئات کی جڑ قلب میں پیوستہ ہوتی ہے۔نماز اصلاحِ قلب کاسب سے مؤثر   ذریعہ ہے  مگر یہ وصف اس نماز کا ہے  جو حضور قلب کے ساتھ ادا کی جائے۔ جس میں واقعی اللہ کو یاد کیا جائے، جس میں دھیان ادھر ادھر نہ بھٹکے۔  اللہ کا فرمان جھوٹا نہیں ہوسکتا

اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمنْکَرِ

العنکبوت ۸۵

بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

نماز کا یہ وصف اسی لیے ہے کہ یہ قلب کی اصلاح کرتی ہے۔ ہمارا تجربہ ہے کہ جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا دل نرم ہوجاتا ہے، اس کی شقاوت دور ہوجاتی ہے، نیک کام کرنے پر قلب مائل ہوتا ہے اور برے کام سے کراہت آتی ہے۔ لیکن جب ہم نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں تو ہمیں نیک کام مشکل لگنا شروع ہوجاتے ہیں، منکرات میں زیادہ فرحت محسوس ہوتی ہے اور دل میں رحم کا مادہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ پھر جھوٹ بولنا، کم تولنا، فحش گوئی،  غیبت، بے حیائی،   دوسروں کے حقوق 

غصب کرنااوراپنے فرائض سے کوتاہی برتنا آسان ہوجاتا ہے۔ اعاذنا اللہ من ذلک

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ 

بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ 

الاعراف 

۲۰۵

اور اپنے رب کواپنے جی  ہی جی میں عاجزی کے ساتھ مخفی طریقہ پر  بغیر آواز کے صبح  وشام یاد کیا کرو اور اللہ سے غافل لوگوں میں شامل مت ہونا۔

ذکر کی دو قسمیں ہیں
۱۔ ذکر جلی

۲۔ ذکر خفی

نماز، تلاوت ،تسبیحات، صبح و شام کے اذکار وغیرہ ذکر جلی ہیں،  جبکہ اپنے رب کو اپنے جی ہی جی میں مخفی طریقہ پر بغیر کوئی معمولی آواز پیدا کیے  یاد کرنے کو ذکر خفی کہتے ہیں۔ اسی آیت سے علما نے استدلال کیا ہے کہ ذکر خفی  نفلی ذکر جلی سے افضل ہے۔ مراقبہ ذکر خفی ہی کا دوسرا نام ہے۔

 

 

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading