2024-07-17

 

ثریا ستارہ

کیا ثریا ستارہ خوشبختی کی علامت ہے؟

از قلم ساجد محمود انصاری

ثریا ستارہ برج ثور میں واقع ستاروں کا ایک جھرمٹ ہے۔ برہنہ آنکھ سے دیکھنے پر یہ سات ستاروں کا جھرمٹ دکھائی دیتا ہے، مگر دوربین سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس جھرمٹ میں 50 کے قریب روشن ستارے ہیں۔ تاہم طاقتور فلکیاتی دوربینون سے کیے گئے مشاہدات سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس جھرمٹ میں 2000 سے زائد ستارے موجود ہیں۔ ثریا ستارہ ان چند نمایاں ترین ستاروں میں سے ہے جو سارا سال دکھائی دیتے ہیں۔ بعض ستارے آسمان پر اپنے مخصوص محل وقوع کے سبب سال کے کچھ حصے میں دکھائی دیتے ہیں اور باقی سال نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جیسے رات کو سب سے زیادہ روشن نظر آنے والا ستارہ شِعریٰ یا سائریس ستارہ ہے جو تقریبا ً دو ماہ نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ ثریا ستارہ ہمیشہ انسانی سوچ پر حاوی رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ دنیا کی تمام تہذیبوں میں اسے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ بعض تہذیبوں میں تقویم یعنی کیلنڈر کا آغاز بھی ثریا ستارے کے طلوع سے کیا جاتا تھا۔ واضح رہے کہ ستارے کے سالانہ طلوع کے لیے علم فلکیات میں ہیلیئکل رائزنگ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف عرض بلد پر واقع مقامات پر سالانہ نجمی طلوع و غروب کا دن مختلف ہوسکتا ہے۔ اس کا سبب کسی بھی مقام کا خط استوا سے فاصلہ ہے۔

ثریا ستارہ استوائی خطے میں مئی کے وسط میں سورج طلوع ہونے سے ذرا پہلے مشرق سے طلوع ہوتا ہے، پھر روزانہ گزشتہ شب کی نسبت چار منٹ پہلے طلوع ہوتا ہے، یہاں تک کہ نومبر میں سورج غروب ہونے سے ذرا بعد ہی مغربی افق پر طلوع ہوجاتا ہے، ساری رات چمکتا ہے اور سورج طلوع  ہونے سے ذرا پہلے مغرب میں غروب ہوجاتا ہے۔ یوں ثریا ستارے کے آسمان پر چمکنے کا دورانیہ نومبر میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جو نومبر کے وسط میں کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مئی کے آغاز میں چونکہ یہ سورج کے ساتھ ہی غروب ہوجاتا ہے اس لیے چند دن تک دکھائی نہیں دیتا۔ پھر وسطِ مئی میں دوبارہ مشرقی افق پر سورج طلوع ہونے سے ذرا پہلے نمودار ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب سورج دائرۃ البروج (شمس و قمر کی ظاہری گزرگاہ)  میں ثریا ستارے کے قریب سے گزرتا ہے۔[1]

دنیا کی تقریباً سبھی تہذیبوں میں سورج کا ثریا ستارے کے ساتھ قِران خوش بختی، خوشحالی اور آفات کے خاتمے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا کے اکثر آباد حصے میں فصلیں اور پھل پکتے ہیں۔ دنیا کی زیادہ آبادی چونکہ زراعت سے وابستہ تھی اس لیے فصلوں اور پھلوں کے پکنے سے گھروں میں غلہ اور پھل آتے، نیز کسان زائد از ضرورت اناج اور پھل بیچ کر منافع کماتے تھے۔ انہی دنوں تجارت بھی ترقی پر ہوتی تھی، اس لیے ثریا ستارے کے صبح کے وقت طلوع کو خوشحالی و خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ عربوں میں بھی ثریا ستارے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ ثریا ستارے کے طلوع کے وقت پیدا ہونے والے بچے کو نہایت خوش بخت سمجھا جاتا تھا اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایسے بچے اپنی زندگی میں خوشحال اور عالی مرتبہ  ہوتے ہیں۔ نیز ایسے خوش بخت لوگوں کے ساتھ دوستی اور رشتہ استوار کرنے کو سعادت سمجھا جاتا تھا۔ جہالت کے سبب بہت سے لوگ ستاروں کو ہی اس خوش بختی و خوشحالی کا اصل محرک سمجھ بیٹھے اور ان کی باقاعدہ پرستش کرنے لگے۔

کسی خاص وقت یا شخص سے نیک شگون لینے کو عربی زبان میں تفاؤل کہتے ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تفاؤل سے کام لیتے تھے۔ اسی طرح ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ثریا ستارے کے صبح کے وقت طلوع ہونے سے وبا ختم ہوجاتی ہے۔

قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه ‌صلی ‌الله ‌علیه ‌وآله ‌وسلم: ((إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ)) [2]

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے باغ کی کھجوریں نہیں بیچتے تھے جب تک کہ ثریا ستارہ طلوع نہ ہوجاتا تھا۔[3]

واضح رہے کہ اس تفاؤل کا ستارہ پرستی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ستاروں کو مؤثر حقیقی نہیں مانتے تھے، بلکہ صرف اس سے نیک شگون لیتے تھے۔
سورۃ الطارق میں بھی النجم الثاقب کہہ کر ثریا ستارے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ عرب جب مطلقاً النجم کہتے ہیں تو اس سے ان کی مراد ثریا ستارہ ہوتا ہے۔ [4]

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading