2024-07-17
رسول اکرم

 رسول اکرم ﷺ تمام انبیا سے افضل ہیں

از قلم ساجد محمود انصاری

انکار ِ حجیت ِحدیث  کا ایک خوفناک نتیجہ یہ بھی ہے کہ منکرین حدیث انبیا علیہم السلام کی جماعت میں  رسول اکرم ﷺ کے خصوصی مقام   و مرتبہ کا انکار کرکے خود پر جہنم کو واجب قرار دے چکے ہیں۔ ہم ہمیشہ کہتے  آئے ہیں  کہ منکرین حدیث صرف منکرین حدیث ہی نہیں ہیں بلکہ منکریں قرآن بھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کا جو خصوصی مرتبہ قرآن حکیم میں بیان فرمایا ہے  یہ بد بخت اس کی بے سروپا تاویلات کرکے اس کا صریحاً انکار کردیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب انبیا ہر اعتبار سے برابر ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ

سب رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ، ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کیا ہے اور ان میں سےبعض کا درجہ دوسروں سے بڑھا دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمادیا ہے کہ سب انبیا کے درجات برابر نہیں ہیں بلکہ ان میں حفظِ مراتب پایا جاتا ہے۔اگرچہ  ان کےمراتب کی کوئی فہرست مہیا نہیں کی گئی  تاہم بعض کی فضیلت کو صراحتاً بیان کیا گیا ہے جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو امام الناس کے لقب سے نوازا گیا ہے۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام آخری تین رسولوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکے جد امجد ہونے کی وجہ سے تینوں انبیا کی امتوں کے سردار قرار پائے ہیں۔

نبی آخرالزمان سیدنا محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  ایسےبے شمار فضائل و خصائص سے نوازا  ہے جو کسی  دوسرے نبی کو حاصل نہ ہوسکے۔پہلے انبیا کسی مخصوص زمانے اور مخصوص قوم کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے جبکہ نبی اکرم ﷺ تمام انسانوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔

اولوا العزم انبیا کی سرگزشت سورۃ الانبیا میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ

الانبیا:۱۰۷

اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوتمام جہانوں  کے لئے خواہ وہ عالَمِ ارواح ہوں  یا عالَمِ اجسام ، ذوی العقول ہوں  یا غیر ذوی العقول سب کے لئے مُطْلَق، تام، کامل، عام، شامل اور جامع رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو تمام جہانوں  کے لئے رحمت ہو تو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔جب سب جہان والے یعنی ملائکہ، انسان اورجنات  رسول اکرم ﷺ کی رحمت کے محتاج ٹھہرے  تو کوئی حاجت مند اپنے محسن سے افضل کیسے  ہوسکتاہے؟

یہ کوئی مفروضہ یا قیاس نہیں ہے بلکہ قرآن حکیم کی دیگر آیات اس مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔ملاحظہ کیجیے درج ذیل آیت:

میثاق النبیین کے بارے ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَبِیِّیْنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَّ حِکْمَةٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْل مُّصَدِّق لِّمَامَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنْصُرُنَّہ قَالَ ءَ اَقْرَرتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْآ اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِنَ الشّٰھِدِیْنَ

اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے انبیاء سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت (کی قِسم ) سے دوں، پھر تمہارے پاس (میرا ) رسول اُس (چیز) کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے، تو تم ضرور اُس (رسول) پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت کرنا۔پھر فرمایا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو؟وہ بولے ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا تو گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔

جمہور مفسرین کی رائے ہے کہ یہاں جملہ انبیا کو النبیین اور اپنے نبی خاص کو رسول سے اس لیے تعبیر کیا کہ وہ رسول جملہ انبیا سے افضل ہے۔اگرچہ لفظ رسول نکرہ آیا ہے مگر اس سے اس رسول خاص کی رسالت عامہ کی طرف اشارہ ہے۔ وہ رسول جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہے اسی کی رسالت کو رسالت عامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بہت پہلے عالمِ ارواح میں تمام انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا کہ اگر تمہاری حیاتِ ارضی میں میرے محبوب اور تمہارے امام، محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث کر دئیے جائیں ، تو ان کی اطاعت ونصرت تم پرفرض  ہوگی۔ چنانچہ تمام انبیا ء علیہم السلام ، ختم الرسل ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لائے اورانہوں نے آپ کی اطاعت و نصرت کا اقرار کیا۔ بالفاظِ دیگر انہوں نے آپ کو اپنارسول و نبی اورامام و قائد تسلیم کر لیا۔ اس میثاق میں انبیاء علیہم السلام کی امتیں بھی ان کے تابع ہیں۔غرض غایت ِاولیٰ محمد عربی ﷺ ہیں ، انہی کی نبوت ورسالت مستقل بالذّات ہے، جب کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی نبوت اصلاً نبی آخرالزمان ﷺکے تابع و محکوم ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ رحمۃ  ً للعالمین  محمد عربی ﷺ تمام انبیا علیہم السلامسے اعلیٰ و افضل ہیں۔ پس رسول اکرم ﷺ کی افضلیت و کمال قرآن حکیم کی محکمات سے ثابت ہے، اگر علم حدیث کا عظیم ذخیرہ نہ بھی ہوتا تب بھی رسول اکرم ﷺکی اولیت و افضلیت تابندہ  ودرخشندہ ستارے کی مانند روشن ہی رہتی۔جس شان و کمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبو نبی ﷺ کی افضلیت و اولیت آشکار کی ہے، انسانی شعر و نثر اسے اس انداز میں بیان کر نہیں سکتے۔

سیدناحسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ ؎

 

وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ

 

وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ

 

یعنی یا رسول اللہ !(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں

 

خُلِقْتَ مُبَرَّءًمِّنْ کُلِ عَیْبٍ!

 

کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ

 

(یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading