2024-07-17

 

کیا نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے قرآن لکھا ہے؟

کیا نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے قرآن لکھا ہے؟

ازقلم ساجد محمود انصاری

منکرین حدیث کی ہر ادا نرالی ہے۔ دعویٰ تو ان کا ہے تدبر قرآن کا مگر قرآن کی آیات کو تروڑ مروڑ کر ان سے ایسے معانی اخذ کرتے ہیں جو قرآن کے مقصد و منشا کے یکسر الٹ ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 48 ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا كُنۡتَ تَـتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنۡ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيۡنِكَ‌ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ

العنکبوت:48

 

اور آپ اس (قرآن کے نزول ) سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی آپ اسے (قرآن  کو) اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں کہ جس سے شک میں مبتلا ہونے والوں کو کوئی جواز مل سکے۔

ہمارا ماننا یہ ہے کہ اس آیت  مبارکہ میں

قبلہ اور تخطہ  

دونوں میں ضمیر غائب کا مرجع قرآن حکیم ہے۔اس تقدیر پر تخطہ مضارع کا صیغہ بنتا ہے نہ کہ ماضی کا۔ بعض مترجمین و مفسرین  نے   

وَّلَا تَخُطُّهٗ 

کو کنت پر عطف مان کر اسے ماضی کا صیغہ سمجھ لیا ہے ، حالاں کہ یہ بات  قرآن کی دلیل اور مدلول دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن  کفار مکہ کو دلیل دے رہا ہے کہ دیکھو یہ محمد ﷺ چالیس سال سے تم میں موجود ہیں، تم نے انہیں کبھی کوئی  کتاب پڑھتے  نہیں دیکھا  جو شخص پڑھنا نہ جانتا ہو وہ لکھ کیسے سکتا ہے؟ اب تم کہتے ہو کہ یہ خود سے قرآن لکھ کر لائے ہیں اللہ نے قرآن نازل نہیں کیا۔ کیا عقل یہ مانتی ہے  کہ جو شخص چالیس سال تک لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اب وہ اچانک اتنی پُر حکمت کتاب لکھ کر لے آئے؟  

اصل زور قرآن کا اس پر ہے کہ نبی ﷺ قرآن خود نہیں لکھتے یعنی یہ ان کی اپنی تصنیف نہیں ہے۔اگر ہم تخطہ کو مضارع تسلیم نہ کریں تو قرآن کا یہ دعویٰ فوت ہوجاتا ہے۔اگرچہ 

 اسے ماضی کا صیغہ ماننے سے بالواسطہ طور پر تو نتیجہ نکلتا  ہے کہ جب نبی ﷺ پڑھنا لکھنا ہی

 نہیں جانتے تو قرآن خود کیسے لکھ سکتے ہیں، مگر اس صورت میں یہ  نتیجہ مدلول ہوگا نہ کہ دلیل۔ جب کہ قرآن حکیم اس دلیل کے بعد صراحتاً دعویٰ کرتا ہے کہ  نبی ﷺ خود اپنے ہاتھ سے قرآن نہیں لکھتے۔ اگر قرآن کے اس صریح دعویٰ کو قبول نہ کیا جائے اور اسے محض مدلول سمجھا جائے تو یہ امکان باقی رہتا ہے کہ کوئی  کم فہم اس مدلول تک نہ پہنچ سکے۔ جیسا کہ منکرین حدیث نے تخطہ کو ماضی کا صیغہ قرار دے کر دعویٰ کیا ہے کہ نبی ﷺ نزول  قرآن سے پہلے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے مگر نزول قرآن کے بعد آپکو معجزانہ طور پر یہ دونوں مہارتیں سکھادی گئی تھیں اور نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے قرآن لکھا کرتے تھے۔ 

سورۃ العنکبوت 48  کی رُو سےسے تمام مفسرین نے بالاتفاق  یہ تسلیم کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے قرآن نہیں لکھا ۔ خیرالقرون میں سے کسی عالم نے اس سے اختلاف نہیں  کیا۔عصر حاضرمیں منکرین حدیث نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبی ﷺ قرآن حکیم اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ دیکھیے کس طرح انہوں نے قرآن کی دلیل و مدلول دونوں کی نفی کی ہے  اور دعویٰ ہے ساری امت سے بہتر قرآن سمجھنے کا۔دراصل انکار ِ حدیث  کا معاصر فتنہ دشمنان اسلام کا پروپیگنڈا آگے بڑھانے کے لیے برپا کیا گیا ہے۔ آج بھی دشمان اسلام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تورات و انجیل پڑھ کر انہی میں سے بعض عبارات کو تبدیل کرکے خود قرآن لکھا ہے اور معاذاللہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے۔ یہ بعینہ وہی دعویٰ ہے جو کفار مکہ اور یہود مدینہ نے کیا تھا۔  یہ شوشہ بھی سب سے پہلے ہنگری کے  یہودی مستشرق گولڈ  ژیہر ( 1850-1921) نے چھوڑا تھا کہ سورۃ العنکبوت 48کی رو سے نبی ﷺ نے قرآن اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ (معاذاللہ)۔

 جان لیجیے کہ نبی ﷺ کا ناخواندہ ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے۔ چودہ سو سال پہلے عرب کے ریگزاروں میں پلنے بڑھنے والے شخص سے یہ توقع کسی طرح بھی نہیں  کی جاسکتی کہ وہ قرآن جیسی انمول و لازوال کتاب تصنیف کرسکے جس میں انفس و آفاق کے تمام بنیادی حقائق بیان کیے گئے ہیں اور حیرت یہ ہے کہ اس کتاب میں اس وقت کی دنیا  میں رائج توہمات کا کوئی شائبہ تک نہیں بلکہ قرآن  حکیم اپنے زمانہ نزول  میں رائج تمام توہمات کا قلع قمع کرتا ہے، خواہ یہ توہمات عقائد سے متعلق ہوں یا انفس و آفاق کے حقائق کے بارے میں، وحشی رسومات ہوں یاجاہلانہ شعروادب،اخلاقی پیمانے ہوں یافکری مے خانے۔غرض قرآن نے زندگی کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے بدل کر اللہ کے رنگ میں نہ رنگا ہو۔

 

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading