2024-07-17

نزول مسیح علیہ السلام

غامدی اعتراضات کا محاکمہ 

از قلم ساجد محمود انصاری

خیرالقرون سے امت مسلمہ جن عقائد پر متفق چلی آرہی ہے ان میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہودی سازشوں سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا اور پھر قربِ قیامت کی نشانی کے طور پر دوبارہ زمین پر اتارے جائیں گے۔اس عقیدہ کو مختصراً عقیدہ نزولِ مسیح علیہ السلام کہتے ہیں۔امت نے یہ متوارث عقیدہ قرآن حکیم اور احادیث متواترہ سےاخذ کیا ہے۔لہٰذا امت کے نزدیک یہ عقیدہ ایمانیات میں داخل ہے۔

پچھلی چند صدیوں میں امت کی محکومی کے باعث ایسے فتنے سر اٹھانے لگے ہیں جو اسلام کے بنیادی ایمانیات  کو ہدفِ تنقید بنا کر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ان فتنہ پردازوں میں مرزا غلام احمد قادیانی، سید احمد خان،غلام احمد پرویز، سید رشید رضا، اسلم جیراجپوری سرِ فہرست ہیں۔  انہی فتنہ پردازوں کے  نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عصرِ حاضر کے ایک ’’محقق‘‘  جاوید احمد غامدی  نے اپنے ان روحانی بزرگوں کے کام کو آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھا یا ہے۔اپنے مذکورہ  پیشواؤں کی طرح جاوید احمد غامدی کا بنیادی مسئلہ حجیتِ حدیث سے انکار ہے۔ یہ بات ہم اپنے مضمون ’’افکارِ غامدی کا تنقیدی جائزہ‘‘ میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔

زیرِ نظر مضمون ایک اعتبار سے ہمارے اسی  سابقہ مضمون کا تتمہ ہے۔

نزول ِ مسیح علیہ السلام پر غامدی کے اعتراضات

جاوید احمد غامدی نے اپنی کتاب میزان کے باب روزِ جزا پر ایمان میں علاماتِ قیامت کے ضمن میں نزولِ مسیح علیہ السلام پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح غامدی آجکل اپنے یوٹیوب چینل غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ پر اپنے اوپر کیے جانے والے اعتراضات کا اپنے تئیں جواب دے رہا ہے۔مذکورہ سلسلۂ گفتگو کے حصہ 27 تا 33 کا موضوع  نزولِ مسیح علیہ السلام  رہا ہے۔ نزولِ مسیح علیہ السلام  پر گفتگو  

میں  یہ دعویٰ کیا  گیاہے کہ قرآن نزولِ مسیح علیہ السلام  بارے میں بالکل خاموش ہے اور جن احادیث صحیحہ متواترہ میں  نزولِ مسیح کا ذکر موجود ہے وہ تیسری صدی ہجری میں منصۂ شہود پر آئیں۔اس لیے رسول اکرم ﷺ کی طرف ان کی نسبت مشکوک ہے۔میزان میں غامدی کے اپنے الفاظ ملاحظہ کیجیے

نزول مسیح کی روایتوں کو اگرچہ محدثین نے بالعموم قبول کیا ہے، لیکن قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیے تو وہ بھی محل نظر ہیں۔

اولاً، اِس لیے کہ مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآن مجید میں کئی پہلوؤں سے زیر بحث آئی ہے۔ اُن کی دعوت اور شخصیت پر قرآن نے جگہ جگہ تبصرہ کیا ہے۔ روز قیامت کی ہلچل بھی قرآن کا خاص موضوع ہے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقع بیان کے باوجود اِس واقعے کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اِس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں؟ اِسے باور کرنا آسان نہیں ہے۔[1]

غامدی نے اپنے چینل پر مذکورہ سلسلہ گفتگو   کے حصہ 27 میں اپنی چرب زبانی کے ذریعے یہ تأثر دینے کی دانستہ  کوشش کی ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئیوں کا علی الاطلاق انکار نہیں کرتا مگر ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ ان پیشگوئیوں کا ایمانیات سے کوئی تعلق نہیں۔غامدی کی یہ گفتگو تضادات کا شاہکار ہے۔ایک لمحے میں  غامدی تسلیم کرتا ہے کہ اگر کسی صحیح حدیث کی  نبی ﷺ سے نسبت پوری طرح ثابت ہوجائے اور اس ثبوت پر دل بھی مطمئن ہوجائے تو  ایسی حدیث کا انکار گویا نبوتِ محمدی ﷺ کا انکار ہے۔مگر ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی برقرار ہے کہ ان خبار احاد کا دین سے کوئی تعلق نہیں ان کی حیثیت محض تاریخی ریکارڈ کی ہے۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

یہ درست ہے کہ احادیث مؤلفین کتب حدیث تک راویوں کے ایک سلسلۂ اسناد کے ذریعے پہنچی ہیں اور یہ تحقیق ضروری ہے کہ ان راویوں کا کردار اور حافظہ قابلِ اعتماد بھی تھا یا نہیں؟اس کے لیے محدثین عظام نے علم الرجال کا فن ایجاد کیا ہے اور اس معیار پر پورا اترنے والی مقبول احادیث کے مجموعے بھی مرتب کیے ہیں۔غامدی کا دعویٰ یہ ہے کہ احادیث سب کی سب اخبارِ احاد ہیں۔اب یا تو غامدی محدثین کی اصطلاح اخبارِ احاد سے ناواقف ہے یا سادہ لوح لوگوں کو جان بوجھ کر دھوکہ دینا چاہتا ہے۔

اخبارِ احاد اور اخبار متواترہ

خبرِ واحد سے مراد وہ حدیث ہے جس  کے روای کسی ایک طبقہ میں صرف تین یا تین سے کم ہوں۔جبکہ جس حدیث کے راوی ہر طبقہ میں چار یا چار سے زیادہ ہوں تو ایسی حدیث کو محدثین کی اصطلاح میں خبرِ واحد نہیں کہتے بلکہ اسے حدیث متواترہ کہتے ہیں۔اگرچہ بعض فقہا نے حدیث متواترہ کے لیے  ہر طبقہ میں راویوں کی تعداد  چار کی بجائے دس یا بیس یاچالیس  کی شرط لگائی ہے مگر یہ محدثین کا مسلک نہیں۔حافظ ابن تیمیہ حنبلیؒ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی حدیث کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہوجائے اور امت کے علما اسے قبول کرلیں ، خواہ  وہ حدیث  صرف دو  یا تین  صحابہ  رضی اللہ  عنہم  سے مروی ہو ،تو اسے متواتر مانا جائے گا۔[2]بہر کیف جمہور محدثین کے نزدیک جس حدیث کے راوی ہر طبقہ میں چار یا چار سے زیادہ ہوں وہ حدیث خبرِ واحد نہیں رہتی  اور ایسی حدیث کا جھوٹ ہونا محال ہے ، لہٰذا اس  حدیث کی نبی ﷺ کی طرف نسبت یقینی اور قطعی ہے۔

امام ابن النجار الفتوحی الحنبلی ؒ معروف اصولی ہیں۔وہ اپنی مایہ ناز کتاب الکوکب المنیر میں رقمطراز ہیں

والعلم الحاصل بخبرالتواتر ضروری  عند اصحابنا والاکثر [3]

ہمارے علما اور دوسرے فقہی مذاہب کے اکثر علما کے نزدیک خبر متواتر سے علم ضروری حاصل ہوتا ہے۔

علم ضروری کا مطلب ہے کہ ایسا علم جس کی تصدیق کیے بغیر  عقل نہ رہ سکے۔گویا کوئی صاحبِ فہم و عقل خبر متواتر کی تصدیق کرنے سے بازنہیں رہ سکتا۔[4]

اسی طرح چوٹی کے حنفی اصولی  عالم امام  احمد بن ابی سہل السرخسی ؒ   (متوفیٰ 490 ھ)  فرماتے ہیں

قال تعالیٰ’’فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول‘‘ و ھذا الخطاب یتناول الموجودین فی عصرہ والذین یؤمنون بہ الی قیام الساعۃ و معلوم ان الطریق فی الرجوع الیہ ما نقل عنہ بالتواتر فھذا یتبین ان ھذا کالمسموع فی حیاتہ [5]

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ اگر تم میں کسی معاملہ میں تنازعہ ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پرپیش کرو۔یہ ان تمام لوگوں کے ساتھ خطاب ہے جو نبی ﷺ کے زمانے میں زندہ موجود تھے اور جو لوگ قیامت کے دن تک آپ ﷺ پر ایمان لانے والے ہیں۔اور یہ معلوم ہے کہ (یہاں مقصود )  رجوع  الی لنبی احادیث متواترہ کے ذریعے ممکن ہے، پس یہ واضح ہے کہ یہ (تواتر ) ایسے ہی ہے کہ جیسے خود نبی ﷺ سے ان کی زندگی میں سنا ہو۔

اب جان لیجیے کہ جن احادیث میں نزولِ مسیح علیہ السلام کی خبر دی گئی ہے وہ اعلیٰ درجہ کے تواتر کی بہترین مثال ہے۔آپ حدیث متواتر کی کوئی بھی تعریف مقرر کرلیں،خواہ جمہور محدثین والی ،خواہ فقہائے احناف والی ،  احادیثِ نزول مسیح علیہ السلام ہر تعریف پر پورا اترتی ہے۔غامدی کا یہ دعویٰ کہ یہ احادیث اخبار احاد ہیں ،محض جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔

علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے احادیثِ نزول مسیح علیہ السلام ایک رسالے میں جمع کردی ہیں۔اس رسالے میں ایک سو سے زائد اسانید سےمقبول احادیث جمع کی گئی ہیں۔اس رسالے کا نام  التصریح بما تواتر في نزول مسیح ہے، جسے عربی زبان میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع  ؒ نے مرتب کیا ہے۔

غامدی نے محدثین کے بعض اخبار احاد  کی صحت  پر عدم اطمینان کو ایک ایسا قطعی اصول قرار دے دیا ہے جو اس کے بقول ہر روایت کے بارے میں ممکن ہے۔باور کرلیجیے کہ یہ بھی غامدی کا خوبصور ت الفاظ میں لپیٹا ہوا فریب و دجل ہے۔ محدثین جب کسی روایت کی صحت یا نبی ﷺ کی طرف نسبت کے بارے میں عدم اطمینان کا ظہار کرتے ہیں تو ایسا صرف کسی ضعیف یا ٖغریب  روایت کے بارے میں ہوتا ہے۔محدثین نے کبھی کسی متواتر حدیث کے بارے میں تو کجا کبھی  کسی مشہورو مستفاض  روایت کے بارے میں بھی  عدم اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔عوام چونکہ احادیث کی اقسام اور ان کے درجات کے بارے میں ناواقف ہیں، اس لیے غامدی ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا  کوئی موقعہ ہاتھ  سےجانے نہیں دیتا۔

غامدی نے مذکورہ گفتگو میں بارہا یہ تأثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایات بیان کرنے والے عوام الناس تھے۔ہر قسم کی ذہنی سطح رکھنے والا شخص یہ احادیث سن کر آگے بیان کردیتا تھا اور محدثین  ان احادیث کو بغیر کسی چھان بین کے  قبول  کر لیتے تھے۔تا آن کہ صحاح ستہ کے تدوین کا زمانہ آگیا۔غامدی کے بقول صحاح ستہ کے مؤلفین نے اگرچہ حدیث کو قبول کرنے کے لیے بہت سے معیارات قائم کیے تھے، مگر پھر بھی  کسی صاحبِ علم  کاتحقیق کے بغیر ان  صحاح کی احادیث کے بارے میں اطمینان نہیں ہوسکتا۔باور کرلیجیے کہ متواتر احادیث کے بارے میں یہ بات قطعی وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ  انہیں عامۃ الناس نے نہیں بلکہ ہر زمانے میں حفاظِ حدیث کی ایک معتبر جماعت نے روایت کیا ہے۔مشہورو مستفاض احادیث کے بارے میں بھی یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ہاں کسی غریب  (کسی طبقہ میں جس روایت  کا صرف ایک ہی راوی ہو) یا ضعیف (جس روایت کے راویوں کا کردار یا حافظہ مخدوش ہو)  روایت کے بارے میں یہ اطمینان نہیں ہوتا کہ اسے لازماً کسی معتبر محدث نے ہی بیان کیا ہوگا۔تاہم متواتر احادیث قطعی طور پر حق ہیں اور ان کی نبی ﷺ سے نسبت بھی یقینی طور پر درست ہے۔

غامدی نے ایک مغالطہ یہ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم سے احادیث صرف زبانی ہی  روایت ہوسکی ہیں۔ واللہ یہ عین دوپہر کے وقت سورج کے وجود سے انکار کے مترادف ہے۔ یہ درست ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عموماً احادیث لکھنے سے اجتناب کیا ہے، مگر جب  انہوں نے درسِ حدیث کے حلقے قائم کیے تو ان کے شاگرد یعنی تابعین باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے احادیث کو ضبطِ تحریر میں لایا کرتے تھے۔ ہاں ان تحریروں کی نوعیت  اگرچہ ذاتی یادداشتوں کی سی تھی مگر حفظ کے ساتھ ساتھ کتابتِ حدیث کےفن  کا آغازتابعین  ہی کا کارنامہ ہے۔لہٰذا منکرین حدیث کا یہ واویلا کہ دوسری صدی سے پہلے احادیث صرف زبانی کہاوتوں کی حیثیت رکھتی تھیں ان کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مؤطا امام مالکؒ کا اصل موضوع کیا ہے؟

جاوید احمد غامدی نے اپنے  یوٹیوب چینل پر مذکورہ گفتگو (حصہ 28) کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں سب احادیث دوسری صدی ہجری  کے وسط سے تیسری صدی ہجری کےوسط میں شائع ہوئیں، اس سے پہلے ان احادیث کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔اپنے اس دعویٰ کی بنیاد اس نے اس مغالطہ پر رکھی ہے کہ مؤطا امام مالک ؒ حدیث کی قدیم ترین کتاب ہے ، جو دوسری صدی ہجری کے وسط میں منصہ ٔ شہود پر آئی،امام مالک ؒ نے  اپنی اس کتاب میں مذکورہ احادیث اس لیے  روایت نہیں کیں کیونکہ انہیں ان روایات کی نبیﷺ کی طرف  نسبت پر اطمینان نہیں تھا۔ لہٰذا یہ احادیث اس قابل نہیں کہ ان کی بنیاد پر نزول مسیح علیہ السلام کے امکان کو تسلیم کیا جائے۔انتہا قولہ

غامدی نے امام مالک ؒ کے کے اس  عدم اعتماد کے دعویٰ کا کوئی  بہم نہیں پہنچایا سوائے اس کے کہ موجودہ مؤطا  امام مالکؒ  میں یہ احادیث پائی  نہیں جاتیں۔اس کے سوا کوئی خارجی دلیل اپنے اس دعوی ٰ کو ثابت کرنے کے لیے غامدی کے پاس موجود نہیں۔جان لیجیے کہ یہ امام مالک ؒ پرصریح  بہتا ن ہے۔امام مالک ؒ نے مؤطا میں ان احادیث کے نہ لینے کا یہ سبب کبھی بیان نہیں فرمایا۔غامدی نے یہ دعویٰ بھی کیا  ہے کہ مؤطا امام مالک ؒ کے مبلغ علم کو ظاہر کر رہی ہے حالانکہ یہ امام مالک ؒ کے تبحر علمی سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ امام مالک ؒ  کا علم محض مؤطا تک محدودنہیں تھا۔ آپ کے فتاویٰ اس پر شاہد ہیں۔یہ دعویٰ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ امام بخاریؒ کا علمِ حدیث صرف صحیح بخاری تک محدود تھا، اہلِ  علم جانتے ہیں  کہ امام بخاریؒ کا علم صحیح بخاری سے کئی گنا زیادہ تھا۔صحیح بخاری میں تو صرف مخصوص شرائط پر پورا اترنے والی منتخب روایات جمع کی گئی ہیں۔ غرض صحیح بخاری  امام بخاری کے کل علم کا احاطہ نہیں کرتی۔ اسی طرح المؤطا امام مالک ؒ کے کل علم کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ اس میں صرف فقہی احکام کی  منتخب احادیث بیان کی گئی ہیں۔ علمِ تفسیر کا وہ ذخیرہ جو امام مالک ؒکے قلب میں محفوظ تھا وہ اس کتاب  کا سرے سے موضوع ہی نہیں ہے۔ اب اگر  کوئی  باولاشخص المؤطا کو بنیاد بنا کر دعویٰ کرے کہ امام مالکؒ علمِ تفسیر سے بے بہرہ تھے تو ایسے شخص کی حماقت کا ساتھ تو نہیں دیا جاسکتا ناں۔

باور کرلیجیے کہ یا تو غامدی علمِ حدیث سے  مطلقاً بے بہرہ ہے یا عوام کو فریب دینے کے لیے یہ چرب زبانی کررہا ہے۔علمِ حدیث کا مبتدی طالبِ علم بھی جانتا ہے کہ مؤطا امام مالک کا موضوع فقہی احکام ہیں ، جبکہ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام کا تعلق ایمانیات سے ہے۔مؤطا امام  مالکؒ کم و بیش سنن ابوداؤد جیسی کتاب ہے۔ دونوں کتب کے ابواب کے عنوانات سے واضح  ہے کہ ایمانیات ان کتابوں کا موضوعِ بحث ہی نہیں ہے۔اس کے برعکس صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع الترمذی اور جامع النسائی میں احادیث کے تقریباً تمام ابواب سے متعلق احادیث جمع کی گئی ہیں۔یہی سبب ہے کہ ان چاروں کتب جامعہ میں کتاب الایمان کے نام سے مستقل ابواب قائم کیے گئے ہیں جبکہ مؤطا امام مالک یا سنن ابوداؤد میں کتاب الایمان  کا باب شامل ہی نہیں کیا گیا۔لہٰذا  مؤطا امام مالک میں  نزول مسیح علیہ السلام کی احادیث نقل نہ ہونے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس وقت تک یہ احادیث شائع  نہیں ہوئی تھیں سراسر جہالت  کی دلیل ہے۔

مؤطا امام مالکؒ میں نزولِ مسیح علیہ السلام کا تذکرہ

قارئین باور  کر لیجیے کہ المؤطا میں بھی  نزول مسیح علیہ السلام کی طرف اشارہ کتاب الجامع میں موجود ہے۔جسے غامدی  نےاپنی مذکورہ گفتگو میں بیان کرنا اس لیے مناسب نہ سمجھا کہ لوگ اس کی تضاد بیانی کو فوراً بھانپ لیتے۔

ملاحظہ فرمائیں مؤطا امام مالکؒ میں ذکر ہے کہ   مسیح الدجال اور مسیح ابن مریم  علیہ السلام نبی ﷺ کو ایک ہی خواب میں اکٹھے دکھائے گئے۔

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ أَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلاً آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ – أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ – يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا قِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ لِي هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ‏”‏ ‏.‏[6]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات (خواب میں ) دیکھاکہ خانہ کعبہ کے پاس ایک گندمی رنگ کا شخص  ہے  جس کی صورت تمہارے خوبصورت مردوں میں سے بھی زیادہ پیاری ہے۔اس کے  کنگھی کیے ہوئے گھنگریالے  بال  تم سب کے گھنگریالے بالوں سے زیادہ خوبصورت ہیں اور یوں لگتا ہے کہ گویا اس کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں اور وہ دو آدمیوں کے  کندھوں پر بازو رکھے بیت اللہ کا طواف کررہا ہے۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو کہا گیا کہ یہ سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھر اچانک میری نظر ایک ایسے شخص پر پڑتی ہے  جس کے بہت زیادہ گھنے بال ہیں اور وہ دائیں آنکھ سے اندھا ہے جو ایسے ابھری ہوئی ہے جیسے کہ پھولا ہوا انگور ہو۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟کہا گیا کہ یہ  جھوٹا مسیح (دجال) ہے۔

امام زُرقانی ؒ نے مؤطا کی شرح میں اس حدیث کی شرح کرتے وقت صراحت کی ہے کہ  اس حدیث میں نبی ﷺ کا خواب بیان کیا گیا ہے۔نبی کا خواب وحی ہوتا ہے اور اس وحی میں مسقبل میں پیش آنے والے ایک واقعہ کو تمثیلی انداز میں دکھایا گیا ہے۔جس کی طرف مؤطا امام مالک میں ہی  واضح  اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ملاحظہ فرمائیں درج ذیل حدیث

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ [7]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا مدینہ کے دروازوں پر ملائکہ مقرر ہیں، لہٰذا اس میں طاعون اور دجال داخل نہ ہوسکے گا۔

یاد رہے کہ مسیح علیہ السلام کے مقابلے میں مسیح الدجال کی ترکیب استعمال کرنا ہی اس حقیقت کی کافی دلیل ہے کہ دجال مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ دراصل تورات میں بنی اسرائیل سے وعدہ کیا گیا تھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد  ایک مسیحا کو بھیجا جائے گا۔ جب مسیح علیہ السلام وہ مسیحا بن کر آگئے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو یہودیوں کی بد بختی کہ انہوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو  نہ صرف جھٹلایا بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگئے۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنے زعم میں انہیں سولی چڑھا دیا،  مگر  اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ کبھی اپنے کسی رسول کو رسوا ہونے نہیں دے گا، انبیا تو بہت قتل ہوئے مگر کبھی کوئی بد بخت قوم کسی رسول کو قتل نہیں کرسکی۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔

اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی طرف یوں اشارہ کیا ہے

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ ؕ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًا  بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ ؕ وَ کَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَکُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا [8] 

اور  ان کا یہ کہنا   کہ ہم نے  اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم  (علیہ السلام) کو قتل کر دیا ہے حالانکہ فی الواقع وہ  نہ  توانہیں قتل کرسکےاور  نہ ہی  صلیب پر چڑھا پائے بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے،یقیناً وہ مسیح  (علیہ السلام) کو قتل کرنے میں ناکام رہے بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اُن (مسیح ) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہ ہوں گے۔

یہودی سمجھتے ہیں کہ وہ مسیحا جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ابھی  تک نہیں آیا۔چنانچہ وہ ابھی تک اس کے منتظر ہیں۔ دوسری طرف مسیحیوں کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام  کو سولی تو چڑھایا گیا تھا مگر وہ مرنے کےبعد زندہ ہوگئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ اآسمان پر اٹھا لیا۔اب قربِ قیامت میں وہ دوبارہ نازل ہونگے۔  مگر قرآن نے یہودونصاری ٰ دونوں کے بنیادی تصور کی نفی کردی ہے، کہ نہ تو مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھا سکے اور نہ ہی انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مرنے سے پہلے ہی زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قیامت کے قریب قیامت کی نشانی بن کر آئیں گے۔اب صورتحال کچھ یہ ہے کہ یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں ہی  ایک مسیح کی آمد کے منتظر ہیں، اگرچہ ان تینوں کا مسیح کے  بارے میں نکتۂ نظر  مختلف ہے لیکن بادی النظر میں تینوں ایک ہی مسیح کے منتظر ہیں۔قیامت کے قریب ایک اصفہانی شاطر یہودی  صیہونی عزائم کی تکمیل کے لیے مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ [9]چونکہ  اس کا یہ دعویٰ محض جھوٹ اور دجل ہوگا  اور وہ ایسے حربے بھی  استعمال کرے گا جس سے لوگ آسانی سے اس کے دھوکے میں آجائیں ،اس لیے نبی ﷺ نے اسےالمسیح الدّجّال قرار دیا ہے۔اس مسیح دجال   یعنی جعلی مسیح کو اصل مسیح  یعنی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قتل کریں گے۔لہٰذا نبی ﷺ کو مذکورہ بالا خواب میں دونوں کو آمنے سامنے دکھایا گیا ہے۔واللہ اعلم بالصواب

امام مالکؒ   کا  نزول مسیح علیہ السلام کی صرف مجمل احادیث بیان کرنا دلالت کرتا ہے کہ ان کے زمانہ میں  نزول مسیح علیہ السلام بطور متوارث عقیدہ کے طور پر  شائع  ہوچکا تھا اس لیے انہوں نے اس موضوع پر مفصل احادیث بیان کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کیونکہ یہ ان کا موضوعِ بحث ہی نہیں تھا ۔باب کا اصل موضوع مدینہ کاحرم قرار دیا جانا ہے، ضمناً اس میں خروجِ دجال کا ذکر بھی آگیا۔اب بتائیے کہ کیا کہیں سے لگتا ہے کہ  واقعی امام مالک کا یہی مطمحٔ نظر تھا جو غامدی نے مؤطا میں نزول مسیح علیہ السلام کی مفصل احادیث کے نہ ہونے سےنتیجہ نکالا ہے کہ  امام مالکؒ  کو ان احادیث  کی نبی ﷺ سے نسبت پر اطمینان نہ تھا ، اس لیے انہوں نے یہ روایات اپنی کتاب میں درج نہیں کیں؟ کیا مذکورہ بالا حقائق سے غامدی کے اس بودے اور لچر دعوے کی کلی نفی نہیں ہوجاتی؟

ہمارا ماننا یہ ہے کہ احادیث نزول مسیح علیہ السلام نہ صرف نبی اکرم ﷺ کے زمانہ سے ہی امت میں شائع ہوچکی تھیں بلکہ امت  نے اسے ایک اہم عقیدے کے طور پر اپنا لیا تھا۔

تفسیر مقاتل میں نزولِ مسیح علیہ السلام کا تذکرہ

تفسیر مقاتل بن سلیمان ؒ    کا شمار اولین تفاسیر میں ہوتا ہے۔ مقاتل بن سلیمان کی تاریخ وفات 150 ہجری ہے۔لا محالہ  اس تفسیر کے لکھنے کا کام پہلی صدی ہجری میں شروع ہوگیا ہوگا۔اس تفسیر میں سورۃ آل عمران  آیت 55 کی تفسیر کرتے ہوئے مقاتل بن سلیمان ؒ  لکھتے ہیں:

فیہا تقدیم یقول رافعک الی من الدنیا و متوفیک حین تنزل من السماء علی عھد الدجال، یقول انی رافعک الی الآن و متوفیک بعد قتل الدجال [10]

یہاں واقعات میں تقدیم و تأخیر واقع ہوئی ہے، گویا اللہ تعالیٰ  کا فرمان یہ ہے کہ میں آپ کو  اس دنیا سے (ابھی) اپنی جانب اٹھالوں گا، اور جب  آپ دجال کے عہد میں آسمان سے اتارے جاؤ گے تو آپ کو وفات دوں گا، یعنی ابھی تو میں آپ کو اپنی  جانب اٹھانے والا ہوں ، تاہم دجال کو قتل کرنے کے بعد آپ کو وفات دوں گا۔

اس سے قطع نظر کہ آپ اس تفسیر سے اتفاق کرتے ہیں یا اختلاف یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مقاتل بن سلیمان    ؒ پہلی صدی ہجری میں نزول مسیح علیہ السلام کو ایک مسلمہ و متوارث عقیدہ کے طور پر ذکر  کررہے ہیں اور بعینہ وہی بات بیان کررہے ہیں جو صحیح احادیث میں مذکورہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ احادیث نزول مسیح علیہ السلام دوسری صدی ہجری کے بعد ظاہر ہوئیں ہباً منثورا ہوجاتا ہے۔الحمدللہ

یاد رہے کہ مقاتل بن سلیمانؒ نے تفسیر کا علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے  تیس جلیل القدر شاگردوں سے حاصل کیا جن میں  بہت سے اکابر تابعین بھی شامل ہیں جیسے امام عطا بن ابی رباح ؒ، امام ضحاک بن مزاحم ؒ، امام نافع ؒمولیٰ ابن عمر  ؓ،امام قتادہ بن دعامہؒ،  امام ابن شہاب الزہریؒ  ،امام  عکرمہؒ اور امام ابن ابی ملیکہؒ  وغیرہ۔[11]

مقاتل بن سلیمان ؒ امام محمد الباقر بن امام زین العابدین بن حسین ابن علی علیہم  الصلوٰۃ والسلام کے خاص شاگرد تھے۔گویا  آپ کو دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت رسول علیہم الصلوٰۃوالسلام  کا علم بھی عطا ہوا تھا۔اس لیے یہ کہنا بے جا  نہ ہوگا کہ  مقاتل نے مذکورہ عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام اہل بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہی اخذ کیا تھا۔ یہی سبب ہے کہ امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے

من أراد التفسير، فعليه بمقاتل بْن سليمان [12]

جو شخص علمِ تفسیر حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ مقاتل بن سلیمان سے استفادہ کرے۔

اگرچہ مقاتل بن سلیمان   ؒ     کو روایتِ حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے مگر اس کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ کبھی کبھار  مشہورروایات کو بغیر سند کے بیان کردیا کرتے تھے، جیساکہ ہمارے ہاں آجکل رواج ہے۔حالانکہ وہ روایات دوسری  کتب میں مسنداً ثابت ہوتی ہیں، مگر چونکہ محدثین کو ان کا یہ طریقہ پسند نہیں تھا اس لیے انہوں نے مقاتل بن سلیمان ؒ سے روایات لینے میں پس و پیش سے کام لیا ہے۔تاہم معتدل مزاج محدثین مقاتل بن سلیمان ؒ کے تبحر علمی کی تعریف کرتے آئے ہیں۔جیساکہ امام  شعبہ بن الحجاج ؒ اپنے زمانے کے چوٹی کے محدث اور جلیل القدرامام تھے۔ آپ مقاتل بن سلیمانؒ کے ہم عصر تھے اور ہمیشہ ان کا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے تھے۔[13]

یہ مقاتل بن سلیمان ؒ  کی تبحر علمی کا اعتراف نہیں تو کیا ہے کہ ہر دور کے مفسرین اپنی تفاسیر میں ان کا حوالہ دیتے آئے  ہیں۔لہٰذا بعض متشددین کی جرح کی وجہ سے ہم قدیم ترین تفسیر کے ورثے سے دست کش  نہیں ہوسکتے۔ہاں یہ ضروری نہیں کہ ہم مقاتلؒ کی ہر رائے میں ان کی ہمنوائی کریں۔

صحیفہ ہمام بن منبہ ؒ پر غامدی اعتراض کی حقیقت

غامدی نے احادیث نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں  بنا سوچے سمجھے ایک اعتراض یہ داغا ہے کہ  صحیح بخاری میں اس مضمون کی احادیث صرف سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث کا قدیم ترین مأخذ صحیفہ ہمام بن منبہ ہے اور اس صحیفہ میں ایمانیات سے متعلق احادیث بھی منقول ہیں مگرنزول مسیح علیہ السلام کی روایات اس میں موجود نہیں۔ جس  سے شبہہ ہوتا ہے کہ یہ احادیث بعد میں گھڑی گئیں۔پھر غامدی نے  دبے لفظوں میں ان احادیث کو گھڑنے کا الزام امام معمر بن راشد ؒ کے سر تھوپ دیاہے۔

امام ہمام بن منبہ ؒ  40 ہجری میں  یمن میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے تو  علمِ حدیث حاصل کرنے کے لیے مدینہ منورہ پہنچے۔یہاں آپ نے اپنی جوانی میں ہی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات 58 ہجری میں ہوئی[14] اس وقت آپکی عمر تقریباً 87 سال تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام ہمام بن منبہ ؒ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے حدیث کی سماعت  اس وقت کی جب  یہ صحابی نہایت بوڑھے ہوچکے تھے اور قریب المرگ تھے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث نہیں لکھا کرتے تھے، جیسا کہ انہوں نے  خود اس کی تصریح کی ہے۔[15]اس  شیخ ِفانی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ نبی ﷺ سے سنی ہوئی تمام احادیث  محض حافظہ کی بنیاد پر امام ہمام بن منبہؒ  کو املا کراسکیں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے جوانی کے شاگردوں نے آپ سے بلا تکرار طرق کم از کم  1500سے زائد احادیث روایت کی ہیں، جن میں سے اکثر مسند  امام احمد میں شامل ہیں۔اب ذرا خود انصاف کیجیے کہ صحیفہ ہمام بن منبہؒ   میں کل 140 احادیث ہیں جوکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کل مرویات کا  10 فیصد بھی نہیں بنتا۔ گویا امام ہمام بن منبہ ؒ  اپنے استاد کی 90 فیصد احادیث نقل نہیں کر سکے۔اب اگر ان 90 فیصد احادیث میں  احادیث نزولِ مسیح علیہ السلام بھی شامل ہیں تو اس میں اچھنبے کی کیا بات ہے؟ اس سے یہ کیسے طے ہوگیا ہے کہ لازماً یہ احادیث گھڑی ہوئی ہیں اور ان کی نبی ﷺ سے نسبت درست نہیں۔کیاعلم  واستدلال کی دنیا میں فیصلے ایسے ہی کیے جاتےہیں؟

 اگر اس طرزِ استدلال کو درست مان لیا جائے تو وہ عظیم واقعات جن کے وقوع کے بارے میں خود غامدی کو کوئی تردد نہیں (جیسے حجۃ الوداع کا واقعہ ) بھی کالعدم قرار پائیں گے۔حتیٰ کہ وہ واقعات جن کا اشارہ قرآن حکیم میں بھی موجود ہے اور غامدی نے اپنی تفسیر میں انہیں ناقابلِ تردید واقعات کے طور پر تسلیم کیا ہے جیسے غزوہ ٔبدر اورغزوۂ احزاب وغیرہ  ،ان سب مسلّمہ واقعات کا صحیفہ ہمام بن منبہ میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ جن  مستند روایات میں حجۃ الوداع، غزوۂ بدر اور غزوۂ احزاب  کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کی نسبت نبی ﷺ سے مشکوک ہے کیونکہ صحیفہ ہمام بن منبہ میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ہم یہاں حجۃ الوداع  کی مثال بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ اہلِ ایمان کے لیے تو ایک مثال بھی کفایت کرتی ہے اور منکرین کے لیے دفتر کے دفتر بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری اور دوسری کتبِ حدیث میں حجۃ الوداع کے بارے میں  متعدداحادیث منقول ہیں۔مثال کے طور پر ملاحظہ کیجیے صحیح البخاریؒ: رقم  1589، 1590، 1689، 1706

صحیفہ ہمام بن منبہ میں ان روایات کا کوئی وجود نہیں، تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ ہمیں حجۃ الوداع کے وقوع کے بارے میں شبہہ ہے؟یا غامدی کے الفاظ میں کیا ہمارا مذکورہ استدلال کی بنا پر حجۃ الوداع کے وقوع پر عدم اطمینان کا اظہار درست ہوگا؟ ظاہر ہے کوئی عقل مند بھی یہاں عدم اطمینان کا اظہار نہیں کرسکتا۔پھر آخر احادیث نزولِ مسیح علیہ السلام  کے صحیفہ ہمام بن منبہ میں مذکور نہ ہونےکے باعث ان کے بارے میں اس عدم اطمینان کے اظہار کی کیا منطق ہے؟

واقعہ یہ ہے کہ غامدی حجیتِ حدیث کا منکر ہونے کی وجہ سے ان احادیث کو تسلیم نہیں کرتا اور محض الفاظ کی ملمع کاری کے ذریعے  سادہ لوح عوام کو دھوکہ دیتا ہے۔جن احادیث کا غامدی نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ،  (مثلاً قیامت کی علاماتِ عشرہ) انہیں اس حیثیت سے ذکر نہیں کیا کہ  وہ  اس کے نزدیک دین کا کوئی مأخذ ہیں، بلکہ محض ملمع کاری کے لیے ذکر کیا ہے۔وہ محض یہ تأثر قائم کرنا چاہتا ہے کہ وہ غلام احمد پرویز کی طرح احادیث  کاعلی الاطلاق منکر نہیں ہے بلکہ بنیادی طور پر احادیث کو تسلیم کرتا ہے۔ باور کرلیجیے کہ یہ محض دجل و فریب ہے، حقیقت یہی ہے کہ غامدی حجیتِ حدیث کا علی الاطلاق منکر ہے۔ تبھی تو نزولِ مسیح جیسی متواتر احادیث بھی اس کی نظر میں ناقابلِ اعتبار ہیں۔ محض مخالفت کی شدت سے بچنے کے لیے وہ اس پر الفاظ  کی ملمع کاری کردیتا ہے۔ گویا  وہ اپنے ہم نواؤں  کو شوگر کوٹڈ زہر  کھلاتا ہے۔

جامع معمر بن راشد پر غامدی اعتراض کی حقیقت

اب آئیے جامع معمر بن راشد کی طرف۔ غامدی نے اس مجموعۂ حدیث کے بارے میں (سلسلۂ گفتگو : غامدی پر23  اعتراضات کا حصہ  28)  دعویٰ کیا ہے کہ جامع معمر بن راشد کوئی اصل کتاب نہیں ہے بلکہ امکان ہے کہ بعد والوں نے مسند احمد وغیرہ میں سے  امام  معمر بن  راشد ؒ کی روایات کو یکجا جمع کردیا ہو۔باور کرلیجیے کہ یہ بھی غامدی کا ایک دجل ہے۔

امام معمر بن راشد ؒ دوسری صدی ہجری کے جلیل القدر محدث تھے۔امام ذہبی ؒ نے آپ کو شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا ہے۔شیخ الاسلام کا لقب ان جید علما کے لئے مخصوص تھا جو تمام علومِ اسلامیہ میں دسترس رکھتے تھے۔آپ 95 ہجری میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔تقریباً پندرہ سال کی عمر میں تحصیلِ علم حدیث کا کام شروع کیا۔آپ کے شیوخ ِ حدیث میں امام قتادہ بن دعامہؒ، امام اعمشؒ ، امام ابن شہاب زہریؒ، امام عمرو بن دینارؒ، ایوب سختیانیؒ، عاصم الاحولؒ، عاصم  بن ابی النجودؒ، ثابت البنانیؒ اور امام ہمام بن منبہ ؒ  سرِ فہرست ہیں۔جب آپ علم حدیث کے لیے امام ہمام بن منبہؒ کے پاس یمن پہنچے تو پھر یہیں کے ہورہے، آپ نے یہاں شادی کرلی اور اپنی زندگی کے آخری بیس سال یمن میں گزارے۔ یہاں تک کہ 154 ہجری میں آپ کا انتقال ہوگیا۔یمن میں  آپ کو  امام عبدالرزاق بن ہما م ؒ جیسے لائق شاگرد ملے جنہوں نے آپ کے علم کو قلمبند کیا۔ امام عبدالرزاقؒ نے ہی  جامع معمر بن راشد نقل کی ہے، حتیٰ کہ اپنے استاد کی محبت میں انہوں نے اسے اپنی کتاب مصنف عبدالرزاق کے ساتھ ہی منسلک کردیا تھا۔ لہٰذا مصنف عبدالرزاق ؒ  کے متداول نسخے کی دسویں اور گیارہویں جلد جامع معمر بن راشد پر محیط ہے۔یاد رہے کہ امام عبدالرزاق بن ہمام ؒ امام احمد ؒکے استاد ہیں اور ان کی المصنف امام احمدؒ کی المسند سے پہلے منصہ شہود پر آچکی تھی جس میں جامع معمر بن راشد تتمہ کے طور پر موجود تھی۔

امام معمر  بن راشد ؒ  نہایت ثقہ و ثبت محدث ہیں اور آپکی ثقاہت تمام محدثین کے نزدیک مسلّمہ ہے۔ کسی  محدث نے  بھی آپ پر  کوئی جرح نہیں کی،سوائے اس کے کہ اپنے زمانہ طالب علمی میں روایت میں کبھی  کوئی غلطی کرجاتے تھے۔تاہم جامع معمر بن راشد آپ نے اپنی بھرپور ذہنی پختگی کی عمر میں تالیف کی۔لہٰذا امام معمر بن راشدؒ کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے احادیث گھڑ کے نبی ﷺ کی طرف منسوب کی ہوں گی، جیسا کہ غامدی نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔

غامدی نے دوسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ جامع معمر بن راشد ؒ کی اسناد بھی قابلِ اطمینان نہیں ہیں۔ گویا غامدی صاحب نے بیک جنبشِ زبان ایک مستند مجموعٔہ حدیث کو تسلیم کرنے سے  صاف انکار کردیا ہے اور پھر بھی انہیں اصرار ہے کہ انہیں منکرِ حدیث نہ سمجھا جائے۔غامدی کے اس انکار کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ جامع معمر بن راشد  مؤطا امام مالکؒ سے بھی قدیم کتاب مانی گئی ہے اور اس کتاب کے 245 ویں باب کا عنوان ہی نزولِ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہے۔[16]

جامع معمر بن راشد میں کل 1645 روایات  ہیں جن میں احادیثِ رسول   ﷺ اور آثار ِصحابہ دونوں شامل ہیں۔ چونکہ جامع معمر بن راشد قدیم ترین کتبِ حدیث میں شمار ہوتی ہے اس لیے اس کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس کی اکثر روایات میں   نبی ﷺ اور امام معمرؒ  کے درمیان  صرف دو راویوں کا فاصلہ ہے یعنی ایک صحابی اور ایک تابعی۔  تاہم کچھ راوایات میں ایک راوی زائد ہے۔یوں یہ کتاب علمِ حدیث کی مستند ترین کتاب کہلانے کی مستحق ہے۔جسے غامدی نے بیک جنبشِ زبان متروک قرار دے دیا ہے۔

صحیح بخاری پر غامدی اعتراض کی حقیقت

غامدی نے ایک دعویٰ یہ بھی کیا ہے صحاحِ ستہ کے مؤلفین نے امام معمر بن راشد ؒ کی پھیلائی ہوئی روایات ہی بیان کی ہیں۔یہاں غامدی نے یہ تأثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امام معمرؒ کے بعد کے محدثین نے  نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں محض موضوع  (گھڑی ہوئی روایات )  اپنی تالیفات میں جمع کی ہیں۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ امام بخاریؒ نے مذکورہ احادیث امام زہری ؒ کے چار شاگردوں کے واسطے سے بیان کی ہیں جن کے نام امام یونسؒ، امام سفیان الثوری ؒ ، امام صالح ؒ اور امام لیث بن سعدؒ ہیں اور اشارہ کیا ہے کہ یہ حدیث امام عُقیلؒ اور امام اوزاعیؒ نے بھی امام ابن شہاب زہری ؒ سے روایت کی ہے۔گویا امام بخاریؒ کے مطابق امام ابن شہاب زہریؒ کے چھ شاگردوں سے ان تک یہ روایات پہنچی ہیں۔کیا یہ دعویٰ کہ مذکورہ احادیث  امام زہریؒ کے شاگردوں میں سے امام معمر بن راشدؒ کے سوا  کوئی بھی روایت نہیں کرتا، قابلِ التفات بھی رہتا ہے؟ کیا غامدی نے کھلی دروغ گوئی سے کام نہیں لیا؟ اب یا تو غامدی جھوٹا ہے یا امام بخاریؒ۔امام بخاریؒ نے تو اپنے دعوے کے ثبوت میں اسناد پیش کی ہیں جنہیں امت کے تمام علما نے بالاتفاق قبول کیا ہے ، مگر غامدی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، لہٰذا وہی جھوٹا ہوا۔

ملاحظہ کیجیے صحیح بخاری کی مذکورہ احادیث اور ان کی اسانید

پہلی حدیث

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ‏”‏‏.‏[17]

دوسری حدیث 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ‏”‏‏.‏[18]

تیسری حدیث 

حدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ، حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏”‏‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا‏}‏‏.‏[19]

 

چوتھی حدیث

حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ‏”‏‏.‏ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالأَوْزَاعِيُّ‏.‏[20]

ان احادیث کی سند اظہر من الشمس ہے۔اصول حدیث کی رو سے یہ سب احادیث صحت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔ان کی صحت پر علمائے امت کا اتفاق ہے۔مگر میں نہ مانوں کی تکرار جاری ہے۔

یہاں یہ بات بھی واضح کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امام معمر بن راشدؒ  تو امام زہریؒ کے اثبت ( سب سے پختہ)  شاگرد مانےجاتے ہیں تو پھر امام بخاریؒ نے مذکورہ احادیث ان کی سند سے کیوں بیان نہیں کیں؟باور کرلیجیے  کہ محدثین کا مقصد تصنیف برائے تصنیف نہیں ہوتا، بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ جن اسناد سے ان کے پیش رو محدثین کوئی حدیث بیان کرچکے ہیں وہ  ان سے مختلف کسی نئی سند کی تلاش کریں۔ ان اسناد کی تلاش کے لیے محدثین کو ہزراوں میل کا  سفر بھی  کرنا پڑا تو انہوں نے یہ سفر اختیار کیا مگر کسی ایک صحیح سند کو ضائع کردینا بھی انہیں گوارہ نہیں تھا۔ یوں اسناد کی کثرت سے حدیث کی قوت میں اضافہ ہوجاتا۔امام معمر بن راشدؒ چونکہ اپنی جامع میں مذکورہ احادیث تالیف کرچکے تھے، اس لیے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ختم ہوگیا۔لہٰذا امام بخاریؒ نے امام زہریؒ کے دوسرے شاگردوں کی اسناد تلاش کیں اور انہیں اپنی کتاب میں جمع فرمادیا۔اس  نکتہ کو ایک دوسری مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ امام بخاریؒ کو امام احمد بن حنبلؒ  کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہے۔امام بخاریؒ اگر چاہتے تو امام احمد بن حنبل ؒ کے واسطہ سے ہزاروں حدیثیں اپنی کتاب میں جمع کرسکتے تھے، مگر یہ تحصیلِ حاصل ہوتا۔کیونکہ امام احمد بن حنبلؒ اپنی المسند میں یہ مقبول احادیث  پہلے ہی جمع کرچکے تھے،اس لیے ان کے سلسلۂ سند کے ضائع ہونے کا احتمال نہ رہا۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ  نےامام احمد بن حنبل ؒ  کے واسطہ سے صرف دو روایات اپنی جامع  الصحیح میں نقل کی ہیں۔امام بخاریؒ نے کوشش کی کہ جو احادیث امام احمدؒ نے اپنی المسند میں بیان کردی ہیں ، وہ انہیں  اپنے دوسرے شیوخ کے واسطہ سے  بیان کریں جن کے ضائع ہونے کا احتمال ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر امام بخاریؒ نے امام مالک بن انس ؒ اور امام عبدالرزاق بن ہمام ؒ کے واسطہ سے روایات کیوں بیان کی ہیں جبکہ وہ لوگ بھی علمِ حدیث پر کتب تالیف کرچکے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے امام مالکؒ اور امام عبدالرزاقؒ سے عموماً انہی ابواب میں روایات بیان کی ہیں جہاں انہیں دوسرے واسطہ سے روایات نہیں مل سکیں۔مزید برآں امام بخاریؒ نے مذکورہ آئمہ سے کچھ ایسی روایات بھی بیان کی ہیں جو ان آئمہ کی اپنی تصنیف میں شامل نہیں ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ المؤطا امام مالکؒ کے کل علم کو محیط نہیں ہے۔

غامدیؒ نے ایک اعتراض یہ بھی داغا ہے کہ امام بخاریؒ نے نزول مسیح علیہ السلام کی روایات صرف سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی کیوں بیان کی ہیں؟  امام بخاریؒ کو جب  دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایات نہیں ملیں تو بعد والوں کو یہ روایات کہاں سے مل گئیں؟

ان لغو اعتراضات کا  سیدھا سادہ جواب  یہ ہے کہ امام بخاریؒ  کا مقصدِ تالیف ایک مضمون کی سب روایات جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ نزول مسیح علیہ السلام کی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم  کی روایات امام بخاریؒ سے بھی پہلے امام احمد بن حنبلؒ اپنی المسند میں بیان کرچکے تھے۔جبکہ المسند کی روایات صحیح بخاری میں شامل نہ کرنے کا ایک سبب تو ہم بیان کرآئے ہیں کہ ایسا کرنا تحصیلِ حاصل تھا۔

مسند امام احمد میں  سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ درج ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں روایات نقل ہوئی ہیں

سیدہ عائشہ صدیقہ علیہا السلام (رقم 24971)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ( رقم 15017)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما (رقم 24971)

سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ (رقم 1777)

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ (رقم 20413)

سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ ( رقم 15566)

سیدنا ابو سریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ (رقم 16242)

لہٰذا یہ کہنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایات کے سوا دوسرے صحابہ کی روایات تیسری صدی کے وسط میں یا اس کے بھی بعد منظرِ عام پر آئیں ، نری جہالت ہے۔دراصل ان سارے اعتراضات کا بنیادی سبب محدثین پر عدم اعتماد ہے۔غامدی صرف اسی روایت کو اپنی  ڈھال بناتا ہے جس سے اس کی مطلب برآری ہوتی ہو۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ غامدی نے اپنی کتاب میزان کے باب روز جزا پر ایمان میں علامات کے ضمن میں قیامت کی دس علامات والی حدیث نقل کی ہے۔

دس علاماتِ قیامت والی حدیث صحاحِ ستہ میں چار  بنیادی طرق سے مروی ہے۔امام ترمذی ؒ نے چاروں طرق جمع کردئیے ہیں۔[21] رسول اکرم ﷺ سے سیدنا ابو سریحہ حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ان سے آخری صحابی سیدنا ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں اور ان سے امام فُرات القزاز ؒ روایت کرتے ہیں۔امام فُراتؒ سے امام شعبہ بن الحجاجؒ [22]، امام سفیان بن عیینہ ؒ   [23]اور امام ابوالاحوص ؒ     [24]روایت کرتے ہیں۔امام سفیان بن عیینہؒ اور امام ابوالاحوص ؒ نے دس علامات قیامت میں سے ایک علامت نزولِ مسیح  علیہ السلام بیان کی ہے۔ امام شعبہ ؒ نے دو طرق سے روایت بیان کی ہے، ان میں سے ایک طریق میں نزولِ مسیح  علیہ السلام کا ذکر ہے اور دوسرے طریق میں یہ ذکر نہیں ہے۔ امام سفیان بن عیینہؒ اور امام ابوالاحوص ؒ  دونوں جلیل القدر ثقہ و ثبت محدث ہیں۔ لہٰذا امام شعبہؒ کی وہ روایت اثبت مانی جائے گی جس کی تائید دوسرے طرق سے بھی ہوتی ہے۔ ایک راوی کے بھول جانے کا امکان  اپنے سے زیادہ ثقہ محدثین کے مقابلے میں زیادہ ہے ، ناں کہ تین محدثین کا بھول جانا اپنے سے کمتر راوی کے مقابلے میں۔ مگر برا ہو تعصب اور بد دیانتی کا کہ غامدی نے ان چار طرق میں سے اس روایت کو ترجیح دی جس میں نزولِ مسیح  علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے۔غامدی کی بد دیانتی کا یہ عالم ہے کہ اس نے امام مسلم کا حوالہ تو دیا ہے مگر صحیح مسلم میں حدیث جس طرح درج ہے غامدی نے اسے بعینہ نقل نہیں کیا بلکہ اس میں اپنی جانب سے تصرف کرتے ہوئے نزول مسیح علیہ السلام کے ذکر کو یکسر گول کردیا ہے۔
غامدی کی  بیان کردہ حدیث

إن الساعۃ لاتکون حتی تکون عشر آیات: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف في جزیرۃ العرب، والدخان، والدجال، ودابۃ الأرض، و یاجوج و ماجوج، وطلوع الشمس من مغربہا، ونار تخرج من قعر عدن ترحل الناس، وریح تلقي الناس في البحر.(مسلم، رقم [25]۷۲۸۶)

صحیح مسلم  میں امام شعبہؒ کی حدیث کی  اصل عبارت

حدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا فَقَالَ ‏”‏ مَا تَذْكُرُونَ ‏”‏ ‏.‏ قُلْنَا السَّاعَةَ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ إِنَّ السَّاعَةَ لاَ تَكُونُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الأَرْضِ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ‏.‏ مِثْلَ ذَلِكَ لاَ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ ‏.‏ [26]

 

صحیح مسلم میں امام سفیان بن عیینہؒ کی حدیث

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ – وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ – قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ فُرَاتٍ، الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ فَقَالَ ‏”‏ مَا تَذَاكَرُونَ ‏”‏ ‏.‏ قَالُوا نَذْكُرُ السَّاعَةَ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ ‏”‏ ‏.‏ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صلى الله عليه وسلم وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلاَثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ ‏.‏

سنن ابوداؤد میں امام ابوالاحوص ؒ کی حدیث

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَهَنَّادٌ، – الْمَعْنَى – قَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، – وَقَالَ هَنَّادٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، – عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ لَنْ تَكُونَ – أَوْ لَنْ تَقُومَ – السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلاَثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ ‏”‏ ‏.‏

ملاحظہ کی آپ نے غامدی کی بددیانتی اور دروغ گوئی۔اس سے اس ’’احتیاط‘‘ کی قلعی بھی کھل گئی ہے  غامدی جس کا راگ الاپتے نہیں تھکتا۔کیا احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ تین ثقہ و ثبت  محدثین  کی روایت کو رد کرکے ایک ایسے راوی کی روایت قبول کی جائے جس کے بھولنے کا امکان زیادہ ہے؟ اسے کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے 

وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِۗ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ[27]    

اور وہ  (عیسیٰ علیہ السلام) دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے متعدد طرق سے ثابت ہے کہ یہاں علم للساعۃ سے مراد قربِ قیامت میں نزولِ مسیح ابن مریم علیہماالسلام ہے۔[28]



[2] مجموع فتاویٰ ابن تیمیۃ:18/48، شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ

[3] ابن النجار الفتوحی الحنبلیؒ، الکوکب المنیر :2/326

[4] ایضاً

[5] اصول السرخسی:1/284، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان

[6] مؤطا امام مالک: رقم 1675

[7] مؤطا امام مالک:رقم 1616

[8] النسا:157-159

[9] مسند احمد: رقم 13377

[10] تفسیر مقاتل بن سلیمان:1/279، موسسۃ التاریخ العربی، بیروت لبنان

[11] تفسیر مقال بن سلیمان:1/25

[12] ابن حجر العسقلانی، تھذیب التھذیب: رقم 6161

[13] ایضاً

[14] محمد بن احمد الذہبیؒ، تذکرۃ الحفظ:1/31، داالکتب العلمیۃ بیروت لبنان

[15] مسند احمد: رقم 7383، صحیح البخاری: رقم 113

[17] صحیح بخاری: رقم 2222

[18] صحیح بخاری: رقم 2476

[19] صحیح بخاری: رقم 3448

[20] صحیح بخاری: رقم 3449

[21] جامع الترمذی: رقم 2183

[22] صحیح مسلم: رقم 2901

[23] صحیح مسلم: رقم 2901

[24] سنن ابوداؤد: رقم 4311

[26] صحیح مسلم:2901

[27] الزخرف: 61

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading