2024-07-17

 

ختم نبوت
ختمِ نبوت سے کیا مراد ہے؟

از قلم ساجد محمود انصاری
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠
الاحزاب:40
محمّدﷺ تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جانتا ہے
خَاتَمَُ النَّبِیّٖنَ کا مفہوم سمجھے بغیر ختم نبوت کا عقیدہ سمجھ میں نہیں آتا۔ختم کا مطلب قرآنی آیت سے سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن میں کئی بار آیا ہے:
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ
اللہ نے ان کے دلوں اور سماعت کو سر بمہر کردیا ہے
البقرہ:7
یہاں دلوں اور سماعت کو سربمہر کرنے کا کیا مطلب ہے؟
صاف ظاہر ہے کہ یہاں ختم علیٰ قلوب کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں کا دروازہ بند ہوچکا ہے جس میں ہدایت اندر داخل نہیں ہوسکتی۔جب دروازہ بند ہوتا ہے تو نہ کوئی اندر جا سکتا ہے اور نہ ہی باہر آسکتا ہے۔ پرانے زمانے میں خطوط کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے اس پر لاکھ لگا کر اوپر مہر لگا دی جاتی تھی تاکہ متعلقہ شخص کے علاوہ اسے کوئی نہ کھولے اور اگر کوئی غیر متعلقہ شخص ان خطوط کو کھولنے کی کوشش کرتا تھا تو لاکھ اور اس پر لگی ہوئی مہر ٹوٹ جاتی تھی۔جس سےمتعلقہ شخص کو پتہ چل جاتا تھا کہ کہ یہ خط غیر قانونی طور پر مہر توڑ کر پہلے ہی کھولا جاچکا ہے۔ یوں خط کو سربمہر کرنے کو عربی زبان میں ’ختم‘ کہتے ہیں۔ چونکہ ایسی مہریں پہلے پہل انگوٹھی کی شکل میں بنائی جاتی تھیں اس لیے عربی زبان میں انگوٹھی کو بھی خاتِم کہتے ہیں۔خطوط کو مذکورہ بالا طریقے پر سربمہر کر نے کے لیے ہمارے ہاں انگریزی زبان کا لفظ سِیل زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
قرآن میں سِیل کو ہی خِتام بھی کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ خِتَامُهُ مِسْكٌ
انہیں سربمہر کی ہوئی شراب (کے جام) پیش کیے جائیں گے ، اس کی مہر مشک عنبر سے لگائی جائے گی۔
المطففین:25-26
آج بھی عمدہ شراب اسے سمجھا جاتا ہے جو طویل عرصے سے سر بمہر کی گئی ہو، جس سے اس میں خاص قسم کی بو پیدا ہوجاتی ہے جس سے شرابیوں کو زیادہ نشاط ملتا ہے۔ قیامت کے روز اہل جنت کو جو شراب پیش کی جائے گی وہ سر بمہر تو ہوگی مگر اس میں سے مشکِ عنبر کی خوشبو آتی ہوگی۔
ملاحظہ کیجیے کہ یہاں بھی مختوم کا معنی یہ ہے کہ ایسی بوتل یا پیمانہ جس کا منہ بند کردیا گیا ہو تاکہ اس کی خوشبو محفوظ رہے۔ آج بھی جتنی چیزیں سِیل بند کرکے بیچی جاتی ہیں ان کا مقصد انہیں طویل مدت کے لیے محفوظ کرنا ہوتا ہے۔سیل بند کرنے سے نہ جراثیم یا گرد وغیرہ اندر جاتی ہے اور نہ محفوظ شدہ اشیا کی خوشبو اور ذائقہ باہر نکل کر ضائع ہوتا ہے۔
ان مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ ختم کا لغوی مطلب سیل بند کرنا ہے۔ لہٰذا خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔ پہلے ہر قوم میں نبی آتے تھے وہ محدود مدت کے لیے ہوتے تھے۔ان کے بعد نئے نبی آتے تھے ۔ مگر نبی ﷺ تمام انسانیت کی طرف قیامت تک کے لیے عالمگیر نبی بناکر بھیجے گئے ہیں۔ آپ اپنے زمانہ نبوت سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے ہر انسان کے لیے نبی و رسول ہیں۔ اب کسی نئے نبی کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
آپ کہہ دیجیے کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
الاعراف:158
اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کے ذریعے اپنے دین کی تکمیل فرمادی ہے۔ اب دین کامل ہوچکا، اس میں نہ کوئی کمی ہے نہ کجی کہ جس کے لیے کسی ترمیم کی ضرورت پڑے۔
پس نبوت کا سلسلہ مکمل ہوکر مختتم ہوچکا۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج کسی نئے نبی کی ضرورت ہے ، وہ دبے لفظوں میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ محمدر سول اللہ ﷺ اور قرآن کا عطا کیا ہوا دین ناقص ہے معاذاللہ۔ لہٰذا اس دین کا نقص دور کرنے کے لیے کسی نئے نبی کی ضرورت لاحق ہے۔یہ لوگ اپنے منہ سے کتنا ہی دعویٰ کریں کہ وہ قرآن اور محمد عربی ﷺ کو مانتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن اورصاحبِ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ مؤمن دین اسلام کو ناقص اور نامکمل نہیں سمجھ سکتے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading