2024-07-17

 سورۃ البقرۃ: آیات 11 تا 20

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (11)

اور جب ان (منافقین) کو کہا جاتا ہے کہ زمین میں(اپنی  خفیہ سازشوں کے ذریعے) فساد مت پھیلاؤ، تو یہ کہتے ہیں کہ (ان اقدامات سے )  ہمارا مقصد تو صرف(اپنے معاشرے کی )  اصلاح کرنا ہے۔

أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ (12)

خبردار ہوجاؤ کہ یقیناً یہ لوگ فسادی ہیں، مگر وہ ( اپنے کرتوتوں کے انجام سے)  بے خبر ہیں۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ (13)

اور اسی طرح جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (محض دعویٰٔ ایمان کافی نہیں بلکہ ) اس  طرز پر ایمان  کا  اظہار کرو جس طرز پر یہ سچے مؤمنین (نبی ﷺکی  غیر مشروط کامل اطاعت کا ساتھ)  اظہارِ ایمان کرتے ہیں، تب یہ جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ان احمقوں کی طرح (غیرمشروط)  ایمان لے آئیں۔ خبردار ہوجاؤ یہی لوگ احمق ہیں مگر  وہ سمجھ نہیں پاتے۔

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ (14)

ان منافقین کا فساد یہ تھا کہ جب اہلِ ایمان سے ملتے تو کہتے کہ ہم (محمد ﷺ کی نبوت پر ) ایمان رکھتے ہیں،  مگر جب انہیں نافرمانی پر اکسانے والے شیطانوں (یہودی سرداروں) کے ساتھ  تنہائی میں ملتے تو کہتے کہ ہم تو حقیقت میں تمہارے ہم مذہب ہیں،     (محمد ﷺ اور ان کے پیروکاروں کو بے وقوف بنانے کے لیے ) ان  کے ساتھ تو ہم مذاق کرتے ہیں۔

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (15)

اللہ تعالیٰ (ان منافقین کو مہلت دے کر)  ان  کے حال پر ہنستا ہے اور انہیں ان کی سرکشی میں ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ  اندھوں کی طرح بہکتے پھریں۔ (کیونکہ یہ مہلت بظاہر ان کے لیے فائدہ مند ہے مگر حقیقت میں ان کے لیے سزا ہے)

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (16)

یہی وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے (دنیا وی  زندگی کی خاطر) ہدایت  کو چھوڑ کر گمراہی ( نفاق)  کو اختیار کیا۔ مگر ان کی اس سودا بازی نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور وہ ہدایت سے بھی محروم رہے۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ (17)

ان منافقین کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے آگ جلائی    اور جب اس آگ سے اس کا ماحول روشن ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا نور (بینائی) سلب کرلی اور انہیں اندھیرے میں( ٹامک ٹوئیاں مارنے کے لیے) ان کے حال پر چھوڑ دیا  ، اب انہیں کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا۔(گویا آگ ظاہری ایمان کے لیے اور سلبِ نور نفاق کے لیے استعارہ ہے۔)

صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (18)

اپنے نفاق کے سبب یہ گونگے، بہرے اور اندھے ہورہے ہیں، اب یہ ہدایت کی طرف پلٹنے والے نہیں ہیں۔

أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۚ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ (19)

یا جیسے آسمان سے موسلادھار بارش ہوتی ہے(مراد نزول قرآن ہے)، جس میں بادل زور سے گرجتا ہے( یعنی کوئی سخت حکم نازل ہوتا ہے جو ان پر گراں گزرتا ہے)  اور بجلی خوب چمکتی ہے (قرآنی بشارتوں کی طرف اشارہ ہے)، تو یہ  اپنی موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں(یعنی قرآنی حکم کی تعمیل نہیں کرتے)، اور اللہ تعالیٰ نے (ان دل کے ) کافروں کو گھیر رکھا ہے۔

يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ ۖ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (20)

قریب ہے کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھیں اچک لے، جب یہ بجلی ان کے راستے کو روشن کردیتی ہے (یعنی انہیں کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہوتا ہے )  تو یہ چل پڑتے ہیں، اور جب اندھیرا چھاجاتا ہے  (یعنی بظاہر کوئی مشکل آن پڑتی ہے ) تو یہ ٹھہر جاتے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو (سزا کے طور ہر )  ان کی قوتِ سماعت اورقوتِ  بصارت ہی سلب کرلے۔بے شک اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading