2024-07-17

 

حدیث کی ابتدائی کتابیں

ساجد محمود انصاری

دشمنانِ اسلام یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ احادیث کی کتب نبی ﷺ سے تین سو سال بعد لکھی گئیں۔ تنہا یہ دعویٰ ہی ان جہلا کی جہالت کا بیّن ثبوت ہے۔ باور کرلیجیے کہ حدیث کی پہلی کتاب نبی ﷺ کے زمانے میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے تالیف فرمائی اور کتب تاریخ میں صراحت ہے کہ ان کی یہ کتاب الصحیفہ الصادقہ  کے نام سے مشہور تھی اور ان کی نسل میں وراثت کے طور پر منتقل ہوتی رہی ہے۔  سیدنا  عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پوتے جناب عمرو بن شعیب رحمہ اللہ تعالیٰ اس صحیفے سے دیکھ کر احادیث روایت کیا کرتے تھے۔اس صحیفہ کی بیسیوں احادیث مسند امام احمد میں عمرو بن شعیب ؒ  اور ان کے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے واسطے سے منقول ہیں۔

یہ درست ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عموماً احادیث لکھنے سے اجتناب کیا ہے، مگر جب  انہوں نے درسِ حدیث کے حلقے قائم کیے تو ان کے شاگرد یعنی تابعین باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے احادیث کو ضبطِ تحریر میں لایا کرتے تھے۔ ہاں ان تحریروں کی نوعیت ذاتی یادداشتوں کی سی تھی۔ سیدنا  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے شاگردوں کو احادیث املا کرائیں ۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ کے شاگرد امام  ہمام بن منبہ ؒ نے اپنے استاذ صحابی سے  جو احادیث سنیں وہ صحیفہ ہمام بن منبہ کے نام سے دریافت ہوچکا ہے ۔ صحیفہ ہمام بن منبہ کی تمام احدیث مسند امام احمد میں جمع ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ  عنہ کے  ممتاز شاگرد امام عطا بن ابی رباح ؒ کی اکثر مرویات مصنف عبدالرزاق میں جمع ہیں۔ امام عبدالرزاق  ؒاور امام احمد بن حنبل ؒ  دونوں عرب تھے اور ان کی مادری زبان عربی تھی۔ اسی پر بس نہیں مصنف عبدالرزاق اور مسند امام احمد کی اکثر احادیث ملتی جلتی ہیں۔ اسی طرح مصنف عبدالرزاق سے ذرا پہلے امام معمر بن راشد ؒ نے بھی احادیث کامجموعہ مرتب فرمایا جو جامع معمر بن راشد کے نام سے معروف  

    ہے۔

اسی طرح مدنی امام امالک بن انس ؒ نے المؤطا کے نام سے احادیث کا ایک مجموعہ تیار کیا۔ 

مسند عبداللہ بن مبارک، مسند امام اعظم ، مؤطا امام محمد، کتاب  الاموال (امام ابو عبید القاسمؒ) وغیرہ کتب حدیث بھی صحاحِ  ستہ کی تالیف سے پہلے منصّہ ٔ شہود پر آچکی تھیں۔

غرض صحاحِ ستہ سے پہلے احادیث کے دس کے قریب مجموعے مرتب ہوچکے تھے اور ان مجموعوں کے  اکثرمؤلفین عربی النسل تھے۔ ان کا فارس یا  پارسی مذہب سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا تھا۔

مذکورہ بالا دس کتب سے بہت پہلے عرب مفسر امام مقاتل بن سلیمانؒ نے قرآن کی مکمل تفسیر لکھی تھی، جس میں وہ بہت سی احادیث درج ہیں جو مذکورہ بالا کتبِ  حدیث میں منقول ہیں۔امام مقاتل بن سلیمانؒ کی تاریخ وفات 150 ہجری ہے۔لا محالہ  اس تفسیر کے لکھنے کا کام پہلی صدی ہجری میں شروع ہوگیا ہوگا۔ یاد رہے کہ مقاتل بن سلیمانؒ نے تفسیر کا علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے  تیس جلیل القدر شاگردوں سے حاصل کیا جن میں  بہت سے اکابر تابعین بھی شامل ہیں جیسے امام عطا بن ابی رباح ؒ، امام ضحاک بن مزاحم ؒ، امام نافع ؒمولیٰ ابن عمر  ؓ،امام قتادہ بن دعامہؒ،  امام ابن شہاب الزہریؒ  ،امام  عکرمہؒ اور امام ابن ابی ملیکہؒ  وغیرہ۔ مقاتل بن سلیمان ؒ امام محمد الباقر بن امام زین العابدین بن حسین ابن علی علیہم  الصلوٰۃ والسلام کے خاص شاگرد تھے۔گویا  آپ کو دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت رسول علیہم الصلوٰۃوالسلام  کا علم بھی عطا ہوا تھا۔

اسی پر بس نہیں بعد میں صحاحِ ستہ مرتب کی گئیں تو ان کی روایات بھی مذکورہ بالا کتب کی روایات سے حد درجہ مماثلت رکھتی تھیں۔ ایسی احادیث بہت کم ہیں جن کے مضامین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ورنہ اکثر روایات کے مضامین ایک دوسرے کی تائیدو تصدیق کرتے ہیں۔

مختلف زمانے اور مختلف مقامات پر مرتب ہونے والی ان سب کتب میں ایک جیسی احادیث نقل ہونا کیا ثابت کرتا ہے؟ ان احادیث میں مماثلت ثابت کرتی ہے کہ ان کے راوی مختلف ہونے کے باوجود ایک جیسے مضامین تبھی منقول ہوسکتے ہیں اگر ان کا منبع و مرکز ایک ہو۔ ان سب مشترکہ  احادیث کا منبع و مرکز رسول اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔مختلف زمانوں اور مختلف مقامات پر آباد راویوں کے مشترکہ بیانات دلالت کرتے ہیں کہ ان کا مأخذایک ہی ہے اور اگر یہ سب لوگ جھوٹے، دغاباز اور فریبی ہوتے تو ان سب کے بیانات میں مماثلت عقلاً ممکن ہی نہ تھی۔آج سے ایک ہزار سال پہلے یہ ممکن ہی نہیں  تھا کہ ہزاروں میل دور بسنے والےراوی نبی ﷺ کے بارے میں ایک جیسی بات بیان کریں۔ نماز کا ایک جیساطریقہ، ایک جیسا حج، ایک جیسے روزے، ایک جیسے زکوٰۃ کے احکام، ایک جیسے معاشی قوانین  اور جیسے امور سیاست پر ایکا کرلیں اور دعویٰ سب کا یہ ہو کہ  یہ نبی ﷺ سے مأخوذ ہے۔

کیا دنیا میں کسی ایک  شخص کے بارے میں ایسی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ دنیا کے ہزاروں لوگ جو ایک دوسرے سے ہزاروں میل کے فاصلے پر آباد ہوں وہ کسی لیڈر کی زندگی کے اس قدر تفصیلی احوال   متفقہ طور پر ایک جیسے بیان کریں جیسے یہ سب کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔نوعِ بشر کی واحد ہستی محمد عربی   ہیں جن کی زندگی کے اس قدر تفصیلی احوال  ہزاروں لوگوں نے ایک جیسے بیان کیے ہیں۔ بعض جزئیات میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر نبیﷺ کے مبارک طریقوں کے بارے میں اتنے زیادہ لوگوں گا اتفاق بجائے خود ایک معجزہ ہے۔

 

 

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading