2024-07-17

 

سیدنا آدم علیہ السلام

سیدنا آدم علیہ السلام

ازقلم ساجد محمود انصاری

پیارے بچو! ہزاروں سال پہلے زمین پر کسی انسان کا نام و نشان تک نہ تھا۔زمین پر جنات کا راج تھا۔ جنات کا بادشاہ عزازیل (ابلیس) تھا ،اس وقت  عزازیل  بظاہر اللہ تعالیٰ کا فرمان بردار تھا اور  فرشتوں کے ساتھ  اس کا دوستانہ تھا۔وہ فرشتوں کی مجلس میں بے تکلف آتا جاتا تھا۔جنات کو اپنی قوت، طاقت اور حکومت پر بڑا ناز تھا۔ اسی لیے عزازیل بھی بہت مغرور تھا۔جنات بہت شریر  اور جھگڑالو مخلوق ہیں جس کی وجہ سے جنات کے قبیلے ہمشہ آپس میں جھگڑتے رہتے تھے۔لہٰذا انہوں نےزمین میں خوب فساد مچا رکھا رکھا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسان کو اپنا نائب بنانے کا فیصلہ کیا۔تب اللہ تعالیٰ نے زمینی مٹی میں پائے جانے والے اجز ا سے انسان کا جسم بنایا اور اس میں زندگی کی روح پھونک دی ۔ اللہ تعالیٰ نےاس پہلے انسان کا نام آدم رکھا۔آدم کا مطلب ہے مٹی سے بنا ہوا۔سیدنا   آدم علیہ السلام  کے ماں باپ نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں محض اپنی قدرت سے پیدا فرمایا تھا۔

جب اللہ نے فرشتوں کو بتایا کہ وہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو زمین میں اپنا نائب بنانے لگا ہے تو فرشتوں کے ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ ایسا نہ ہو کہ سیدنا آدم (علیہ السلام)  اور ان کی اولاد بھی جنات کی طرح زمین میں فساد شروع کردے،ہمارے ہوتے ہوئے ایک نئی مخلوق کی کیا ضرورت؟ گویا فرشتوں کی خواہش تھی کہ انہیں زمین کی بادشاہت سونپ دی جائے۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو  زمین و آسمان کی تمام چیزوں کے نام سکھادئیے جن سے فرشتے ناواقف تھے۔ پھراللہ تعالیٰ نے فرشتوں  اور سیدنا آدم (علیہ السلام)  کا  امتحان لیا  جس میں سیدنا آدم (علیہ السلام)  کامیاب ہوئے اور فرشتے اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم پر سیدنا آدم (علیہ السلام)  نے زمین و آسمان کی سب چیزوں کے نام فرشتوں کو بھی بتادئیے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم (علیہ السلام)  کی فرشتوں پر برتری ثابت فرمادی۔ گویا اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ زمین کی بادشاہت و حکومت کا اہل وہ شخص ہے جو زیادہ علم والا ہے۔تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور جنات کو حکم دیا کہ وہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھک جائیں۔سب فرشتے اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے سیدنا آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے۔ مگر جنات  اور ان کے بادشاہ عزازیل نے انکار کردیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے عزازیل کو ابلیس (نامراد)  اور شیطان (باغی) قرار دے کر  اپنی بارگاہ سے دھتکار دیا۔ ابلیس (شیطان) نے  غرورو تکبر  اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کے حسد کی وجہ سے عہد کیاکہ وہ اولاد آدم کواللہ تعالیٰ کے رستے سے بھٹکایا کرے گا اس کے لیے اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ اسے قیامت تک کے لیے مہلت عطا فرمادیں ، اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ درخواست منظور فرمالی۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ٹھہرادیا۔ وہاں وہ بہت تنہائی محسوس کرنے لگے۔اگرچہ وہ فرشتوں سے گفتگو کرتے رہتے تھے مگر انہیں اپنے جیسے انسان کے ساتھ بات چیت کرنے کو جی چاہتا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش پوری کرتے ہوئےان کی جنس میں سے ایک عورت پیدا کردی جس کا نام سیدنا آدم (علیہ السلام) نے حوّا رکھا۔اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا نکاح سیدہ حوا علیہا السلام سے کردیا۔یوں دونوں میاں بیوی جنت میں رہنے لگے اور وہاں کی نعمتوں سے لُطف اٹھانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو امتحان کی غرض سے  جنت کے ایک خاص درخت کا پھل کھانے سے منع فرمادیا۔

ادھر ابلیس شیطان نے اپنے منصوبے  پرعمل کرنا شروع کردیا۔جب سیدنا آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ سیدہ حوا علیہا السلام کو جنت میں رہتے کافی عرصہ بیت گیا تو ابلیس نے سیدنا آدم (علیہ السلام)  کو ورغلانے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر اکسانے کی ترکیب سوچی۔وہ جانتا تھا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اکسانا غیرممکن ہے۔لہٰذا اس نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو جھانسا دے کر اپنے جال میں پھنسانے کا فیصلہ کیا۔اس نے سیدنا آدم (علیہ السلام)سے کہا کہ میں آپ کو ایسا پھل بتاتا ہوں جس کو کھانے کے بعد آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے  اور آپ کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) شیطان کے جھانسے میں آگئے اور وہ پھل کھابیٹھے۔شیطان نے ان کے ذہن پر اپنا وار کیا اور چند لمحوں کے لیے آپ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کونسا پھل کھانے سے منع فرمایا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی سیدہ حوا  علیہا السلام کو بھی وہ پھل پیش کیا اور انہوں نے بھی وہ پھل کھالیا۔وہ پھل کھانے کے بعد ان کے خون کی گرمی بڑھ گئی جن سے انہیں اپنے اندر عجیب سی تبدیلی محسوس ہوئی۔انہوں نے اس تبدیلی کے سبب پر غور کیا توانہیں خیال احساس ہوا کہ ان سے غلطی ہوگئی۔ وہ تو وہی پھل کھا بیٹھے ہیں جسے کھانے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔تب وہ اپنی غلطی پر بہت شرمندہ ہوئے اور انہوں نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی مگرساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اب آپ لوگ جنت میں نہیں رہ سکتے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین پر بھیج دیا۔

سیدنا آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی تھے۔زمین پر آئے تو آپ اپنی بیوی کے ساتھ مکہ میں آباد ہوگئے۔ یہاں آپ نے دنیا کی سب سے پہلی عمارت بیت اللہ کی شکل میں تعمیر فرمائی۔بیت اللہ دنیا کا پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے بیٹے اور بیٹیاں عطا فرمائیں۔ یوں انسانی نسل پھلی پھولی۔یہ سب لوگ عربی  زبان بولتے تھے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔یہ سب سچے مؤمن  و مسلم تھے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) تقریباً ایک ہزار سال جیتے رہے۔

شروع میں لوگ رہائش کے لیے گھر نہیں بناتے تھے بلکہ پہاڑوں کی غاروں میں رہتے تھے۔ لوگ جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ان کا گوشت کھاکر اپنا پیٹ بھرتے اور ان کی کھالوں سے اپنا لباس بناتے تھے۔آہستہ آہستہ انہوں نے اس مقصد کے لیے جانور پالنا شروع کردئیے، یوں گائے، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہ پالتو جانور بن گئے۔کچھ جانوروں پر انسانوں نے سواری کرنا اور سامان لادنا شروع کردیا، جیسے اونٹ، گھوڑا اور گدھا وغیرہ۔یوں انسانی ترقی کا سفر آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ ہمارا زمانہ آگیا۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading