2024-07-17

 

یومِ مِیلادِ رسول ﷺ

یومِ مِیلادِ رسول ﷺ 

از قلم ساجد محمود انصاری

اہلِ اسلام صدیوں سے رسول اکرم ﷺ کےیومِ میلاد (ولادت کے روز) مسرت و شادمانی اور فرحت و سرور کا اظہار کرتے آئے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو کہ جب آمدِ مصطفےٰ ﷺ اہل ایمان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے ۔ جب عام نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہم پر واجب ہے تو اس نعمتِ عظمیٰ کے شکر سے ہم کیسے گلوخلاصی پاسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کی ولادت باسعادت  اور بعثت کے سب سے بڑی نعمت ہونے کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ

ترجمہ: درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

آل عمران: 164

 بعثتِ رسول اکرم ﷺ وہ واحد انعام و احسان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یوں نازوزنداز سے جتلایا ہے۔رسول اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا:

 لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ: تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آچکا ہے جس پر تمہارا ہلاکت میں پڑنا بہت شاق  گزرتاہے، وہ تمہارے ایمان کا حریص اور اہل ایمان کے لیے سراپا شفقت و رحمت ہے۔

التوبہ: 128

ملا علی قاری حنفی ؒ اپنی تالیف لطیف  الموردالروی فی مولدالنبی ﷺ میں سورۃ توبہ کی آیت 128 سے مولد النبی ﷺ پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وفي قوله تعالي : لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ إشعار بذلک وإيماء إلي تعظيم وقت مجيئه إلي هنالک. قال : وعلي هذا فينبغي أن يقتصر فيه علي ما يفهم الشکر ﷲ تعالي من نحو ما ذکر، وأما ما يتبعه من السماع واللهو وغيرهما فينبغي أن يقال ما کان من ذلک مباحًا بحيث يعين علي السرور بذلک اليوم فلا بأس بإلحاقه، وما کان حرامًا أو مکروها فيمنع. وکذا ما کان فيه خلاف، بل نحسن في أيام الشهر کلها و لياليه يعني کما جاء عن ابن جماعة تمنيه فقد اتصل بنا أن الزاهد القدوة المعمر أبا إسحاق إبراهيم بن عبد الرحيم بن إبراهيم بن جماعة لما کان بالمدينة النبوية علي ساکنها أفضل الصلاة وأکمل التحيّة کان يعمل طعامًا في المولد النبوي ويطعم الناس ويقول : لو تمکنت عملت بطول الشهر کل يوم مولدًا

ترجمہ: فرمانِ باری تعالی لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ ۔۔۔بے  شک تمہارے پاس (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ میں یہی خبر و اشارہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت کی تعظیم بجا لائی جائے اور اس لیے ضروری ہے کہ اظہارِ تشکر میں مذکورہ صورتوں پر اکتفا کیا جائے۔ جہاں تک سماع اور کھیل کود کا تعلق ہے تو کہنا چاہیے کہ اس میں سے جو مباح اور جائز ہے اور اس دن کی خوشی میں ممدو معاون ہے تو اُسے میلاد کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں اور جو حرام اور مکروہ ہے اس سے منع کیا جائے۔ یونہی جس میں اختلاف ہے بلکہ ہم تو اس مہینے میں تمام شب و روز میں یہ عمل جاری رکھتے ہیں جیسا کہ ابن جماعہ نے فرمایا۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ زاہد، قدوہ، معمر ابو اسحاق ابراہیم بن عبدالرحیم بن ابراہیم بن جماعہ  ؒجب مدینۃ النبی۔ اُس کے ساکن پر افضل ترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ میں تھے تو میلادِ نبوی کے موقع پر کھانا تیار کرکے لوگوں کو کھلاتے اور فرماتے : اگر میرے بس میں ہوتا تو پورا مہینہ ہر روز محفلِ میلاد کا اہتمام کرتا۔

علامہ محمد بن جاراللہ حنفی ؒ (متوفیٰ 935)  دسویں صدی ہجری میں اہلِ مکہ کا معمول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ہر سال مکہ مکرمہ میں بارہ ربیع الاول کی رات اہل مکہ کا یہ معمول ہے کہ قاضی مکہ جو کہ شافعی ہیں۔ مغرب کی نماز کے بعد لوگوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ مولد شریف کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں تینوں مذاہبِ فقہ کے قاضی، اکثر فقہاء، فضلاء اور اہل شہر ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں فانوس اور بڑی بڑی شمعیں ہوتی ہیں۔ وہاں جا کر مولد شریف کے موضوع پر خطبہ دینے کے بعد بادشاہِ وقت، امیرِ مکہ اور شافعی قاضی کے لیے (منتظم ہونے کی وجہ سے) دعا کی جاتی ہے۔ پھر وہ وہاں سے نمازِ عشاء سے تھوڑا پہلے مسجد حرام میں آجاتے ہیں اور صاحبانِ فراش کے قبہ کے مقابل مقامِ ابراہیم کے پیچھے بیٹھتے ہیں۔ بعد ازاں دعا کرنے والا کثیر فقہاء اور قضاۃ کی موجودگی میں دعا کا کہنے والوں کے لیے خصوصی دعا کرتا ہے اور پھر عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے الوداع ہو جاتے ہیں۔

الجامع اللطيف في فضل مکة وأهلها وبناء البيت الشريف : 201، 202

جمہور علمائے امت نے مولد النبی ﷺ پر اظہارِ فرحت و مسرت کرنے اور شکرانے والے اعمال سر انجام دینے کو مستحسن جانا ہے۔ ان علماءمیں حافظ ابولاخطاب ابن دحیہ الکلبیؒ (متوفیٰ 633 ھ) ، حافظ شمس الدین الجزریؒ (متوفیٰ 660 ھ) ، حافظ ابو شامہؒ (متوفیٰ 665 ھ)، حافظ ابن تیمیہ ؒ (متوفیٰ 728 ھ)، علامہ ابن الحاج المالکی ؒ (متوفیٰ 737ھ)، علامہ  تقی الدین السبکیؒ (متوفیٰ 756 ھ)، حافظ ابن کثیر ؒ (متوفیٰ 774 ھ)، حافظ ابن رجب الحنبلیؒ (متوفیٰ 795 ھ)، حافظ ولی الدین العراقیؒ (متوفیٰ 826 ھ)، حافظ ابن حجر العسقلانیؒ (متوفیٰ 852 ھ)، علامہ شمس الدین السخاویؒ (902ھ)، حافظ جلال الدین السیوطی ؒ (911ھ)، حافظ شہاب الدین قسطلانیؒ (متوفیٰ 923 ھ)، حافظ محمد بن یوسف الصالحی  الشامیؒ (متوفیٰ  942 ھ) حافظ ابن حجر الہیتمیؒ (متوفیٰ 973ھ)، حضرت شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی  ؒ (متوفیٰ 1034 ھ)  شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (متوفیٰ 1052 ھ)، علامہ محمد الزرقانی ؒ (متوفیٰ 1122 ھ) اورشاہ ولی اللہ محدث  دہلوی (متوفیٰ 1174 ھ) سرِ فہرست  ہیں۔

  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  ؒبرصغیر  پاک و ہند کے مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ چنانچہ مسلمانان پاک و ہند کے لیے ان کا قول قول فیصل کا درجہ رکھتا ہے۔ شاو ولی اللہ محدث دہلوی  ؒ اپنی معروف کتاب فیوض الحرمین میں فرماتے ہیں:

  وکنت قبل ذلک بمکة المعظمة في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم ولادته، والناس يصلون علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ويذکرون إرهاصاته التي ظهرت في ولادته ومشاهدة قبل بعثته، فرأيت أنواراً سطعت دفعة وحداة لا أقول إني أدرکتها ببصر الجسد، ولا أقول أدرکتها ببصر الروح فقط، واﷲ أعلم کيف کان الأمر بين هذا وذلک، فتأملت تلک الأنوار فوجدتها من قبل الملائکة المؤکلين بأمثال هذه المشاهد وبأمثال هذه المجالس، ورأيت يخالطه أنوار الملائکة أنوار الرحمة.

ترجمہ: اس سے پہلے میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ درود و سلام عرض کر رہے تھے اور وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہوا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر اَنوار و تجلیات کی برسات شروع ہوگئی۔ میں نہیں کہتا کہ میں نے یہ منظر صرف جسم کی آنکھ سے دیکھا تھا، نہ یہ کہتا ہوں کہ فقط روحانی نظر سے دیکھا تھا، اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان دو میں سے کون سا معاملہ تھا۔ بہرحال میں نے ان اَنوار میں غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ اَنوار اُن ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد میں شرکت پر مامور و مقرر ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اَنوارِ ملائکہ کے ساتھ ساتھ اَنوارِ رحمت کا نزول بھی ہو رہا تھا۔

کیا ایک مجلسِ بدعت میں انوارِ رحمت کا نزول بھی ہوا کرتا ہے؟  جان لیجیے کہ محفلِ میلاد النبی ﷺ کوئی بدعت نہیں ہے اور جب اس محفل میں رسول اکرم ﷺ کے حضور ہدیہء صلوٰۃوسلام پیش کیا جائے اور ان کی رحمتوں کا تذکرہ ء جانفزاکیا جائے تو اس محفل میں انوارِ رحمت کا نزول یقینی ہے۔

واضح رہے کہ میلاد النبی ﷺ کی  محافل و مجالس بارہ ربیع الاول  کو منعقد کی جائیں یا کسی اور دن ،اگر رقص و سرود  اور دیگر منکرات سے پاک ہیں ، تو ان کے بارے میں یہ بحث ہی عبث ہے کہ یہ بدعتِ حسنہ ہے یا بدعتِ سیئہ؟ بدعت تو ایسا عمل ہوتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو ، جبکہ رسول اکرم ﷺ کی ولادت کے دن اظہارِ تشکر تو خود نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (مسند احمد : رقم 25013)، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا (مسند احمد رقم 26995)، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (سنن النسائی : رقم 2365)، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (مسند احمد : رقم 5643) اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما (مسند احمد: رقم 22087)  متفقہ طور پر روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ہر ماہ تین روزے لازماً رکھتے تھے، مہینے کی پہلی جمعرات، اس سے اگلےسوموار اور پھر ا س سے اگلے سوموار کو۔

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ سے سوموار اور جمعرات کو روزے رکھنے کے معمول کے بارے میں استفسار کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ اس دن (سوموار) کو میں پیدا ہوا تھا اور دوسرے دن (جمعرات کو) مجھ پر قرآن کی وحی شروع ہوئی تھی۔ (مسند احمد: رقم 22905 ، سنن ابو داؤد: رقم  2426)

ان احادیث  صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کسی روز کوئی خاص نعمت ملے تو وہ اس نعمت کا شکر نہ صرف اسی دن ادا کرے بلکہ آئندہ جب بھی وہ دن آئے تو یادگار کے طور پر اس روز دوبارہ اسی نعمت کا شکر ادا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔ اسی سے قومی ایام کو تہوار کے طور پر منانے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔رسول اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ چونکہ اہلِ ایمان کے لیے سب سے بڑی نعمت ثابت ہوئی اس لیے اس نعمت کے ملنے کے روز اس نعمت کو یاد کرکےرب کریم کے حضور اس کا شکر بجا لانا مستحسن اقدامات میں سے شامل ہے۔

اس پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ سے خود اپنی ولادت کے دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھنا تو ثابت ہوگیا مگر کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی یہ شکرانہ ادا کیا؟ کیا وہ بھی نبی ﷺ کے میلاد (ولادت) کے دن کو شکرانے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے؟ اس کا جواب ہے کہ جی ہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصاً اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام شکرانے کے طور پر سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے، بلکہ نبی ﷺ نے انہیں خود اس کا حکم فرمایا تھا۔

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ ہمیں مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے، (پہلی )جمعرات، اس سے اگلا سوموار اور اس سے اگلا سوموار۔(سنن النسائی: رقم 2419)

مولائے اسامہؒ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ وادیٔ قریٰ کی طرف اپنے مال مویشی کی تلاش کے لیے جا رہے تھے، وہ (سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما) سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ غلام نے ان سے کہا: آپ سوموار اور جمعرات کا روزہ اہتمام کے ساتھ کیوں رکھتے ہیں، جبکہ اب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔(مسند احمد: رقم 22087)

پس معلوم ہوا کہ نعمت کے ملنے کے دن اس نعمت کا شکر ادا کرنا  باعثِ ثواب اور جب دوبارہ وہی دن آئے تو اس نعمت کو یاد کرکے دوبارہ اظہارِ تشکر مستحسن عمل ہے۔ دنیا کی جو نعمتیں ملتی ہیں وہ عارضی ہوتی ہیں اور بالآخر زوال کا شکار ہوجاتی ہیں۔ جبکہ آمدِ مصطفٰے ﷺ کی نعمت دائمی اور لازوال ہے۔ اس نعمت کو یاد کرنا اور اس کے لیے رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنا بطریقِ اولیٰ مستحب ہے، تاہم اس نعمت کے شکر کے لیے ماہِ ربیع الاول کے کسی دن کو مقرر کرنا مباحات میں سے ہے، کیونکہ سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ نبی ﷺ کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی، اگرچہ تاریخ ِ ولادت میں اختلاف ہے  مگر منقول ایام میں سے کسی بھی دن پر علما کی اکثریت ایکا کرلے تو اس دن کو یومِ ولادت کے طور پر منانے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ بارہ ربیع الاول  کویومِ میلاد منانے کی روایت چونکہ صدیوں سے چلی آرہی ہے اس لیے  اسی دن کو قومی تہوار قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔

یاد رہے کہ قومی ایام منانا مباحات میں سے ہے، نبی ﷺ کے سامنے انصار ایام جاہلیت میں لڑی گئی جنگِ بعاث کی یاد منایا کرتے تھے مگر نبی ﷺ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی(صحیح البخاری: رقم 949)  جو کم از کم قومی ایام کی اباحت پر دلالت کرتا ہے۔نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی یوم عاشورا (دس محرم) کا روزہ رکھتے ہیں، اس کا سبب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس روز بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی تھی۔ غرض یہودی یومِ عاشورا کو قومی دن کے طور پر مناتے تھے، نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بھی یومِ عشورا کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایاکیوں کہ مسلمان  سیدناموسیٰ علیہ السلام پر یہودیوں سے کم حق نہیں رکھتے۔(صحیح مسلم: رقم 1131، صحیح البخاری: رقم 4680) یہ درست ہے کہ صیامِ رمضان کی فرضیت کے بعد یومِ عاشورا کی فرضیت منسوخ ہوگئی تھی مگریومِ عاشورا کے استحباب پرعلما کا اتفاق ہے۔(جامع الترمذی: رقم 753) ان احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ قومی ایام منانا
مباحات میں داخل ہے، بشر ط یہ کہ ان میں اسلامی اقدار کے منافی امور روا نہ رکھے جائیں۔

وہ احباب جو یومِ میلادِ رسول ﷺ منانا نہیں چاہتے  ان سے گزارش ہے کہ بھلے آپ تقویٰ و تدین کی مسند کے لیے یومِ میلادِ رسول نہ منائیں ، مگر خدارا اسے بدعت کہنے سے باز آجائیں۔  کوئی گروہ یا فرد اس روز کوئی بدعتی کام بجالائے جو واقعی بدعت ہو تو اسے ضرور ملامت کریں، مگر مطلقاً یومِ میلادِ رسول ﷺ کی اباحت کا انکار کرکے اسے منانے والوں کے پیچھے لٹھ  لے کر مت پڑ جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کا فہمِ سلیم عطا فرمائے۔آمین

اللہم صل علی محمد و علیٰ آل محمد و بارک وسلم علیہم


Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading